Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
Episode 10
اسکی انکھ کھلی تو سیدھی نگاہ اپنےمقابل سائیڈ پر گئ..
وہ وہاں نہیں تھا…. حیا ایکدم اٹھی تو اسکا سر گھوم گیا….
رات کا ایک ایک منظر آنکھوں میں لہرا گیا اوراسے اندازا ہوا کہ اسے اپنی نیند پوری کرنی چاہیے…
کیونکہ بلاشبہ اسنے اسے سونے نہیں دیا تھا..
وہ کسلمندی سے پھر سے لیٹ گئ اور اپنی آنکھیں بند کرتی کہ اسے باہر سے آوازیں انے لگی..
اف اس ادمی کو ایک لمہے تنھا نہیں چھوڑا جا سکتا… “
اسنے سوچا اور دانت بھینچ لیے… غصہ الگ ہی ایا…
بیٹا اپ رہنے دو” امی کی اواز اسکے کانوں میں پڑ رہی تھی..
جبکہ کافی اٹھا پٹخ بھی تھی مگر حیا باہر نہیں گئ…
اول تو اسکے لیے اٹھنا محال تھا دوسرا… اپنے بے ترتیب حولیے کو سمبھالتے سمبھالتے اسے وقت لگ جانا تھا تبھی وہ لیٹی رہی باہر شور بھی ختم ہو گیا تھا….
تبھی نیند کا احساس غالب انے لگا… تو اچانک ہی دھاڑ سے دروازہ کھلا…
وہ ہڑبڑا گئ….
کیا مصیبت ہے “وارث کو دیکھتے ہوئے وہ چیڑ کر بولی…
تمھارا تل” وہ مزے سے کہتا… حیا کو انکھ مار گیا.. جبکہ حیا.. کا دل دھڑک اٹھا اسنے سر تک چادر تان لی….
براونی اٹھو.. میں نے کچھ بنایا ہے.. “اسنے کہا اور ڈش.. ٹیبل پر رکھی مگر حیا میڈیم کے نکھرے گویا آسمان کو چھو رہے تھے..
مگر بھلہ یہ وارث کے سامنے چل سکتے تھے.. وہ دو قدم میں ہی اس تک پہنچا اور اسپر سے چادر کھینچ کر اس سے پہلے پوری اتارتا…. حیا نے جلدی سے پکڑ لی..
وارث” وہ آنکھیں دیکھنے لگی…
کیوں… کیا چاہتی ہو جو ابھی تک بستر میں ہو” وہ زیچ کرنے پر اتر ایا تھا حیا نے چادر کھینچ لی…
اپ ایک نمبر کے اوارہ لفنگے ہیں “حیا نے چادر جھٹکتے کہا…
رومانٹک بھی” وہ ونک دیتا پھر سے ناشتے کی جانب چلا گیا جبکہ حیا کا دل ایک بار پھر سے… عجب لے پر دھڑکا…
تم نے مزید دیر کی تو میں تمھارے لیے نقصان دے ہوں دیکھ چکی ہو شاید تم”وہ اپنے ناشتے کے ساتھ انصاف کرنے لگا..
حیا کی بھی بھوک مچلی اسنے کب کچھ کھایا تھا رات کو….
میں فریش ہوں گی” وہ خود کو سمیٹتی چادر سے ڈھانپتی اٹھی.. جبکہ وارث نے سنجیدگی سے دیکھا.. اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے بلکل ساتھ بیٹھا لیا..
بعد میں ہونا پہلے میں نا شتے کی تعریف کرو..” وہ اسکے منہ میں انڈے کا ٹکڑا ڈالتے ہوئے بولا….
جبکہ حیا.. اتنا اچھا بنے ہونے پر حیران تھی…
اب بولو بھی کچھ” وارث تعریف سننے کو بے چین ہوا…
حیا کو ہنسی ا گئ…
اچھا ہے “اسنے کہا تو وہ مسکرا دیا…
میں اکثر کوکنگ کر لیتا تھا….. پہلے مجبوری تھی پھر مزاہ انے لگا….. “وہ لاشعوری طور پر اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرا رہا تھا.. حیا.. بے حد خوشی محسوس کر رہی تھی…
اسنے اسکے بازو میں ہاتھ ڈال لیا… اسے لگا وہ جھٹک دے گا مگر وارث نے ایسا کچھ نہیں کیا…
اپ اتنے اچھے کب سے ہو گئے” وہ ناشتہ کرتے ساتھ بولی…
ہاں میں کبھی کبھی روٹین سے ہٹ کر اڈونچر کر لیتا ہوں.. اور یہ سب میرے لیے مزے دار اڈونچر ہے” وہ کافی کا کپ لیتا….
پیچھے ٹیک لگا گیا.. جبکہ حیا.. نے اسکی جانب دیکھا…
تم کھاو “اسنے اشارہ کیا تو حیا نے نفی کی…
تو اپکے کسی بھی عمل میں اپنائیت محبت کا انصر نہیں “وہ پوچھنے لگی…
براونی تم.. اپنائیت محبت کی باتیں مجھ سے مت کیا کرو… ” وارث نے ایک گھونٹ بھرا….
تو کس سے کرو کون ہے میرا جس کا ساتھ میرے لیے ہے اپ تو ہر کہانی کو پانی پر لکھ رہے ہیں. کسی دن طوفان ائے گا اور وہ سب لفظ مٹ جائیں گے تب میں کہاں جاو گی وارث…
” حیا کی آنکھوں بھیگ گئیں….
وارث نے کپ رکھ کر اسکی جانب دیکھا…
اس محبت کے جھنجھٹ میں کیوں بلاوجہ پھنس رہی ہو… یہ سب جو کل رات کو ہوا.. زیادہ ٹچی مت ہونا عام ہے” اسنے نارملی کہا.. حیا نے حیرت سے دیکھا….
ٹھیک ہے اپکے لیے عام ہے تو میں بھی اپکے سٹائل سے زندگی گزاروں گی.. یاد رکھیے گا.” وہ غصے سے بولتی اٹھی…
ٹانگیں بھی توڑ دوں گا میں تمھاری زیادہ ہلکا مت لینا مجھے میں اپنی مرضی کا مالک ہوں… اور میں اپنی ہی مرضی سے ہر عمل کرتا ہوں..”اسنے سنجیدگی سے کہہ کر اخر میں حیا کی گردن پر موجود تل پر انگلی رکھی جسے حیا نے جھٹک دیا….
اور اسکے پاس سے اٹھ گئ…
ناشتہ تو کر لو” وہ ہنسا….
جبکہ حیا نے جواب دینا ضروری نہیں سمھجا اور واشروم میں بند ہو گئ…..
اس انسان کو سمھجنا… پھر اسکو سلجھنا بے حد مشکل تھا…
……………………
ابو کے پاس سے وہ سیدھا.. کمپنی ائ تھی کچھ دنوں سے تو بلکل توجہ نہیں دے پا رہی تھی…
فائز نے اسکی جانب دیکھا….
ویلکم”اسنے مسکرا کر کہا… تو حیا نے سر ہلایا.. اور کام میں مگن ہو گئ….
اور اسطرح مگن ہوئ کے شام ڈھل ائ مگر اسے احساس تک نہ ہوا یہ تو تب… احساس ہوا جب اسکے دروازے کو مدھم سا نوک کیا گیا…
اسنے سر اٹھایا.. اور اویس کو سامنے دیکھ کرمسکرائ
میڈیم اتنا کام کریں گی تو کمپنی اڑنے لگ جائے گی “وہ ہنسا…
جبکہ حیا نے پین رکھ دیا اسے احساس ہوا وہ تھک چکی تھی…
کافی” اویس نے خود ہی پوچھا جبکہ حیا نے سر ہلا دیا.. اور اویس نے انڑکام پر دو کافی کے ارڈرز دے دیے….
کیسا جا رہا ہے کام “اویس نے پوچھا…
اچھا جا رہا ہے بس… دو تین دن بعد کمپنی ائ ہوں.. تو اسی لیے اوورٹائم دے رہی ہوں “اسنے کہا.. جبکہ آنکھوں میں تھکاوٹ تھی..
لگتا ہے رات سوئ نہیں. “اویس نے نارملی کافی کا کپ تھامتے ہوے پوچھا جبکہ حیا.. جھجک کا شکار ہو گئ…
نہیں ایساتو کچھ نہیں “اسنے چور نظروں سے کافی پیتے ہویے اسکو دیکھا جو سر ہلا چکا تھا…
اچھا خیر کل مسٹر ضیاء کے ہاں ایک بیزنیس پارٹی ہے.. میڈیا بھی ہو گا… آی ہیو نو پارٹنر…. کیا تم میرا پارٹنر بنو گی” وہ مسکرا کر بولا تو حیا.. اس سے پہلے کوئ جواب دیتی وارث اندر داخل ہوا…
حیا کو اسکی چال سے ہی.. اندازا ہو گیا وہ ہوش میں نہیں ہے..
جبکہ وہ.. سنجیدگی سے… چل کر ان دونوں کے پاس ا گیا…
پورا افس خالی پڑا ہے اور تم اس کے ساتھ بیٹھی کیا کر رہی ہو” اسنے سنجیدگی سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے پوچھا…
وارث” حیا نے اسکی جانب دیکھا جو سرخ آنکھوں اور بھکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا…
اویس نے بھی کپ ایک طرف رکھ دیا…
میں نے پوچھا حیا بی بی تم خالی افس میں اسکے ساتھ بیٹھی کیا کر رہی ہو”وہ چیخا…
مسٹر وارث ہم بیزنیس ڈسکشن کر رہے تھے “
اویس نے کہا جبکہ اسنے ہاتھ اٹھا کر.. انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھی اور اویس کو گھورا….
تو جا یہاں سے “اسنے سنجیدگی سے کہا اور حیا کا ہاتھ بے دردی سے پکڑا….
میری بات تمھارے کانوں میں سمھجہ نہیں آ رہی پوچھ رہا ہوں میں کچھ “وہ سختی سے استفسار کر رہا تھا
وارث چھوڑیں میرا ہاتھ “حیا نے اس سے خود کو چھوڑوانا چاہا…
جبکہ اویس سے بھی یہ سب نہیں دیکھا جا رہا تھا
وارث چھوڑیں کیا کر رہیں ہیں.. بیوی ہیں اپکی یہ کوئ جانور نہیں جو نشے میں جیسا مرضی سلوک کریں گے”اویس نے کہا جبکہ وارث.. اس سے پہلے اسپر ہاتھ اٹھاتا حیا اسکے بیچ میں ا گئ..
جائیں آپ یہاں سے” اسنے بھیگی نظروں سے اویس کو دیکھا..
حیا اویس نے کچھ کہنا چاہا…
نہیں… یہ ہمارا اپسی معملہ ہے “وہ بولی جبکہ وارث مسکرا دیا..
سمھجا یہ ہمارا اپسی معملہ ہے اب نکل “اسنے حیا کے شانے پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا جبکہ اویس.. غصہ برداشت کرتا نکل گیا….
حیا نے وارث کی جانب دیکھا.. وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا…
تم… میرے ساتھ نہیں تھی “اسنے.. گھور کر حیا کو دیکھا…
زہر لگتا ہے مجھے تمھارا افس انا اور اس گدھے سے باتیں کرنا “
حیا نے کوئ جواب نہیں دیا…
اے.. منہ کھولو جواب دو… کیا عاشقی چل رہی ہے تمھاری اسکے ساتھ” وہ سختی سے پوچھنے لگا.. حیا نےا ب بھی کوئ جواب نہیں دیا جبکہ وارث کو اسکا جواب نہ دینا ہی کھلا رہا تھا…
اس سے پہلے وہ مزید کوئ لفظ بولتا… حیا… ایک لمہے میں اس کو خاموش کرا گئ…
مدھم سے کانپتے لمس کی حرارت.. وارث اپنے لبوں پر محسوس کر کے.. ٹھر سا گیا.. جبکہ حیا… سر جھکا گئ…
مگر وارث کی ساری حسیں جاگ چکیں تھیں…
کیوں جھلسا رہی ہو اس لمس کی شدت سے…. “اسنے اسکے لبوں پر بے دردی سے انگوٹھا پھیرہ.. کہ حیا کی لیپسٹک پھیل گئ….
اسکے سامنے ہونٹ سجا کر بیٹھیں تھیں.. کتنی بار نہیں دیکھا ہو گا اسنے ان ہونٹوں کو” اسنے غصے سے ساری لیپسٹک برباد کر دی حیا بھیگی نظروں سے دیکھتی رہی
گھر چلتے ہیں “حیا نے اہستگی سے کہا.. اور اپنے انسو صاف کیے..
کیوں میرے ساتھ اس افس کے کمرے میں تکلیف ہو رہی ہے.. جبکہ اس کے سامنے مزے کر رہی تھی. “
وارث بس کریں.. اخر کتنے گندے الزام لگائیں گے مجھ پر… “حیا اسے دھکا دیتی چیخی..
نہیں سمھج پا رہی میں اپکو.. میں تھک چکیں ہوں اپکو سمھجنے کی کوشش کرتے کرتے… “سرخ درد بھری آنکھوں سے وہ ہار کر چیخی….
وارث نے غصے سے ٹیبل پر سارا سامان جھٹک دیا… اور ٹیبل پر مکہ مارا…
وہ چاہتا ہی نہیں تھا کہ حیا کی کوئ بھی بات اسکے دل پر اثر کرے جبکہ اسکا رونا.. اسے نشے میں بھی تکلیف دے رہا تھا….
میرے سامنے بکواس کم کرو تم میں ایک بے حس انسان ہوں مجھ پر یہ جزبات بے کار ہیں… سمھجی… یہ تمھاری قربت کا مطلب یہ نہیں کہ تم نے مجھے رام کر لیا….
یہ کمپنی یہ جائیداد یہ پیسہ میرا ہے وارث شاہ کا.. سمھجی. تم کچھ نہیں ہو.. فقت ایک غریب لڑکی کے…. “وہ اپنی کیفیت سے بے نیاز…. حیا پر نہ جانے اپنی کون سے اگ نکال رہا تھا…
ہاں میں کچھ بھی نہیں…. کچھ بھی نہیں… مگر ایک رشتہ ہے ہمارے بیچ اور وہ میری محبت کا رشتہ ہے.. میری محبت میں ہے اتنی طاقت کہ وہ اپکو رام کر سکے” وہ گھائل نظروں سے اسے تکتی بولی..
ہے میری محبت میں اتنی ہدت کے اپ پگھل جائیں…” اسنے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا جبکہ وارث نے اسکی کلائ موڑ دی….
دور رہو مجھ سے.. “وہ آنکھیں نکالتا غرایا جبکہ نگاہ تو بھک رہی تھی…
ہزار لڑکیاں ہیں میرے گرد….” وہ جیسے خود کو باور کرا رہا تھا….
دل نے ایک لفظ سا کہا..
مگر حیا تمھارے سامنے ہے.. ہاتھ بڑھاو گے تو قدموں میں بچھ جائے گی “
وہ نظروں میں عجب تاثر لیے اسے دیکھنے لگا….
اور اپنے دماغ کی سوچ پر اسنے فورا عمل کیا..
حیا کی گردن میں سخت گرفت ڈال کر اسنے اسے بلکل اپنے چہرے کے نزدیک تر کر لیا کہ انچ بھر کا فاصلہ بھی نہ رہا. … حیا کو تکلیف محسوس ہوئ جبکہ وہ اپنے جھلسا دینے والے جزبات کو… اسکے نازک لبوں پر اتارنے لگا… کہ حیا پھڑپھڑا بھی نہ سکی…
اسکے عمل کی شدت سے وہ اپنی سانس کو رکتا محسوس کر رہی تھی مگر وارث نے. نہ رکنے کی قسم کھا لی تھی…
اور جب حیا کا وجود بے جان سا ہونے لگا… وہ ایک پل کے لیے اس سے دور ہوا…
ارام دو مجھے…. برسو سے سفر کر رہا ہوں “اسنے اسکی آنکھوں کے آنسوؤں کو بھی اپنے جزبات میں چن لیا… جبکہ حیا.. اسکے قدموں میں موم کی مانند بچھ گئ…
صرف اسکی محبت کی چاہ میں.. اسکی ہر شدت کو سہتی چلی گئ..
صرف دو لفظ چاہت کے اسکے منہ سے سننے کو.. وہ اسکے اگے اف تک نہ کر سکی….
عجب دیونی سی محبت تھی…. کہاں لے جا رہی تھی کس سفر پر معلوم نہیں تھا…
……………
اسکی انکھ کھلی تو خود کو اپنے بستر پر پایا….
غرض وہ اتنا بھی غافل نہیں تھا اس سے… وہ مسکرائ….
اور شدت جزبات میں اسکی پیشانی چوم لی…. اور گھڑی کی جانب دیکھا…. ابھی افس جانے میں وقت تھا….
تبھی وہ یہاں بکھرے کام سلجھانا چاہتی تھی…. اور وارث کی ماں کیطرف بھی دھیان گیا جنھیں بے یارو مددگار وہ ہسپیٹل چھوڑ ائ تھی اسے شرمندگی ہوئی ایک نظر اسکی جانب دیکھا… وہ کسمسا کر دوبارہ سو گیا تھا جبکہ اسکے اپنے پاوں میں اسکی اپنی ہی شرٹ الجھی ہوئ تھی….
اسنے وہ شرٹ نکال کر ایک طرف رکھ دی.. اور واشروم میں فریش ہونے چلی گئ..
کچھ ہی دیر میں وہ باہر نکل ائ… جبکہ وارث اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا..
خود کو دس منٹ میں فریش کر کے وہ کمرے سے باہر نکل ائ…
تو نہ چاہتے ہوے سامنے عماد کی شکل نظر ا گئ..
وہ ماہم سے بات کر رہا تھا.. حیا بغیر اسپر توجہ دیے… وہاں سے گزرنے لگی کہ ماہم کی اواز پر رک گئ…
یہ درخشے… “وہ درخشے کے بارے میں سوال کرتی اس سے پہلے.. عماد کا طنز بھرا فقرا ابھرا…
ڈارلنگ اب تو ہمارے گھر میں چوروں کا بسیرا ہے… زرا سمبھل کر پوچھو….” اسنے بلکل وارث کیطرح ماہم کے شانے پر ہاتھ پھیلایا جیسے.. وارث نے اسکے شانے پر پھیلایا تھا مگر حیا کو غرض کب تھی….
اس گھر میں تو پیدائشی چور بسے ہیں جب تب کوئ نہیں بچ سکا تو اب احتیاطی تدابیر کرنے کا کیا فائدہ….” حیا نے بھی بنا ڈرے جواب دیا تو اسکے لب سکڑے….
گھٹیا نیچ گرے پڑے گھر کی کل کی ائ ہوئ بھی ہمارے سامنے زبان کھولیں گئ.. ماہم انقلاب آ رہا ہے…” اسنے اپنی بیوی کو دیکھ کر حیا کو گھورا…. اسکی نظریں ہی غلیظ تھیں….
یہ گھر بار سے کوئ گھٹیا نہیں ہوتا بس جس کی جتنی اوقات ہوتی ہے وہ اتناہی سوچتا ہے… ” حیا نے ٹکا سا جواب دیا….
اور جانے لگی عماد سمیت ماہم بھی غصے سے اسے گھور رہی تھی یہ جانے بنا… کہ اسکا اپنا شوہر کیا تھا…
اور ہاں دوسرے کے ٹکڑے تو بڑے مزے سے تم لوگوں نے کھائیں ہیں.. کم کھا کر عزت سے کھانا غربت نہیں…. دوسروں کے ٹکڑے کھانا غربت ہے.. اور افسوس عماد بھائ اپ یہاں مجھے سب سے زیادہ غریب لگتے ہیں “اسنے چبا چبا کر ایک ایک لفظ ادا کیا…
اور وہاں سے چلی گئ..
صرف ان لوگوں کی وجہ سے اسے اس ادمی کی یہ کسی کی بھی اتنی باتیں سننے کو مل رہیں تھیں یہ تو وجدان اور رمضان شاہ منیب کے ساتھ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے ورنہ…
شاید اسے اس سے زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا….
اسنے دروازہ کھولا تو دونوں کو الگ الگ سمتوں میں خاموش پایا….
درخشے نے حیا کی جانب دیکھا تو دوڑ کر اس تک پہنچی..
اپی پلیز مجھے معاف کر دیں.. اپی.. مجھے خود سے الگ نہیں کریں پلیز اپی… “وہ رونے لگی….
حیا.. کی خود بھی آنکھیں بھیگ گئ..
اسنے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا مگر ایک شرط کی خاطر اتنابڑا قدم کے باپ کی ساری عزت مٹی کر دی تھی…..
مجھے سمھجہ نہیں. ا رہا درخشے میں کیا فیصلہ کروں تمھارے لیے…. وہاں امی ابو کا جینا حرام کیا ہوا ہے رشتےداروں نے بکواس کر کر کے…
کون کرے گا تم سے شادی کیا ہو گا.. اندازا ہے تمھیں “وہ جھنجھلا کر اسے پیچھے ہٹاتی غصے سے بولی.. جبکہ درخشے… نے اسکے پاوں نہیں چھوڑے….
اپی.. خدا کے لیے مجھے امی ابو کے پاس بھیج دیں میں میں انکے پاوں میں گیر کر معافی مانگو گی مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا اپی مجھے دور مت کریں سب سے” وہ روتے ہوئے بولی جبکہ…
حیا نے سر تھام لیا…
وہ بھیج بھی دے انکے پاس تو نئے سرے سے… باتیں کرنے والوں کا منہ کھل جائے گا….
ابھی وہ کچھ بولتی کہ دھڑ سے دروازہ کھلا… اور وارث نے حیا کی جانب دیکھا..
تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے.. کیوں اتنی جلدی کمرے سے نکلی ہو”وہ بلند اواز میں جھنجھلایا سا بول رہا تھا…
ماہم عماد جو کچن میں تھے انھوں نے بھی اسکی اواز سنی اور حیرانگی بھی ہوئ کسی کو منہ نا لگانے والے انسان کے منہ سے… یہ بات حیرت انگیز ہی تھی..
ماہرخ اور درخشے.. سہم کر ایک طرف ہو گئ…
اپ کو کچھ چاہیے” حیا انسو پوچتی اسکے نزدیک ائ… وارث نے گھورا…
اپ غصہ مت کریں اندر ا جائیں…” حیا نے کہا تو… وارث نے اسکا ہاتھ پکڑا.. اور سب. کے سامنے اسے اندر اپنے کمرے میں لے گیا…
جبکہ عماد کی نگاہ اب اندر کمرے میں سہمی دو لڑکیوں پر تھی…
وہ مسکرا دیا…. جبکہ ماہرخ نے یہ منظر دیکھا اور اٹھ کر دروازہ بند کر لیا…
………………….
اپکو کیا ہو جاتا ہے.. “حیا نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا…
مجھے دورے پڑتے ہیں” اسنے الٹا ہی جواب دیا…
کیا فضول بات ہے “حیا نے اسے بیڈ پر پھر سے سوتے دیکھا تو چیڑ گی…
مجھے کیوں لائے ہیں.” وہ غصے سے بولی..
نہیں تم کہیں کی افسر لگی ہو جو سارے کام نمٹانے کی تمھارے ذمہداری ہے.. شوہر پر توجہ نہیں ہے.. باقی سب کی فکر ہے” وہ تکیے میں منہ دیتا بولا…..
یہ باتیں کرنے کے لیے لائے ہیں مجھے”حیا نے ضبط سے پوچھا…
ہاں… تمھیں تکلیف ہو رہی ہے..” وہ آنکھیں نکال کر بولا…
میں پریشان ہوں وارث مجھے بات کرنی ہے ان سے سمھجہ نہیں. ارہا مجھے کیا کرنا ہے مجھے” حیا نے سر تھام لیا..
میں پریشان ہوں وارث” وہ اسکی نقل اتارنے لگا جبکہ حیا نے صوفے کا کشن اسکے منہ پر دے مارا…
وارث نے بھی وہی کشن کھینچ کر مارا… حیا اس سے لڑ نہیں سکتی تھی….
اسنے جوابی کروای نہیں کی.. خود ہی ہار قبول کر لی.
جبکہ وارث اٹھ کر بیٹھ گیا… لبوں پر مسکراہٹ الگ تھی..
زیادہ. ہیروئن بنتی ہو…. ہو ایک نمبر کی بیوقوف..” اسنے ٹانگ جھلاتے ہوئے انٹرکام اٹھا کر اپنے لیے کافی منگوائ..
حیا نے نہ سمھجی سے اسکیطرف دیکھا..
مشورہ فیس مشقت بھری ہو سکتی ہے” وارث نے سنجیدگی سے کہا تو حیا کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی ائ..
مجھے نہیں چاہیے اپکا مشورہ “
مگر تمھیں لینا پڑے گا” وہ گھورنے لگا..
زبردستی ہے” حیا نے اسکی آنکھوں میں جھانکا…
ہاں ہے.. میرا راج ہے یہاں اور تم میری کنیز ہو سمھجی “وہ بالوں می ہاتھ پھیرتا بولا.. جبکہ حیا مسکرا دی…
ٹھیک ہے شہنشاہ مشورہ دیں اپ مجھے منظور ہے “وہ بولی تو وارث نے فلائنگ کس اسکی جانب اچھل دی…
حیا سرخ سی سر جھکا گئ..
ان دونوں کو اپنے فادر کے پاس بھیج دو یہاں مت رکھو….
اور جلد از جلد شادی کر دو”اسنے سنجیدگی سے کہا..
کون کرے گا ان سے شادی “حیا نے اسکی جانب دیکھا..
وہ میرا کام ہے….” وارث… نے کہا تو حیا نے چونک کر اسکی جانب دیکھا….
مطلب”
بس فلحال اتنا ہی فیس ادا کرنے کے بعد اگے کا کام ہو گا “وہ بولا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا…
یہ تو یہ وہ شخص تھا جو اسکی قربت سے بھاگتا تھا….
اور اب….
حیا نے ٹائم دیکھا….
مگر میرے افس جانے کا وقت ہے “وہ منمنائ…. وارث کی سپورٹ سے… دل و دماغ کو تقویت بھی ملی….
تیری ایسی کی تیسی.. “وہ اٹھ کر اسکے نزدیک ایا…
وارث.. وارث…. “حیا.. گھبرا کر.. صوفے کے دوسری طرف بھاگی…
ابھی جانے دیں پلیز” وہ معصومیت سے بولی..
نہیں… ہر کام جلدی کرنے کا عادی ہوں میں “وارث نے اسکو پکڑنا چاہا مگر وہ دوسری طرف چلی گئ..
پلیز وارث اج اہم میٹینگ ہے اویس نے بھی انا ہے..” حیا بے دھیانی میں بتا گئ…
اب تو میں تمھیں جانے دے دوں… تو کہنا… وارث شاہ نہیں تھا” اسنے ایک ہی جھٹکے میں اسے صوفے پر دھکیل دیا..
بہت برے ہیں اپ.. اور بے حد بھاری بھی “حیا اسکے وزنی وجود کو ایک طرف ہٹانے کی کوشش میں ہلکان تھی…
بہت شکریہ مجھے بچپن سے ہی اپنی تعریف سننے کا بہت شوق تھا.. “اسنے حیا کے دونوں ہاتھ قابو کر کے… اوپر کیے…
اور اسکو جلد ہی بے بس کر گیا…
……………….
اپنی مرضی سے اسکی جان چھوڑ کر وہ اسکے اٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گیا..
ایک نظر حیا پر ڈالی پھر وقت دیکھا….
اور بھرپور مسکراہٹ اسکی جانب اچھال دی…
نہ افس نہ اویس..” اسنے کلس کر اویس کو سوچا اور فریش ہونے چلا گیا…
بہت بدل گئے وارث” اندر سے ایک اواز ائ…
لڑکی کے ہر جال میں پھنس گئے… کہیں محبت تو نہیں کرنے لگے “کوئ اسپر ہنساتھا..
عورت سے محبت”
نہیں ایسا کچھ نہیں… یہ تو بس “اسنے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر کوئ دلیل دینی چاہی..
کیا بس….. ہر رات ایک نئ زندگی کو جینے والا انسان… پیچھلی دو راتوں دو دن سے… اسکے لمس میں اسکی قربت میں خود کا سکون تلاش کر رہا ہے… “
بکواس ہے” وہ پلٹ گیا اور فریش ہو کر باہر نکل ایا..
ایک بار پھر حیا پر نگاہ گئ..
یہ بھی عورت ہی ہے”کوئ بولا تھا..
مگر یہ ویسی نہیں ہے” اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرہ اور اسکے نزدیک ا گیا…
ہر عورت تمھاری ماں جیسی ہی ہے “
ھیا کے بالوں کی جانب بڑھتا ہاتھ رک گیا…
اور وہ وہاں سے اٹھ گیا..
فلحال اپنی کہی ہوئ بات پوری کرنی تھی..
تبھی وہ کمرے سے باہر نکل گیا….
………………………..
شادی کرنی ہے تجھے” اسکا بنا ہو اگلاس خود پیتے ہوئے وہ کچھ دیر بعد اصل موضوع پر ایا…
ہیں “ارہم نے آنکھیں کھول کر دیکھا…
پوچھ رہا ہے یہ بتا رہا ہے “اسنے گلاس رکھ کر اسکی جانب دیکھا..
بتا رہا ہوں” وارث نے دوسرا گلاس بھرا..
اوو بھائ دماغ ٹھیک ہے “اسے لگا وہ نشے میں زیادہ ہی بھک رہا ہے…
ماہ رخ یہ درخشے.. تو دوست ہے.. اسی لیے پوچھ رہا ہوں ورنہ.. پوچھتا بھی نہ” اسنے کہا.. تو ارہم نے ہنستے ہوئے تالی بجائ..
واہ…. بیٹے.. بس وہ دو چورنیاں ہی رہ گئ تھیں میرے لیے “ارہم کا جیسے پینے سے ہی دل اٹھ گیا تھا اتنا تو اسے اندازا تھا ایک بار بات نکالنے کے بعد وہ پیچھے پڑ کر اس بات کو پوری کرا لے گا..
تو کون سا پارسا ہے.. جیسے کو تیسا ہی ملتا ہے” وارث نے شانے اچکائے..
تو پھر تو تو بہت خوش نصیب ہے “ارہم نے اسی پر بات ڈالی.
بات تیری ہو رہی ہے “وارث نے گھورا…
میں نہیں کرنا چاہتا” اسنے چیڑ کر کہا…
وارث… نے اسکی جانب دیکھا…
تیرے گلے پر چاکو رکھ کر قبول ہے ہی کھلواناہے تو.. ٹھیک ہے.. “اسنے گلاس کا بڑا سا گھونٹ بھر کر مسکرا کر کہا..
وارث.. دیکھ بھائ.. مجھے شادی کرنی ہی نہیں” ارہم.. نے اسکے اگے ہاتھ جوڑے….
وہ مسکراتا رہا..
یہ اوپشن محدود مدت کے لیے ہے.. بعد میں مجھے مت کہنا کچھ “وہ ہنس کر بولا…
ارہم نے جھنجھلا کر بال پکڑ لیے اپنے…
میری ازادی کو سلب کر رہا ہے “
میری ازادی کو کسی نے کیا ہے” وارث نے انکھ ماری..
ہاں تبھی تین دن سے… تو نے.. دنیا کو اپنا اصل روب نہیں دیکھایا.. مر رہیں ہیں تیرے لیے” وہ چیڑ کر بولا.. تو وارث مسکرا دیا آنکھوں میں حیا جو گھوم رہی تھی..
خیر رشتہ مبارک ہو..” وہ اٹھ کر بولا…
اج پی بھی کم تھی.. تبھی فریش تھا…
اور لعنت ہو اپ پر.. “ارہم چیڑ کر بولا وارث کا قہقہ نکل گیا…
مجھے بڑا مزاہ اتا ہے جب کوئ بے بس ہوتا ہے… ویسے جہاں تک میں نے سنا تھا لعنت دینا اچھی بات نہیں “اسنے اسے مزید چیڑیا..
مولوی صاحب نکاح بھی اپ پڑھوایے گا.. “اسنے اسکے مکہ مارنا چاہا.. مگر وارث… ہنس کر اس سے دور ہو ا..
درخشے…. اوکے.. “اسنے انگلی اٹھا کر کہا..
سالے (گالی) شکل تو دیکھاتا جا.. کون سا درخت ہے” وہ چیخا..
تو نے دیکھی تو تھی “وارث کو اسکی یاداشت پر حیرت ہوی..
مجھے یاد نہیں “اسنے منہ بنایا…
پھر سرپرائز کے لیے تیار رہ.. “وہ انکھ مارتا نکل گیا جبکہ اپنے پیچھے ارہم کی گالیاں تمگوں کی صورت اسے لگ رہیں تھیں..
…………….
جاری ہے
