Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

وسیع وعریض حویلی کے بیک یارڈ میں اسوقت بہت تیز میوزک کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔ مگر شاید وہاں پر موجود لوگوں کی خوش قسمتی ہی تھی کہ یہ آواز حویلی کے اگلے حصے میں نہیں جا رہی تھی ۔۔اور اگر چلی بھی جاتی تو وارث شاہ کو کون روک سکتا تھا کوئ نہیں ۔۔۔۔ کوئ تھا ہی نہیں اسکو روکنے ٹوکنے کے لیے ۔۔۔ اسے یاد دلانے کے لیے ۔۔۔ کے جائز نا جائز میں فرق بھول گے ہو وارث ۔۔وہاں بیچ میں قدرے کم اونچائ کا ایک سٹیج بنا تھا جس کے اردگرد گول دائرے میں چیرز رکھی تھی ۔۔۔ جن پر وارث شاہ کے دوست کزنز وغیرہ سب بیٹھے تھے جب کہ وہ خود بے خود سا شراب کی بوتل ہاتھ میں تھامے جھوم رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے قدموں میں ناگن کی طرح بل کھاتی لڑکی ۔۔۔ گانے کے بول پر تحرق رہی تھی ۔۔۔ لڑکی کا لباس ایسا تھا ۔۔۔ کہ کوئ با حیا شخص اسپر اگلی نظر بھی نہ ڈالتا ۔۔ اسکے کپڑے اتنے مختصر تھے کے تقریبا سارے جسم کی نمائش ہو رہی تھی ۔۔۔ اور پھر اسپر اسکے لاجواب سٹیپ ایسے تھے ۔۔۔ کے حیا نے چند پل سوچا کیا اسکا مقصد پورے جسم کو حرکت دینا ہے ۔۔۔ وہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی ۔۔۔۔ مگر آنکھ سے آنسو بھی نکلا تھا ۔۔۔ کم مائیگی کا احساس ایکدم ہی اسپر ہاوی ہو رہا تھا ۔۔۔۔ کاش وہ وارث شاہ سے کبھی محبت نہ کرتی ۔۔۔ وہ کیسا تھا ۔۔۔۔ وہ ایسا کیوں تھا ۔۔۔ لا پرواہ بے حس ۔۔۔۔ وہ ہر اس شخص کو تکلیف دیتا تھا ۔۔۔ جو اس سے محبت کرے ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا ۔۔۔ حیا وارث شاہ ۔۔ کے لیے جیتی ہے ۔۔۔ اسکی سانسوں میں وارث شاہ اتر چکا ہے ۔۔۔ اور وہ خود سے محبت کی سزا اسے یوں ہی دیتا تھا ۔۔۔۔
کیوں رو رہی ہو جانتی ہو وہ ایسا ہی ہے ۔۔” ماہم غصے سے بولی
کاش وہ ایسے نہ ہوتے ” وہ سسک ہی گئ ۔۔۔
ہمہ بزدل شخص صرف اپنے آپ کو ڈھانپ رہا ہے ۔۔۔ دیکھا رہا ہے ۔۔ کہ وہ اپنی ماں سے بھی زیادہ گیرا ہوا ہے ۔۔۔ ” ماہم کے لہجے میں نفرت مزید گھل گئ ۔۔۔ جبکہ وہ بے بس سی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ دل گھٹ گھٹ کر رونے پر مجبور ہو رہا تھا ۔۔۔
عجیب بد بخت عورت تھی ۔۔۔ شوہر کو نگل گئ ۔۔۔ اور بیٹے کو سب کے لیے ناسور بنا دیا ۔۔۔ جانتی ہو اس حویلی کا ایک ایک شخص وارث شاہ سے نفرت کرتا ہے ۔۔۔ ماسوائے تمھارے خدا جانے کیا دیکھ لیا تھا ۔۔جو اسی سے شادی کا دورہ پڑ گیا ۔۔۔ لاکھ منع کیا تمھیں حیا میں نے ۔۔۔ مگر وارث کے آگے شاید تم کچھ دیکھنا یہ سننا نہیں چاہتی تھی ۔۔ تم میری دوست تھی ۔۔۔ تمھیں بہت بچانا چاہا میں نے ۔۔۔مگر ۔۔افسوس ۔۔۔تف ہے تمھاری عقل پر “
وہ اسکے آنسو دیکھ کر غصے سے پہنکاری . ۔۔ جو پھر سے تاک میں سے جھانک کر سامنے کا منظر دیکھنے لگی ۔۔۔ جہاں وارث شاہ کو وہ لڑکی خود اپنے ہاتھوں سے جام پیلا رہی تھی ۔۔۔ ساتھ ساتھ ۔۔تحرق بھی رہی تھی ۔۔۔وہ وارث شاہ کو بھی تحرقنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔ وارث اسکی کمر کو تھامے شراب پینے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ جبکہ اب وہ لڑکی آہستہ آہستہ بوتل کو اس سے دور کر رہی تھی ۔۔۔ تالیوں اور سیٹیوں کا شور حیا کے کانوں میں تیزاب کی مانند پڑا ۔۔۔ وارث شاہ کا پیسہ اسی پر پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا ۔۔۔
چلو یہاں سے ” ماہم کی ہمت شاید جواب دے گئ تھی ۔۔ وہ سسکتی ہوی حیا کو وہاں سے کھنچ کر سڑھیاں اترنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا جیسے کوئ اسے پکار رہا ہے ۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔۔ گھڑی کی طرف نظر گئ ۔۔ تو صبح کے چار کا وقت تھا ۔۔۔ اور کمرے میں وہ تنہا تھی ۔۔۔ یعنی وارث ساری رات نہیں آیا تھا ۔۔۔ دروازہ پھر سے بجا تھا ۔۔۔ تو وہ کمفرٹر سائیڈ پر کرتی جلدی سے اٹھی ۔۔۔ دراوزہ کھولا ۔۔۔تو چچی تیوریاں چڑہاے کھڑی تھی ۔۔۔
تمھارا شرابی حویلی کی دہلیز پر پڑا ہے جا کر اٹھا لو اسے ۔۔۔” انکے الفاظ اسکے دل میں جیسے چبھ سے گئے ۔ اور وہ اگلے پل سڑھیوں کی جانب بھاگی ۔۔۔۔ مگر پھر کچھ سوچ کر روکی ۔۔۔
بھولیے مت چچی یہ حویلی اسی شرابی کی ہے جس میں آپ لوگ رہ رہے ہیں ۔۔۔ اور وہ بیزنیس بھی ۔۔ جس کو آپ سب مل کر لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ ” وہ کہہ کر سڑھیاں اتر کر دہیلیز کی طرف بھاگی ۔۔۔ جبکہ پیچھے چچی اسکی باتوں پر جل ہی گئ ۔۔۔
وارث ۔۔۔ ” اسکی مدھم پکار پر اسنے ایک لمہے میں آنکھیں وا کر دیں ۔۔۔ سرخی مائل آنکھوں سے وہ اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
اٹھیں اپنے روم میں چلتے ہیں یہاں سردی ہے ” حیا نے اسکے مظبوط شانے پر اپنا نرم ہاتھ رکھا ۔۔۔ جسے جھٹکتا ہوا وہ اٹھ بیٹھا اور سر تھام لیا اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
آپکے سر میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔ کچھ کھایا بھی نہیں تھا اپنے کچھ کھانے کو لاو ۔۔۔۔ “وہ جانتی تھی اسنے کچھ نہیں کھایا بس معدے میں گندا پانی ہی اتارا تھا ۔۔۔ وارث نے ایک نظر اسکے متفکر چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے اس ڈرامے بازی کی عادت نہیں ” سرد لہجے میں کہتا وہ اٹھا اور اسے وہیں چھوڑے اپنے روم کی جانب چل دیا ۔۔۔ پانچ مہینوں میں یہ ان دونوں کے درمیان ہوی پہلی بات تھی ۔۔۔ وہ آنکھ سے نکلتے آنسووں کو چپکے سے صاف کرتی اٹھ گئ ۔۔۔۔۔ اسکی محبت کو شاید یوں ہی رولنا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . .
صبح نہ جانے کیوں اسکی آنکھ لیٹ کھلی ۔۔۔ اسنے بیڈ کے دوسری سائیڈ پر دیکھا ۔۔۔وارث موجود نہیں تھا۔۔۔ عجیب بات تھی وہ ساری رات سو کر بھی صبح دیر سے اٹھی جبکہ وہ اتنی دیر سے سونے کے باوجود بھی جلد جاگ گیا ۔۔۔ وہ الجھے ہوے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اٹھ گئ ۔۔۔ اتنی دیر میں وارث شاور لے کر واشروم سے باہر نکل آیا ۔۔۔ گلے میں ٹاول لٹکائے ۔۔۔ وہ بالوں میں برش چلا رہا تھا جبکہ ۔۔۔ حیا ۔۔۔ اس میں جیسے مگن ہی ہو گئ ۔۔۔ وہ اسے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔ کتنا پر کشش اور مکمل لگتا تھا وہ ۔۔جبکہ اندر سے کتنا ادھورا ۔۔۔ تھا ۔۔۔
وارث جانتا تھا حیا اسے ہی دیکھ رہی ہے مگر اسے اس میں ہلکی سی بھی دلچسپی نہیں تھی تبھی کچھ بھی کہے بغیر ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔۔۔ جب وہ ڈریسپ ہو کر باہر آیا ۔۔۔ تو حیا کو اب بھی وہیں پایا ۔۔ اسنے ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھا ۔۔۔ اپنے مخصوص حولیے میں وہ حیا کو بہت اچھا لگا ۔۔۔ گیرے شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے ۔۔ وہ خوبصورتی سے بال بنا کر پرفیوم سپرے کر کے مڑا ۔۔۔ حیا اب بھی ڈھٹائ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو اب اپنے جوگرز پہن رہا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ۔۔ خوبصورت میوزک کمرے کے عجیب و غریب ماحول میں بجنے لگا ۔۔۔
ہاں میں بس ریڈی ہوں ۔۔۔ بینک سے پیسے نکلوا کر تیری طرف ہی آ رہا ہوں ۔۔۔ ” وہ فون پر کسی کو اپنا پروگرام بتا رہا تھا ۔۔۔
اتنی صبح وہ کہاں جا رہا تھا ۔۔حیا کو تشویش ہوئ ۔۔
یار بس ایک ہفتہ ۔۔۔ ” وہ افسردگی سے بولا تو حیا کی توجہ دوبارہ اسکی طرف ہو گئ ۔
اوکے چلو نیکسٹ ٹائم ۔۔۔ بٹ پھر میں کوئ ارگیمنٹس نہیں سنو گا ” اور کہتے ساتھ ہی فون بند کر دیا اور ایک بار پھر بال سنوارنے لگا
کہیں جا رہے ہیں ۔۔۔” حیا نے سوال کر کے اپنے آپ کو ذہنی اذیت سے بچایا تھا ۔۔۔
ہم اسلامہ آباد ” خلاف تواقع درست جواب ملا ۔۔۔
کب آئیں گے “
افٹر ون ویک ” وہ کہتے ساتھ اپنا سامان اٹھاے جانے لگا ۔۔۔
خیال سے جائیے گا اللہ کے امان میں ” وہ اسکے نکلنے سے پہلے جلدی سے بولی ۔۔۔
اسنے نظر گھما کر اسے دیکھا ۔۔۔
زندگی میں پہلی بار ایسے الفاظ سنے تھے اسنے اپنے لیے ۔۔۔ کاش وہ بھی نارمل زندگی گزار رہا ہوتا ۔۔۔ کاش وہ خود سے اتنی نفرت نہ کرتا ہوتا ۔۔۔ کاش ۔۔۔ کاش ۔۔۔کاش ۔۔ بہت کاش تھے ۔۔۔اسکے پاس ۔۔۔ وہ بغیر کچھ کہے ۔۔۔ باہر نکل گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وارث جا چکا تھا ۔۔۔۔ وہ فریش ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر پہنچی جہاں سب موجود تھے سب سے سلام کر کے اسنے خاموشی سے ناشتہ کیا اور فارغ ہو کر اپنے کمرے میں . آ گئ ۔۔۔ اور ٹیرس میں موجود جھلے پر بیٹھ کر کسی ناول کا مطالعہ کرنے لگی ۔۔۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسے تایا جان کی آوازیں آنے لگیں وہ بہت زور سے بول رہے تھے ۔۔۔ وہ سب تو آفس چلے گئے تھے وہ سوچنے لگی ۔۔کہ دروازہ بجا ۔۔۔
بی بی جی صاحب بلا رہے ہیں ۔۔۔” ملازمہ کہہ کر دوبارہ چلی گئ ۔۔۔
جبکہ وہ اٹھ کر نیچے آ گئ ۔۔۔ جہاں تایا جان چاچو ۔۔۔ عماد منیب فائز سب کھڑے تھے ۔۔۔
بی بی تمھارے شوہر کے جو لچھن جا رہے ہیں ایک دن ہمیں سڑک پر لے آئے گا ۔۔۔ اتنی محنت ہم اسکو عیاشی کرانے کے لیے نہیں کرتے ۔۔۔ کل رات ہی ۔۔۔ کمپنی کے اکاونٹ سے ۔۔۔ اسنے تیس لاکھ کی رقم استعمال کی اور آج دوبارہ چالیس لاکھ روپے نکال کر فرار ہو گیا ۔۔۔ ” تایا جان غصے سے بہنا رہے تھے ۔۔۔
اسی طرح چلتا رہا تو روڈ پر آ جائیں گے اور بھیک مانگتے پھریں گے ۔۔” چاچو بھی بولے ۔۔۔
ایک تو انکا کاروبار بھی سمبھال رہے ہیں ۔۔ اور اوپر سے چوریاں بھی برداشت کریں ۔۔ ” تایا جان کے بیٹے ۔۔ عماد نے بھی ۔۔احسان جیتانا ضروری سمھجا۔
برحال اس کمپنی کو تو سب ہی لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ ایک اکیلے وارث نہیں ۔۔۔ یہ بات آپ بہتر جانتے ہیں ۔۔۔ لیکن آپ لوگ اتنی فکر نہ لیں کل سے میں خود جایا کروں گی ۔۔۔ تو ان سب بگڑتے معملات پر قابو بھی پا لوں گی انشااللہ “. ۔اور وہ کہہ کر اپنے روم میں آ گئ جبکہ وہاں سب ہونک ہوے ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے ۔۔۔
چوچو نے تایا جان کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں” اب ” جبکہ ۔۔وہ سکون سے بولے ۔۔۔
فکر نہ لو ۔۔۔ دو دن میں بھوت اتر جائے گا ” اور پھر رفتہ رفتہ سب اپنے اپنے کاموں پر نکل گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . ۔۔۔
وہ سارے دن کمپنی اور وارث کے بارے میں ہی سوچتی رہی ۔۔۔ اور اگلے دن ان سب کے پھنچنے سے پہلے ہی وہ ۔۔وارث کے آفس میں موجود تھی ۔۔
سب سے پہلے اسنے کمپنی کے منیجر کو بلایا ۔۔۔
جی ظفر صاحب مجھے کمپنی کے اکاونٹس کی ساری ڈیٹیل چاہیے ۔۔۔ کس نے کتنا کب اور کیوں پیسہ کمپنی کے اکاونٹ سے نکلوایا ۔۔۔ سب ڈیٹیل اسکے علاوہ ۔۔ رمضان شاہ وجدان شاہ ۔۔ عماد منیب اور فائز کے پرسنل اکاونٹس کی بھی ڈیٹیل چاہیے ۔۔۔ آج ہی “
جی میم میں کمپنی کی ڈیٹیلز لا دیتا ہوں مگر ان سب کے پرسنل اکاونٹ کسی کو بھی دیکھانے کی مجھے پرمیشن نہیں ۔۔۔”
منیجر مجبور سا بولا۔۔
میں کسی نہیں ہوں ظفر صاحب ۔۔ مسز وارث شاہ ہوں یعنی کمپنی کے اونر کی بیوئ ۔۔۔ اور اسکے علاوہ میں فیفٹی پرسنٹ شئیر کی بھی مالک ہوں تو بہتر ہے کہ ۔۔آپ میری بات مانیں ورنہ شاید آپکو اپنی نوکری پیاری نہیں ” وہ سرد انداز میں بولی ۔۔جبکہ ظفر صاحب اسکی دھمکی کا اثر لیتے ہوے وہاں سے چلے گئے اور پھر آدھے گھنٹے میں سب کی ریپورٹ اسکے ہاتھ میں تھی جبکہ وہ حالات دیکھ کر سر تھام گئ ۔۔ یعنی کمپنی کا حال اس پیشنٹ جیسا تھا ۔۔۔ جو وینٹی لیڑر پر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے ۔۔
اسنے فائل بند کر کے ۔۔۔ سامنے لگی وارث کی تصویر کو غصے سے دیکھا۔۔۔
وارث شاہ میں آپکو خود کو برباد کرنے نہیں دوں گی میرا وعدہ رہا ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . .
ابھی اس کو آفس جوائن کیے ہوے چار دن ہی گزرے تھے مگر سب کا ضبط جواب دے گیا تھا ۔۔۔
یہ سب کیا ہے بھائ جان اپنے تو کہا تھا ۔۔۔ یہ زیادہ دن نہیں چلے گی جبکہ اب مجھے لگ رہ ہے وہ ہمیں بھی نکال دے گی ۔۔” وجدان شاہ نے بڑے بھای کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
ہمم لگ تو یہی رہا تھا ۔۔مگر فکر مت کرو ۔۔۔ کچھ کر لیں گے اسکا بھی ۔۔” وہ پرسوچ سے بولے ۔۔۔
بابا وہ کمپنی کا اکاونٹ چینج کر چکی ہے اور اکاونٹنٹ بھی ۔۔۔ جبکہ اسوقت مجھے ۔۔۔ کم از کم بیس پچیس لاکھ کی ضرورت ہے ۔۔” عماد غصے سے بولا ۔۔۔
تم اپنی ضرورتوں کا منہ چند دنوں کے لیے بند کر لو ” وہ بھی غصے سے بولے ۔۔جبکہ وہ منہ بنا گیا ۔۔
میرے خیال سے ہمیں وارث کو انفارم کرنا چاہیے شاید وہ کچھ کرے ” منیب بولا۔۔۔
اس شرابی نے سب الٹا ہی کرنا ہے ” فائز بھی نفرت سے بولا ۔۔۔
منیب ٹھیک کہہ رہ ہے وارث کو انفارم کرو ۔۔۔مگر زرا اپنے انداز میں کرنا تاکہ ۔۔کچھ ہمارے حق میں فیصلہ ہو سکے “
رمضان شاہ کے کہنے پر ۔۔عماد نے فوراً وارث کا نمبر ملایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . ۔۔ ۔
اندھیرے میں ہاتھ مار کر اسنے اپنے چیختے موبائل کو ٹیٹولا ۔۔۔
ہیلو ” بھاری آواز ائیر پیس پر سنائ دی ۔۔۔
کیسے ہو وارث ” عماد نے شیری لہجے میں پوچھا ۔۔۔جبکہ اسکے ماتھے پر تیوریاں چڑھ گئ ۔۔۔
یہ پوچھنے کے لیے فون کیا ہے ” کڑے تیوروں میں پوچھا گیا ۔۔جبکہ عماد نے دل ہی دل میں اسکو گالیوں سے نواز دیا ۔۔۔
نہیں بات کرنی تھی ۔۔۔ ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
جلدی بولو میرے پاس زیادہ وقت نہیں ۔۔” اسنے ایک نظر برابر میں لیٹی روزی پر ڈالی ۔۔۔ جو ساری رات اسپر چھائ رہی تھی ۔۔۔۔
اور پیسہ بھی خوب بٹور چکی تھی ۔۔۔ اور اب بھی ۔۔۔وہ اپنی دلفریب حرکتوں سے اسکی توجہ اپنی جانب مبزول کرا رہی تھی ۔۔۔ اور وہ بھی کسی سحر میں اسکی طرف کھنچ رہا تھا ۔۔۔
حیا آفس آنے لگی ہے وارث ۔”
واٹ” وہ جو روزی کی گردن پر جھک رہ تھا ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ “
میں بھی یہی کہہ رہا ہوں تم جانتے بھی ہو وہ کیا کرتی پھیر رہی ہے ۔۔اور کن لوگوں میں اسکا اٹھنا بیٹھنا ہو رہا ہے ۔۔۔ میرے خیال سے تمھیں اپنی بیوی کی لگامیں کھنچنی چاہیے “
تم سے پوچھ کر میں نے کچھ نہیں کرنا ۔۔۔ اور نہ تمھیں مجھے مشورے دینے کی ضرورت ” غصے سے بول کر اسنے فون بند کیا
بیبی لوک ایٹ می ” روزی نے اسکے لبوں کو چھونا چاہا جبکہ ۔۔۔ اسنے دھکا دے کر اسے خود سے دور کیا ۔۔۔
دور ہٹو مجھ سے ۔۔۔ اب کوئ اوچھی حرکت کی تو منہ توڑ دوں گا “
وہ اسکی عزت کرتا ۔۔۔ اٹھ گیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ وارڈروپ سے نیوشرٹ کھنچ کر واشروم چلا گیا ۔۔۔ اسے ۔۔۔ حیا پر بہت غصہ آرہا تھا ۔۔۔
وہ بھلا کس سے پوچھ کر آفس جا رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے…….