Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 9

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj

لیو می! چھوڑیں مجھے۔۔

فیروز مہر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے گھر میں لایا تھا جبکہ خوشی اور آفرین جو لان میں بیٹھی تھیں ،

فیروز کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ حیران ہوئی تھیں، جو اسے کھینچے ہوئے اندر لے کر گیا تھا۔۔

یہ لالا کس کو لائے ہیں؟

آفرین نے کنفیوژن میں خوشی کو دیکھ کر کہا تھا جبکہ خوشی کی تو آواز ہی بند ہو چکی تھی۔

کس سے پوچھ کر نکلی تھی تم فلیٹ سے؟

ایک جھٹکے سے لا کر چھوڑا تھا فیروز نے مہر کو ، یہ حرکت اس کو کافی بری لگی تھی کہ وہ اس کے منا کرنے کے باوجود نافرمانی کر چکی تھی۔۔

پہلے پہل میں نے سوچا تھا کہ تم اپنے باپ جیسی نہیں ہو ، غلط کیا میں نے، پر تم نے یہ حرکت کر کے ثابت کر دیا کہ تم واقعی حازم کی بیٹی ہو۔۔۔

اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا تھا جبکہ وہ اپنی آنکھیں بھنیچ چکی تھی۔

“جب کسی پرندے کو بھی قید کر دیا جائے، تو وہ آزاذ ہونے کی کوشش کرتا ہے اور موقع ملتے ہی ایک نا ایک دن اڑ جاتا ہے”۔

میں تو پھر بھی انسان ہوں، کیوں قید کرنا چاہتے ہیں مجھے، کیوں کرنا چاہتے ہیں میرے گھر والوں سے دور مجھے۔۔

وہ بہتی آنکھوں سے مقابل سے سوال کر چکی تھی ، ایک درد کا عنصر اس کے لفظوں میں چھپا تھا جسے وہ باخوبی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔

تمہارے باپ کی وجہ سے۔۔۔۔

جھٹکے سے چھوڑتا اسکو اپنی نظریں سامنے شیشے پر مرکوز کر گیا تھا وہ۔۔

اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟؟

مہر نے روتے وہ مقابل سے سوال داگا تھا۔۔

فیروز نے ان آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں دکھ ، شکوہ ، تکلیف نمایاں تھی۔۔ بنا کچھ کہے وہ کمرے سے واک آوٹ کر گیا تھا جبکہ وہ وہیں بیڈ پہ بیٹھ کر اشک بہانے میں مصروف تھی۔

©©©

یہ کون ہے؟ جس کو آپ اپنے روم میں لے کر گئے ہیں۔

فیروز کے باہر نکلتے ہی خوشی نے بے صبری سے اس سے پوچھا تھا۔

جو بھی ہو ، اس سے تمہارا کوئی سروکار نہیں۔

اپنے کام سے کام رکھو۔۔

وہ جو پہلے ہی تپا ہوا تھا ، خوشی کا یوں سوال کرنا اسے نہایت نا گوار گزرا تھا۔۔

شائد آپ یہاں شہر کی رنگینیوں میں بھول چکے ہیں کہ میں آپ کی منگیتر ہوں؟

پر میں نہیں بھولی۔۔۔۔

وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی۔

یہاں تم پڑھنے آئی ہو ، تو بہتر ہو گا اپنی پڑھائی پہ توجہ دو ، یوں میرے معملات میں دخل اندازی مت کرو۔۔

اگر اتنا ہی شوق ہے جاننے کا تو سن لو ” بیوی ہے وہ فیروز شمس کی “

کہتا وہ بنا اس پہ غلط نظر ڈالے چلا گیا ، جبکہ پیچھے کھڑی خوشی اور سیڑھیوں سے اترتی آفرین دونوں لفظ بیوی پر ساکت ہوئی تھیں۔

©©©©

دعا غصے سے آفس سے نکل کر سیدھا اسٹاپ پر گئی تھی اور معمول کے مطابق کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک گاڑی اسکے سامنے آکر رکی تھی جسے دیکھ ناگوار سا چہرا بنایا تھا اس نے۔۔

مے آئے ہیلپ یو؟

گاڑی کے شیشوں کو نیچے کرتے ضامن نے سامنے کھڑی دعا سے کہا تھا ۔۔

نو تھینک یو سو مچ سر۔۔۔ ویسے ہی آپ میری بہت مدد کر چکے ہیں، مزید ہیلپ میں ہضم نہیں کر سکوں گی۔۔

طنزیہ لہجے میں کہتی وہ ضامن کو شرمندہ کر گئی تھی۔۔

ائم سوری مس دعا ۔۔ بس میں آپ کی ہیلپ۔۔۔۔!!!!!!

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے۔۔

سر پلیز جائیں یہاں سے ، آپ کے ساتھ جا کر میں لوگوں کے خیالوں کو مثبت نہیں ہونے دوں گی۔۔

آپ شائد بھول رہی ہیں کہ میں آپکا بوس ہوں ، تو پلیز اپنا لہجہ کلئیر رکھیں۔۔

دعا کے بار بار طنز کرنا ضامن کی ایگو کو ہرٹ کر گیا تھا تبھی بھرم رکھتے ہوئے بولا۔۔

جی بالکل آپ باس ہیں مگر ” صرف آفس تک “۔

اتنا کہہ کر وہ جا چکی تھی کیونکہ اس کی بس آ چکی تھی۔

ضامن بھی سر کو جھٹکتا ، گاڑی کو زن سے بھگا کر لے گیا تھا ۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ اسے کسی کی یادوں میں ڈال دیتی تھی ۔۔ ، لیکن اس کی پری بہت معصوم تھی جبکہ دعا اسٹریٹ فارورڈ گرل تھی۔جو بنا لحاظ کیے سامنے والے کو شرمندہ کر جاتی تھی۔

©©©©©

حازم تھکا ہارا سا وہیں صوفے پہ ڈھہ گیا تھا ، اس کے دائیں جانب روباب بیٹھی تھی ۔۔۔

سب مہمان جا چکے تھے ان کی حالت پر افسوس کیے ۔۔

ایک دم ہی ان کا گھر ویران پڑ چکا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے ہنسی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

یہ ویرانی ، وحشت کئ سال پیچھے لے گئی تھی انہیں۔۔

ان سب چیزوں، وحشتوں کا زمہ دار وہ خود تھا ، وقتی اٹریکشن، ماڈرن بیوی کی خواہش ، ان سب نے اس کا خوبصورت آشیانہ اجاڑ دیا تھا ،

کتنا بد نصیب باپ ہوں میں جو اپنی بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا۔۔۔ چاہنے والی بیوی کی قدر نہ کر سکا۔۔

مجھ جیسا بد نصیب اس دنیا میں کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمی ایم سوری ۔۔۔۔۔

یہ سب خیال اس نے سماہرا کو ذہن میں سوچتے ہوئے کہے تھے۔۔

حازم۔۔۔ فکر نہ کریں۔۔۔

روباب نے حازم کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دینی چاہی تھی ۔۔

کیسے فکر نہ کروں ؟؟ ہاں ۔۔ کیسے نہ کروں۔۔

تم نہیں سمجھ سکتی۔۔ سگی ماں جو نہیں ہو اسکی، جبکہ میں باپ ہوں اسکا، سگا باپ۔۔۔۔خون کا رشتہ ہے میرا مہر سے۔۔

وہ درد و کرب تم محسوس نہیں کر سکتی جو فل وقت میں کر رہا ہوں ، اپنی بیٹی کے لئے۔۔

ح۔۔۔حازم۔۔۔۔۔۔۔

روباب اس کے ریکشن پہ شاکڈ تھی ،دونوں ہاتھ منہ پہ رکھے آنسوں کا پھندا روکنا چاہا تھا اس نے۔۔

مجھے تو افسوس ہو رہا ہے خود پر جس نے ایک بیٹی کو ماں سے جدا کر دیا۔۔صرف اپنی جوانی کی محبت کے نشے میں چور۔۔۔

آج سماہرا وہ درد میں محسوس کر سکرہا ہوں، جب اس سے ننی جان کو دور کیا تھا میں نے۔۔باپ ہو کر میرا یہ حال ہے جبکہ وہ تو پھر بھی ماں تھی۔۔۔۔

جس نے کتنی تکلیفوں سے اس کو جنم دیا۔۔۔

میں بہت گناہ گار ہوں۔

بلکہ میں اکیلا نہیں تم بھی تھی میرے ساتھ ، اس سب کی زمہ دار تم۔بھی ہو۔۔

حازم نے روباب کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔جس سے اس کی آواز اور رونے میں شدت آئی تھی۔۔

بولو کیا ملا تھا تمہیں یہ سب کروا کے؟

اس کے چہرے پہ دھاڑا تھا وہ ، جبکہ آنسوں دونوں کی آنکھوں سے رواں تھے۔۔۔

ح۔حازم ل۔۔لیو م۔می۔۔۔۔۔۔

وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی تھی۔۔۔

نو۔۔۔ فرسٹ آئی وانٹ آنسر۔۔۔

چیخا تھا وہ روباب پہ لائف میں پہلی بار۔۔۔

ک۔۔۔کیونکہ م۔۔مجھے لگتا تھا۔اولاد کے ہو جا۔۔جانے کے ب۔۔بعد آپ سماہرا کے اور قریب ہو جائیں گے ۔۔ا۔۔اور مجھے بھول جائیں گے۔۔۔ جو مجھے کسی صورت منظور نہیں تھا ۔۔اسلئے میں نے یہ ۔۔۔یہ شرط رکھی تھی ۔۔کہ آپ کا بچہ میرے پاس ہو گا تو آپ کا دل ، توجہ ، دھیان سب میری جانب ہو گا۔۔۔

وہ اٹک کر کہتی اپنے بال اس کی گرفت سے آزاد کروانا چا رہی تھی۔۔

روباب کی بات سن کر حازم کا دل چاہا اس کا حشر بگاڑ دے ، اس نے جیسے ہی روباب پہ ہاتھ اٹھانا چاہا

تھا عین اسی وقت سندل داخل ہوئی تھی روم میں شور کی آوازیں سن کر۔۔۔

ڈیڈ۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟؟

اپنے باپ کو شاکڈ کی کیفیت سے دیکھتے کہا تھا اس نے۔۔۔

ایک نمبر کی کم ظرف عورت ہو تم۔۔

غصے سے کہتا وہ کمرے سے ہی واک آوٹ کر گیا جبکہ روباب سندل کے گلے لگے آنسوں بہانے میں مصروف تھی ۔۔ جبکہ سندل کے سر پہ سے ساری کاروائی گزری رہی تھی۔۔۔

©©©©

آفرین ، اوپر خوشی کے روم میں آئی تو اس کو بیڈ پہ الٹا لیٹ کر روتے پایا تھا جو کہ فیروز کی شادی کا سن کر ہی تب سے روئے جا رہی تھی۔ فیروز کی شادی کا سن کر دکھ اسے بھی ہوا تھا لیکن خوشی کے غم کا اندازا وہ نہیں لگا سکتی تھی جس کی چاہ میں وہ یہاں آئی تھی وہ کسی اور کا ہے۔۔

خ۔۔خوشی۔۔۔

آفی نے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے پکارا تھا اپنی جان سے پیاری دوست ، کزن کو۔۔۔۔

ا۔۔ان نے شادی کر لی ہے آفی۔۔ ی۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ان کی منگیتر ہوں۔۔ ان کے نام پہ بچ۔۔بچپن گزارا ہے۔۔۔۔

لال آنکھوں سے وہ آفرین کی جانب دیکھ اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی جس کا ذمہ دار سامنے بیٹھی لڑکی کا بھائی تھا۔۔

اس کی بات سن کر ایک گہرا سانس لیا تھا اس نے۔۔۔

خوشی۔۔

میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گی۔۔بس اتنا کہنا چاہتی ہوں۔ جو ہو گیا سو گیا ، بس خود کو سنبھالو ، کسی کے لئے قیمتی آنسوں زائع نہ کرو ۔۔ چاہے وہ میرا بھائی کیوں نہ ہو۔۔

اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی تھی اور خوشی کی جانب سے جواب کی منتظر تھی جو کہ سر جھکائے بیٹھی اپنے ناخنوں سے کھیل رہی تھی۔۔

پھر جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو اٹھ کر اپنے روم میں آ گئی تھی ۔

©©©©

رات کو جب فیروز واپس گھر لوٹا تھا تو مہر کو زمین پہ بیٹھے پایا تھا جو شائد وہیں روتے روتے بیڈ سر پہ ٹکائے سو گئی تھی۔اپنے بھورے چمکتے بوٹوں کے ساتھ قدم اٹھاتا اس تک آیا تھا جو ہر چیز سے انجان خوابوں کی دنیا میں سوئی ہوئی تھی۔۔

کالے رنگ کی میکسی میں بنا میک اپ کے وہ کافی پر کشش لگ رہی تھی۔فیروز کو مہرالنسا کے چہرے میں کسی کی شبیہ نظر آئی تھی جسے وہ نظر انداز کر گیا تھا۔۔

مہر نے اپنے پاس کسی کی موجودگی محسوس کیے آنکھوں کو کھولا تھا لیکن فیروز کو اپنے سامنے دیکھ وہ جھجھک کر پیچھے ہوئی تھی جسے فیروز نے بھی محسوس کر لیا تھا۔

اٹھو اور ڈریس چینج کرو جا کر اپنا۔۔

مہر کو جاگتے دیکھ اپنا نرم تاثرات کو چھپا کر ناگواری ظاہر کرتے کہا تھا اس نے۔۔

آ۔۔آپ نے م۔۔مجھے ٹائم ہی نہیں ۔۔د۔۔دیا تھا ک۔۔کپڑے پیک کرنے کا۔۔کھینچتے ہوئے تو لائے تھے آ۔۔آپ۔۔

اپنی بڑی گہری آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتے معصومنا طنز کیا تھا اس نے۔۔

اس کی بات سمجھ کر پہلے تو اسے ہنسی آئی تھی جسے وہ فوراً چھپا گیا تھا۔۔

زبان چلا رہی ہو؟؟

مہر کو اپنی جانب کھینچا تھا اس نے۔۔

م۔۔میں نے کب چلائی ، میں نے تو صرف بتایا ہے۔۔

منمناتے ہوئے کہا گیا تھا۔۔

ابھی تو برداشت کر گیا ہوں ” پر دوبارا زبان درازی برداشت نہیں کروں گا “

کہتا وہ آفرین کے روم میں گیا تھا اس سے ایک ڈریس لے کر مہر کو پہنے کے لئے کہا تھا تاکہ وہ اپنی چمکیلی میکسی سے نجات حاصل کر لے۔۔

جب وہ ڈریس پہن کر آئی تو فیروز بیڈ پہ بیٹھا موبائل چلا رہا تھا وہ مضطرب سی کھڑی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔۔

کیا ہوا وہاں کیوں کھڑی ہو؟؟

اس کو وہیں کھڑے دیکھ فیروز نے کہا تھا۔۔

یہاں آو۔۔

پاس آنے کا حکم دیا گیا تھا۔۔جس سے وہ مزید کنفیوژ ہوئی تھی۔۔۔پھر دھیمے قدم بھرتی اس تک آئی تھی وہ۔۔