Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 10
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
یہاں بیٹھو۔۔
آنکھوں کے اشارے سے پاس بیٹھنے کا حکم دیا گیا تھا جس کی تعبیر مہر نے بیڈ کے کونے پہ بیٹھ کر دی۔۔
وہ بہت کنفیوژن کا شکار ہو رہی تھی اس کے سامنے۔۔
فیروز نے بغور اس کا جائزہ لیا تھا جس کا قد تقریباً پانچ فٹ کے لگ بھگ تھا۔
تمہارے گھر میں تقریباً سب کی ہائیٹ لمبی ہے ، تم کس پہ چلی گئی ہو؟
مہر کے بیٹھنے کے بعد یہ پہلا سوال تھا جو فیروز کی جانب سے کیا گیا تھا ، اس کے سوال پر مہر نے عجیب نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا جو اس سے کیسا سوال کر رہا تھا۔۔
وہ بنا اس کو جواب دیے لیٹنے لگی تھی کہ فیروز نے اسکے ہاتھوں سے تھام کر کھڑا کیا تھا۔
میں نے کہا ابھی لیٹنے کو؟
مہر کے چہرے پہ نظریں جمائے کہا تھا اس نے۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے فیروز کی جانب دیکھا تھا۔۔
تمہاری جگہ یہاں نہیں ہے۔۔
ک۔۔کیا مطلب۔۔؟؟
حیرت ہوئی تھی مہر کو فیروز کی اس بے تکی بات پہ۔۔
اور اسکی حیرت مزید حیرانگی میں بدلی تھی جب فیروز اس کو اسٹیرز کے پاس بنے روم میں لایا تھا ، باکی روم کی بانسبت چھوٹا اور کم ویل فرنیشڈ روم تھا وہ ۔۔
میرا مقصد صرف تمہیں تمہارے ماں باپ سے دور کرنا تھا۔۔ اپنی بیوی بنانا نہیں ۔۔پر خیر جو اللہ کو منظور۔۔
اسلئے اب سے تمہاری جگہ یہاں ہے ، اس روم میں ۔۔۔
میرے روم کے آس پاس بھٹکتی نظر نہ آو، جب تک میں نہ کہوں ۔۔اسی روم میں رہو گی تم۔۔
سمجھی۔!!!!
اسکو وہیں چھوڑے واپس روم میں آیا تھا وہ۔۔
©©©©
گھر سے نکلنے کے بعد حازم سیدھا قبرستان گیا اور وہاں موجود قبر سے سماہرا کے نام کو مٹوایا
پھر کچھ دیر تنہائی پانے کی غرض سے اس نے گاڑی کا رخ سمندر کی جانب موڑا تھا ۔۔۔۔
سمندر کی بے ترتیب موجوں کو دیکھا بے نام سا مسکرایا تھا وہ۔۔
آخری یادگار لمحہ سماہرا کے ساتھ اس نے یہیں اسی جگہ پہ گزارا تھا ۔۔جس میں وہ دونوں بے حد خوش تھے لیکن پھر اچانک ہی سب کچھ بگڑتا چلا گیا۔۔
ﻣﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻧﮯ، ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﻨﺴﯽ
ﺍﺏ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﻝ،ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﻮ۔![]()
![]()
©©©
کمرے سے منسلک اسٹڈی روم میں وہ بیٹھی اکیلے فون میں کچھ لکھنے میں مصروف تھی ،جسے اس کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔
فون پہ چلتے اس کے ہاتھ تھمے تھے جیسے ہی ان نے دروازے پہ آہٹ محسوس کی تھی ،
کیا ہوا جانم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟
نیند میں ڈوبی آواز کے ساتھ سلمان چلتے ہوئے سماہرا تک آئے تھے۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔
انہوں نے بھی مسکرا کر کہا تھا جبکہ اس وقت وہ مسکراہٹ ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
چلو مائے گولڈی اینوسینٹ۔۔۔
نیند مین ڈوبی آواز کے ساتھ کہتے انہوں بانہوں میں بھر لیا تھا ان نے۔۔
مسٹر سلمان اس عمر میں بھی جوانی برکرار ہے آپ کی۔۔۔
مسسز سلمان جب اتنی خوبصورت بیوی پاس ہو تو ، کون جوان نہیں بننا چاہے گا؟
باتوں کے دوران وہ انہیں روم میں لے آئے تھے۔
ان کی بات پر سماہرا کا جاندار قہقہہ گونجا تھا ، اس کی اسی ہنسی میں ، ان کے شوہر کی زندگی تھی۔
انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے سماہرا کا سر اپنے بازو پہ رکھا تھا، اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔۔۔
©©©
دعا ابھی گھر میں اینٹر ہو کر بیٹھی ہی تھی کہ فون کی بیل نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی وہ جانتی تھی اس وقت کس کا فون ہو گا۔۔
تبھی اس کے فکرزدہ چہرے پر ایک مسکان ٹھہری تھی۔۔
اسلام وعلیکم۔ !ماما۔۔
وعلیکم السلام!
چندہ کیسی ہو؟
انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا، جبکہ ان کی آواز میں نمی گھلی ہوئی وہ دور ہوتے ہوئے بھی محسوس کر سکتی تھی۔۔
الحمداللہ! آپ کی دعاؤں کے سنگ جی رہی ہوں ۔۔
واپس کب آو گی۔۔ کافی عرصہ بیت چکا ہے تمہیں دیکھے ہوئے۔۔
بے بسی سے کہا تھا ان نے۔۔
مما !!
بہت مشکل ہے اب میری واپسی۔۔۔
میں کبھی اس پست ماحول میں نہیں آؤں گی۔۔
یہ کہتے اس کے چہرے پر سرخی سی نمایاں تھی۔۔
پر تمہاری ماں تمہاری منتظر ہے ۔۔
خدا کی امان میں رہو۔۔
کہتے وہ فون رکھ چکی تھیں۔جبکہ کال کٹنے پر دعا نے ایک نظر فون پہ ڈالی تھی پھر خاموشی سے اٹھ کر روم میں آ گئی۔
©©©©
آفرین اور خوشی دونوں کالج یونیفورم میں ملبوس ناشتہ تناول فرما رہی تھیں کہ مہر لاپرواہ سے حلیے میں باہر نکلی تھی۔جب ان کی نظر مہر پہ گئی تھی تو وہ دونوں ہی شاکڈ ہوئیں تھیں اس کو اسٹیرز کے پاس بنے روم سے نکلتے دیکھ۔۔
اسلام وعلیکم۔۔
وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں کو دیکھ خوش اسلوبی سے سلام کرتی بولی تھی جبکہ وہ دونوں منہ کھولے اسے دیکھنے میں محو تھیں۔
آپ لوگ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟
ان کی نظروں سے پزل ہو رہی تھی وہ۔۔
م۔مطلب آ۔ آپ اس روم میں کیوں؟؟
آپ کو تو بھائی کے روم میں ہونا چاہیے؟
آفرین نے اپنی حیرت کا مظاہرہ کیے کہا تھا جبکہ فیروز کے ذکر پر مہر نے منہ کا زاویہ بگاڑا تھا۔۔
میں کوئی بیوی نہیں ہوں ان کی۔۔انہوں نے تو مجھے کیڈنیپ کیا اور بد۔۔۔۔۔
مہر۔۔۔۔۔۔!!!!!!
وہ غصہ سے فیروز کے تمام راز ان کے سامنے اگل رہی تھی ، لیکن بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فیروز کمرے سے نکلا تھا اور اس کی گورِ افشانی سن کر اپنی گرج دار آواز سے پکارا تھا اس کو جس سے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کٹ گئی تھی۔۔
روم میں جاو۔۔۔۔
فیروز کی غصے سے بھری آواز سن کر کرسی سے کھڑی ہوئی تھی وہ۔۔۔
بھائی ی۔۔یہ؟؟
آفرین نے الجھی نظروں سے دیکھ کر کہا تھا۔
کچھ نہیں۔۔ تم دونوں جاو گاڑی میں بیٹھو
فوراً ٹائم ویسٹ کیے بنا ۔۔۔ ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے ۔۔
ان کے سوال کو نظر انداز کیے حکم دیتے کہا تھا اس نے ۔۔
تم سے تو میں آ کر نمٹتا ہوں۔۔
اپنی جگہ منجمد کھڑی مہر کے کان کے پاس جھک کر کہتا وہ باہر چلا گیا تھا جبکہ وہ فوراً بھاگتے ہوئے روم میں بند ہوئی تھی۔۔
©©©
خوشی مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی بھائی نے نکاح کر رکھا ہے اور حیرت کی بات یہ کہ انہوں نے اپنی بیوی کو روم بھی دوسرا دیا ہے۔۔
تو؟
خوشی نے لاپرواہی ظاہر کرنا چاہی تھی۔۔۔
اف تم سمجھی نہیں اس پورے سین میں کچھ مسنگ ہے ۔۔
مطلب؟؟
مطلب کچھ ایسا ہے جس کی خبر ہمیں نہیں۔۔
آفی ! کچھ نہیں ، بلکہ ہمیں پوری بات کی ہی خبر نہیں۔۔
خوشی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔
ارے تم میری بات نہیں سمجھ رہی۔۔
جھنجھلا کر کہا تھا اس نے۔۔
دیکھو بھائی نے نکاح کیا اپنی مرضی سے، ایسا بھائی کہہ رہے ہیں۔۔
لیکن وہ لڑکی (مہر) کچھ بتا رہی تھی لیکن بھائی کے آنے پر بات ادھوری رہ گئی تھی۔۔
میں نے ایک ڈر دیکھا تھا بھائی کے آنے پر اس لڑکی کی آنکھوں میں لیکن۔۔۔۔۔۔۔
آفرین بات ادھوری چھوڑ گئی تھی جب کے پر مسرت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی ، وہ خاموش ہوتی اس آواز کی سمت قدم بڑھا ہی رہی تھی کہ خوشی اسے کھینچتے ہوئے ایڈوٹیرئم کی سائڈ پہ لے آئی تھی۔۔
©©©©
سندل کالج سے اوف کر کے واپس گھر جارہی تھی کہ راستے میں اسکی گاڑی خراب ہو گئی اور اب وہ سڑک کے کونے پہ کھڑی اپنے پاپا کا نمبر ملانے میں مصروف تھی جن کا نمبر ہی پاورڈ اوف شو ہو رہا تھا اس نے جھنجھلا کر فون بند کیا ہی تھا کہ عین اسی وقت ایک گاڑی آ کر اس کے پاس رکی تھی ۔۔
مے آئے ہیلپ یو؟
گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے راحب نے سندل کو دیکھ کہا جو پریشانی سے نظریں ادھر ادھر دوڑا رہی تھی۔۔
راحب کو دیکھ سندل نے ناگواری سے نظریں دوسری جانب کی تھیں جبکہ راحب ڈھیٹ بنا مسکرا کر گاڑی سے نکلا تھا۔۔
یہاں سنسان سڑک پہ کیا کر رہی ہو؟
اسکو زچ کرنے کے لئے سوال داگا تھا۔۔
شوق سے کھڑی ہوں تمہیں کوئی تکلیف ہے؟
اوو۔۔ کافی اچھے شوق نہیں پال رکھے آپ نے؟
طنز کا تیر چلا کر مقابل کو مزید برہم کر گیا تھا۔۔
تمہیں میں نے یہاں دعوت نامہ نہیں دیا رکنے کا نکلو یہاں سے۔۔
تپ کر کہتی وہ راحب کو چڑا گئی تھی۔۔
زبان زرہ سنبھال کر بات کرو۔۔ ورنہ بھولو نہیں اس جگہ تم اکیلی ہی ہو؟
سندل کے لہجے کا عنصر محسوس کیے غصہ میں اسے مستقبل سے باخبر کیے کہا تھا اس نے ۔۔
ہنہہ۔۔ تمہاری تربیت کا انداذہ ہوتا ہے تمہاری اس فضول بات سے۔۔۔
وہ تو تمہاری تربیت کا بھی خوب اندازہ ہو رہا ہے جو غیر مرد کے سامنے صرف اس پٹے نما وی میں بغیر ڈوبٹے کے کھڑی ہو۔۔
گیٹ لوسٹ یو چوزے۔۔۔۔۔
غصے سے کہتی وہ گاڑی میں بیٹھنے کو تھی کہ راحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کے گاڑی سے پین کیا تھا۔۔
یوں کسی غیر مرد سے زبان نہیں چلایا کرتے بہت بھاری پڑ سکتا ہے،
لڑکیوں کو چاہیے اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھیں۔۔۔
اس کے تمام راہ فرار کے راستے مسعود کرتے بولا ۔۔۔
مردوں کو بھی چاہیے اپنی حدوں کو پار نہ کریں۔۔۔
خود سے اسکو پرے دھکیل کر کہا تھا اور خود گاڑی میں بیٹھ کر گھر کال کرنے لگی تھی ، سد شکر اب کے نمبر روباب نے اٹھا لیا تھا۔۔۔
اور تھوڑی دیر میں ڈرائیور آ کر اسے پک کر چکا تھا جبکہ دور کھڑی راحب کی گاڑی بھی جا چکی تھی ، سندل کے جانے کے بعد۔۔۔
©©©©
تری پرنور آنکھوں کو اندھیرے میں دیا کہہ دوں
تری مسرور آنکھوں کی شرارت کو ادا کہہ دوں
تری رنجور آنکھوں کو میں ہر غم کی دوا کہہ دوں
تری مخمور آنکھوں کو نشوں کی انتہا کہہ دوں
اجازت ہو تو کیا کہہ دوں؟ تری زلفوں کو میں عنبر فشاں، ریشم نما کہہ دوں
تری زلفوں کو تپتی دھوپ میں کالی گھٹا کہہ دوں …
روم میں بیٹھی سماہرا کے سامنے بھاپ اڑاتی کافی رکھتے ،شعر گنگناتے ہوئے کہا تھا سلمان نے۔۔۔
ایک خوبصورت مسکراہٹ نے ان کے چہرے پر رقص کیا تھا ،
اس خوبصورت شعر کے تبصرے میں دو لفظی جواب ہے۔۔۔
وجہ تم ہو!!!!!
سماہرا نے بھی کافی کا گھونٹ بھر کے ترچھی نظروں سے ان کو دیکھ کہا تھا۔۔
معصومہ ۔۔۔
ہہہممم!!
سلمان کے پکارنے پر سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا تھا ان نے۔۔
تم جانتی ہو تمہاری کس چیز نے مجھے تمہارا دیوانہ بنایا تھا؟
نہیں۔بولنے کے بجائے سر نفی میں ہلایا تھا۔۔
تمہاری آنکھوں نے۔۔۔!!!!
جب پہلی بار تمہیں پارٹی میں دیکھا تھا تو ان آنکھوں میں ایک درد ، تکلیف سی تھی جو تم چھپائے بیٹھی تھی میرا دل چاہا تھا کہ تمہارے غم خود میں سمیٹ لوں ۔ہنستے وہ معصومہ کی گہری پرنور آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
پھر تم سے ملاقات کا بہانا مل گیا تھا جب تم باہر تنہا کھڑی ناجانے آسمان میں کیا تلاش رہی تھی ۔۔۔
لیکن میں سرپرائز ہو گیا تھا جب معلوم ہوا کہ تم شادی شدہ ہو۔۔
تلخ سا مسکرایا تھا وہ جبکہ وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی احساس سے عاری تاثرات کے ساتھ۔۔
تمہاری آنکھوں میں اس بے وفا شخص کے لئے محبت کا جہان دیکھا تھا میں نے ۔۔
تم ایک الجھی کتاب کی مانند تھی اس وقت میرے لئے۔۔
جب حازم میرے سامنے تمہیں کھینچتے ہوئے لے کر گیا تھا تمہیں روک لینے کا دل چاہا تھا مگر تب انجان تھا میں۔۔۔
سلمان نے پہلی ملاقات کا حوالہ دیا تھا۔۔
سلمان کی آخری بات کے ساتھ کافی لمحے دونوں میں خاموشی چھائی رہی تھی ، پھر بالآخر اس خاموشی کو سلمان کی آواز نے توڑا تھا۔۔
کیا اب بھی وہ تمہارے ذہن میں ہے؟ اس کی خاموشی کو محسوس کیے بولے تھے۔۔
ان کے سوال پر سماہرا نے ایک سرد آ خارج کی تھی پھر چلتے ہوئے بالکونی میں آئیں تھی اور ان کی پیروی کیے سلمان بھی۔۔۔
میں اپنا تلخ ماضی بھولا چکی ہوں۔۔اور اسے چاہ کر بھی یاد نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
وہ آسمان کی جانب دیکھے ساتھ کھڑے اپنے شوہر سے مخاطب ہوئی۔۔۔
بعض اوقات ہمارا دل کسی سے محبت کر بیٹھتا ہے۔محبت تو بہت خوبصورت احساس ہے۔۔۔
۔مگر بات یہاں پوری ہوتی ہے کہ جس سے ہم محبت جیسا جذبہ عنایت کر رہے ہیں۔۔کیا وہ اس قابل ہے بھی۔۔۔
سلمان نے اپنی معصومہ کے گرد مضبوط حصار بناتے ہوئے بولا۔۔۔
وہ میرا سیاہ ماضی تھا۔۔۔اور آپ میرا حسین آج ہیں۔۔۔جس میں صرف ہم دونوں ہیں۔۔۔اس نے اپنے شوہر کے سینے پر سر رکھتے ہوئی بولی کہا۔۔
اور میرا وعدہ ہے “کہ یہ حسین آج ہمیشہ حسین ہی رہے۔۔”
وہ خمار آلود لہجے میں بولے اور سماہرا کے گرد مضبوط حصار بنا گئے۔۔۔۔۔
