Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 18 (Last Episode)

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj

وہ دونوں ہی دنگ رہ گئے تھے جب حازم کو پولیس ریسکیو کے ساتھ اپنے گھر میں موجود پایا تھا۔۔۔

انسپیکٹر ایریسٹ ہیم۔۔۔۔

اس شخص نے دھوکے سے مجھ سے طلاق کے کاغذات دستخط کروائے اور میری بیوی سے خود نکاح کر لیا۔۔۔

ہم سب کی نظروں میں اسے مردہ ثابت کیے باہر کے ملک۔۔لے گیا تھا۔۔۔۔

واٹس ربش ! مسٹر حازم۔۔۔

سلمان غصے سے چیخے تھے۔۔۔

اپنی آواز نیچے رکھو سلمان۔۔

کیا تم نے ایسا نہیں کیا؟؟؟

س۔۔سلمان؟؟

سماہرا کی گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی۔۔

تم نے سماہرا کو اس بارے میں نہیں بتایا کہ ،”تم نے کس طرح دستخط کروائے؟

وہ حیرت کا مجسمہ بنی سماہرا پر ایک نظر ڈالے طنزیہ بولے تھے۔۔جن کی آنکھوں میں بے شمار سوالات تھے۔۔۔

وہ غرور سے چلتے سماہرا کے پاس آیا تھا۔۔۔

سماہرا اب تم میرے ساتھ چلو گی۔۔

دیکھو آج بھی تم نکاح میں ہو میرے۔۔

ان کا ہاتھ جیسے ہی پکڑا تھا حازم نے وہ جھٹکے سے چھڑا گئی تھی ان ہاتھوں کو۔۔۔

دور رہو ۔۔ڈیمن اٹ۔۔میری بیوی سے۔۔۔

سلمان تیش میں آگے بڑھے تھے اور ایک مکہ حازم کی ناک پر رسید کیا تھا۔۔

حازم نے خون آشام آنکھوں سے ان دونوں کی جانب دیکھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں ایک دوسرے کو ڈھیر کرنے کے در پر تھے۔۔

پولیس ، اور سماہرا نے مل کر ان دونوں کو بہت مشکل سے الگ کیا تھا۔۔

خون دونوں کے چہرے سے بہہ رہا تھا۔۔۔

حازم۔۔۔۔

دور رہیں مجھ سے اور میری فیملی سے۔

کیا کوئی کھلونا ہوں میں؟

یا کوئی مزاق ہوں؟؟

جس کا جب دل چاہا کھیل لیا۔۔۔۔

جو بھی معملات ہیں ، وہ صبح دیکھ لیے جائیں ، اب آپ جائیں اور ہاں۔۔آئندہ میرے گھر میں اپنے ان چیلوں( پولیس) کو لانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

ائیم سوری میم۔۔ہمیں کمپلینٹ کے مطابق آپ کے ہسبینڈ کو ایریسٹ کرنا پڑے گا۔۔

یو۔۔۔وہ ہسبینڈ نہیں ہے اسکا۔۔۔

حازم نے انسپیکٹر کو وارن کیا تھا۔۔۔۔

وہ بنا اس کی بات سنے لے جا چکے تھے سلمان کو۔۔۔

جبکہ ان نے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔

مان لو۔۔سمی آنا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے۔۔۔

چہرے پر لگے خون کو صاف کرتے انہوں نے مسکرا کر سماہرا کو دیکھا تھا جن کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے۔۔۔۔

ان خوبصورت آنکھوں سے آنسوں صرف میرے لئے بہنے چاہیں ، کسی۔۔۔۔۔(۔ ) کے لئے نہیں۔؟۔۔

سماہرا کو اپنے قریب کیے آنسوں صاف کیے تھے جبکہ وہ تڑپ کر پیچھے ہوئی تھیں۔۔

شٹ اپ۔۔۔ائنڈ گیٹ لوسٹ۔۔۔۔۔۔

غصے سے کہتیں وہ کمرے میں جا کر ڈور لاک کر گئی تھیں۔۔جبکہ حازم وہیں اکیلے کھڑے رہ گئے تھے۔۔

جسٹ ویٹ اینڈ واچ سماہرا واپس میرے پاس آو گی۔۔۔

کیونکہ تم میری تھی ، اور میری ہو۔۔۔

ایک بازی تم نے لڑی اور ایک بازی میں لڑوں گا۔۔

ایک نظر کمرے کے بند ڈور کو دیکھتے انہوں نے دانت پیستے کہا تھا۔۔۔

اور وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔۔

آج ہی ان کے گھر میں خوشیاں آئی تھیں اور یکدم ہی غم کے بادل چھانے لگے۔۔۔

°°°°

صبح ہوتے ہی وہ سب سے پہلے پولیس اسٹیشن گئی تھیں۔۔

سلمان کی بیل کروانے ۔۔۔

انہیں وہاں دیکھ کر سلمان سخت برہم ہوئے تھے۔۔

سماہرا ! آپ یہاں کیوں آئی ہیں۔۔۔؟؟

ڈرائیور یا کسی اور کو بھیج دیا ہوتا۔۔۔

وہ سخت الفاظوں میں بولے تھے لیکن سماہرا کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔ان کو ساتھ لئے وہ پولیس اسٹیشن سے نکل رہی تھیں۔

خاموشی سے وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں سلمان کی کسی بات کا جواب دینا ان نے گوارا نہ کیا تھا۔۔

معصومہ۔۔۔

میں یہاں پاگل ہوں جو کب سے بول رہا ہوں اور ایک آپ ہیں جو میری باتوں کو ان سنی کر رہی ہیں۔۔

گاڑی کی ونڈو سے انہیں پن کیے وہ خفا خفا سے بولے تھے۔۔

سلمان۔۔۔

انہوں نے ڈرائیور کی جانب ان کی نظریں مرکوز کروائی تھیں ۔

وہ پیچھے ہو گئے تھے مگر انہیں چھوڑا نہ تھا۔۔۔۔

او بے وفا تیری دیوانگی۔۔۔

دیوانگی۔۔۔۔۔۔

آنسوں میں غم ملا کے۔۔۔

تم کو میرا دل دکھا کے

کیا ملا ہے یہ بتا مجھے

یہ ناراضگی کیسے دل سے میرے جائے گی؟

تیری بات میں اثر لگی۔۔۔

پہلی بارش کے جیسے کتنا یہ رولائے گی

جانے کس کی ہے نظر لگی۔۔۔

سماہرا مجھ سے دور نہ جائیے گا۔۔۔

میرے ساتھ رہیے گا۔۔سلمان تم بن ادھورا ہے۔۔۔

ان کو خود میں کی بانہوں کے گھیرے میں لیا تھا ایک ڈر سا تھا ان کے دل میں جو ہلکورے کھا رہا تھا۔۔

میں یوں خفا تو نہیں

مگر گلا ہے مجھے

کیوں بے وفا سے کوئی وفا کرے

رکھا ہوا قید میں

ہے اس کے من میں کہیں

اسے کہو دل میرا رہا کرے

اپنا بنا کیا فنا

تو یہ بتا تھی کیسی یہ دیوانگی۔۔۔۔۔۔

یہ بات وقت بتائے گی سلمان ۔۔۔

میں اس سب میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔

وہ پیچھے ہو گئی تھیں ، پرس سے گلاسز نکال کر پہن چکی تھیں وہ تاکہ اپنے ان آنسوں کو چھپا سکیں۔۔۔

تھوڑی دیر میں ہی ان کی گاڑی ایک گھر کی جانب رکی تھی ، وہ دونوں ہی داخل ہوئے تھے اس گھر میں ۔۔۔۔۔

°°°°°

کچھ بھی نہیں ہے یہ جہاں

تو ہے تو ہے اس میں زندگی

یہ عشق ہے میرا۔۔۔۔

اس کی خوشبو، اسکا احساس انسان کو سکون فراہم کر تا ہے۔۔۔۔

” رات کے پہر۔۔۔

تیز موسلا دار بارش۔۔۔

آسمان میں چمکتی بجلی جس کے باعث اندھیرے میں کچھ لمحے کے لئے ماحول میں روشنی پھیلتی تھی۔۔۔

اب مجھ کو جانا ہے کہاں

کہ تو ہی سفر ہے آخری

اسی بارش میں ضامن کھڑا خود کے وجود کو بھیگو رہا تھا۔۔۔

ہیرا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔۔۔۔

آنکھیں بند کیے ، چہرے آسمان کی جانب اٹھائے وہ آج کتنے عرصے بعد اس بارش کو محسوس کر رہا تھا جس نے تمام خوشیاں چھین لی تھیں اس سے۔۔۔۔

اس کی ہنسی ، وہ خوبصورت مسکراہٹ سب اسی بارش کے پانی میں بہتے چلے گئے تھے۔۔۔

کہ تیرے بنا جینا ممکن نہیں

نہ دینا کبھی مجھ کو تو فاصلے

بارش کا پانی اچانک اس کے وجود پر گرنا بند ہوا تھا البتہ آواز اب بھی آ رہی تھی اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو دعا چھتری لیے اس کے ساتھ سائے کی مانند کھڑی تھی۔۔۔

میں تجھ کو کتنا چاہتا ہوں

کہ تو کبھی سوچ نہ سکے

ضامن۔۔۔آ۔۔آپ یہاں کھڑے کیوں بھیگ رہے ہیں، سردی لگ جائے گی۔۔۔

دعا نے فکرمندی سے کہا تھا۔۔۔

ضامن نے پہلو میں کھڑی دعا کو دیکھا ، پھر ایک نظر اس چھتری اور برستی بارش کو دیکھا تھا۔۔۔

وہ منٹوں میں اس چھتری کے سائے کو ختم کر چکا تھا۔۔۔

اب بارش ان دونوں کے وجود کو بھیگو رہی تھی۔۔

آنکھوں کی ہیں یہ خواہشیں

کہ چہرے سے تیرے نہ ہٹیں

اس بارش نے مجھ سے میری محبت کرنے والی بیوی کو چھینا۔۔۔

دعا کے بارش میں بھیگتے وجود کو اپنی جانب کھینچا تھا ، کسی کٹی پتنگ کی مانند وہ سیدھا اس کے سینے سے آن ٹکرائی۔۔۔

اسے جتنا عشق تھا بارش سے ، یہی بارش اس کی بربادی کا باعث بنی تھی۔۔۔

اس کو خود میں بھینچے اپنا درد عیاں کر رہا تھا۔۔

آنکھیں اس کی لال سرخ ہو رہی تھیں، اور چہرا پورا تر،۔۔۔

اب یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ چہرا آنسوں سے بھیگا ہے یا بارش سے۔۔۔۔۔۔۔

نیندوں میں میری بستے رہیں

خوابوں لیں ہیں کروٹیں

اسی برسات کے موسم کو ہم دونوں ساحل پر گئے تھے ، محسوس کرنے۔۔۔۔۔

یہ بھی اسی ہی کی خواہش تھی۔۔۔

دعا کی گیلی زلفوں کو کان کت پیچھے اڑسا ، جن سے شبنم کے قطروں کی مانند پانی گر رہا تھا۔۔۔

“میری جان ، بیمار ہو جاؤ گی اب چلو۔۔

ضامن نے ہیرا کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کے اندر لے جانا چاہا تھا کہ ہیرا نے ضامن کے ہاتھوں کو کھینچ کر اپنے ساتھ ہی نیچے ریت میں بیٹھا لیا۔۔۔۔

اف ضامن محسوس کریں اس موسم کو۔۔۔

کتنی خوبصورت برسات ہے۔۔

خدا کا تحفہ۔۔۔

اپنا چہرا اوپر کی جانب کیے بولی کے بے ساختہ مقابل کا دل دھڑکا تھا۔۔۔

یہ عشق ہے میرا۔۔۔۔

بارش کے پانی کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا اس نے۔۔۔

اور میرا عشق تم ہو ہیرا۔۔۔۔

اس کے وجود کو بانہوں میں بھرتا گاڑی میں لے جانے لگا تھا کہ پیچھے سے کچھ اوباش لڑکوں کے قہقہے سنائی دیے تھے اسے۔۔۔

استاد ۔۔۔مال تو مست ہے اجازت ہو تو بانٹ لیں۔۔۔۔

انہیں اگنور کیے خود پر ضبط کرتا وہ ہیرا کو لیے گاڑی میں آیا تھا۔۔

باہر مت نکلنا۔۔۔۔

اسے منع کرتا وہ ان لڑکوں کے پاس آیا ۔۔

کیا بکواس کی تھی؟؟

ایک لڑکے کے کالر کو جکڑے وہ خون آشام آنکھوں سے انہیں دیکھتے بولا تھا ماتھے کی رگیں غصے کے بعض ابھرنے لگی تھیں۔۔۔۔۔

یہی کہ مال بہ۔۔

ضامن کے ہاتھ سے پڑنے والے مکوں نے اسے مزید کچھ کہنے کا قابل نہ چھوڑا تھا۔۔۔

وہ غصے اور تیش میں آتا انہیں پیٹ رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے سر میں کانچ کی بوتل ماری۔۔۔۔

آہہہ۔۔۔۔۔

ضامن سر پہ ہاتھ رکھتا مڑا تھا ، خون اسکے سر سے رِس رہا تھا۔۔

ض۔۔۔ضامن۔۔۔۔سی۔۔۔سیو می۔۔۔

دور سے آتی ہیرا کی آواز پر اس نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھا تھا جہاں پر وہ مدد کے لئے اسے پکار رہی تھی۔۔۔۔

یو ایڈیٹ۔۔۔۔۔۔۔

لیو مائی وائف۔۔۔۔

آہہہہ۔۔۔وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا تھا جب اسکی ٹانگوں پر ڈنڈے کی گہری ضربیں لگی تھیں۔۔۔

چیختے ہوئے وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا لیکن ان لڑکوں نے گھیرا ہوا تھا اسے۔۔۔۔

ضامن۔۔۔۔۔۔ہیرا کی دلخراش چیخیں اسکی جان نکالنے کو کافی تھیں۔۔وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا اسکے پاس جانا چاہتا تھا لیکن انہوں نے ضامن کو اس قابل نہ چھوڑا تھا کہ وہ اٹھ کر اس کی مدد کر سکتا۔۔۔

میری پوری دنیا اجڑ چکی تھی جب ہیرا کا بے جان وجود میرے قدموں میں پھینکا گیا تھا۔۔۔۔

گرج چمک کے ساتھ ہوتی وہ بارش جو کچھ دیر پہلے مجھے بہت بھا رہی تھی ، مگر کچھ ہی لمحوں میں اس موسم سے نفرت ہونے لگی تھی۔۔۔

اس طوفانی موسم میں وہ لڑکے قہقے لگاتے جا چکے تھے۔۔۔۔۔جبکہ میں اپنے ادھ مرے وجود کے ساتھ اپنی بے بسی پر کراہ رہا تھا۔۔۔

مجھے پتہ نہ چلا کہ کب صبح ہوئی ، کب ہم وہاں سے گھر لے آئے گئے ، کب ہیرا کی تدفین ہوئی۔۔۔کچھ خبر نہ تھی۔۔۔۔

اپنی بیوی کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا تھا مجھے۔۔۔۔

دعا کو خود میں سموئے اپنے غم کی داستان سنا رہا تھا، اسکے آنسوں دعا کی گردن پر گر رہے تھے۔۔۔

تینو اتنا میں پیار کراں۔۔۔

ایک پل وچ سو بار کراں

تو جاوے جے مینو چھڈّ کے

موت دا انتظار کراں۔۔۔۔

تم تو مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاو گی نا؟؟

کسی ڈر کے تحت اس کے چہرے کو اوپر اپنی جانب کیا

ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔

کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ بولی تھی کہ بے اختیار کر جھک وہ اس کی سانسوں ، جذبات کو خود میں قید کر گیا۔۔۔۔

تیرے لئے دنیا چھوڑ دی ہے

تجھ تجھ پر سانس آ کر رکے۔۔۔

آئے لو یو دعا۔۔۔

تم ضامن کی محبت و زندگی ہو۔۔۔

مجھ سے کبھی دور نہ جانا۔۔۔۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے تم سے عشق ہے،۔۔۔

مگر تم ضامن کے دل کی دھڑکن ہو،

اگر دھڑکن رک جائے تو انسان بیکار ہے۔۔۔

اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے خمار زدہ لہجے میں بولا۔۔۔

بارش کے اس خوبصورت دل موہ لینے والے موسم میں۔۔۔

وہ دونوں بھیگتے ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔

°°°°°°°

مفتی صاحب۔۔۔

میں نے ایک لڑکی سے انتہاہ کی محبت کی ،

لیکن وہ شادی شدہ تھیں، میں مذہب سے دور تو تھا مگر اتنا ضرور جانتا تھا کہ شادی شدہ عورت پر نظر کرنا گناہ ہے۔۔

بمشکل دل کو سنبھالے میں پیچھے ہونے لگا تھا۔۔۔

باہر کے ملک جا رہا تھا ہمیشہ کے لئے۔۔۔

لیکن راستے میں ہی اتفاقاً اسی لڑکی کا ایکسیڈینٹ میری گاڑی ہو گیا۔۔وہ اپسرا خون سے لت پت روڈ پر پڑی تھی۔۔۔

بے شک جو بھی تھا میں نے اس لڑکی سے محبت کی تھی

اس کو یوں اس حال میں دیکھنا میرے لئے سوہانِ روح تھا۔۔

میں فوراً سے اس کو ہسپتال پہنچایا اور خود اس کے گھر اسکے شوہر کو اطلاع دینے گیا ، لیکن وہاں جا کر میں دنگ رہ گیا تھا کہ اس کا شوہر کسی اور عورت سے شادی رچائے بیٹھا ہے۔۔۔۔

مجھے تمام معاملات سمجھ آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔

کہ کیوں وہ گھر سے نکلی تھی۔۔۔

میرا دل کیا میری محبت کو اس حال میں پہنچانے والا کا حشر بگاڑ دوں لیکن۔۔۔پھر ایک خیال میرے ذہن میں آیا جس کو میں نے عملی جامعہ پہنایا۔۔۔

طلاق۔۔۔دھوکہ سے طلاق۔۔

کیونکہ میری نظر میں قانونی طلاق صرف عدالت کے کاغذات پر دستخط کروانے سے ہی ہو جاتی تھی۔۔۔

اسلئے میں نے سماہرا کو ان کی نظر میں مر۔۔۔مردہ ثابت کر دیا ۔۔۔

اور ہسپتال کے کاغذات پر ہی طلاق کے کاغذات رکھوا کر سائین کروا لئے۔۔۔۔۔

ا۔۔۔اب آپ بتائیں ؟؟

کیا کریں ہم؟؟؟؟

ان کے سامنے سر جھکائے وہ بے بسی سے بولا تھا۔۔جبکہ یہ حقیقت سلمان کی زبانی سن کر سماہرا کا دل کٹ سا گیا تھا۔۔۔

وہ بھی منتظر تھیں مفتی صاحب کی بات کے۔۔

کہ نجانے وہ کیا حل بتائیں۔۔۔۔

دیکھو بیٹا طلاق ایسے نہیں ہوتی۔۔۔

طلاق دینے والے کو یہ لازماً معلوم ہونا چاہیے کہ وہ طلاق دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔

طلاق اور نکاح یہ دونوں چیزیں مزاق نہیں ہیں۔۔

اگر کوئی دو لوگ تین بار نکاح کو آپس میں قبول کرتے ہیں ، لوگوں کی موجودگی میں ، اور وہ اس بات کے گواہ بن جائیں کہ ہاں، ” واقعی ان نے نکاح قبول کیا”

تو سمجھیں نکاح ہو گیا۔۔۔۔۔۔

اور اگر ایسے ہی کوئی شخص مزاق میں ہی تین بار بیوی کو طلاق کہتا ہے ، بے شک اس کے سامنے بھی نہ صحیح لیکن جیسے ہی وہ زبان سے اس چیز کو قبول کر لے۔۔۔

تو سمجھیں طلاق طے پا چکی ہے۔۔۔۔۔۔

اور دوسرا۔۔۔۔۔

جس کا غذ پر طلاق دینے کی بات لکھی ہے اسے پڑھ کر یا لڑکے کہنے ہی سے لکھے گئے ہوں تو دستخط کردینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، طلاق دیتے وقت یا لکھتے وقت، یا تحریر پر دستخط کرتے وقت لڑکی کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں۔‎

مفتی صاحب اپنی بات کہہ کر خاموش ہوئے تھے۔۔۔۔

اگر شوہر زندہ ہو اور طلاق بھی نہ ہو تو کیا عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟؟

ہاں کر سکتی ہے مگر صرف اس شرط پر کہ

“شوہر کے غائب ہوجانے کی صورت میں اگر بیوی کے لیے پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہ ہو تو وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔‎

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛ اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):‎

“(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا”.‎

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):‎

“قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ”.‎

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 295):‎

وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ‎

المبسوط للسرخسي ـ موافق للمطبوع (11/ 64):‎

“وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس”.‎ فقط واللہ اعلم‎۔۔۔

میں نے سماہرا سے نکاح تو کیا تھا مگر طلاق کے دو سال بعد۔۔۔۔۔

اس عرصے میں وہ اپنے شوہر سے لا علم تھیں۔۔۔ مطلب ملی نہیں تھیں۔۔۔

چہرے پر ایک رمک سی آئی تھی۔۔۔۔

ہممم۔۔۔تو پھر اس لحاظ سے اگر اس لڑکی کا سابقہ شوہر لوٹ آیا ہے تو اس کا نکاح اس کے شوہر کے ساتھ قائم ہے۔۔۔۔

اسلئے انہیں تم سے علیحدگی لے کر ، اپنی عدت پوری کر کے ان کے پاس واپس لوٹ جانا چاہیے۔۔۔۔

شریعت کے مطابق۔۔۔۔

جہاں مفتی صاحب نے اپنی بات مکمل کی تھی ، سلمان کو لگا وہ دوسرا سانس نہیں لے پائیں گے۔۔۔

سماہرا وہاں سے روتے ہوئے نکل گئی تھیں۔۔

جبکہ سلمان ان کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°

مہرالنسا کی آنکھ صبح اپنے چہرے پر کوئی نرم چیز محسوس کر کے کھلی۔۔۔۔

اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں تو فیروز کو خود پر جھکے پایا تھا جو کہ ہاتھ میں گلاب لئے اس کے چہرے پر ٹریس کر رہا تھا۔۔۔

گڈ مارننگ مائے لائف۔۔۔۔

گلاب کا پھول اسکی جانب کیے ماتھے پر محبت سے بھرا لمس چھوڑا۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ بٹ۔۔۔

مجھے گلاب پسند نہیں۔۔۔۔!!

وہ منہ کے زاویے بگاڑ کر بولی۔۔۔۔۔

پر کیوں؟؟؟

یہ تو ہر لڑکی کا عشق ہوتا ہے!!!!

فیروز نے اس کے بالوں کی آوارہ لٹ کو کھینچتے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جس پر مہر نے اسکو ایک زبردست گھوری سے نوازا تھا۔۔۔

ہوتا ہو گا ۔۔۔پر میں ان لڑکیوں میں شامل نہیں۔۔۔۔کیونکہ مہر النساء فیروز شمس سب سے الگ ہے۔۔۔۔

اس کے گلے میں بازو ڈالے آنکھیں پٹپٹاتے بولی۔۔

ہممم۔۔۔۔۔سب سے الگ ہے تبھی تو میرے ساتھ ہے۔۔۔۔وہ فخریہ انداز میں کالر جھاڑتے ہوتے بولا۔۔

خیر تمہیں یہ کیوں نہیں پسند ۔۔۔؟؟؟

وہ تھوڑا سنجیدگی سے بولا۔۔۔

کیونکہ یہ تکلیف دیتے ہیں۔۔

بھلا کیسے؟؟؟ وہ حیرت سے گویا ہوا…!!!!

گلاب کے ساتھ لگے کانٹے جب کسی کو لگ جائیں تو بےحد تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔۔۔

کیا۔۔؟؟ تم صرف کانٹوں کی بدولت ان کو ناپسندیدگی کا شرف دے رہی ہو؟؟

اس پر تو گویا حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے۔۔۔۔

ہاں نا ۔۔۔۔کیونکہ کچھ بھی انسان بھی گلاب کی مانند ہیں۔۔جو خوبصورتی کی آڑ میں انسان کو اپنے تلخ رویوں سے تکلیف دے جاتے ہیں۔۔۔

وہ اچانک مایوس ہوئی تھی کہ فیروز تڑپ ہی تو گیا تھا اس خوبصورت چہرے پر مایوسی دیکھ۔۔۔

جانم آیم سوری ۔۔۔۔۔

ہر اس خطا ، ہر اس غلطی کے لئے ۔۔۔

ہر اس لہجے کے لئے جس نے میری زندگی کو تکلیف پہنچائی۔۔۔

بوجھل لہجے میں کہتے وہ اس کے گال پر جھک گیا اور دھکتہ لمس چھوڑے پیچھے ہوا تھا اور اس کو فریش ہونے کا کہے باہر نکل گیا۔۔۔

°°°°°°°°

سماہرا ۔۔۔۔

اسٹاپ۔۔۔۔

واٹ سلمان۔۔۔؟؟

دھوکہ دیا ہے آپ نے مجھے سلمان اندھیرے میں رکھا مجھے۔۔۔

دو مرد میری زندگی میں آئے اور آپ دونوں نے ہی کوئی کسر نہیں چھوڑی مجھے تکلیف دینے میں۔۔

وہ روتے ہوئے اذیت بھرے لہجے میں بولی تھیں کہ سلمان تڑپ اٹھے تھے۔

معصومہ میری۔۔۔۔

نہیں ۔۔نہیں بولیں مجھے معصومہ ۔۔آپ دونوں نے مل کر مار ڈالا ہے میری شخصیت کو۔۔

اپنے بالوں کو نوچتے وہ زمین پہ بیٹھتی چلی گئی تھیں۔۔

پہلے تھا چرایا جو

گھر تھا پھر بنایا جو

سماہرا گھر چلو وہاں چل کے بات کرتے ہیں آرام سے ۔۔۔

وہ بھی زمین پہ بیٹھے تھے انہی کے ساتھ اور آرام سے منانا چاہا تھا انہیں۔۔

ان کی بات پر جن نظروں سے سماہرا نے دیکھا تھا انہیں ، نظریں چرانے پر مجبور ہو گئے تھے وہ۔۔

دل وہی کیوں توڑ بھی دیا ہے

درد یہ اٹھایا جو

کیا آپ نے ہمارے اس رشتے کو اس قابل چھوڑا ہے کہ میں گھر جاوں؟

دل پہ پھتر رکھے وہ مقابل سے شکوہ کر گئی تھیں۔۔ان کا دل تڑپ رہا تھا اس رشتے کی دراڑ پر ، ان کے خوبصورت آشیانے کو نظر لگ چکی تھی جو کہ انہیں کے خاوند کے جذباتی فیصلے کی بدولت تھا۔۔

کیا ملا آپکو سلمان یہ سب کر کے۔۔۔

کیوں چھپایا آپ نے مجھ سے اس راز کو؟

آپ نے شادی کرنی تھی نا مجھ سے ؟ ہم عدالت میں کیس ہائر کر دیتے ۔۔ میں خلع لے لیتی حازم سے ،مگر یہ دھوکہ۔۔۔

وہ ان کے کالر کو دبوچے چیخ کر بولیں تھیں کہ آس پاس موجود سب لوگ ان کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔

ح۔۔حازم کبھی تمہیں طلاق نہ دیتا تبھی میں نے ی۔۔یہ سب۔۔۔

ان کو ہاتھوں کو ہٹایا نہیں تھا اپنے کالر سے بلکہ انہیں پہ اپنے ہاتھ رکھ کر ان کے غصے کو کم کرنا چاہا تھا۔۔۔

اگر ایسے ہی ملنا تھا تو کاش ہم کبھی ملتے ہی نا!!!

اچھا ہی ہوتا کہ میں اس دن مر جاتی۔۔۔نہایت کی بے بسی ، کرب ، تکلیف تھی ان کی آواز میں۔۔۔

مشکلوں سے پایا جو

پھر اسی کو چھوڑ بھی دیا ہے

میرے جذبات ارمانوں کے ساتھ کھیلا ہے ،میری روح کو گھائل کیا ہے آپ دونوں نے جس کے لئے کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔۔

سماہرا اٹھی تھی وہاں سے اور بنا سلمان کی جانب دیکھے نکلتی چلی گئی تھیں جبکہ وہ انہیں چاہنے کے باوجود بھی نہیں روک پارہے تھے۔۔

سلمان نے اپنے بے وقوفانہ ، جذباتی حرکات کی وجہ سے آج خالی ہاتھ رہ گیا تھا۔۔۔

ایک آنسوں کے بعد کئی آنسوں بے مول ہوئے تھے ان کی آنکھوں سے بہہ کر۔۔۔

لگا گلے ، جدا کیا۔۔

تو یہ بتا تھی کیسی یہ دیوانگی

او بے وفا۔۔۔۔تیری دیوانگی۔۔

آج وہ اپنے فلیٹ میں موجود تھیں جو کہ سلمان نے انہیں سالگرہ پر دیا تھا۔۔۔۔

وہاں آتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں۔۔۔

ان نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس تحفے کو وہ یوں استعمال کریں گی ، اسی شخص کی عدت کے لئے۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°

کچھ مہینوں بعد۔۔۔۔۔۔

پھولوں سے سجی دہلیز۔۔۔۔

خوشبوؤں سے مہکتا کمرا۔۔۔۔

نفاست سے رکھی گئی ہر چیز۔۔۔

اور آخر میں نظر جا ٹھہری تھی اس تصویر پر جو کئی سال پہلے کتنے دل اور جذبات سے بنوائی تھی اس نے۔۔۔۔

لیکن تب اور اب میں بہت بڑا فرق تھا،

جیسے فرق ہوتا ہے زمین اور آسمان میں۔۔۔

پہلے اس کے جذبات صرف اس ہرجائی کے لئے تھے۔۔۔

مگر اب جذبات مسیحائی کے لئے ۔۔۔

اس کا ہوں اس میں ہوں اسے ہوں اسی کا رہنے دے

میں تو پیاسا وہ دریا وہ زریعہ وہ جینے کا میرے

مجھے امید تھی تم ضرور آو گی۔۔

اپنے عقب سے آتی حازم کی آواز پر وہ دھیرے سے گھومی تھی۔۔

وہ کچھ نہیں بولی بس یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھے گئی جہاں خوشی ہی خوشی تھی۔۔۔

وہ شخص کتنا خوش دیکھائی دے رہا تھا اس کے گھر کی خوشیوں کو چھین کر۔۔۔

سماہرا کے دل میں نفرت سی پیدا ہوئی تھی ۔۔۔

مجھے گھر دے گلی دے شہر دے اسی کے نام کے

قدم یہ چلے اور رکے اور اسی کے واسطے کے

دل مجھے دے اگر درد دے اس کا پر

سن کے وہ ، وہ ہنسی گونجے جو میرے گھر

یہ دیکھو اس روم کو میں نے خود سجایا ہے اپنے ان ہاتھوں سے صرف تمہارے آنے کی خوشی میں۔۔

ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔

کیوں؟؟؟

دوسری بیوی سے دل بھر گیا ہے کیا جو اب دوبارا مجھے پا لینے کی خواہش جاگ رہی ہے وہ بھی عمر کے اس آخری حصے میں۔۔۔

ویسے آپ کی وہ سو کالڈ وائف دیکھائی نہیں دے رہیں۔۔۔

طنزیہ کہتے بالکل عمر پر چوٹ کرنا نہ بھولیں تھیں۔۔

اے خدا ! اے خدا !جب بنا اس کا ہی بنا۔۔۔۔

اے خدا ! اے خدا !جب بنا اس کا ہی بنا۔۔۔۔

مجھے کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے ، میں اس وقت صرف اپنی اور تمہاری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔

آج بہت خوش ہوں تمہیں واپس اپنا بنا کر۔۔۔۔

صحیح کہا آپ نے۔۔۔

آپ کو کسی سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔

آخر بے وفا جو ٹھہرے۔۔۔

حازم شائد آپ کی فطرت میں ہی بے وفائی ہے۔۔۔

وہ افسوس بھری نظر اس کے وجود پر ڈال کر بولی تھی۔۔۔

میرے ساتھ تو چلیں بے وفائی کی ہی تھی آپ نے ، مگر۔۔۔

جس کی خاطر مجھے ٹھکرایا تھا اب اسی کو بے مول کر رہے ہیں میرے لئے۔۔۔

عجیب۔۔۔۔۔

سماہرا اس وقت میں سب بھول جانا چاہتا اپنا ماضی ہر اس چیز کو، جس نے ہمیں الگ کیا۔۔۔ بس یاد رکھنا چاہتا ہوں تو صرف تمہیں اور ان لمحات کو جو ہم دونوں مل کر بنائیں گے۔۔

دیوار سے پین کیے ان کے چہرے کو بغور دیکھتے کہہ گئے تھے وہ۔۔۔

یہ کمرا ، یہاں کی ہر چیز سے ہماری یادیں جڑیں ہیں سماہرا۔۔۔

ان کی آنکھوں میں دیکھے ان نے جذبات کی لہر میں کہا تھا کہ وہ ہنس دی۔۔

اس ہنسی میں کیا کچھ نہ تھا۔۔

تلخی۔۔

نفرت۔۔۔

افسوس۔۔۔

دکھ۔۔۔

واقعی اس کمرے سے بہت سی یادیں جڑی ہیں۔۔

آپ کی نفرت کا اظہار۔۔۔

مجھے زبردستی کی بیوی کہتے ہوئے دھتکارنا۔۔۔

مڈل کلاس لڑکی کا طعنہ دینا۔۔۔

میری محبت کو لالچ کہنا۔۔۔

اپنی ماں کی موت کا طعنہ دینا۔۔۔

پھر اچانک آپ کا بدل جانا ، مجھ سے محبت کا اظہار کرنا ۔۔۔۔

اور پھر بدل جانا کسی اور لڑکی سے عشق کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ طلب ہے آپ کی مجبوری ہے آپ کی ،

میری بیٹی کو مجھ سے چھین کر اسے دینا۔۔۔

پھر خود بھی اس کے پاس چلے جانا۔۔۔

میرے اس گھر کی ہر خوشی کو اجاڑ دیا آپ نے۔۔۔۔

بس یہی یادیں جڑیں ہیں۔۔

حازم سماہرا کے ایک ایک لفظ کو بغور سن رہا تھا اور اس کی بیٹی لینے والی بات پر حیرت سے اس کی جانب دیکھا ، رنگ یکدم فق ہوا تھا۔۔۔

کیا ہوا شاک لگا ؟ یہ سن کر کہ میں کیسے جانتی ہوں اپنی بیٹی کے بارے میں۔۔۔

طنزیہ ہنستے آج وہ حازم کو ہارٹ اٹیک کروانے کے در پر تھیں۔۔۔

اس دن میں کسی کام سے آئی تھی آپ کے آفس میں، لیکن میں باہر ہی رک گئی تھی اندر آتی آپ اور آپ کی محبوبہ کی محبت بھری باتیں سن کر۔۔۔

“اس کا مطلب ۔۔۔آپ مجھ سے اب شادی نہیں کریں گے۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں لیے بولی۔۔۔

میں۔۔۔۔

حازم پلیز ۔۔ڈونٹ سے نو۔۔۔

ائے کانٹ لیو ود آوٹ یو۔۔۔

وہ دل پر پتھر رکھے اپنے شوہر کی بانہوں میں کسی اور عورت کو دیکھ رہی تھی آنکھوں کے کنارے بھیگنا شروع ہوئے تھے۔۔۔

وہ اس کے ہونٹوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھتے ہوئے بولی۔۔۔

میں نا کیوں بولوں گا۔۔۔؟؟؟

وہ اپنے دل کو سنبھالتے ہوئے بولا۔۔

ڈو یو لو می۔۔۔؟؟؟؟

وہ اس کے کالر کو تھامے اپنا چہرا اس کے چہرے کے قریب کرتے ہوئے بولی۔۔

وہ روح بھی میری یہ جسم بھی میرا

اتنا میرا نہیں جتنا ہوا تیرا

یس۔۔افکورس آئے ڈو۔۔۔

اس کے ان لفظوں نے سماہرا کے دل کو چھلنی کیا تھا ۔۔۔

وہ ان کی اس نزدیکی کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔

اسکا دل چاہا کھینچ کر اس لڑکی کو الگ کر دے حازم سے ،لیکن پھر کچھ سوچ کر وہ رک گئی تھی وہیں پر۔۔۔۔

آپ میرا عشق میرا جنون ہیں حازم ۔۔۔۔

اس کو چہرا دونوں ہاتھوں میں بھرے خمار آلود آواز میں اپنا حالِ دل بیان کر رہی تھی۔۔۔

آپ کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا۔۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ ،”آپ اپنی پہلی اولاد میرے نام کریں گے،'”

روباب کی بات سن کر حازم کے اوپر ساتوں آسمان آ گرے تھے۔۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔

اس کے جواب کا انتظار باہر کھڑی سماہرا کو تھا ،وہ سننا چاہتی تھی اپنے شوہر کے لفظوں کو۔۔۔

اسے یقین تھا وہ منع کر دے گا۔۔۔

لیکن جیسے ہی اس کے منہ سے وہ جملے ادا ہوئے تھے باہر کھڑی اس بیوی کے دل پر بہت گہری ضرب لگی تھی۔۔۔

وہ باہر امڈ آنے والے آنسوں کا گلا گھونٹے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔۔

اوکے۔۔آنکھوں کو بند کیے اس نے جواب دیا تھا ، دل کہہ رہا تھا منع کر دو مگر دماغ تھا بول رہا تھا جو کر رہے ہو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔

تو نے دیا ہے جو وہ درد ہی صحیح

تجھ سے ملا ہے تو یہ انعام ہے میرا۔۔۔

حازم آپ نے بہت تکلیف دی ہے اس دل کو ، اس دل نے کسی سے بھی محبت کرنا ہی چھوڑ دیا تھا آپ نے اعتبار کرنے کے قابل نہ چھوڑا تھا مجھے۔۔۔

یہ سماہرا اس کی روح ، اس کی محبت ، اس کے جذبات سب آپ کے تھے حازم ، مگر کسی اور عورت کو بیچ میں لا کر آپ نے سب ختم کر دیا۔۔۔

سب تباہ ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔

پلیز مجھے آزادی دے دیں اس رشتے سے ، اب پورے ہوش و ہواس میں آپ سے اپیل کرتی ہوں یہ ہیں خلع کے کاغذات میں نے سائن کیے ہیں بس آپ سائین کر دیں۔۔

س۔۔۔سمی !!!

یہ کیا کہہ رہی ہو؟؟

مارے حیرت اور غم کے وہ دو قدم پیچھے ہوئے تھے۔۔۔

بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں حازم۔۔

میں آپ کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤں گی۔۔۔

بلکہ میں آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔

ان گزرے سالوں میں سلمان نے مجھے وہ سب دیا ہے جو آپ چاہ کر بھی نہ دے پائے۔۔۔

اعتبار۔۔۔

اپنے پن کا احساس۔۔۔۔

عزت۔۔

چاہت۔۔۔

خود کی زندگی پر اختیار۔۔۔

خود مختاری۔۔۔

اولاد۔۔۔

محبت۔۔۔

وہ سب ایک ٹرانس سی کیفیت میں کہہ رہی تھیں۔۔ان کی آنکھوں میں ایک خوبصورت احساس ، ایک چمک سی ابھری تھی سلمان کے نام پر ، جو کہ میر حازم کو جلا کر بھسم کرنے کو کافی تھا۔۔

میرے چھوٹے چھوٹے خواب ہیں

خوابوں میں گیت ہیں

گیتوں میں زندگی ہے

چاہت ہے پریت ہے۔۔۔

ایسا مت کرو۔۔۔سماہرا۔۔

ابھی تو خدا نے واپس ہمیں ملایا ہے ، ان آنکھوں نے جی بھر کے تمہیں دیکھا بھی نہیں اور ت۔۔۔تم علیحدگی کی بات کر رہی ہو۔۔۔؟؟

میں کبھی ایک بٹے ہوئے شخص کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی جس کو محبت ہے صرف خود سے۔۔۔۔

خود کی عزت سے۔۔۔۔

جو دوسروں کو کھلونا سمجھتا ہے۔۔۔

جس کی نظروں میں دوسروں کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔

سمی ۔۔تم جو بھی کہو۔۔

میں ان کاغذات پر دستخط نہیں کروں گا۔۔

تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی۔۔۔

انہوں نے ان کاغذات کو غصے سے پھینکا تھا بیڈ پر اور خود بھی وہیں ڈھہ گئے تھے۔۔

آپ کی اس بات سے اندازا ہو گیا ہے کہ “آپ کی نظروں میں صرف اہمیت آپکی اپنی خوشیوں کی ہے “

اپنی جیت ، خوشی کی آگے آپ کو کچھ بھی دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔۔

سماہرا ایسا مت کرو۔۔۔

ح۔۔حازم مر جائے گا۔۔۔

وہ شکستہ ہوتے بولے تھے۔۔

سماہرا تو کب کی مر چکی ہے۔۔۔

وہ بھی انہی کے انداز میں بولی تھیں۔۔۔

ک۔۔کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔

حازم نے نجانے کس امید سے پوچھا تھا کہ شائد ہی اس کا فیصلہ بدل جائے لیکن ان کی وہ امید بھی ختم ہو گئی تھی جب سماہرا نے ہاں کہا تھا۔۔

خ۔۔خوش رہ۔۔رہو۔۔۔۔۔۔

آنکھوں کو بند کیے انہیں اپنے گلے لگایا تھا۔۔۔

پھر ایک بوسہ ان کے ماتھے پر ثبت کیا تھا جس میں جدائی، غم ، ہجر کی کیفیت شامل تھی۔۔

ایک آنسوں گر کے سماہرا کے چہرے پر گرا تھا۔۔۔

کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد کمرے کے فسوں خیز ماحول میں ان کاغذات پر ہاتھ چلا تھا حازم کا۔۔۔۔

وہ دل پر پتھر رکھے ان پر سائن کرتا چلا گیا۔۔۔

آنکھوں سے آنسوں بہتے ان کاغذات پر گرے تھے ۔۔۔

ہے حوصلہ درد کا جو سہہ رہا ہے مجھے

کہ میرے غم کی بھی انتہاہ ہوئی۔۔۔

ی۔۔یہ لو!!

تمہاری آزادی کا پروانہ۔۔۔

آنسوں صاف کرتے انہوں نے چہرا پھیر کر وہ کاغذات ان کے ہاتھ میں تھمائے تھے ، کاغذات کو تھماتے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن وہ نظر انداز کیے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔۔

تیرے بنا گزار کے جیں گے کسیے بھلا

یہ زندگی تو بے وجہ ہوئی

کیوں اس قدر رولا دیا

تو ہی بتا یہ کیسی ہے دیوانگی۔۔۔

او بے وفا تیری۔۔دیوانگی۔۔

®®®™

چھن سے جو ٹوٹے کوئی سپنا۔۔۔۔

جگ سونا سونا لاگے۔۔۔

جگ سونا سونا لاگے۔۔۔

کوئی رہے نا اپنا۔۔

سماہرا کے جانے کے بعد وہ زمیں پر بیٹھتے روتے چلا گیا۔۔۔۔۔

یہاں کی ہر چیز انہیں ماضی میں لا کھڑا کرتی تھی۔۔۔

کیا سوچا تھا اس نے۔۔کہ وہ آج سے مکمل زندگی گزاریں گے ان کے ساتھ۔۔

مگر وہ یہ بھول چکے تھے کہ ان نے اپنا رتبہ ، کردار سب سماہرا کی نظروں میں گرا دیا ہے۔۔۔۔

اس کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی ان نے ، وہاں کی ہر چیز ان نے چلا چلا کر ان کی کی گئی نا انصافی کی داستان سنا رہے تھے۔۔۔۔

ان نے اس بیڈ کو دیکھا تھا جہاں وہ اپسرا پہلی بار اس روم میں آئی تھی اس کی سیج سجائے ، انہوں نے کیا کیا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔

تم اگر اس لمحے یہاں موجود ہو تو صرف موم کی وجہ سے ۔۔پتہ نہیں تم نے ان پر کیا جادو کیا ہے کہ وہ مجھ سے منہ تک موڑ گئیں صرف تمہاری بدولت۔۔۔۔۔

وہ ناگواری سے اس کو تکتے ہوئے بولے۔۔

جگ سونا لاگے۔۔۔

جگ سونا سونا ہے تو۔۔۔

یہ کیوں ہوتا ہے

جب یہ دل روتا ہے

روئیں سسک سسک کے ہوائیں جگ سونا لاگے۔۔۔

اس بات سے انجان سامنے موجود لڑکی کا دل وہ اپنے لفظوں سے چھلنی چھلنی کر رہا ہے۔۔وہ شادی کی پہلی ہی رات اپنے شوہر کے منہ سے لفظوں کی صورت میں ٹپکتی نفرت سے دلبر داشتہ ہو رہی تھی۔۔آنسوں روانی سے بہنے کے لئے تیار تھے۔۔لیکن وہ اس سنگدل کے سامنے بہا کر خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اب پوری رات کیا یہیں بیٹھے رہنے کا ارادہ ہے۔ اٹھو یہاں سے ۔۔۔وہ اس کو اٹھنے کا حکم دیتا خود مزے سے پورے بستر پر نیم دراز ہو چکا تھا۔۔

جبکہ وہ اپنی تذلیل پر آنسوں سے بھری آنکھوں اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی۔۔ اور وہیں دروازے کے ساتھ بیٹھتی ہوئی کب سے روکے گئے آنسوں کو بہانے لگی۔۔

کتنا روئی تھی وہ اس دن ۔۔۔ جس طرح آج وہ رو رہے تھے اس فرش پر بیٹھے وقت بدل گیا تھا مگر جگہ وہی تھی۔۔۔

حازم نے مرے قدموں سے رخ کیچن کی جانب کیا تھا۔۔۔۔

جہاں آج وہ جگہ بھی اس کی یادوں میں گھوم رہی تھی۔۔۔

دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا؟؟

مجال ہے کوئی کام ڈھنگ سے کر لو۔۔

حازم جلدی سے برنول لیتا اس تک آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر دیکھنے لگا جہاں جلنے کے باعث ہاتھ لال سرخ ہو رہا تھا۔۔۔

ہاتھ جلا کر بیٹھ گئی ہو۔۔تاکہ سرونگ نہ کرنی پڑے۔۔

سماہرا جو سمجھ رہی تھی کہ وہ اس کی فکر میں بول رہا ہے ۔لیکن اس کی آخری لفظوں سے اس کو اپنا دل چھلنی ہوتا محسوس ہوا۔۔

آپ فکر نا کریں۔۔سرونگ وغیرہ سب وقت پر ہو جائے گا۔۔

وہ اپنا ہاتھ آرام سے اس کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے بولی۔۔اور برنول۔اپنے ہاتھ پر لگانے لگی۔۔۔

کتنا غلط کرتے رہے وہ اس کے ساتھ۔۔۔

ان کی نظروں میں پہلے وہ واقعی کسی مجسمے سے کم نہ تھی۔۔۔

آنکھوں کو صاف کرتے وہ واپس کمرے میں آئے تھے مطلوبہ چیز کو لئیے۔۔۔۔

تم میں مینرز نہیں ہیں کیا؟

جب تک شوہر گھر پر نہیں آ جاتا تب تک سوتے نہیں ہیں۔۔اس دن تمہارے بابا مجھے تو بڑا درس رہے تھے۔۔اگر تمہیں تھوڑی عقل دے جاتے تو کیا تھا۔۔

ہاتھ میں موجود تیز دھار نائف کو ایک نظر دیکھا اور ایک نظر اپنے ہاتھ کو ، جن سے ہمیشہ سماہرا کو تکلیف دی۔۔۔

یہ ہاتھ ہی ان پر اٹھتے تھے۔۔۔

دل میں ایسا درد اٹھا

دل ہو گیا دیوانہ

دیوانوں نے اس دنیا میں

درد کا نام دوا رکھا۔۔۔۔

آنکھوں کو ضبط سے بھینچے وہ نائف اپنے ہاتھ پر چلا چکے تھے کہ یکدم ہی فرش خون خون ہونے لگا ۔۔۔

اور اس دل میں کیا رکھا ہے

تیرا ہی درد چھپا رکھا ہے۔۔

اور اس دل میں کیا رکھا

تیرا ہی نام لکھا رکھا ہے

او۔۔۔تو تمہیں سچ میں نہیں پتا تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔

وہ اپنی مسکراہٹ دبائے تولیے کو صوفے پر پھینکتے اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھا جب کہ اس کو اپنے پاس بیٹھتے دیکھ وہ تھوڑا پیچھے کو کھسکی تھی۔۔۔

تم نے مجھ سے اتنی بڑی نیوز کیوں چھپائی۔۔؟؟

وہ مصنوعی غصہ چہرے پر سجائے ذرہ سا اس کی جانب جھکتے ہوئے بولا۔۔۔

ک۔۔کون س۔سی نیوز؟

وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔۔۔۔

یہی کہ ہم پیرینٹس بننے والے ہیں۔۔

وہ خوشی سے چور لہجے میں بولا تھا۔۔۔جبکہ اب جھٹکا لگنے کی باری سماہرا کی تھی۔۔

انہیں کیسے پتا؟ اور یہ تو اتنے خوش ہو رہے ہیں۔۔۔

وہ حیرت کے عالم میں سوچتے ہوئے بولی۔۔۔

کیا ہوا یہی سوچ رہی ہو نا۔۔۔کہ مجھے کیسے پتا ؟

میں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی تھی مگر آپ نے میری بات سنی ہی نہیں۔۔۔بلکہ مجھے بد کردار کا الزام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات ادھوری چھوڑ چکی تھی۔۔۔کل کا منظر یاد کیے اس کی آنکھوں میں ظالم آنسوں پھر سے تیرنے لگے تھے۔۔

شرمندگی کے آثار حازم کے چہرے پر بھی چھائے تھے۔۔

ائم سوری سمی۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔

اب کبھی تمہیں کوئی دکھ نہیں دوں گا۔۔سمیٹ لوں گا تمہارے سب غم خود میں۔۔۔

وہ سماہرا کو شدت سے خود میں بھینچے احساس ِ ندامت سے بول رہا تھا۔۔۔۔

اولاد ہونے کی خوشی میں سماہرا سے محبت کا اظہار کرنا،

اس معصوم کا بے وفا پر اعتبار کرنا۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی شادی والے دن آپ کے لیے ایک عظیم تحفہ ہو گا۔۔۔جو یقیناً آپ سمیت آپکی ہونے والی بیوی کو بہت پسند آئے گا۔۔

یہ آخری بات تھی جو اس نے حازم سے کی تھی۔۔۔۔

وہ روتے ہوئے نکلی تھی روم سے۔۔۔۔

پھر واقعی اس نے اپنا کہا سچ کر دیکھایا۔۔۔

وہ تحفہ دے کر گئی تھی۔۔۔

جدائی کا تحفہ۔۔۔۔ ۔۔

حازم کی آنکھوں میں سماہرا کا ہنستا مسکراتا عکس لہرایا تھا ، دوسرا چہرا اپنی بیٹیوں کا تھا پھر وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتا اس فانی دنیا کو خیرباد کہتا دوسرے جہاں میں چلا گیا۔۔۔

ہم نے باندھا ہے تیرے

عشق میں احرامِ جنوں

ہم بھی دیکھیں گے تماشہ

تیری لیلائی کا۔۔۔

ہو کے روپوش۔۔۔۔

روپوش۔۔۔۔۔۔۔۔

حازم ہو چکا تھا اس دنیا سے روپوش۔۔۔۔

ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

حازم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روباب جو حازم سے بات کرنے ، اسے منانے اوپر روم میں آئی تھی لیکن اس کے بے جان وجود کو دیکھ اس کی دلخراش چیخ پورے گھر میں گونجی تھی۔۔۔۔

بھاگتے ہوئے اس کے خون سے رنگے فرش کو عبور کیا۔۔۔۔

حازم۔۔۔۔آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔

حازم۔۔۔۔۔۔۔

اس کے چہرے کو تھپتھپا رہی تھی۔۔۔ یکدم ہی اس کا وجود ڈھیلا پڑا تھا۔۔۔۔

نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ح۔۔ز۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری نظروں کے صدقے یہ جاں وار دوں گا۔۔۔۔۔۔

تو جو کہہ دے تو اپنا جہاں وار دوں گا۔۔۔

°°°°°°

کچھ سال بعد۔۔۔۔۔۔

ہر طرف گہما گہمی مچی ہوئی تھی ، ہر کوئی اس کتاب کو لے کر جتنا بے تاب تھا اتنے ہی بے چین وہ سب اس کے لکھاری سے ملنے کو بھی تھے۔

ہر تحریر ہی مقبولیت رکھتی ہے لیکن تحریر سو گنا جاندار ہو جاتی ہے جب اس میں آب بیتی موجود ہو،

اس لکھاری نے وہ کتاب آب بیتی پہ ہی لکھی تھی کہ وہ جنگل میں آگ کی مانند پھیلتی چلی گئی۔تمام اداروں ، ایڈیٹر وغیرہ کے بے حد اصرار پہ وہ آج یہاں اس اسٹیج پہ موجود تھی جہاں پہ اس کا لائیو شو پورے پاکستان میں چل رہا تھا۔

ہر طرف “رختِ نصیب ” کے بورڈ لگے ہوئے تھے۔۔۔۔

میری کتاب #رخت۔ِ_نصیب کا ٹائیٹل

“کڑی دھوپ کی مسافر وہ لڑکی جس نے اپنے شوہر کو ہرجائی پایا۔۔۔۔۔۔

اسکی زندگی کا پہلا رخ جس میں اسے صرف دکھ ، دھوکہ ، غم ،تکلیف ملا ۔۔۔

وفا کی امید لگائی بیٹھی اس مسافر کو۔۔ لا کھڑا کیا تھا تپتی دھوپ کے صحر میں “

اس کہانی میں وہ لڑکی کوئی اور نہیں آپ کی مصنفہ ہی ہیں جنہوں نے اپنے پہلے شوہر کو محبت دینے کے باوجود ہرجائی پایا ، میری زندگی کا پہلا رخ تھا وہ، جب میں نے اپنی زندگی، اپنے جذبات ان کے نام کرنے کے باوجود دھوکہ پایا۔۔۔

کہتے ہیں محبت کے بدلے محبت ملتی ہے ، لیکن محبت اس شخص سے محبت کے بدلے صرف دکھ ، تکلیف ، درد ، بے وفائی ، اذیت ملی۔۔۔۔

مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تھا ان نے۔۔۔

ایک بیوی ، ایک ماں ، ایک بیٹی کے جذبات سے کھیلا ہے اس شخص نے۔۔۔

تپتی دھوپ کے صحرا میں لا کھڑا کیا۔۔۔

ایک شوہر کو اس کی بیوی سے چھین کر۔۔۔

ایک بیٹی کو ماں سے چھین کر۔۔۔۔۔۔

اسٹیج پر کھڑی سماہرا کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں کی آنکھیں اشک بار تھیں۔۔۔

کہتے ہیں ،” زندگی کی خوشیاں کسی کو مکمل نہیں ملتیں مگر یہ خوشی مجھے مکمل مل چکی ہیں اپنی بیٹی اپنے شوہر ، اپنی مکمل فیملی کے روپ میں۔۔

سامنے ہی بیٹھی اپنی پوری فیملی کی جانب دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔۔

چہرے پر مسکان جبکہ آنکھوں میں آنسوں بہہ رہے تھے۔۔

میں نا کام تھی ، قسمت کی ہاری لڑکی تھی مگر مجھے سہارا دیا ، میرے ٹوٹے ہوئے وجود کو سمیٹا میرے شوہر سلمان نے۔۔

جو کے مجھ تباہ شدہ لڑکی کی قسمت میں آئے سدا بہار پھول کی مانند جو ہر موسم میں کھلتا ہے ۔۔۔

انہوں نے محبت سے ان کی جانب دیکھا تھا، جہاں سلمان کی آنکھوں کے گوشے بھیگے تھے وہیں سماہرا کے آنسوں بھی بہہ نکلے تھے۔۔۔

میں نے اپنی اس کتاب کا نام #رختِ_نصیب اسلئے ہی رکھا ہے جس میں میری قسمت کے ، میرے نصیب کے ہر ایک موڑ کے بارے میں بتایا ہے۔۔۔

کہ زندگی کے چلتے اس سفر میں ہماری قسمت کیسے رخ بدل لیتی ہے۔۔۔

ایک بیٹی کا رخِ نصیب۔۔۔ایک ماں کا رخِ نصیب۔۔۔۔

اور ایک بیوی کا رخت ِ نصیب۔۔۔۔۔۔۔

©©©✓

خ۔۔۔خون۔۔۔۔خ۔۔خون۔۔۔مٹ۔۔مٹاؤ اسے۔۔۔۔

مٹاؤ۔۔۔۔

پاگل خانے میں بیٹھی وہ عورت اپنے آس پاس دیکھتے چلا رہی تھی اس کی چیخ سن کر وہاں کی عملیہ نے فورآ اس کو قابو کیا۔۔

یہ تو اس عورت کا روز کا ڈرامہ ہے، نجانے کس کا قتل کیا جو ہر وقت خون کی دیکھتی رہتی ہے۔۔

نرس نے روباب کو دیکھتے کہا تھا جس کو ڈاکٹر نے نیند کا انجیکشن لگا کر کنٹرول کیا تھا۔

لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ “اس عورت نے کوئی عام جسم کا قتل نہیں کیا ، بلکہ کسی کی روح کا قتل کیا ، کسی کے ارمانوں ، کسی کے ہنستے بستے گھر کا قتل کیا ہے۔۔ “

حازم کی موت کا صدمہ ، بیٹی کی دوری کا صدمہ یہ سب چیز روباب اپنے دماغ پر لے چکی تھی جس کا اثر اس کے دماغ میں موجود ایک مخصوص رگ پر آیا تھا۔۔

وہ اپنے تمام ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔۔

یاد رہتا تو صرف حازم کی آخری موت کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°✓

اپنے گاؤں کی اس دہلیز پر قدم رکھا تھا اس نے۔۔

جسے اپنے خوابوں ،اپنی تقدیر ، اپنے مقصد کے لئے خیر باد کہہ دیا تھا اس نے۔۔

ایک ہاتھ ضامن کے ہاتھ میں جب کہ دوسرے سے اپنی بیٹی روما کو اٹھائے اس نے نظریں سامنے بنی بلڈنگ کی جانب دوڑائی تھیں، جہاں بڑے لفظوں میں لکھا تھا ” دعا بیسٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فور گلز”

یہ ڈیپارٹمنٹ ضامن اور دعا دونوں کی محنت کا پھل تھا۔۔

جس کے لئے ان دونوں نے بہت محنت کی تھی۔۔

تھینک یو سو مچ ضامن۔۔۔

اپنے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے،

مشکور نظروں سے اس کو دیکھتی وہ اشک بار ہوئی تھی جب کہ ضامن نے اس کو اپنے بازوں کے حلقے میں لیا تھا۔

یہ سب آپ ہی کی ایفرٹ ہے میم۔۔

ورنہ ہماری ایسی سوچ کہاں!!

ہنستے ہوئے کہا تھا اس نے اور قدم اندر کی جانب بڑھائے۔۔

جب کہ چھوٹی سی روما اپنے مما پاپا کو ہنستے دیکھ کھلکھلائی تھی۔۔