Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 13
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
فیروز تین تلوار روڈ پہ کھڑا فون پر کسی سے بات کر رہا تھا کہ کسی نے آ کر جھٹکے اسکا رخ اپنی جانب کر کے گریبان تھاما تھا۔۔۔
میری بیٹی کہاں ہے؟
حازم آفس سے واپس جا رہا تھا کہ اس کی نظر دور کھڑے فیروز پہ گئی تھی وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا تبھی گاڑی کو ایک جانب روکتے اسکے پاس آیا تھا فوراً۔۔۔
فیروز نے بھنونے اچکا کر ایک نظر حازم کو دیکھا اور پھر ایک نظر اس کے ہاتھوں کو جو کہ اسکے گریبان پہ تھے۔۔
واٹس ربش مسٹر حازم۔۔
آپ کو اتنا حق کس نے دیا کہ میرا گریبان تھامیں۔۔
فیروز نے جھٹکا تھا اس کے ہاتھوں کو۔۔۔
اور تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ میری بیٹی کو مجھ سے جدا کرو اسکی آنکھوں میں آنسوں لاو۔۔
وہ بھی غصیلے لہجے میں بولے تھے ۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔یہ حق آپ کی بیٹی نے خود نے میرے نام کیے ہیں۔۔
اب میری مرضی میں اس کے ساتھ جو کروں اس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے بہتر ہو گا اپنی بیوی پر توجہ دیں۔۔۔
طنزیہ کہتے آخر میں نفرت سے گویا ہوا تھا وہ جبکہ اس کے آخری جملے پہ حازم کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔۔
یو۔۔۔ایڈیٹ بوائے۔۔۔
حازم نے غصے سے کہتے ہوئے ایک مکہ اسکے چہرے پہ رسید کیا تھا۔۔۔ایک ، دو ،تین ایسے ہی کئی مکوں کی برسات وہ اس پر کر چکا تھا۔۔۔
فیروز کی آنکھوں میں یکدم خون اترا تھا لب بھینچ گیا تھا وہ لیکن پھر چہرے پر سے خون صاف کرتا مسکرا کر سکون سے گویا ہوا ۔۔۔
ماریں اور ماریں پر یہ یاد رکھ لیجئے گا کہ اس کا خمیازہ آپ کی بیٹی بھگتے گی۔۔۔
اور یہاں پر حازم کے بڑتے ہاتھ تھمے تھے۔۔۔
یو۔۔۔اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو تم زندہ نہیں بچو گے۔۔۔
انگلی اٹھا کر وارن کرتا اسے چھوڑ گیا تھا۔۔۔
اگر زندہ میں نہیں رہوں گا تو آپکی بیٹی بھی زندہ نہیں رہے گی۔۔۔۔
فیروز نے حازم کا بڑتا ہاتھ تھاما تھا اب جو کہ اسکو مارنے کے لئے بڑھ رہا تھا۔۔
اب یہ غلطی دوبارا نہ کرنا ورنہ اپنے پیروں پہ جانے کے قابل نہیں رہیں گے۔۔
پیچھے کی جانب دھکا دیا تھا اسکو اور وہاں سے رش ڈرائیونگ کرتا نکلتا سیدھا گھر پہنچا تھا۔۔
محبت کا غم ہے ملے جتنا کم ہے
یہ تو زمانہ نہیں جان پائے گا۔۔
فیروز ہال میں بیٹھی خوشی اور آفرین کو اگنور کرتا کمرے میں آیا تھا ، اور غصے سے اٹھا کر اپنا کوٹ صوفے میں پھینکا تھا تبھی اس کی نظر کمرے کی بالکونی میں کھڑی مہر پہ گئی تھی جو کہ اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ناجانے کیا سوچ رہی تھی۔اسکو دیکھتے ہی اسے حازم ذہن میں آیا تھا۔۔
مہر۔۔۔۔
ادھر آو۔۔۔
چیخ کر پکارا تھا اسکو۔۔۔
ج۔۔۔جی۔۔۔ مقابل کے سنجیدگی اور دھاڑ کے کہنے پر وہ کانپتی ٹانگوں سے اس تک گئی تھی۔۔۔۔
تمہیں میں نے کیا کہا تھا۔۔۔
ک۔۔۔کیا ک۔۔کہا ت۔۔تھا؟؟؟
اس نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
میں نے کہا تھا کہ تم مجھے اس روم کے آس پاس نظر نہ آو۔۔ پھر تمہاری ہمت کیسے ہوئی آنے کی۔۔۔
مقابل نے بازوں سے اس کو اپنی جانب کھینچا تھا جس سے سیدھا وہ اس سے ٹکرائی تھی۔۔۔
دھڑکنے دونوں کی تیز رفتار میں دھڑک رہی تھیں ۔۔ایک کی خوف سے تو دوسرے کی غصے سے۔۔۔
جب جب وہ اس کے سامنے آتی وہ بے بس سا ہو جاتا تھا ۔۔۔
لیکن وہ جان بوجھ کر اس کو تنگ کرتی تھی۔۔
س۔۔۔سور۔۔سوری۔۔۔۔وہ آ۔۔آنٹی نے روم کی ص۔۔صفائی کرنی ت۔۔تھی تو۔۔۔۔
وہ آنکھوں کو بند کیے آرام سے بولی تھی۔۔۔
بہت شوق ہے نہ تمہیں مجھے تنگ کرنے کا۔۔ ، میری بات کی نفی کرنا تمہارا پیشہ بن چکا ہے۔۔؟؟
اس کی آنکھوں پر باری باری اپنے لب رکھے تھے جبکہ وہ ساکت ہوئی تھی مقابل کی اس جرت پر۔۔
اب کبھی پریشان نہیں کرو گی تم!!!!
گھمبیر آواز میں کہتا وہ باقی کا فاصلہ بھی مٹانے کو تھا کہ مہر نے کانپتے ہاتھوں سے اسے دھکا دیا تھا اور بھاگنے لگی تھی جس سے اس نے اسکے ہاتھوں کو تھام کر ناکام بنایا تھا۔۔
جانتی ہو یہ کس نے کیا؟
اپنے گال پہ بنے نیل کی جانب اشارہ کرتے بولا۔۔۔
نہیں۔۔۔نفی میں سر ہلاتے بولی تھی ۔۔۔
تمہارے باپ نے۔۔
اس کے چٹیا میں مقید بالوں کو اپنے ہاتھوں کی اہنی گرفت میں لے کر کہا تھا اس نے۔۔مہر نے بھی اس کے کالے بالوں کو کھینچا تھا غصے میں وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ کیا گزری ہے۔۔۔
میرے بال ۔۔ا۔۔اتنے سستے نہیں جنہیں آپ آئے روز کھینچتے رہیں۔۔
ضبط سے گویا ہوئی تھی وہ جبکہ فیروز کی گرفت اس کے بالوں پہ کم ہوئی تھی اسکی اس جرت پہ۔۔۔
پھر یکدم ماتھوں پہ بلوں کا جال بچھا تھا۔۔۔
مہر کے ہاتھ سے اپنے بال چھڑواتا، اسے موڑ کر پیچھے کمر سے لگایا تھا۔۔۔
جاہل لڑکی۔۔۔شرم نہیں آتی شوہر سے بدتمیزی کرتے ہوئے۔۔۔
ت۔۔تو شوہر کو بھی شرم آ۔۔آنی چاہیے۔۔۔
درد کی شدت برداشت کرتے وہ اٹک اٹک کر بولی تھی۔۔۔
میں عمر اور رتبے دونوں میں بڑا ہوں تم سے۔۔۔
وہ غرا کر اسکے کان کے پاس جھکتے بولا کہ اس کی سانسیں اس کی کال اور گال کو چھو رہی تھیں۔۔
میرا جو صنم ہے
زرہ بے رحم ہے
دے کہ مجھے وہ درد مسکرائے گا۔۔۔
ت۔۔تو ب۔۔بڑے ہونے کا نا جائز فائدہ اٹھائیں گے۔۔۔؟
ن۔۔نہیں نا جائز نہیں بیگم جائز۔۔۔
اسکی گہری کانچ سی آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں گاڑے بولا۔۔۔
دل کو ایسے دل بر پہ بھی ناز ہوتا ہے۔۔۔
کسی اے تم پیار کرو
تو پھر اظہار کرو۔۔
کہیں نا پھر دیر ہو جائے۔۔۔
کہیں نہ پھر دیر ہو جائے۔۔۔
میری زندگی میرا کریئر سب برباد کیا ہے آپ نے صرف اپنے اس سو کالڈ بدلے کے پیچھے اور ستم تو یہ ہے کہ میں یہ بھی نہیں جانتی آپ بدلہ کس چیز کا لے رہے۔۔۔ایسا کون سا راز چھپا ہے آپ کے دل میں جس کی تسکین کے لئے روز مجھے سزا دیتے ہیں۔۔
آنکھوں میں آنسوں لیے وہ اس ستمگر سے سوال کر گئی تھی۔۔جو کہ بے حس بنا کھڑا تھا۔۔۔
جاننا چاہتی ہو ۔۔وجہ ۔۔
جاننا چاہتی ہو تو سنو۔۔۔
تمہارے باپ نے میری آئڈیل پھوپھو کو ہم سے دور کیا۔ ان کی خوشیاں سب کچھ چھین لیا ان سے۔۔کچھ نہیں بچا تھا ان کے پاس ، وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئیں۔۔میرے دادا دادی ، پاپا ہم سب ان کی یاد میں پل پل تڑپے ہیں۔۔ان کی یاد میں راتوں کو جاگ کر روتے دیکھا ہے اپنی دادی کو ۔
اس کے چہرے کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا فیروز نے اور نظریں سامنے شیشے کی جانب مرکوز کرتے ، تلخی سے کہا تھا ۔۔
م۔۔میں نہیں مانتی یہ سب۔۔۔
م۔۔میرے پاپا ایسا کر ہی نہیں سکتے ہیں۔۔۔
وہ مسلسل اپنے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے بولی تھی۔۔
تم مانو یا نہ مانو مگر حقیقت یہی ہے تمہارا باپ نہایت ہی گھٹیا اور خود غرض انسان۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ۔۔چپ۔م ۔۔میرے پاپا ایسے نہیں ہیں۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے پیچھے کی جانب جاتے ہوئے بولی تھی۔۔
جبکہ فیروز ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد خاموشی سے بنا اسے کچھ کہے فریش ہونے جا چکا تھا۔
تھوڑی دیر میں جب وہ فریش ہو کر باہر آیا تو وہ روم میں کہیں نہیں تھی شائد اپنے روم میں جا چکی تھی۔۔۔ایک سرد آ خارج کیے وہ بالوں کو اچھی طرح تولیے سے رگڑنے لگا تھا ۔۔پھر تولیہ ایک جانب رکھے کچھ لمحے سکون کی غرض سے سونے کے لئے بستر پہ ڈھے گیا تھا۔۔
