Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 8
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
پاپا۔۔۔
مہرالنسا جیسے ہی اینٹر ہوئی تھی گھر میں سب کی نظروں کا مرکز بنی تھی وہ تینوں ہی نفوس جلدی سے اس کے پاس آئے تھے ۔۔۔
مہر ۔۔ میری بچی۔۔۔
حازم نے زور سے اس کو خود میں بھینچا تھا ، اپنی بچی کو صحیح سلامت اپنے پاس پا کر وہ پھولے نہیں سما رہا تھا، زبان سے خدا کے لئے شکر کے کلمات ادا ہوئے تھے۔۔
کہاں تھیں تم ؟؟ کس کے پاس۔۔؟؟
یہ پہلا سوال تھا جو حازم کے منہ سے نکلا تھا۔۔
پ۔پاپا۔۔ میں نہیں جانتی ۔
وہ ان کے گلے لگی روتے ہوئے بولی تھی ، کئی سوال ان دونوں میاں بیوی کے ذہنوں میں گردش کر رہے تھے لیکن اس کی حالت کے پیشِ نظر وہ خاموش رہے۔
©©©
خوشی اور آفرین کو شہر آئے ایک ہفتے کا عرصہ بیت چکا تھا وہ دونوں معمول کے مطابق کالج جا رہی تھیں، روزانہ ان کو پک اینڈ ڈراپ ڈرائیور کرتا تھا،
جبکہ فیروز اپنے پروجیکٹ میں ایسا مصروف ہوا تھا کہ اس کے پاس سر اٹھانے تک کا ٹائم نہیں تھا اور آج اپنے اسی پروجیکٹ کو پائے تکمیل پر پہنچا کے اس کا رخ فلیٹ کی جانب تھا۔
جیسے ہی وہ فلور میں اینٹر ہوا دھجکا سا لگا تھا اسکو، فلیٹ کا دروازا کھلا دیکھ کر۔۔
وہ جلدی سے اندر داخل ہوا تھا ، لیکن فلیٹ میں مہر کو نہ پا کر اسے غصہ آیا تھا،
میں نے فلیٹ لاک کیا تھا لیکن وہ باہر کیسے نکلی؟؟
اور اس سوال کا جواب بھی اسے مل گیا تھا جب نیچے پڑی بال پن دیکھی تھی اس نے۔۔
وہ بال پن اٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھی تھی اس نے دروازے کو بند کیے واپس جا چکا تھا فیروز ،
©©©©
عرش اور راحب پروڈیوسر سے ملنے جا رہے تھے کہ روڈ پہ جلتی لال بتی کے باعث ان کو گاڑی روکنی پڑی تھی اور عین اسی وقت ایک اور گاڑی ان کی گاڑی کے پاس آ کر رکی تھی ، اور جیسے ہی اس کی نظروں کا زاویہ دائیں سمت میں بدلہ تھا نظریں ٹھہریں تھیں کچھ لمحوں کے لئے اسکی ،
جہاں ساتھ والی کار میں آفرین رائٹ سائٹ پہ بیٹھی کتاب میں کچھ لکھ رہی تھی ، سفید کالج یونیفورم پہنے ، بالوں کو پونی ٹیل میں قید کیے وہ کوئی مسَری ہی لگ رہی تھی عرش کو، جو اپنی ہی کسی خیالی دنیا میں کھوئی تھی۔
گرین سگنل جل چکا تھا دونوں کی گاڑیاں روانہ ہو چکی تھیں ایک دائیں جانب تو دوسرے کی بائیں جانب،
©©©©
کمرے کی کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی ضامن کے چہرے سے ٹکرائی تھی جس کے باعث وہ اپنی نیند سے بیدار ہوا تھا ، اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھتے اس نے کروٹ لی ہی تھی کہ دروازے کے پاس بیٹھی دعا کو دیکھ وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا، پھر زمین میں گرا اسکا ڈوپٹہ دیکھ ہاتھوں سے اٹھایا تھا اس نے، یکدم گھبراہٹ سی ہوئی تھی اسکو ، یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟؟؟
اپنے زہن پہ زور دیتا خود ہی سے ہمکلام ہوا تھا وہ ۔۔
دعا۔۔۔!!!
ضامن نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے اسے پکارا تھا جو دروازے سے سر ٹکائے بیٹھی تھی ، چہرے پہ آنسوں کے مٹے مٹے نشانات رات بھر رونے کی گواہی دے رہے تھے ۔
دعا۔۔۔۔۔!!!!
جب دوبارا اس کے پکارنے پہ وہ نا اٹھی تھی تو اسکے مومی ہاتھ کو تھام کر ہلایا تھا ، جس کے باعث اس نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں تھیں ، لیکن اپنے قریب ضامن کا چہرہ دیکھ حواس بیدار ہوئے تھے اسکے، جھٹکے سے ضامن کو پرے دھکیلا تھا دعا نے۔۔۔
جبکہ ضامن کو اس سے اس قدر ریکشن کی امید نہ تھی ،مانا کہ وہ اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والی مشرقی لڑکی ہے لیکن اس نے ضرف ہاتھ ہی تو تھامہ تھا وہ بھی اس کو جگانے کے لئے۔۔
اگر ہوش بحال ہو چکے ہوں تو سائد ہو جاو، مجھے باہر جانا ہے۔۔
اپنی خفگی کو چھپانے کے لئے لب بھینچے ہوئے بولا تھا وہ۔۔
یہ۔۔یہ نہیں کھلے گا ۔۔۔
وہ افسردہ لہجے میں بولتے ، ضامن کو تشویش میں ڈال چکی تھی۔
کیسے نہیں کھلے گا یہ۔۔۔ ڈور کے لاک کو تین سے چار بار گھمایا تھا ، لیکن کچھ فرق نہیں پڑا تھا پھر بلآخر اپنے گارڈ کو کال کیا تھا اس نے ، اور تھوڑی ہی دیر میں دروازا کھل گیا گارڈ کی بدولت ،
وہ دونوں جیسے ہی روم سے باہر نکلے تھے ، باہر کھڑے کچھ ورکرز کی نظروں کا مرکز بنے تھے، جو کسی کام کے تحت نیچے آئے تھے
دعا سب کی نظریں خود پہ بخوبی محسوس کر سکتی تھی لیکن پھر بھی انجان بنے اوپر اپنے کیبن سے بیگ اٹھائے جا رہی تھی ، کہ باہر کی جانب بڑھتے قدم تھمے تھے دعا کے جیسے ہی ایک ورکر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔
She spent her whole night in boss room…
ایک غصیلی نظر اس ورکر پہ ڈالے وہ جا چکی تھی وہاں سے۔۔
©©©©
تاریخ تھی دو فروری ، مہرالنسا کی سالگرہ کی ۔۔
جب وہ اس دنیا میں آئی تھی ، کسی کی مسکراہٹ کا باعث بن کر۔
ایک ہفتے سے خاموش بیٹھی تھی وہ ، کسی سے بولتی بھی نہیں تھی بس سارا دن کمرے میں بیٹھی نجانے کیا کیا سوچتی رہتی تھی ، ایک ڈر اس کے وجود میں ٹھہرا ہوا تھا ، اس نے کالج جانا بھی بند کر دیا تھا۔
آج جنم دن والے روز بھی وہ خاموشی سی ٹیرس پہ بیٹھی سوچ رہی تھی ۔
کہ سندل روم میں اینٹر ہوئی تھی اور مہر کے ساتھ تھوڑی سی جگہ بنائے بیٹھ گئی۔۔
کیسی ہے میری جان؟؟
سندل نے اس کو محبت سے گلے لگایا تھا اپنے ،
ٹھیک ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی سامنے ڈھلتے سورج کو دیکھنے لگی تھی۔
ہمممم۔۔۔۔
یہ ڈریس لائی ہوں۔ جلدی سے تیار ہو جاو،
خوبصورت سا لباس اس کے ہاتھوں میں تھمایا تھا اس نے۔۔
مہر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔
کسی فنکش میں جانا ہے اس لئے۔۔
اسکے سوال کو سمجھتے جواب میں کہا تھا اس نے۔۔
نہیں۔۔ یار مجھے کہیں نہیں جانا ، آپ لوگ چلے جائیں۔۔
وہ بے دلی سے ڈریس کو وہیں رکھتے ہوئے بولی تھی۔۔
مہرو۔ہم تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے ،
پاپا نے کہا ہے اسلئے جلدی سے تیار ہو جاو ہم نیچے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں ۔۔
کہ کر وہ نیچے چلی گئی تھی ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں مہر جب تیار ہو کر نیچے آئی تھی کسی کو نہ پا کر حیران ہوئی تھی ، پورے ہول میں وہ اکیلی کھڑی سب کو تلاش رہی تھی کہ عقب سے آتی سونگ کی آواز پہ مڑی تھی ، جہاں حازم، سندل ، روباب کیک کی ٹرالی ہاتھوں سے گھسیٹتے لا رہے تھے۔۔
ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔۔
ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔۔
۔۔۔۔ سالگرہ بہت بہت مبارک ہو میری جان،
حازم اور روباب نے اسے خود کے گلے لگایا کر ہاتھوں میں نائف تھمائی تھی، وہ جو ابھی تک صدمے سے انہی کو دیکھ رہی تھی۔۔ان کی نائف بڑھانے پہ کیک کٹ کیا تھا۔۔پھر پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونجا تھا۔
©©©©©©
فیروز جو اپنی سائڈ پہ کھڑا ورکرز سے کام کروا رہا تھا ، فون کی مخصوص رنگ بجنے پہ کال اٹھائی تھی ۔
اوکے ۔۔ سب چیزیں ریڈی رکھو میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔
مقابل سے کہتا وہ ، ورکرز کو کام سمجھائے جا چکا تھا۔
آخر ایک ہفتے کے انتظار کے بعد وہ دن آ ہی چکا ہے جسکا وہ بے صبری سے منتظر تھا۔۔۔
ائ ایم بیک۔۔۔ مسکراتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھے جا چکا تھا اپنی منزل کی جانب۔۔۔
©©©©©
ٹھاہ۔۔۔۔!!!!!!
وہاں سب جو سالگرہ کے موقع پر خوشی منا رہے تھے فضا میں ہوتے فائر کی آواز نے ساکت کر دیا تھا سب کو۔۔
جب کہ مہر النساء اس شخص کو دیکھتے اپنے باپ کے پیچھے چھپی تھی اور وہ اسکو خود سے ڈرتے دیکھ مسکراتے ہوئے اس تک آیا۔۔۔
ڈئیر وائف شوہر کے بغیر ہی اتنا خاص دن منا رہی ہو؟اٹس ناٹ فئر۔۔۔۔
یہ کیا بکواس ہے؟
حازم ماتھے پر بلوں کے جال لئے گویا ہوا۔
صبر رکھیں سسر جی۔
داماد سے بات کرنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ اچھالتے بولا۔
تمیز سے بات کرو لڑکے تم داماد نہیں ہو ہمارے۔۔۔
آپ کی بیٹی نے مجھ سے خود نکاح کیا ہے۔۔چاہے تو پوچھ لیں۔۔۔
کیوں وائفی بتاو نا اپنے بابا کو۔۔۔۔
بابا۔۔یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔م۔۔۔میں نے ن۔نکاح نہیں کیا۔۔۔۔ب۔۔بلکہ۔۔
وائفی ۔۔۔۔جھوٹ نہیں بولتے۔۔اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ گویا ہوا۔۔
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس؟
میں جانتا تھا آپ ایسا ہی کچھ کہیں گے یہ لیں چاہیں تو ثبوت بھی دیکھ سکتے ہیں وہ نکاح نامہ اور نکاح کی تصویریں ان کی جانب بڑھاتے بولا جسے دیکھے روباب اور حازم دونوں ساکت ہوئے تھے۔۔ایک درد سا ان کی آنکھوں میں نمایاں ہوا تھا۔
یہ جھوٹ ہے میں نہیں ہوں ان کی بیوی۔۔۔
اس نے روتے ہوئے اس نکاح نامے اور تصویروں کے ٹکرے کیے تھے اور وہیں ایک زور دار طمانچہ اس کے منہ پر پڑا تھا اور وہ لہرا کر زمین بوس ہوئی۔۔
نکاح نامہ پھاڑنے سے نکاح ٹوٹ نہیں جایا کرتے!! وہ طنزیہ گویا ہوا۔
گھر سے بھاگ تو بہت آسانی سے گئی تھی کیا لگا تھا میں تمہیں کبھی ڈھونڈ نہیں پاوں گا۔ویسے اب تو تم مل گئی ہو اب اپنی خیر مناو۔
اس کے منہ دبوچے وہ غراتے ہوئے بولا اور کھینچ کر کھڑا کیا تھا اس کو۔
حازم سے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے وہ درندہ اس کی بیٹی کے ساتھ جانوروں سا سلوک کر رہا تھا اس نے غصے سے آگے بڑھ کر اس کو جدا کیا اس سے۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے۔۔۔؟؟
مسٹر حازم یہ میرا اور میری بیوی کا معملہ ہے بہتر ہو گا آپ مجھ سے اور میری بیوی سے دور رہیں۔
لے کر جا رہا ہوں۔ اگر کوئی بھی مسئلہ ہو تو وکیل سے بات کر کے دیکھ لینا۔۔
وہ انگلی اٹھائے اسے وارن کرتے بولا جبکہ حازم کی یادوں میں کئی سال پرانا واقع رونما ہوا تھا ۔
وہ شخص اسی کے سامنے اسی کی بیٹی کو لے کر جا چکا تھا جبکہ وہ چیختی رہی چلاتی رہی۔۔۔
پاپا۔۔۔سیو می پلیز۔۔۔
پاپا مجھے کہیں نہیں جانا پلیز بچا لیں مجھے۔۔۔
وہ کیسے روکتے ان کے پاس کوئی وجہ ہی نہیں بچی تھی اسے روکنے کی سب لوگ خاموش تماشائی بنے ان کی بے بسی دیکھ رہے تھے۔
