Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 4
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
مہر کا دل بہت عجیب سا ہو رہا تھا ۔۔ اس کو گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ آج اس نے کہا بھی تھا کہ اسکو کالج جانے کا من نہیں لیکن سندل اس کو زبردستی لائی تھی۔۔۔
جس پہ وہ برا سا منہ بنا کر کالج تو آ گئی لیکن لیب کے پیچھے موجود پہاڑی پہ جا کے بیٹھ گئی اور سٹوری بک نکال کر پڑھنے لگی ۔۔
آرام سے بیٹھی وہ کہانی میں مکمل طور پر کھو چکی تھی کہ پہاڑی کے پیچھے سے ہی کوئی ہیولہ سا نمایاں ہوا تھا جس نے پل میں کلوروفارم سے بھرا رومال کونے میں بیٹھی مہر کے منہ پہ رکھا تھا۔۔۔ وہ ہاتھ پاوں مارتی خود کے بچاو کے لئے پانچ منٹ میں ہی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔۔
وہ لوگ پیچھے کے راستے سے اسے کار میں ڈالے جا چکے تھے۔۔۔
_____________
یہ پینٹنگز کس نے بنائی ہیں؟
دعا تصویر کو گہری نظروں سے دیکھتی اپنی کولیگ کرسٹینا سے پوچھتے بولی۔۔۔
یہ ساری پینٹنگز سر نے بنائی ہیں۔۔
ہمممم۔۔۔مطلب سر آرٹس کا شوق بھی رکھتے ہیں۔۔
وہ کھوئے سے لہجے میں بولی۔۔
ہاں ہو سکتا ہے۔۔ ویسے ان کی ساری پینٹنگز ان کے پرسنل روم میں موجود ہیں۔۔ بٹ افسوس کی بات وہاں کی کسی کو جانا آلاؤ نہیں۔۔۔
اوو۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو گول شکل میں ڈھالتے ہوئے بولی تھی۔۔
وہ۔۔ جبکہ دماغ کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
_____________________
سندل جب مہر وہ دیکھنے وہاں آئی تو اسے نہ پا کر اس نے سوچا کہ وہ کلاس میں جا چکی ہو گی۔۔ لیکن چھٹی کے وقت بھی جب وہ باہر نہ آئی تو اس نے کلاس میں جا کر دیکھا جہاں وہ موجود نہ تھی۔۔ دوستوں سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ آج تو اس نے کلاس ہی نہیں لی۔۔۔یہاں اس کا دل صحیح معنوں میں دھڑکنے لگا تھا۔۔ اس کی گمشدگی کا سوچ کر۔۔
وہ دل میں دعا کیے پورے کالج میں اسے ڈھونڈنے لگی لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہ آیا۔۔ وہ الجھن زدہ ذہن سے گھر میں داخل ہوئی اور خاموشی سے روم میں بند ہو گئی۔۔
شام میں روباب نے اس سے مہر کے بارے میں پوچھا تو اس نے یہ لہہ کر ٹال دیا کہ آج وہ ضروری آسائمنٹ بنانے کے لئے اپنی دوست کے گھر گئی ہے اسلئے وہ رات تک آئے گی۔۔
روباب بھی مطمئن ہو چکی تھی اس نے بھی آگے سے کوئی سوال نے کیا کیونکہ اکثر وہ لوگ نوٹس یا آسائمنٹ بنانے دوستوں کے گھر جایا کرتی تھیں۔۔
بیٹا ہم جا رہے ہیں۔۔ مہر آئے تو وقت سے کھانا کھا کر آپ لوگ سو جانا ہمیں آتے ہوئے تھوڑا وقت لگ جائے گا۔۔
روباب سندل کو سمجھاتی حازم سے ساتھ گاڑی میں بیٹھے جا چکی تھیں۔۔ جبکہ ان کے جاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔ زندگی میں پہلی بار اسے نے اپنے والدین سے جھوٹ بولا تھا۔۔
دعا میں بیٹھتے دل سے مہرالنسا کی سلامتی کی دعا نکلی تھی۔۔
____________________
اندھیرے کمرے میں فسوں خیز سا منظر تھا اس نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا کہ وہ کہاں ہے ،مگر اندھیرے کے باعث جان نہ پائی۔۔۔
وہ گھبراتے گھبراتے بستر سے اٹھی ، اور اندھیرے میں ہی دروازے تک پہنچا چاہا۔۔، تھوڑی دیر کی کاوشوں کے بعد وہ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی،
ابھی اس نے دروازے کے ناب پر ہاتھ رکھ کر اسے گھمایا ہی تھا کہ کسی نے اپنا ہاتھ اس کے نازک ہاتھ پر رکھا۔۔۔۔یکدم اس کا دل تیز لہر میں دھڑکا تھا۔۔اس کی سانسیں بند ہونے کے قریب تھیں۔۔، مقابل کی سانسیں اسے اپنے کان اور گردن پر پڑھتی محسوس ہوئیں ۔۔۔۔
مقابل نے اس نازک حسینہ کے ہاتھوں سے ہی دروازے کو واپس لاک کیا۔۔۔اور اس کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے اپنی جانب گھمایا۔۔۔
آہہہہ۔۔۔۔۔ہلکی سی کراہ اس کے مکھڑے سے نکلی تھی۔۔۔جو مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بنی تھی۔۔۔۔
ک۔۔کون ۔ہ۔۔ہو؟؟؟
وہ اٹکتے ہوئے بولی۔۔۔خوف کے مارے اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔۔
ریوینج۔۔۔۔
مقابل کی نفرت اور وحشت سے بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔
لیو۔۔۔ می۔۔
خود کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی بولی جس سے مقابل کے چہرے کو مسکراہٹ آئی تھی اس کی اس فضول سی کاوش پہ۔۔۔
نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ چھوڑنے کے لئے تھوڑی نہ تھاما ہے تمہیں۔۔۔
ہاتھوں پہ گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔۔
Let me go please….
(مجھے جانا ہے۔)
No…
you have to live with me in your whole life۔
(نہیں۔۔۔ تمہیں ساری زندگی میرے ساتھ رہنا ہے )
مقابل کی بات نے صحیح معنوں میں اسے خوف محسوس کروایا تھا۔۔۔
Ay, gaze upon her rose-wreathed hair,
And gaze upon her smile;
Seem as you drank the very air
Her breath perfumed the while:
And wake for her the gifted line,
That wild and witching lay,
And swear your heart is as a shrine,
That only owns her sway.
‘Tis well: I am revenged at last,—
Mark you that scornful cheek,—
The eye averted as you pass’d,
Spoke more than words could speak.
Ay, now by all the bitter tears
That I have shed for thee,—
The racking doubts, the burning fears,—
Avenged they well may be—
By the nights pass’d in sleepless care,
The days of endless woe;
All that you taught my heart to bear,
All that yourself will know.
I would not wish to see you laid
Within an early tomb;
I should forget how you betray’d,
And only weep your doom:
But this is fitting punishment,
To live and love in vain,—
Oh my wrung heart, be thou content,
And feed upon his pain.
Go thou and watch her lightest sigh,—
Thine own it will not be;
And bask beneath her sunny eye,—
It will not turn on thee.
‘Tis well: the rack, the chain, the wheel,
Far better hadst thou proved;
Ev’n I could almost pity feel,
For thou art nor beloved.
گھمبیر آواز میں گنگناتا مہر کے دماغ کو سن کیا تھا اس نے ۔۔
( ارے، اس کے گلاب کے پھولوں والے بالوں کو دیکھو،
اور اس کی مسکراہٹ پر نظریں
ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے ہوا پی لی ہو۔
اس کی سانسوں میں خوشبو آ گئی:
اور اس کے لیے تحفے کی لکیر کو جگائیں،
وہ جنگلی اور جادوگرنی پڑی ہے،
اور قسم کھاؤ تمہارا دل مزار جیسا ہے
یہ صرف اس کے اختیار کا مالک ہے۔
‘یہ ٹھیک ہے: میں نے آخر کار بدلہ لیا ہے،’
تمھیں اس حقیر گال پر نشان لگا دوں،
تیرے گزرتے ہی آنکھ ٹل گئی
الفاظ سے زیادہ بولتے تھے۔
اے، اب تمام کڑوے آنسوؤں سے
جو میں نے تیرے لیے بہایا ہے،
شکوک و شبہات، جلتے ہوئے خوف،
انہوں نے بدلہ لیا ہو سکتا ہے-
راتیں بے خوابی میں گزری
لامتناہی مصیبت کے دن؛
وہ سب جو تم نے میرے دل کو برداشت کرنا سکھایا،
یہ سب آپ خود جان جائیں گے۔
میں تمہیں لیٹا نہیں دیکھنا چاہتا
ابتدائی قبر کے اندر؛
مجھے بھول جانا چاہیے کہ تم نے کیسے دھوکہ دیا
اور صرف اپنے عذاب کو روئیں:
لیکن یہ مناسب سزا ہے،
بیکار میں جینا اور پیار کرنا،
اے میرے دلِ دل، تو راضی ہو جا،
اور اس کے درد پر کھانا کھلائیں۔
تم جاؤ اور اس کی ہلکی سی آہیں دیکھو،
آپ کا اپنا نہیں ہوگا؛
اور اس کی دھوپ والی آنکھ کے نیچے جھکنا،
یہ آپ پر نہیں چلے گا۔
یہ ٹھیک ہے: ریک، زنجیر، وہیل،
اگر آپ ثابت کرتے تو بہتر ہوتا۔
یہاں تک کہ میں تقریباً ترس کھا سکتا تھا،
کیونکہ تم محبوب ہو نہ محبوب۔ )
اپنی شاعری کو ختم کرتے اس نے ہاتھ بڑھا سوئیچ اون کیا تھا
بجلی کے جلنے سے اندھیرا کمرا روشنیوں میں جگمگا گیا تھا۔۔۔
فیروز شمس کو اسٹیل کر دیا تھا ۔۔ اس روشنی نے جیسے ہی اس کی نظر سامنے کھڑی اپنے سے چھوٹی لڑکی پہ گئی تھی جو کالج سے سفید یونیفارم میں ملبوس ڈری سہمی سی آنکھوں کو بند کیے کھڑی تھی۔۔۔
اس کے چہرے پہ چھایا ڈر، معصومیت ، بھولے پن نے معبود کر دیا تھا۔۔ وہ بنا اس کی جانب دوبارا دیکھے باہر کی جانب بڑا تھا۔۔
اس نے جب ڈرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی آنکھوں کو کھولا تو کسی کو کمرے میں موجود نہ پا کر وہ زمین پہ بیٹھے روتی چلی گئی تھی۔۔۔ اس کو شدت سے اپنے گھر والوں کی یاد آ رہی تھی۔۔
یا خدا میری مدد فرما۔۔
ایک یہی جملا اس کی زبان سے ادا ہو رہا تھا۔۔
____________________
یو۔۔ایڈیٹ میں نے تمہیں کس لڑکی کو لانے کا کہا تھا اور تم کس کو اٹھا لائے ہو۔۔۔
فیروز اس کے کالر کو دبوچے چیخا تھا۔۔
ص۔۔۔صاحب معاف کیجیے گا۔۔یونیفورم میں سب ایک جیسے لگتے ہیں۔۔۔ ی۔۔یہ بھی حازم کی ہی بیٹی ہے۔۔۔
آپ۔۔۔کا مقصد تو صرف بدلہ ل۔۔لینے سے ہے۔۔
ویسے بھی ی۔۔یہ لڑکی حازم کی لاڈلی بیٹی ہے۔۔ ۔۔
وہ شخص اپنے صاحب کو غصےمیں دیکھ ، اپنی جان بخشی کے لئے جو منہ میں آیا بول گیا۔۔۔
گیٹ لوسٹ۔۔۔
اس نے اس شخص کو دھکا دیا تھا ۔۔
وہ فوراً وہاں سے بھاگا تھا۔۔ جب کہ وہ سر ہاتھوں میں گرائے ڈھہ گیا۔۔
اس کا دل و دماغ کسی معصوم کو مہرا بنانے کی نفی کر رہے تھے۔۔ جبکہ شیطان اس کا اکسا رہا تھا کہ جو وہ کر رہا ہے بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ اس کی پھوپھو کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی جسے سزا دی گئی۔۔
ہاں وہ ٹھیک کر رہا ہے۔۔۔دل ہارا تھا یہاں۔۔۔
وہ ویسے نہیں تو اس کی بیٹی کو اس سے دور کر کے بھی تو بدلہ لے ہی سکتا ہے۔۔۔
اسلئے کہتے ہیں جذبات میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔۔ انسان کو سوچ سمجھ کے ہر فیصلہ کرنا چاہیے۔۔
______________________
Aankhon ke panno pe
Maine likha tha sau dafaa
Lafzon mein jo ishq thaa
Hua na woh honton se bayaan
Khud se naraaz hoon
Kyun be-aawaaz hoon
Meri khamoshiyaan hain sazaa
Dil hai yeh sochta
Phir bhi nahi pata
Kis haq se kahun bataa..
Ke main hoon Hero tera
Ke main hoon Hero teraa.. (x2)
کراچی کے مشہور پارک میں اس وقت عرش سلمان کا لائو کنسرٹ چل رہا تھا چھوٹی سی عمر میں اس نے اپنے اس شوق کو نکھارا تھا۔۔ اس کی اس سریلی آواز کے سب دیوانے تھے۔۔
پارک میں اپنے دوستوں کے ہمراہ لوگوں پہ اپنی آواز کا سحر چلا رہا تھا۔
Aaye…
Main hoon Hero, Hero tera
Aaye…
Raahon mein bhi har kadam
Main tere saath chalaa
Haathon mein thhe yeh haath magar
Phir bhi raha faasla
Seene mein hain chhupe
Ehsaas pyaar ke
Bin kahe tu sun le zara
گانے کے اس بول پہ سلمان نے معصومہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے سینے پہ لگایا تھا جب کے وہ سب کی موجودگی میں سلمان کی اس حرکت پہ سٹپٹا سی گئیں تھیں۔۔۔
Dil hai yeh sochta
Phir bhi nahi pata
Kis haq se kahun bataa..
Ke main hoon Hero tera..
Ke main hoon Hero tera aa.. (x2)
Teri wajah
Se hain mili
Jeene ki sab khwahishein
Paa loon tere
Dil mein jagah
Hai yeh meri koshishein
Main bas tera banu
Bin tere na rahun
Maine toh maangi hai yeh duaa
سلمان کے کندھے پہ سر ٹکا لیا تھا محبت معصومہ نے گانے کے اس فقرے کو دل سے محسوس کیے۔۔
Dil hai yeh sochta
Phir bhi nahi pata
Kis haq se kahun bataa..
Ke main hoon Hero tera..
Ke main hoon Hero teraa.. (x4)
عرش کے رکتے ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔ جب کہ پنجاب میں بیٹھی آفرین کا دل زور زور سے دھڑک تھا۔۔۔
آج پھر اس کی خواہش ادھوری رہ گئی تھی ۔۔اس شہزادے کو براہ راست دیکھنے کی۔۔ وہ اس کے ملک میں موجود تھا۔۔ لیکن وہ موقع گوان چکی تھی۔۔۔
آفی تو رو کیوں رہی ہے۔۔؟
عنایہ نے اس کے نکلتے ہوئے آنسوں کو دیکھ کر کہا تھا جو بظاہر تو مسکرا رہی تھی ۔۔لیکن چہرا آنسوں سے تر تھا ۔۔
عنو۔۔ میں ملنا چاہتی ہوں۔۔ان سے۔۔۔
میرا دل اس شخص کے لئے بے قرار ہو رہا جو مجھے جانتا تک نہیں۔۔اپنی محبت اپنے عشق کو ایک بار سامنے دیکھ محسوس کرنا چاہتی ہوں۔۔
آفرین۔۔
تم پاگل ہو۔۔
وہ تو تمہیں جانتا بھی نہیں ہو گا ۔۔ اور ویسے بھی کتنی ہی لڑکیاں پاگل ہوں گی اس کے لئے۔۔ کیوں اپنا وقت ۔۔ کسی ایسے لئے ضائع کر رہی ہو جو تمہیں ملنا ہی نہیں۔۔
۔ وہ صرف میری محبت نہیں۔۔ میرا عشق بھی ہے۔۔۔
محبتیں تو مل جایا کرتی ہیں۔۔ مگر عشق کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے۔۔۔ وہ بے شک مجھے نہ ملیں ۔۔ میرے لئے وہی کافی ہے کہ میں ان کی محبت اپنے دل میں لئے جاوں گی۔۔
حیران کر دیا تھا عنایہ کو آفرین کی اس بات نے۔۔۔
اگر چاچو کو اس بات کا علم ہو گیا۔۔ تو تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی۔۔ تم محض ابھی سترہ سال ہو۔۔
اور۔۔۔!!!!!
میری صلاح ہے کہ تم اسے بھول جاو۔
ہنہہ۔۔۔
مسکرائی تھی وہ اس بات پہ۔۔
بھولایا تو ان کو جاتا ہے جن کی یادوں پہ آپ کا بس ہو۔۔
اسں معاملے میں بے بس ہوں میں ۔۔ کیونکہ میں عشق کی منزل طے کر چکی ہوں۔۔اور جو یہ منزل طے کر لیں وہ محبوب کو بھلایا نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ ان سے محبوب بھلایا ہی نہیں جاتا۔۔
اس کی بات سن کر عنایہ نے ایک سرد آہ خارج کی تھی۔۔
میں تمہارے لئے صرف دعا ہی کر سکتی ہوں۔۔
کہتے چلی گئی تھی وہ روم سے باہر۔۔۔
_____________________
فلم کے مشہور میوزک پروڈیوسر آئے تھے اسٹیج پہ۔۔ جنکا لوگوں نے بھرپور تالیوں سے استقبال کیا تھا۔۔
امید کرتے ہیں آپ سب نے یہ شو بھرپور انجوائے کیا ہو گا۔۔
عرش سلمان جن کے بارے میں میں کچھ کہنا خاہوں گا۔۔۔یہ وہ نوجوان ہے جسے قدرت نے تحفے میں خوبصورت آواز دی ہے۔۔۔
اور میں چاہوں گا یہ میری فلم کے لئے گانا گائیں۔۔
عرش کو گلے لگایا تھا ان نے۔۔۔
میں مسٹر اینڈ مسسز سلمان کو دعوت دینا چاہوں گا کہ وہ اسٹیج پر آئیں اور ہمارے ساتھ ایک یادگار تصویر میں شامل ہوں۔۔۔
سلمان اور معصومہ جیسے ہی اسٹیج پر گئے تھے۔۔ساکت کر دیا وہاں موجود حازم اور روباب کو۔۔۔
وہ دونوں ہی شاک تھے ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر۔۔۔۔۔دونوں کا تالیاں بجاتا ہاتھ رکا تھا۔۔۔
پورے ہال میں تالیوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔ جبکہ یہی تالیاں حازم کو اتھوڑوں کی مانند اپنے کانوں میں پڑتی محسوس ہوئیں۔۔۔
سماہرا۔۔۔۔۔
ایک آواز اس کے اندر سے آئی تھی۔۔
