Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 7
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
ضامن نے دعا کو ایک فائل بنانے کے لئے دی تھی۔ پورے دو دن کی انتھک محنت کے بعد اس نے وہ کام وائنڈ اپ کیا تھا۔۔ چونکہ ضامن آفس میں موجود نہیں تھا بقول اس کے تو اس نے سوچا کیوں نہ ایک رواونڈ نیچے کے آفس کا لگا لیا جائے،
اپنی سوچ کو عملی جامعہ پہنائے اس نے قدم نیچے کی سمت بڑھائے تھے، اس بات سے بے خبر کے وہاں جا کر وہ خود مصیبت کو دعوت دینے والی ہے۔۔
وہ نیچے پہنچتے کونے پہ بنے کمرے میں گئی تھی جس کا دروازا کافی بڑا تھا۔جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی اس کمرے کی سجاوٹ ، ترتیب اور سب سے بڑھ کر وہاں موجود پینٹنگز نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی۔ وہ کسی نوعمر خوبصورت لڑکی کی تصویریں تھیں جن کو آرٹ کی شکل میں ڈھالا تھا کسی نے،آرٹ اتنا خوبصورت تھا کہ کسی حقیقی شبہہ کا سا گمان ہو رہا تھا۔۔
زیب تن کیے باغ میں موجود تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور دور کھڑا لڑکا اس کو دیکھ مسکرا رہا تھا۔دعا اس تصویر میں کھوئی سی تھی کہ اچانک لائٹ بند ہو گئ۔اس نے موبائل کی ٹارچ جلانی چاہی تو اس کی بھی بیٹری لو تھی۔ اس نے باہر جانے کا سوچ قدم بڑھائے ہی تھے کہ کسی کی سانسیں اپنے چہرے کے قریب محسوس کیے اس کی حالت غیر ہوئی تھی۔
ک۔کون ؟؟
ڈر کے باعث اس کی آواز دبی دبی سے نکل رہی تھی۔
باہر کی جانب بڑھتے قدم تھمے تھے، وہ اسٹیل ہوئی تھی اپنی جگہ پر اپنے بے حد قریب کسی انجان ہستی کو محسوس کیے۔۔
ضامن جس نے ماضی کے لمحوں میں گھم آج کچھ زیادہ ہی ڈرنک کر لی تھی وہ کچھ لمحے اپنی دیوانگی ہیرا کی یادوں میں گزارنا چاہتا تھا۔اس روم کو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا ۔ وہ اپنے آپ کو سنبھالتا جیسے ہی وہاں اینٹر ہوا سامنے کسی لڑکی کے ہیولہ کو دیکھ کچھ لمحوں کے لئے رکا تھا۔آنکھیں دھندلانے کے باعث اور کچھ اندھیرے کی وجہ سے چہرا صاف دیکھائی نہیں دے پا رہا تھا۔
ہی۔۔ہیرا۔۔کہاں چلی گئی تھی اپنے ضامن کو چھوڑ کر، آج بھی دیکھوں ضامن کی ہر رات انگارو پر لٹتی ہے،
س۔۔س۔۔۔۔
اپنے پاس ضامن کی نشے میں ڈوبی آواز سن کر اسکی جان ہوا ہوئی تھی اب وہ صحیح معنوں میں یہاں آنے کے فیصلے پر پچھتا رہی تھی ۔
شششش۔۔۔۔
تمہاری وہ باتیں، ہنسی ، شرارتیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔ سب کہتے ہیں تم مر چکی ہو مگر مجھے پتہ تھا میری ہیرا واپس آجائے گی کیونکہ وہ بھی تو مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔کہتے ہی اس نے اندھیرے میں ہی اس کے ڈوبٹے کو پکڑا تھا۔۔
I wanna feel your love, breath and soul after a long time..
میں تمہاری محبت، سانسوں اور روح کو محسوس کرنا چاہتا ہوں کافی لمبے عرصے کے بعد۔۔
م۔۔میں کوئی ہیرا نہیں د۔۔۔دعا ہوں۔۔پلیز لیو می۔۔۔آنسوں بے در پے در اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے، اندھیرے میں وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھنے سے قاصر تھے۔اس سے پہلے ضامن کوئی نہایت قدم اٹھاتا ، وہ جھٹکے سے اپنا آپ چھڑاتی اندھیرے میں ہی دروازا تلاشتی باہر بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن دروازے کو باہر سے لاک پا کر اس کو اپنی بے بسی پہ رونا آیا تھا وہیں دروازے کے پاس بیٹھتی چلی گئی ۔ کتنی ہی سوچیں اس کے زہن پر سوار تھیں کہ وہ اس لمحے اپنے باس کے ساتھ اکیلے ہے اور دنیا والے اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔
ہ۔۔ہیرا۔۔۔من۔۔من۔۔ضامن کی چلاتی آواز سن جس میں نمی گھلی ہوئی تھی، وہ اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ چکی تھی۔
وہ بھی بیڈ پہ اوندھے منہ ڈھ چکا تھا ہیرا کو صدائیں لگائے۔۔
کچھ دیر پہلے ندا بیگم کی کال آئی تھی جس پر انہوں نے آفرین اور خوشی کو پک کرنے کا کہا تھا۔۔اور اب فیروز پریشان سا کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔اگر وہ دونوں یہاں آ جاتی ہیں تو اس کے نکاح کی خبر گاوں پہنچ جانی تھی اور سب سے بڑا مسئلہ وہ مہر کو کہاں رکھے گا۔بہت سی سوچیں اس کے زہن پر سوار تھیں۔
کچھ وقت بعد ایک خیال سا آیا تھا اسکے زہن میں، اس کے دوست کا ایک فلیٹ خالی تھی وہ مہر کو اس میں رکھنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
چلو میرے ساتھ۔۔
مہر کو بنا کچھ کہنے کا موقع دیے ہاتھوں سے تھامے گاڑی میں بیٹھایا تھا جبکہ وہ حیرت کا مجسمہ بنی اسے ہی دیکھ رہی تھی، اس کا من لرز رہا تھا نجانے اب وہ کیا کرنے والا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر کی مسافت کے بعد وہ مہر کو اس فلیٹ میں چھوڑے وہاں سے جا چکا تھا ۔اور جاتے جاتے تنقید کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔
جبکہ وہ کنفیوز سی کھڑی اس ویران جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں پہ کوئی بھی نہیں تھا، اس نے من ہی من میں کئی سلوتوں سے نوازا تھا اس کو، جو یہاں اکیلے فلیٹ میں بھوتوں سے باتیں کرنے کے لئے لایا تھا لیکن ساتھ ہی اپنی فیملی سا سوچ واپس چھوٹی سنہری آنکھوں میں نمی گھلی تھی۔۔
مہر کو چھوڑنے کے بعد اب فیروز کا رخ گاؤں کی جانب تھا۔جہاں سے اس نے اپنی بہن اور کزن کو پک کرنا تھا۔۔
بچپن کی خوشیوں بھری یادوں میں پہنچ چکا تھا وہ جیسے ہی گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہوئی تھی۔
اپنی پھوپھو کے ساتھ اکثر وہ ندی پہ جایا کرتا تھا، ہر مہینے میلے میں وہ ضد کر کے جاتا ، اور وہاں سے ڈھیروں چیزیں خریدتے تھے وہ، پھر ان کے ساتھ کھیلنا سب یادوں ایک ایک کر لے زہن پہ سوار ہو رہی تھیں۔۔
یہ ماضی کی یادیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں،جو ہنستے ہوئے بندے کو رولا دیتی ہیں اور روتے ہوئے کو ہنسا دیا کرتی ہیں۔
تلخی سے سوچتا گاڑی کی رفتار مزید بڑھائی تھی فیروز نے ۔
خوشی آج بے حد خوش تھی فیروز کے گاوں آنے کا سن لیکن حیرت تو تب ہوئی جب معلوم ہوا کہ وہ اور آفی دونوں شہر جا رہی ہیں۔تبھی سے وہ اپنے لمبے بالوں کو سنوار ، ہلکا پھلکا سا میک اپ کر چکی تھی اور اس کی یہ تیاری گلابی سوٹ پہ مزید جچ رہی تھی۔
تم تو ایسے تیار ہو رہی ہو جیسے بھائی تمہاری بارات لا رہے ہیں۔آفرین نے بھی اس کو چھیڑا تھا تمہارے منہ میں گھی اور شکر اس نے شرماتے ہوئے کہا تھا ، ویسے میرے ساتھ ساتھ شہر جانے پر اور بھی لوگ خوش ہیں کیا پتا راج کمار ہی مل جائیں ، خوشی نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا جس پہ ایک مدھم مسکراہٹ نے اس کے روشن چہرے پہ جگہ بنائی تھی۔
پتا نہیں!! یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے ، میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ” ۔*محبت اور مقدر میں ازل سے ضد کا رشتہ هے*
*محبت جب بھی ھوتی هے مقدر روٹھ جاتا هے*
بیگ کی زیپ بن کی تھی اس نے اپنی آخری بات کے ساتھ، جسے سن کر ایک لمحے کو آفی بھی کھوئی تھی ان لفظوں کے سحر میں، لیکن باہر سے آتی گاڑی کی آواز سن کر وہ دونوں بھاگی تھیں جہاں فیروز اپنی ساحرانہ شخصیت کے ساتھ کھڑا شمس صاحب اور ندا بیگم سے مل رہا تھا۔خوشی کونے میں کھڑی چور نظروں سے اس کو دیکھ اپنی برسوں کی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
کچھ وقت ان کے ساتھ گزارے ان دونوں کے ہمراہ اس نے شہر کی راہ لی تھی پورا سفر خاموشی میں کٹا تھا تینوں میں سے کسی نے آپس میں کوئی بات نہ کی تھی ، وہ تینوں نفوس ہی اپنی اپنی سوچوں میں مصروف تھے۔
شام کے سائے گہرے ہونے سے پہلے وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے وہ دونوں اتنے بڑے گھر کو دیکھ حیران تھیں ، ہزار گز پہ بنا ویل فیرنشڈ بنگلہ جس میں لان میں موجود پھول اس کی خوبصورتی کو بڑھا رہے تھے۔
تم دونوں کے لئے میں نے اوپر والے رومز سیٹ کروائے ہیں ، اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو میڈ موجود ہے اسے کہہ دینا اب جلدی سے فریش ہو کر آ جاو ،
میں کھانا لگوا رہا ہوں ، مل کر کھائیں گے۔
فیروز نے مسکراتے ہوئے دونوں سے کہا تھا اور خود قدم کیچن کی جانب بڑھائے تھے ، تھوڑی دیر میں جب وہ دونوں واپس آئی تھیں تو تینوں نے مل کر ایک ساتھ کھانا کھایا تھا۔
دو دن بیت چکے تھے مہر کو اس فلیٹ میں آئے لیکن ابھی تک فیروز واپس پلٹ کے نہیں آیا تھا ، شائد وہ اپنے کسی کام میں مصروف ہو ، یا اسے وہاں چھوڑے وہ بھول چکا تھا یہی خیال مہر کے زہن میں آیا تھا وہ گم سم سی بیٹھی فلیٹ سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی جہاں اکا دکا گاڑیاں چل رہی تھیں، اپنے آپ کو وہ کوئی پنچھی ہی گماں کر رہی تھی جسے قید میں ڈال دیا ہو ، سوچوں کے محور میں کھوئے ہوئے ہی اس کی نظر فلیٹ کے لاک پر گئی تھی اور پھر ایک خیال اس کے تاریک زہن میں آیا تھا ، جھٹ سے کھڑی ہوتی اپنے خیال کو عملی جامع پہنائے اس نے بال پن کو لاک میں ڈالا کر تین سے چار بار گھمایا جس سے لاک فٹ سے کھل چکا تھا اس کی خوشی کی انتہاہ نہیں رہی تھی،
لاک کو کھلا دیکھ ، وہ کوئی لمحہ ضائع کیے بنا فلیٹ سے نکل چکی تھی اپنے وجود کو سفید ڈوپٹے میں چھپائے۔
