Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 5
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
سماہرا۔۔۔
حازم اس جانب گیا تھا جہاں وہ گئیں تھیں۔۔ ان جو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔۔۔ ساتھ بیٹھی اپنی بیوی کو بھی نظر انداذ کر دیا تھا حازم نے۔۔۔
سلمان میں دو منٹ میں آئی۔۔۔
پروڈیوسر سے بات کرتے سلمان کو مخاطب کیا تھا ان نے۔۔
جس پر سر کو اثبات میں ہلا کر مثبت جواب دیا تھا سلمان نے۔۔
سمائرا۔۔۔۔؟؟؟
حازم معصومہ کا پیچھے کرتے کرتے لیڈیز واشروم داخل ہو چکا تھا۔۔ اس وقت اس حصے میں کوئی موجود نہیں تھا وہ دونوں اکیلے تھے۔۔
اپنے نام کی پکار پر نظریں اٹھائیں تھی ان نے۔۔ ۔۔۔
آنکھیں ساکت ،جب کے دھڑکن بہت تیز ہوئی تھی ان کی جب ان نے شیشے کے اس پار حازم کو کھڑا پایا ۔۔۔۔
Who’s samaira?
(کون سمائرا سر۔۔؟؟)
I am masooma….masooma salman…
(میرا نام معصومہ ہے۔۔۔ معصومہ سلمان۔۔۔)
جھوٹ بول رہی ہو تم ۔۔۔
تم سماہرا ہو میری سماہرا۔۔۔۔
تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں۔۔ تم وہی ہو۔۔۔
آنکھوں پہ یقین نہ کریں۔۔ یہ اکثر دھوکہ دے جایا کرتی ہیں۔۔۔
نہیں سماہرا۔۔ ایسا۔۔نہیں ہے۔۔
آپ کا دماغ لگتا خراب ہو چکا ہے۔۔ میں سماہرا نہی۔۔۔۔۔
الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے جب حازم نے معصومہ کا ہاتھ تھام کر اپنی جانب کیا تھا۔۔ خاموشی چھا گئی تھی ہر سو۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
حازم ساکن ہوا تھا جیسے ہی کرارا سا تھپڑ اس کے گال کی زینت بنا تھا۔۔
سماہرا ۔۔
اس نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔ اپنے ان غلیظ ہاتھوں سے۔۔
سماہرا نہیں ہوں میں۔۔۔
وہ بیچاری تو کب کی مر چکی ہے۔۔
جو آپ کے سامنے موجود ہے وہ معصومہ ہے۔۔ سلمان کی معصومہ۔۔
سنا آپ۔ نے۔۔۔
وہ چٹخ کر غرور سے بولی تھی۔ ۔۔ جبکہ آنسوں اسکی آنکھوں سے بھی بہہ رہے تھے۔۔۔
میری بات سنو۔۔۔۔
حازم نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی جسے اس نے جھٹک کر نا کام بنایا تھا۔۔
مسٹر۔۔میر حازم۔۔
اسٹے اوئے فروم می۔
انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا اسکو۔۔۔
جبکہ آنکھوں میں ناگواری واضح تھی۔۔
اور کیا سنوں میں آپکی۔۔
وہی ٹیپیکل باتیں۔۔
تو معاف کیجئے گا۔۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں۔۔۔۔جو میں آپ جیسے فضول انسان پہ ضائع کروں۔۔۔
سمی۔۔ ت۔۔تم تم مجھ سے محبت کرتی تھی نہ پھر کیسے چھوڑ سکتی ہو۔۔ مجھے۔۔۔پلیز واپس آ جاو۔۔۔
لفظ بھی کیا خوب ادا کیے ہیں آپ نے۔۔۔”محبت کرتی تھی”
تو سن لی جئے تھی اور ہے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔
اور اگر بات آتی ہے چھوڑنے کی تو۔۔
آپ نے خود مجھے چھوڑا تھا اور اپنے عشق اپنی محبت ۔۔۔
کیا نام تھا اسکا؟؟؟۔۔۔۔ بیچ میں جملے کو ادھورا چھوڑا تھا اس نے جان بوجھ کر۔۔
ہاں۔۔۔روباب۔۔۔
اس سے شادی کی تھی۔۔
لوگ ماضی میں نہیں جیا کرتے صاحب۔۔۔۔۔
اسلئے بہتر ہو گا اپنے بیوی بچوں پر توجہ دیں۔۔۔
بہت باریکی سے کہا تھا اسنے۔۔۔
چلتی ہوں میرے شوہر انتظار کر رہے ہونگے۔۔
وہ جو شرمندگی گہرائیوں میں دھنسا اس کی باتیں سن رہا تھا یکدم ساکن ہوا تھا اس کی آخری بات پہ۔۔
جب کہ وہ وہاں سے جا چکی تھی۔۔
قاضی کا انتظام کرو ۔
اپنے بندوں کو حکم دیے وہ اس کمرے میں گیا تھا جہاں مہر کو رکھا گیا تھا۔۔
وہ گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔۔۔ جب وہ اپنی شان کے ساتھ داخل ہوا تھا روم میں۔۔
اپنی حالت کو درست کر لو ۔۔
کچھ وقت میں نکاح ہے ہمارا ۔۔اور کسی بھی قسم کی کوئی مزاحمت برداشت نہیں کروں گا۔۔۔
وہ احساس سے عاری لہجے میں بولا تھا۔۔
م۔۔میں یہ نکاح نہیں کروں گی۔۔۔
میری زندگی ہے یہ۔۔۔کوئی ۔۔ن۔۔ناول یا ڈرامے کا سکرپٹ نہیں۔۔۔۔
وہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کیے ۔۔۔ بظاہر پر اعتماد لیکن اندر سے اس ظالم کی نظروں سے خوف زدہ ہوتے بولی۔۔۔
نائس۔۔۔ ویری نائس ڈائلاگ۔۔۔!!!
کتنا ٹائم لگا یاد کرنے میں۔۔۔
وہ زہریلی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتے طنزیہ بولا تھا جس سے اس نے اپنی سنہری آنکھوں سے فیروز کی جانب دیکھا تھا۔
جو بھی ہو۔۔۔ میں نہیں کروں گی نکاح۔۔
اپنے پاپا کے بغیر۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔
نام مت لو اپنے باپ کا۔۔۔۔
وہ زہر خند لہجے میں دھاڑتا مقابل کو کانپنے پر مجبور کر گیا۔۔
غصہ ہی تو دلا دیا اس شخص کے نام نے۔۔۔۔
شرافت کی زبان سے میری بات مان جاو ڈارلنگ ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔
ن۔۔نہیں۔۔۔
نفی میں سر ہلایا تھا اس نے ۔۔۔
اس کے مسلسل انکار پر تیش سا آیا تھا فیروز کو۔۔۔
ہمم۔۔۔۔
Is this your last decision???
کیا یہ تمہارے آخری فیصلہ ہے۔۔۔؟؟
آئیبرو اچکائے استفسار کیا ۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
زبان کے بجائے سر ہلا کر جواب دیا۔۔
کیا اس کو دیکھنے کے بعد بھی۔۔۔۔
موبائل کی اسکرین اس کی جانب کری تھی اس نے۔۔۔اور سامنے چلتا منظر اس کی روح فنا کرنے کے لئے کافی تھا۔۔۔
جہاں اس کے حازم کسی ریسٹورنٹ میں میٹنگ کر رہا تھا اس بات سے انجان کے کوئی آدمی اس پہ گن کا نشانہ تانے ہوئے ہے۔۔۔۔
پ۔۔پاپا۔۔۔۔!!!
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ؟؟ ڈاٹر آف اینمی۔۔۔
کہاں گئی وہ بہادری۔۔۔دیدہ دلیری۔۔
اس کی حالت کا بھرپور مزہ لے رہا تھا۔۔ وہ۔۔۔
اگلے پانچ سیکنڈ میں تم نے ہاں نہ کی تو۔۔۔
تمہارا باپ اوپر اور تم آزاد۔۔۔
اس کے سکون کو لمحوں میں غارت کر چکا تھا وہ۔۔۔
پانچ۔۔۔
چار۔۔۔۔۔
تین۔۔۔۔
دو۔۔۔
ا۔۔۔۔
میں راضی ہوں۔۔۔۔
ن۔۔نکاح کے لئے۔۔۔ پر پلیز پاپا کو کچھ مت کرنا ۔۔
وہ ہچکیوں کی صورت میں ہاں کہتی مقابل کے چہرے پہ فتحیاب مسکراہٹ لے آئی تھی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ مہرالنسا حازم سے مہرالنسا فیروز شمس بن چکی تھی۔۔۔نکاح کے دوران بھی آنسوں اس کے روانی سے بہہ رہے تھے لیکن فکر کس کو تھی ۔۔۔۔
حازم آپ اس عورت کے پیچھے گئے تھے نا؟
وہ پہلی بات تھی جو روباب نے اس سے کہی تھی۔ پورے سفر کے دوران ۔۔
کون سی عورت؟
وہ جان کر انجان بنا تھا۔۔
بات کو گھمائیں نہیں آپ جانتے ہیں میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔۔۔
روباب پلیز خاموش ہو جاو۔۔۔ میرا موڈ نہیں اس وقت بحس کرنے کا۔۔۔
اترو۔۔۔ جلدی ۔
گاڑی گھر کے پاس پارک کی تھی اس نے۔۔۔
حازم۔۔۔آپ صرف میرے ہیں۔۔۔
روانی سے بولتے وہ روتے ہوئے اندر جا چکی تھیں جبکہ اس نے سرد آ خارج کی اور گاڑی ہوٹل کی جانب بڑھائی تھی جہاں اس کی ایک میٹنگ منعقد تھی۔۔۔
پورے راستے اس کی سوچوں کا محور صرف سماہرا عرف معصومہ تھی۔۔۔
میٹنگ میں بھی اس کا کوئی وارم ریسپونس نہیں تھا۔۔
اس کی حالت بہت بیچین سی ہو رہی تھی۔۔۔
کہ اس نے سماہرا کو طلاق نہیں دی پھر کیسے وہ شادی کر سکتی ہے۔۔
سلمان ڈاکٹر کے روم سے باہر نکلا ہی تھا کہ نرس بھاگتی ہوئی آئی تھی اور سماہرا کی چلتی دھڑکنوں کا بتایا ۔۔ سب نہایت حیران تھے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ جب کہ سلمان خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوا شکر ادا کر رہا تھا۔۔۔
تبھی ایک اور کیس آیا ایکسیڈنٹ کا۔۔۔اس لڑکی کا کوئی وارث نہیں تھا۔۔اور وہی لمحہ تھا جب سلمان کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا ۔۔۔
اس نے ہسپتال کے عملے سے بات کر کے کچھ ان کو پیسے دیے اس لڑکی کی لاش کو سماہرا کی لاش بتا چکا تھا جب کہ اپنی انٹرنل پاور کی وجہ سے وہ خفیہ طریقے سے اسے اپنے ساتھ لے جا چکا تھا۔۔۔
______
جب وہ باڈی حازم کے گھر میں پہنچی تھی تو وہ بے حد شاک تھا۔۔ اس کی سماعتیں سلب ہو چکی تھیں ۔
تبھی ایک لڑکے نے اس سے کچھ پیپرز سائن کروائے تھے جنہیں اس نے بے دھیانی میں ہسپتال کے کاغذات سمجھ کر دستخط کر دیا۔۔ جبکہ در حقیقت وہ کاغذات طلاق کے تھے۔۔۔۔
جو سلمان کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔۔۔۔
سلمان جس نے باہر کے ملک جانا تھا لیکن وہ سماہرا کی وجہ سے جا نہ پایا۔
گھر کے اندر ہی اس نے سماہرا کا علاج کروایا تھا۔ جو کہ جسمانی اور ذہنی دونوں طور پہ کمزور ہو چکی تھی۔۔اپنی محبت کی اجڑی حالت کو دیکھ اس کا دل کٹتا تھا۔۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔۔
وہ سماہرا امریکہ لے آیا تھا تاکہ ماحول چینج ہو تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو۔۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ وہ وہاں کی آب و ہوا میں خوش رہنے لگی تھی۔۔کبھی کبھار اس سے بھی بات کر لیا کرتی تھی۔۔
پھر ایک دن موقع دیکھ کر سلمان نے اپنی محبت کا اظہار کیا اور اس سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔ جسے اس نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد قبول کر لی۔۔
شادی کے ایک سال بعد اللّٰہ نے انہیں ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا تھا۔۔جس کا نام اس نے عرش رکھا تھا۔۔ اس کا گمان تھا کہ وہ عرش کی مانند ہو گا۔۔بلند و بالا۔۔
پہلی بار جب سماہرا نے عرش کو گود میں اٹھایا تھا تو اس کو اپنی بیٹی کا خیال آیا تھا۔۔آنسوں بہہ تھے اپنی بیٹی کی موت کا سوچ کر۔۔۔
قسمت بھی فیصلہ کر چکی تھی اس کے آنسوں کا حساب لینے کی۔۔
یہ تھی ان کی چھوٹی سی جنت جسے ان دونوں نے مل بنایا تھا۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟
سلمان کو بیگ پیک کرتا دیکھ وہ حیرانی سے بولی۔۔
میں اب اس ملک میں ایک منٹ اور نہیں رہوں گا جہاں میری بیوی اپنے قیمتی آنسوں کو ضائع کرے۔۔۔
وہ جذبات میں بولے تھے۔۔۔
نہیں سلمان۔۔
ہم کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔ اب جب انہیں معلوم ہو ہی چکا ہے تو وہ یہ بھی دیکھ لیں کہ سماہرا اپنی زندگی میں بے حد خوش ہے۔۔اور اس شخص کو بھی دیکھ لیں جس کے ساتھ خوش ہے۔۔۔
واو۔۔۔ کتنا پیارا بولتی ہے میری لیڈی۔
انہوں نے محبت سے معصومہ کو اپنی جانب کھینچتا تھا۔۔
جس سے سیدھا وہ ان کے سینے سے ٹکرائی تھیں۔۔۔
کہاں سے بولتی ہے۔۔؟؟؟
آئبرو آچکا کر سوال کیا۔۔۔
ہاں۔یہاں سے بولتی ہے نہ۔۔ سلمان نے ان کے لبوں پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔
معصومہ نے گھوری سے نوازا تھا انہیں۔۔۔
جبکہ وہ بنا ان کی گھوری کی پرواہ کیے محبت بھری گستاخی کر چکے تھے جس سے پل میں معصومہ کا چہرا شرم سے سرخ ہوا تھا انہوں نے مصنوعی غصے سے دھموکا جڑا تھا انہیں۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔
سلمان کا جاندار قہقہہ نکلا تھا اپنی بیوی کی حالت پر۔۔۔
کیا۔۔۔
مہر صبح سے غائب ہے اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔۔
روباب سندل پر چیختے ہوئے بولیں تھی۔۔۔
اگر تمہارے باپ کو پتہ چل گیا تو وہ کتنا غصہ ہوں گے۔۔۔
ائم سوری مما میں ڈر گئی تھی۔۔
وہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
اف ۔۔۔بے وقوف لڑکی۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو فوراً اطلاع دیتے ہیں۔۔ وہ بچی نجانے کہاں ہو گی۔
وہ تو دنیا کی حقیقتوں سے بھی بے خبر ہے۔۔۔
وہ اپنا سر تھامتے ہوئے بولیں تھیں۔۔ اور کانپتے ہاتھوں سے حازم کو کال ملائی تھی ان نے۔۔ جن کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔
