Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 11

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj


💔زنجیروں سے با ندھ کر ہمیں💔

💔لفظو ں ۔۔۔سے مارا گیا۔💔

آسمان میں موجود ڈھلتے سورج کو دیکھتی وہ خود کو گمان کر رہی تھی ، کس کا دل بھی یوں ڈھل سا رہا تھا۔۔

آج کا دن کتنا خاص تھا ان دونوں کے لئے۔۔۔

جب وہ سلمان کی زندگی میں رفیقِ حیات بن کے آئی تھی۔۔

ہر سال سلمان سماہرا کو آج کے دن الگ طرح سے وش کرتا تھا ، پھول اور کارڈ کے ساتھ ، آج بھی وہ یہی سوچ کر اٹھی تھی مگر اس کی تمام خوش فہمی ملیا مٹ ہوئی تھی جب صبح اس نے نہ سلمان کو پایا نہ ہی کوئی پھول نہ ہی کارڈ۔۔۔۔۔

صبح سے کئی بار وہ سلمان کے نمبر پہ کال کر چکی تھی مگر وہ کال رسیو ہی نہیں کر رہا تھا بے دلی سے وہ چھت پہ آ گئی تھی ۔۔

اپنے ہی خیالوں میں کھوئی وہ کسی گہری سوچ میں محو تھی جب کسی وجود کو اپنے بے حد قریب پایا تھا اس نے۔۔۔

کلون ہی اٹھتی مخصوص مہک تھی جس سے وہ پہچان گئی تھیں کہ وہ سلمان ہی ہیں۔۔

یکدم پلٹی تھی وہ۔۔۔

سلمان ۔۔ ک۔۔کہاں تھے آپ ۔۔؟؟

جانتے ہیں کتنی پریشان تھی میں۔۔۔

سوری مائے جانم وہ آفس کے کام میں مصروف تھا۔۔

اور ان کی اس بات نے سماہرا کو صحیح معنوں میں غصہ دلایا تھا۔۔

جب سے ہم یہاں آئے ہیں آپ آفس اتنا نہیں گئے اور آج۔۔۔

آج آپ کو آفس یاد آ گیا؟؟

غصے اور غم کی ملی جلی کیفیت میں کہتی سلمان کو بہت کیوٹ لگی تھیں۔۔

سیریسلی سلمان۔۔

آپ کو کچھ یاد نہیں؟؟

اب وہ روہانسی ہونے کو تھیں۔۔

نو۔۔

کندھے اچکائے ، سنجیدگی سے کہہ گئے تھے۔۔

ہٹیں آپ ۔۔ مجھ سے بات مت کیجیے گا.

انہیں پرے دھکیل وہ جانے کو تھیں، تبھی ان نے ہاتھوں سے تھام کر دیوار سے پن کیا تھا انہیں۔۔

اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو جانم؟ اگر مجھے یاد نہیں تو تم ہی یاد دلا دو۔۔ ویسے بھی یہ بندہ بشر بھول جاتا ہے یاداشت جو کمزور ہے۔۔۔

ہنستے ہوئے وہ سماہرا کو غصہ دلا گئے تھے۔۔

میں نہیں بولتی آپ سے جائیں اپنے کام کریں آپ !!

غصے سے کہہ کر وہ نیچے روم میں آ گئی تھیں اور ان کے پیچھے سلمان بھی آئے تھے ۔۔

کیا مسئلہ ہے اب کیوں آئے ہیں آپ ؟ جائیں کام کریں اپنے اب بھی نہیں آنا تھا۔۔

منہ بنائے وہ سائڈ پہ ہوئی تھیں۔۔

خوشبو جیسی آئے جائے

کتنا دل کو وہ تڑپائے

میری سانسیں میری دھڑکن

وہ ہے میرا دیوانہ پن۔۔

سماہرا کے پھولے ہوئے گالوں کو گنگناتے ہوئے تھاما تھا ان نے۔۔۔

بے تابیوں میں ہے وہ راحت کا موسم،

اس کے لئے ہی میری چاہت کا موسم۔۔۔

میں ہوش اسکا وہ بے خودی ہے میری،

سماہرا کو ہاتھوں سے گول گھما کر ڈریسنگ روم میں دھکیلا تھا ساتھ ہی ساتھ گنگا رہے رھے وہ۔۔

میں عشق اسکا وہ عاشقی ہے میری

وہ لڑکی نہیں زندگی ہے میری،

اندر کھڑی سماہرا ان کا گانا سنتے تاصف میں سر ہلا رہی تھیں کہ ان کی نظر ایک خوبصورت ریڈ ڈریس پہ گئی تھی جو کہ سمپل لیکن نہایت خوبصورت تھا اور اس ڈریس پہ رکھی چٹ کو اٹھا کر جیسے پڑھنا شروع کیا ایک شرمیلی مسکان نے ان کے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔

کچھ ہی دیر میں جب وہ نفیس سا تیار ہو کر باہر آئی تھیں سلمان کا دل دھڑکا گئی تھیں۔۔

بیوٹیفل! ان کے ماتھے پہ محبت کی ایک خوبصورت مہر ثبت کیے گھمار آلود آواز میں بولے ، باہر ہو لیے تھے وہ اپنی معصومہ کا ہاتھ تھامے۔۔۔

©©©

کچھ لمحوں کی مسافت کے بعد وہ دونوں لال پھولوں کی چادر پہ چلتے کسی باشاہ اور ملکہ کی ماند اندر داخل ہوئے تھے،ہر طرف لال غبارے ، لائٹنگ لگی ہوئی تھی ، وہ پورا ایریا پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک رہا تھا۔یہ ساری سجاوٹ سلمان نے خود کروائی تھی۔۔

اتنی خوبصورت سجاوٹ دیکھ سماہرا کی خوشی کی انتہاہ نہیں رہی تھی انہوں نے محبت سے سلمان کی جانب دیکھا تھا ۔۔

شادی کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو میری جان۔۔

ٹیبل کے پاس پہنچ کر ، جس پہ چاکلیٹ کیک رکھا ہوا تھا سلمان نے پیار سے ان کو وش کیا تھا۔وہ حیرت اور خوشی سے ان کی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔پھر دونوں نے مل کر کیک کاٹا تھا۔

کیا مسسز معصومہ اپنے شوہر نامدار کے ساتھ ڈانس کرنا پسند فرمائیں گی۔۔

گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انہوں نے ہاتھ آگے کیا تھا جبکہ ان کے اسٹائل پر سماہرا کو ہنسی آئی تھی۔۔

پایا میںنے پایا تمہیں

رب نے ملایا تمہیں

ہونٹھوں پے سجیا تمہیں

نگمیں سگایا تمہیں

پایا میںنے پایا تمہیں

سب سے چھپایا تمہے

سپنا بنایا تمہیں

نیندون میں بلایا تمہیں

پہلے ٹریک پر سماہرا کے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں پہ رکھا تھا اور خود ان کے گرد حصار بنائے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے موو کرنے لگے تھے۔

تم جو آئے زندگی

میں بات بن گئی

عشق مذہب عشق

میری ذات بن گئی

یہ گانے کا انترا دونوں کے دل کی عکاسی کر رہا تھا۔۔واقعی ان دونوں کا ملنا خدا کا ایک کرشمہ ہی تھا۔۔ورنہ سچی محبتیں آج کل کے دور میں کہا ملا کرتی ہیں۔

پایا میںنے پایا تمہیں

رب نے ملایا تمہیں

ہونٹھوں پے سجیا تمہیں

نگمیں سگایا تمہیں

پایا میںنے پایا تمہیں

سب سے چھپایا تمہے

سپنا بنایا تمہیں

نیندون میں بلایا تمہیں

ہو تم جو آئے زندگی

میں بات بن گئی

سپنے تیری چاہتوں کے

سپنے تیری چاہتوں کے

دیکھتی ہوں اب گئی

دن ہیں سونا اور

چاندی رات بن گئی

ہو تم جو آئے زندگی

میں بات بن گئی

دو دفع گھما کر ان کی پشت اپنے سینے سے لگائی تھی۔۔

ہاہاہاہا سلمان آپ تو بالکل ٹین ایجر بنے ہوئے ہیں۔۔

گانے کے بیچ میں بولتے کھلکھلائی تھیں وہ۔۔

پایا میںنے پایا تمہیں

رب نے ملایا تمہیں

ہونٹھوں پے سجیا تمہیں

نگمیں سگایا تمہیں

پایا میںنے پایا تمہیں

سب سے چھپایا تمہے

سپنا بنایا تمہیں

نیندون میں بلایا تمہیں

بیگم پہلے بھی کہا تھا، خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے خودی انسان جوان ہو جاتا ہے۔۔ویسے بھی آج اتنا قیمتی دن ہے ، جب یہ معصومہ ہماری زندگی میں آئی تھیں، البتہ یہ بات الگ ہے دل میں بہت پہلے آ چکی تھیں۔۔

ان کے کندھے پر سر ٹکائے موو کر رہے تھے وہ اور ساتھ ساتھ باتیں۔۔

چاہتوں کا مزا

فاصلوں میں نہیں

آ چھپا لوں تمہیں

ہاسلوں میں کہیں

سبسے اوپر لکھا

ہیں تیرہ نام کو

کھویشوں سے جڑے

سلسلوں میں کہیں

اس ٹریک کے ساتھ سماہرا کو مزید قریب کر لیا تھا وہ انچ بھر کا فاصلہ پھر ختم کر چکے تھے جبکہ شیشے کے اس پار بیٹھا وہ شخص جو کہ اپنے کسی کام سے آیا تھا ان دونوں کو اتنا نزدیک دیکھ کر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔۔من میں ایک کرواہٹ سی گھلی تھی۔۔

زندگی بیوفا ہیں

یہ مانا مگر

چھوڑ کر راہ میں

جاؤگے تم اگر

چین لاؤنگا میں

آسمان سے تمہے

سونا ہوگا نا یہ

دو دلوں کا ناگر

اس ٹریک کے ساتھ ہی سماہرا کی آنکھوں میں پانی جمع ہوا تھا جسے وہ کمال مہارت سے چھپا کر سر سلمان کے سینے سے ٹکا گئی تھی۔۔

رونکے ہیں دل کے در پے

رونکے ہیں دل کے در پے

دھڑکنے ہیں سرمائی

میری قسمت بھی

تمہاری ساتھ بن گئی

ہو تم جو آئے

زندگی میں بات بن گئی

عشق مذہب

عشق میری ذات بن گئی

سلمان نے محبت سے لب ان کے بالوں پر رکھے تھے ۔۔

سپنے تیری چاہتوں کے

سپنے تیری چاہتوں کے

دیکھتی ہوں اب گئی

دن ہیں سونا اور

چاندی رات بن گئی

ہو تم جو آئے

زندگی میں بات بن گئی

پایا میںنے پایا تمہیں

رب نے ملایا تمہیں

ہونٹھوں پے سجیا تمہیں

نگمیں سگایا تمہیں

پایا میںنے پایا تمہیں

سب سے چھپایا تمہے

سپنا بنایا تمہیں

نیندون میں بلایا تمہیں

وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے ، کہ گانے کے ختم ہونے پر ہوش میں آئے ۔۔پیار سے اپنی معصومہ کو الگ کیا تھا۔۔

“I dreamt that you were mine, and then I woke up smiling because I realized it was not a dream. You are already mine!”

“You fill all the emptiness in my heart. I’m so thankful to have you in my life. I love you very much!”

گھمبیر آواز میں کہتے دو خوبصورت نفیس سی پائل نکال کر گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے پھر ایک ، ایک کر کے ان کے پیر میں پائل پہنائی تھیں۔۔

بیٹوفل!!

وہ بغور ان کا جائزہ لے رہے تھے کہ فون کی بیل بجی تھی۔۔۔

ویٹ جانم۔۔کہتے وہ باہر نکلے تھے جبکہ وہ پلر کے ساتھ کھڑی مسکراتے ہوئے سلمان کو جاتا دیکھ رہی تھی کہ یکدم کسی نے اسے بازوں سے کھینچ کر سائڈ پہ پن کیا تھا ۔۔

اس نے نظریں اٹھائیں تو خون آشام آنکھوں سے حازم کو خود کو تکتا پایا تھا ۔۔ایک لمحے کے لئے اسکی دھڑکنیں ساکت ہوئی تھیں۔

کس سے پوچھ کو اس شخص کو اپنے قریب آنے دیا؟

ایک ایک لفظ چباتا وہ غصے سے بولا تھا۔۔

یہ سوال کرنے کا حق آپ گنوا چکے ہیں۔۔

یہ اختیار سلمان کے پاس ہے ، وہ یہ سوال پوچھنے کا اہل ہے کہ میں , اس وقت کسی غیر مرد کے ساتھ کیا کر رہی ہوں۔۔

اور اپنے پاس سے دور کیا تھا حازم کو۔۔

کیسا شوہر ، کیا میں نے تمہیں طلاق دی ، ؟ جو تم نے شادی کی؟

یا تم لوگوں نے کوئی گناہ کیا ہے جسے چھپانے کے لئے میاں بیوی کا ناٹک کر رہے ہو؟

طنزیہ کہتے وہ سماہرا کا دل چھلنی کر گیا تھا۔غصے کی شدت میں اسے خود بھی اندازہ نہ ہوا وہ کیا کہہ چکا تھا۔۔

چٹاخ۔۔یہی امید تھی مجھے آپ سے۔۔

جو آج بھی نہیں بدلے۔ جس کی ذہنیت آج بھی وہی گندی ہے۔۔

گناہ خود کرتے ہیں اور یہ خطاب مجھے دے رہے ہیں۔۔

میں نے کوئی گناہ نہیں کیا بلکہ نکاح کیا ہے ، بالکل ویسے جیسے آپ نے کیا اپنی محبت سے۔۔تو میں کیوں رہوں پیچھے کیا سارے درد عورت کے حصے میں ہی لکھ دیے گئے ہیں۔۔؟

اور شائد ڈھلتی عمر کے ساتھ آپ کی یاداشت کمزور ہو گئی ہے ۔۔

طلاق کے کاغذات آپ نے خود بھیجوائے تھے۔۔

واٹ نان سینس۔۔۔

میں نے کب؟؟ وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا۔۔

خیر جو بھی ہو۔۔

تم میری تھی ، محبت کی تھی تم نے مجھ پھر کیسے تم کسی اور کو شریک کر سکتی ہو ہماری زندگی میں۔۔

سماہرا کا کھلے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا ۔۔

آپ سے محبت کرنا زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔۔

اور جہاں تک بات ہے شراکت داری کی ، اس میں پہل آپ نے کی تھی میں نے نہیں ۔۔۔

اسلئے جائیے یہاں سے ، اور چھوڑیں مجھے دوبارا ہاتھ لگانے کی غلطی مت کرنا ورنہ میرے شوہر ہاتھ توڑنے میں وقت نہیں لگائیں گے۔۔

جھٹکے سے بال چھڑائے تھے اس نے اپنے اور تنک کر بولی تھی۔

تم جانتی نہیں آج بھی میں انگاروں پر لٹ رہا ہوں ، واپس آ جاو سمی۔۔ہم خوش رہیں گے۔۔

کبھی نہیں۔۔ایسا ممکن نہیں۔

آپ نے سوچ بھی کیسے لیا میں ایک ہرجائی کے لئے وفا کرنے والے ساتھی کو ٹھکراوں گی۔۔

آپ میری دشت کے ہرجائی ہیں اور رہیں گے ، وہ گھر جو جنت تھا میری اسے دشت آپ نے بنا دیا میرے لئے ، دوسری عورت لا کر ،

آپکا دل ، آپکی روح آپ خود حسین خواب تھے میرے جنہیں ویرانہ بنا دیا سب کچھ بکھیر دیا آپ نے۔۔۔

آپ کی بے وفائی نے توڑ دیا تھا سماہرا کو اسکے خوابوں کو ،

وہ شہرِ خموشاں بن چکی تھی لیکن پھر ۔۔۔

سلمان میری زندگی میں آئے جنہوں نے سماہرا کے بکھرے ہوئے ٹکروں کو سمیٹ ایک معصومہ بنائی ، اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ میں ہی ہوں۔۔اسلئے بہتر ہو گا جائیں اپنی بیوی کے پاس اور دوبارا کبھی لوٹ کر نہ آنا۔

اتنا کہ کر وہ دوسری جانب سے نکلتی سامنے سے آتے سلمان کے پاس گئی تھی ۔حازم نے ان دونوں کو جاتے دیکھا تھا جو کے بے حد خوش لگ رہے تھے وہ ہوا میں ایک سرد آ خارج کرتا گھٹنوں کے بل بیٹھتا چلا گیا تھا۔۔

وہ واقعی ایک ہرجائی ہے۔۔ دشتِ ہرجائی۔۔۔

دشت میں ہے ایک نقشِ رہ گزر سب سے الگ

ہم میں ہے شاید کوئی محوِِ سفر سب سے الگ

چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گم ہو گیا

وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ

سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے

ایک آوارہ پھرے ہم دربدر سب سے الگ

بند ہیں گلیوں میں گلیاں ہیں گھروں سے گھر جدا

ہے کوئی شہر میں شہرِ دگر سب سے الگ

ایک ان ہونے سمے کو اوڑھ کر آتی ہے شام

ان دریچوں پر اترتی ہے سحر سب سے الگ

ہے رہ و رسم زمانہ پردۂ بیگانگی

درمیاں رہتا ہوں میں سب کے مگر سب سے الگ

دے کے عادت رنج کی ہوتا ہے مجھ پر مہرباں

اس ستم گر نے یہ سیکھا ہے ہنر سب سے الگ

ان گنت جلووں سے ہیں کون و مکاں روشن مگر

دل کے خاکستر سے اُڑتا ہے شرر سب سے الگ

شہرِ کثرت میں عجب اک روزنِ خلوت کھلا

اس نے جو دیکھا مجھے اک لمحہ بھر سب سے الگ

سرسراتا ہے بہشتِ جاں میں خواہش کا شجر

اس کی شاخوں پر اترتا ہے ثمر سب سے الگ

مست پھر باغِ تحیر میں ہے طاؤسِ سخن

ہو بہو کھلتے ہیں اس کے بال و پر سب سے الگ

ہر کوئی شامل ہوا سرمدؔ جلوسِ عام میں

منہ اٹھائے چل دیا ہے تو کدھر سب سے الگ ​

(سرمد صبہائی​)

©©©

حا۔۔حازم۔۔

روباب نے بھاگتے ہوئے حازم کو تھاما تھا جو کہ کافی ذیادہ ڈرنک کر چکا تھا اور اب اپنے قدموں کو جما نہیں سک رہا تھا۔۔

ت۔۔تم د۔۔دوسری عورت دور ہٹو مجھ سے۔۔

تمہاری وجہ سے سماہرا کسی اور مرد کے ساتھ ہے ۔۔

بہت خوش ہے وہ۔۔

بہت خوش۔۔۔

کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟

کیوں ہے وہ خوش۔۔۔

ساتھ رکھی کانچ کی ٹیبل کو دھکا دیا تھا اس نے۔۔جس سے وہ ٹکروں میں بٹی تھی۔۔

ح۔۔حازم سنبھالیں خود کو آپ ہوش میں نہیں ہیں۔۔

وہ پریشانی سے اس کے ہاتھوں کو تھام کر بولی تھی جو کہ کانچ پر گرنے والا تھا۔۔

تم وہ ہو۔۔جس کی وجہ سے میں ہرجائی بنا ہوں۔۔صرف تمہاری وجہ سے میری جنت دشت بن گئی۔۔۔

دشتِ ہرجائی۔۔۔

میں ہوں دشتِ ہرجائی۔۔۔

وہ پاگلوں کی مانند روتے ہوئے قہقہ لگا رہا تھا ،اس کی حالت دیکھ روباب کا دل ٹکروں میں بٹ رہا تھا۔۔۔

آ۔۔آپ اندر چلیں آرام کریں۔۔۔

اس کو اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی کہ وہ اس کے ہاتھ کو جھٹک گیا تھا۔۔

ڈونٹ ٹچ می۔۔۔۔

ہمم ڈونٹ ٹچ می۔۔ایسا کہا اس نے۔۔۔

سم۔۔سماہرا آئے لو۔۔یو۔۔۔

آئے لو ہر۔۔بائے ہارٹ۔۔۔

بند ہوتی آنکھوں سے کہتا وہ وہیں صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔۔

سماہرا، سماہرا ، سماہرا۔۔

خدا کرے تم مر جاو۔۔

تمہاری وجہ سے ہمارا اچھا خاصا گھر برباد ہو رہا ہے۔۔۔

وہ بھی روتے ہوئے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔

اپنا وقت بھلائے کہ ماضی میں وہ بھی یہی سب کچھ کر چکی تھیں۔جس کا صلہ آج وہ بھگت رہی ہیں۔۔

©©©

کدھر؟؟

سماہرا کو ڈریسنگ روم میں جاتا دیکھ انہوں نے ہاتھوں سے تھام کر اپنی جانب کھینچا تھا۔۔

ریلیکس ہونے۔۔۔

اتنی جلدی ابھی تو ہم نے دیکھا ہی نہیں۔۔

سلمان نے تمام معصومیت کے ریکارڈ توڑے تھے۔۔

بس کر دیں۔۔

اور کتنا دیکھنا ہے۔۔

ان کی بات پر حیرت سے دیکھتی بولی تھی۔۔

جب تک موت نہ آ جائے۔۔

سلمان۔۔۔۔۔

ایسے مت بولا کریں۔۔ان کی بات پر جھڑکا تھا انہیں۔۔۔

اوکے جانم۔۔۔

چلیں جلدی سے چینج کر لیں پھر ساتھ مل کر مووی دیکھیں گے۔۔

اس دفع ہم نئے طریقے سے اینیورسری بنائیں گے۔۔

ہاہاہاہا سلمان ۔۔بہت بری بات ہے ، چلیں عرش کو بھی بلا لیتے ہیں وہ بیچارہ نا جانے کیا کر رہا ہو گا۔۔

چھوڑیں بیگم وہ اپنی کسی پری کے خیالوں میں ہو گا۔۔

اور ہم اپنی پری کے خیالوں میں گم ہونا چاہتے ہیں۔۔اب آپ کا وقت ختم اسلئے ایسے ہی مووی دیکھیں گی۔۔

اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا تھا انہیں۔۔

ارے۔۔رکیں بس پانچ منٹ میں آئی۔۔

تھوڑی دیر میں ہی وہ آرام دا کاٹن کی شلوار سوٹ میں باہر آئی تھیں پھر دونوں نے ایک ساتھ مووی سلیکٹ کی تھی۔۔

“ہم آپکے ہیں کون؟”

یہ فیملی مووی دونوں کی ہی پسندیدہ تھی۔۔

آج کافی سالوں بعد وہ یہ فلم دیکھ رہی تھی ۔۔۔

لیکن اچانک اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے جب اس نے” پریم” کی بھابھی کو سیڑھیوں سے گرتے دیکھا تھا وہ لمحہ اسے کافی سال پہلے ہوئے حادثہ میں لے جا چکا تھا۔۔

سماہرا؟؟

کیا ہوا جانم۔۔انہوں نے جب اپنا ہاتھوں پر نمی محسوس کی تو سماہرا کو روتے دیکھا تھا۔۔

سل۔سلمان۔۔وہ میں۔۔میں ،،سیڑھیاں۔۔۔میرا بچہ۔۔۔۔

اتنا کہتے ہی ان کے کندھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔

معصومہ ریلیکس۔۔میں مووی بند کر رہا ہوں۔۔

چلیں رونا بند کریں۔ان کو لے کر بیڈ پر آئے تھے اور آرام سے لٹا چکے تھے۔۔

ان کے سر کو اپنے ہاتھوں سے ہلکا ہلکا دبانا شروع کیا تھا جس سے وہ جلد ہی نیند میں جا چکی تھیں۔