Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 6

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj

مسسز فیروز شمس ۔۔۔ سر آپ نے باہر آپ کو طلب کیا ہے۔۔۔

ملازمہ سر جھکائے مہر کو پکارتے ہوئے بولی۔۔مہرالنساء کو اس نام سے پکارنے کا حکم فیروز نے خود دیا تھا۔۔

وہ جو سر گھٹنوں میں جھکائے رو رہی تھی ملازمہ کی بات سن کر اسے فیروز پر غصہ آیا جو اسے بلا ایسا رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔

ہنہہ۔۔ میرا نام مہرالنسا میر حازم ہے۔۔۔

خبردار جو اپنے سڑے ہوئے باس کے ساتھ میرا نام جوڑنے کی کوشش کی تو۔۔۔۔

ملازمہ کو غصے سے دیکھ چیخ کر بولی تھی کہ اس کی آواز بآسانی باہر بیٹھے فیروز کو سنائی دی۔۔۔اور وہ ملازمہ کو جانےکا حکم دیتا جاہرانہ تیور لیے اس تک آیا ۔۔۔۔

کیا بکواس کی ہے تم۔۔۔

اس کے کھلے ہوئے بالوں کو اپنی مٹھی میں بھرا تھا اس نے۔۔۔۔۔

درد و خوف سے اس کی چیخ بلند ہوئی تھی جو مقابل کے اگلے عمل سے گھٹ سی گئی تھی۔۔۔

نام کیا ہے تمہارا؟؟؟

مہرالنساء۔۔۔

پورا نام بتاو اپنا۔۔

م۔۔۔۔مہرالن۔۔۔مہرالنساء ف۔۔فیروز شمس۔۔۔

اپنے بال مقابل کی گرفت میں محسوس کرتے ، اور اٹکتے ہوئے بولی۔۔جبکہ آنسوں روانی سے ان نینوں سے بہہ رہے تھے۔۔

شاباش۔۔

اب یہی نام تا حیات تمہارے ساتھ رہے گا۔۔۔ یہی مقدر ہے تمہارا۔۔۔

گرفت ڈھیلی ہوئی تھی اس کے بالوں پر۔۔۔

ہاں۔۔۔۔اور کیا کہا تھا تم نے۔۔۔

اس کو مزید اپنے قریب کیا تھا اس نے۔۔۔

کہ یہ تمہاری زندگی ہے کوئی ناول یا فلم۔۔

اوپس۔۔۔مطلب ڈراموں کا سکرپٹ نہیں۔۔۔

تو سن نے اب تمہاری زندگی بھی ایک ڈرامہ ہی بنے گی۔ جسے بنائے گا کون۔ ۔۔۔۔؟؟؟

میں ۔۔۔ مسٹر فیروز شمس۔۔۔

وہ لو دیتی نظریں اس کے چہرے پر گاڑتے ہوئے پھنکارا تھا۔۔۔

اور شاکٹ کر دیا تھا مہر کو فیروز کی اس بات نے ۔۔

چلو اب خاموش ہو جاو۔۔۔۔

اس کا سر اپنے سینے سے لگائے بؤلا۔۔۔

جبکی اس کا ہولے ہولے کانپنا وہ باخوبی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔

حازم کے گھر پہنچتے ہی روباب پریشانی سے اس تک گئی اور مہر کے غائب ہونے کی اطلاع دی جسے سن کر وہ کافی برہم ہوا ۔۔کتنے ہی وہ پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ چکا تھا اور اپنے اندرونی ذرائع بھی استعمال کر چکا مگر مہر کا پتا اب تک نہیں چلا تھا۔۔۔ اس وقت بھی وہ سر ہاتھوں میں گرائے پریشانی میں گھرا ہوا تھا۔

ضامن اگر اللّٰہ جی نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تو آپ کیا کریں گے؟

ہیرا۔۔۔۔

م۔مطلب کیسی فیلنگ آئیں گی۔۔۔

ضامن کی گھوری پہ اس نے سوال بدلہ تھا۔۔

میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گا۔۔ اگر تم جاو گی تو تمہارے ساتھ ضامن بھی جائے گا۔۔۔

ہیرا کو اپنے قریب تر کرے وہ جنونی کیفیت میں بولا تھا۔۔۔

ض۔۔ضامن م۔۔میں سچ پوچھ رہی ہوں۔۔

آپ کو پتہ کل میں نے ایک فلم دیکھی تھی اس میں جب ہیروئن مرتی ہے تو ہیرو بہت روتا ہے کیونکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے لیکن بعد میں وہ شا۔۔۔شادی کر لیتا ہے۔۔۔

وہ آنسوں بہاتے اداس سی کیفیت میں گویا ہوئی۔۔۔۔

تو؟

اس کے چہرے کو اوپر کیا تھا اس نے۔۔

تو اگر میں غلطی سے آللہ میاں کے پاس چلی بھی گئی نا تو آپ شادی کر لینا ۔۔۔۔۔کیونکہ یہ دنیا اکیلے بندے کو جینے نہیں دیتی۔۔۔

وہ بند آنکھوں کے ساتھ جانے کس احساس سے بولی لیکن ضامن کا دل مٹھی میں آیا تھا ہیرا کی اس بات سے۔۔۔

یہ تمہیں ہو کیا گیا ہے من؟؟

کیوں ایسا بول رہی ہو۔۔۔کوئی بات ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو؟؟؟

نہیں۔۔۔وہ سنہری آنکھوں میں پانی لیے نفی میں سر ہلاتے بولی۔۔۔

میں کچھ نہیں جانتی مگر جانے کیوں بہت عجیب سی فیلنگز آ رہی ہیں۔۔۔

بیچین سی کیفیت طاری تھی اس پر۔۔

کھڑی میں سے آتا ہوا کا تیز جھونکا اس کو ہوش کی دنیا میں لایا تھا۔۔۔اپنے چہرے پر کچھ نمی سی محسوس ہونے پر ہاتھ بڑھایا تھا جو کہ آنسوں تھے۔۔۔۔ ہیرا کی یادوں کے آنسوں۔۔۔

میں کبھی دوسری شادی نہیں کروں گا من۔۔۔۔

دل میں اس سے مخاطب ہوا تھا اس سے ۔۔۔۔انجان تھا وہ اس بات سے کہ بہت جلد اس کا یہ دعویٰ اسکا وعدہ جھوٹ ثابت ہونے والا ہے۔۔۔۔

می آئی کم ان سر۔۔۔؟؟؟

شیشے کے دروازے کو ناک کیا تھا اس نے اور اجازت کی طلبگار بنی کھڑی تھی وہ۔۔۔

یس کم ان۔۔۔

اس کو اندر نے کی اجازت دی تھی اس نے ۔۔۔۔

سر یہ سب کا ڈیٹا ریکارڈ کی سلپ بنائی ہے آپ چیک کیجئے پھر میں فائنل کر لوں گی۔۔۔

ضامن کے سامنے ایک فائل بڑھائی تھی جسے اس نے آگے بڑھ کر تھام لیا تھا۔۔۔

ضامن نے ایک نظر سامنے کھڑی دعا کو دیکھا جو گلابی رنگ کے سوٹ میں کوئی کھلا ہوا گلاب لگ رہی تھی۔۔اس کی بات کرنے کا انداز ، چہرے پر چھائی معصومیت کہیں دور ماضی میں لے جا چکی تھی اسے۔۔۔۔

سر میں جاوں؟؟

خود پر اس کی نظریں محسوس کیے کہا تھا اس نے۔۔۔۔

نو۔۔

فل حال بیٹھیں یہاں آپ۔۔۔

اس میں کچھ ایشوز ہیں انہیں کلئیر کریں۔۔پھر مجھے چیک کروائیں۔۔۔

اوکے سر۔ میں ٹھیک کر کے لاتی ہوں۔۔وہ اس کی نظروں سے نروس ہوتی جلدی میں بولی تھی اور فائل اٹھائے وہاں سے نکل چکی تھی جب کہ ضامن نے اس کو جاتا دیکھ سر جھٹکا تھا۔

جانم آو میں تمہیں تیار کروں گا آج۔۔۔۔

سلمان ان کا ہاتھ تھامے کھڑے ہوئے تھے جبکہ ان کی آنکھیں حیرت کی زیاتی سے کھل چکی تھیں۔۔

خدا کا خوف کھائیں۔۔سلمان کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔

مصنوعی غصے سے دیکھا تھا ان کو۔۔۔

میں تو میکپ کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ تم کیا سمجھی۔۔؟؟؟

بامشکل اپنا قہقہ روکا تھا ان نے۔۔۔

ک۔کچھ ۔ن۔۔۔۔نہیں۔

وہ یکدم سٹپٹائی تھیں اب وہ کیا بتاتی انہیں۔۔

یہ ڈریس لو اور چینج کر کے آو۔

ان کے ہاتھ میں گرین ایمبرائیڈری ڈریس پکڑائی تھی۔۔۔ اور واشروم کی طرف دھکیلا تھا سماہرا کو۔۔۔

ان کے جاتے ہی سلمان نے الماری سے خوبصورت جیولری نکال کر۔ سامنے موجود ڈریسنگ پہ رکھی تھی۔اور وہیں کھڑے ہو کر اپنی معصومہ کا انتظار کرنے لگے۔۔

تھوڑی دیر میں سماہرا اپنے ڈریس کو سنبھالتی باہر آئی تھی۔۔ سلمان کی نظر ان پہ ٹھہر سی گئی تھی۔۔ آج بھی ان میں سب کو مات دینے والا حسن باقی تھا۔۔۔ یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ سلمان کی محبت نے انہیں آج بھی جوان رکھا تھا۔۔۔۔

واو جانِ من آپ تو ہم پر بجلیاں گرا رہی ہیں۔۔۔

ہاتھوں کی مدد سے انہیں اپنے بے حد قریب کیا تھا ۔۔

جب کہ ان کی تعریف پر وہ واقعی شرمائی تھیں۔۔

جانم اٹس ناٹ فئیر۔۔۔اگر تم ایسے ہی شرماؤ گی تو کہیں ہم باہر جانے کا ارادہ منسوخ ہی نہ کر دیں۔۔

سماہرا کے جھکے سر کو دیکھ گھمبیر سی آواز میں کہا تھا ان نے اور ساتھ ہی نفیس سا ہار ان کے گلے کی زینت بناتے وہاں محبت سے اپنے لب رکھے تھے جبکہ وہ اپنی آنکھیں بند کیے ان کی محبت اور احساس کو محسوس کر رہی تھیں۔۔

سندل آج کچھ ضروری سامان لینے مارکیٹ آئی تھی کہ حادثاتی طور پر اس کا ٹکراو سامنے سے آتے راحب سے ہوا۔۔

چھپکلی تم؟؟

وہ سندل کو دیکھ پہچان چکا تھا کہ وہ وہی نمونی ہے جس نے اس کی نیو کار کا کباڑا کیا تھا تبھی حیرت سے بولا۔۔

گھر کی الجھنوں کے باعث دماغ ماوف ہوا تھا اسلئے وہ فورا اسے پہچان نہ پائی تھی لیکن جیسے ہی راحب نے اسے نمونی کے لقب سے نوازا ، پچھلی ملاقات یکدم کلک ہوئی تھی زہن پر تبھی تپ کر بولی ۔۔

ہاں میں۔۔۔!!!!! کیوں کوئی ایشو ہے کیا؟؟

کہہ کر وہ آگے بڑنے لگی تھی کہ راحب کے راستہ روکنے پہ اسے واپس پیچھے ہونا پڑا۔۔

وہ دراصل کیا ہے نا بیب .. اب تم آ ہی گئی ہو تو تھوڑی شاپنگ میں ہیلپ ہی کروا دو۔۔۔

ایک ادا سا آنکھوں پہ گلاسس لگائے تھے اس نے۔۔۔

میں نے ٹھیکا نہیں ۔لیا۔ !!

خود ہی کرو۔۔۔

نخوت سے کہتی اسے پرے دھکیلا تھا۔۔

تو لے دو۔۔

وہ بھی ڈھیٹ بنا بولا تھا۔۔

کہیں اور جا کر یہ فضول کی باتیں کرو میرے پاس وقت نہیں۔

۔میرا دماغ نہ کھاو۔۔

کیا مسئلہ ہے کیوں لڑکی کو پریشان کر رہے ہو؟؟

سائڈ پہ کھڑے کچھ لوگ ان تک آئے تھے۔۔۔

سندل کے چہرے کے زاویے دیکھ جو کہ راحب کی باتوں کا نتیجہ تھے۔۔۔

کچھ نہیں آپ لوگوں کو کیا مسئلہ ہے ، میں اپنی وائف کے ساتھ لگا ہوں۔۔

راحب کی اس بات پر سندل نے حیرت سے دیکھا تھا اس کو۔۔

کیا ہو وائفی !! کتنی دفع کہا ہے کہ پہلے لسٹ بنا لیا کرو پھر بھی ت۔۔۔

چٹاخ۔۔۔

سندل کے ہاتھوں پڑنے والے تھپڑ نے اس کی بولتی بند کروائی تھی ۔۔

کیسی بیوی، کس کی ، کون سی بیوی؟؟؟

میں کوئی بیوی نہیں تمہاری۔۔۔۔۔

پہلے بھی کہا تھا اپنی یہ فضول کی پینگیں کہیں اور جا کر جھاڑو۔۔۔

غصے سے بھپری شیرنی کی مانند دھاڑی تھی وہ۔۔۔

جبکہ راحب تو ابھی بھی حیران پریشان سا اسکو دیکھ رہا جس نے بھری مارکیٹ میں اس کا چہرا تھپڑ سے لال سرخ کر دیا تھا۔۔۔وہ بنا کچھ کہہ وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا۔۔۔

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو

و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

اُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی

جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

فیض احمد فیض

آفرین کی ماں ندا بیگم کمرے کا دروازا کھول اندر داخل ہوئی تھیں جہاں بھرے اندھیرے نے ان کا استقبال کیا تھا۔اسی اندھیرے میں آفرین اپنے بیڈ پہ بیٹھی فیض احمد فیض ذ صاحب کی غزل سن رہی تھی ۔۔ندا بیگم نے بہت افسوس سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جس کا نا جانے کیا ہو گیا تھا ۔۔ الگ ہی دنیا کی داسی بن چکی تھی وہ۔۔۔ سب سے الگ۔۔۔

آفرین بیٹا کیا ہو گیا ہے آپ کو؟؟؟

ایسے تو نہ تھی میری گڑیا وہ تو پر وقت ,ہنستی ، مسکراتی گھر میں رونق لگائے رکھتی تھی۔۔۔

کہتے ان کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں اپنی جان سے پیاری بیٹی کی اس حالت پر۔۔ جسے اپنی کوئی پروا ہی نہ تھی۔

کچھ نہیں مما بس ۔۔۔

ایک سرد آ خارج کرتی ہینڈ فری اور موبائیل کو سائد پہ رکھا تھا اس نے ۔۔

کل سے کالج اسٹارٹ ہے ، اور آپ جوائن کر رہی ہیں۔۔

آپ اور خوشی دونوں شہر میں اپنے بھائی کے پاس جا رہی ہیں ۔۔ یہ ہمارا اور آپ کے بابا کا فیصلہ ہے۔۔

وہ کہتے وہاں سے جا چکی تھیں۔۔کراچی جانے کا سوچ اس کا دل خوش ہوا تھا کہ کاش وہ اس سے مل سکے،

مگر اس چیز کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ،

کیا قسمت ملا پائے گی آفرین کو اس کے عشق اسکی محبت سے۔۔۔۔

تمہارا چہرا کیوں سوجا ہے؟؟؟

عرش نے راحب کا گال دیکھ استفسار کیا تھا۔۔

راحب کے زہن میں آج مال والا واقعہ جھلملایا تھا عرش کے سوال پر۔۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیکھا تھا بس خاموشی سے عرش کو دیکھا۔۔

مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی حسینہ کے نازک ہاتھوں نے تیرے گال رنگے ہوں۔۔اس نے گھورنے پہ وہ بمشکل اپنا قہقہ ضبط کیے بولا۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔۔

راحب سے مال والا واقعہ سننے کے بعد عرش کا بلند قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔

بکواس بند کر یار…مجھے غصہ آ رہا ہے اور تیری ہنسی بن نہیں ہورہی۔۔۔

وہ تپ ہی تو چکا تھا۔۔۔

۔۔سیریلسلی یار جب کسی اچھے گھر کی لڑکی کے ساتھ ایسا مزاق کرے گا تو وہ پھولوں کا ہار تو پہنانے سے رہی۔۔۔

عرش کی بات سے ایک سوچ اس کے زہن پر سوار ہوئی تھی۔۔۔اب وہ سوچ کیا رنگ لاتی ہے ،،،یہ وقت بتائے گا۔۔۔