Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 3
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
آج وہ پورے 20 سال بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھ رہی تھی۔۔۔ایک طویل سانس لیا تھا اس نے ۔۔۔ آس پاس کی جگہ کو محسوس کیے۔۔
آنکھوں میں ایک درد سا اٹھا تھا، اس ملک ، اس شہر کو دیکھ جس میں اس کی کئی تلخ یادیں ، وابستہ تھیں۔۔۔۔
اپنے گرد مضبوط بازوں کا حصار محسوس کیے اس نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑے سلمان کو دیکھا جنہوں اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا اسکو۔۔
وہ دونوں چلتے ہوئے کراچی ائیرپورٹ سے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔۔۔۔ معصومہ نے پورا راستہ سلمان کے کندھے پہ سر رکھے گزارا تھا ۔۔
_____________________________
ٹرن۔۔۔۔ٹرن۔۔۔۔۔۔!!!!!!
وہ جو خوابِ خرگوش کے مزے لئے سو رہی تھی فون پر ہوتی بیل اور اس میں سے چنگھاڑتی آواز سن ، اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔۔
ہیلو مس دعا۔۔۔!!!!
ہم زیڈ کرافٹ (Z_craft) کمپنی سے بات کر رہے ہیں۔۔۔
آپ کو اکاؤنٹنٹ کی جاب کے لئے اپوائنٹ کیا گیا ہے۔۔۔
مزید ڈیٹیل کے لئے پلیز آج ریسیپشن سے کونٹیکٹ کریں شکریہ۔۔۔
لڑکی نے کہتے ہی فون رکھ دیا تھا جبکہ وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی کیونکہ اس انجان ملک میں اس کو جاب کج اشد ضرورت تھی۔۔۔
وہ خدا کا شکر ادا کرتے تیار ہوئے نکل چکی تھی۔۔
_________________________
ہم بھی کیا سادہ تھےہم نےبھی سمجھ رکھاتھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
آفی۔۔۔۔۔بند کرو یار یہ اپنی غزل کو۔۔۔۔
خوشی تنگ آ کر بولی تھی جو ہر وقت شاعری اور غزلوں میں کھوئی رہتی تھی۔۔۔۔
تمہیں کیا مسلہ ہے۔۔۔؟؟
تم جانتی ہو یہ سب میرا کرش ہے۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
آفی اس دنیا سے باہر آ کر دیکھو کتنا کچھ ہے کرنے کو۔۔۔
تم نے تو اپنی الگ دنیا بنا لی ہے۔۔۔
وہ اس سے گلا کیے بولی تھی ۔۔
مجھے نہیں آنا اس دنیا میں ، میں اپنی دنیا میں خوش ہوں جہاں میں ، میرا شاعری اور میرے خوابوں کا راج کمار ہے۔۔۔
وہ خیالوں میں اس ظالم کا چہرہ سوچے مسکراتے ہوئے بولی۔۔
خوشی نے تاسف سے سر ہلایا تھا جیسے اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔
____________________
سر۔۔۔
آپ نے جن لوگوں کے بارے میں معلومات لینے کا کہا تھا ان کی تمام تر انفورمیشن اس فائل میں موجود ہیں۔۔
ہمم گڈ۔۔۔
فیروز نے اس کے ہاتھوں سے فائل لے کر کانچ کی میز پر رکھی اور ایک نظر اس فائل پر ڈالی تھی۔۔۔
ذہن میں آیک پلین ترتیب دیا تھا اس نے ، فون ملا کر کسی کو کچھ کہا ۔۔۔
ایک مسکراہٹ اس کے وجیہ چہرے پر در آئی تھی مستقبل کا سوچ کر۔۔۔
______________&________________
راحب تم مجھے یہ کہاں لے آئے ہو!!!!!
میرے پیرینٹس کو پتہ چلا نہ تو انہوں نے میرا بھرتہ بنا دینا ہے۔۔۔
عرش کلب کے عجیب و غریب ماحول کو دیکھتا منہ کے عجیب و غریب زاویے بناتا بولا تھا
۔۔
وہ امریکہ میں رہ چکا ہے لیکن آج تک اس کو ایسی جگہوں پر جانے کی اجازت نصیب نہیں ہوئی۔۔۔۔ اور اگر سلمان کو پتہ لگ جاتا کہ وہ یہاں آیا ہے تو اس کی صحیح کی کلاس لگنی تھی۔۔
کچھ نہیں ہوتا ڈوڈ۔۔۔۔
بی ایزی۔۔۔
وہ وائن کا گہرا سپ لئے بولا۔۔ ساتھ ہی عرش کو بھی آفر کی تھی اس نے جسے اس نے منہ بنا کر رد کی تھی۔۔
سوچو راحب۔۔۔اگر تمہاری ان حرکتوں کا علم بھائی کو ہو جا تو کتنا مزا آئے گا۔۔۔
تمہارے منہ میں خاک عرش۔۔۔
گھوری سے نوازا تھا اس نے عرش کو۔۔۔
For get it….
Tell me about yours consirt?
(اسے چھوڑو ۔۔۔اور اپنے کنسرٹ کے بارے میں بتاو )
کیا بتاوں۔۔۔؟؟!!
سب سیٹ ہے۔۔ کل شو ہے اور مما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او شٹ۔۔۔۔کچھ یاد آنے پر ماتھے پر ہاتھ مارے بولا تھا وہ۔۔۔
کیا ہوا؟؟
اس کی عجیب حرکتوں کو دیکھ راحب نے استفسار کیا۔۔۔
مما ۔۔ پاپا پاکستان آئے ہیں۔۔۔
اور میں یہاں تمہارے ساتھ مغز ماری کر رہا ہوں ۔
میں چلتا ہوں کل ملتے ہیں۔۔
وہ عجلت میں باہر بھاگتے ہوئے بولا۔۔
__________&______________
وہ منٹوں میں آفس پہنچی تھا جہاں دعا کو اسکی چاہا کے مطابق آکاونٹنٹس کی جاب مل چکی تھی ۔۔۔ اور آج سے ہی جوائننگ کا کہا گیا۔۔۔
وہ بے حد خوش تھی کیونکہ اس کو جاب کی اشد ضرورت تھی۔۔ وہ اس وقت شاندار آفس میں بیٹھی خدا کا شکر ادا کر رہی تھی۔۔۔
____________&&__________
ضامن مجھے نہ گھوڑے کی سواری بہت پسند ہے۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کیا؟؟؟
وہ ہیرا کے رکنے پر اچھنبے سے اسے دیکھتے بولا۔۔
لیکن مجھ ڈر لگتا ہے۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔
اس سے کیا ڈرنا ۔۔ یہ تو بہت معصوم ہوتے ہیں۔۔۔
آو تمہاری دوستی کرواتا ہوں اسے سے پھر مل کر اس پہ سیر کریں گے۔۔۔
ن۔۔ںہیں۔۔نہی۔ ضامن۔۔۔
وہ اپنی جگہ اکڑتے بولی۔۔۔
جبکہ وہ ہنستا ہوا اسے لیے گھوڑے تک آیا ، اور ہیرا کا ہاتھ پکڑے آرام سے اس پر پھیرا تھا۔۔
جب کہ وہ آنکھوں کو بند کیے ہوئے تھی۔۔۔
آنکھیں کھولو ۔۔۔من۔۔۔
وہ گھمبیر آواز میں بولے اس کی بند آنکھوں پر پھونک مارتے ہوئے بولا جس سے اس کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی۔۔۔
اس نے جھک کر ہیرا کے پھولے ہوئے گالوں پر بوسہ لیتے ہی ہلکی سی بائٹ کی تھی ۔۔جس سے اس نے مصنوعی غصے سے دیکھا تھا اس کو اور مارنے کے لئے پیچھے بھاگی تھی وہ۔۔۔
وہ دونوں قہقے لگاتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔۔
ہنستے ہنستے ضامن کی آنکھوں میں پانی جمع ہونا شروع ہو چکا تھا۔۔۔
وہ یکدم ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔آنکھوں میں پانی اس کے اب بھی موجود تھا ہنسی کی آوازیں اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔۔
ہیرا۔۔۔۔۔
باریک لبوں سے دھیمی آواز میں صرف یہ نام لیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔
