Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 2
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
بہت دکھ دیے ہیں نہ میں نے تمہیں۔۔۔
مجھے معاف کر دو سمی۔۔۔میں بہت برا ہوں ۔۔تمہیں خوشیاں نہ دے سکا ۔اور جو تمہارے پاس گنتی کی خوشی تھی وہ بھی چھین لی تم سے۔۔۔ جوانی اور دولت کے نشے نے مجھے تم سے بہت دور کر دیا ہے۔۔کیا تم مجھے معاف کرو گی۔۔۔
وہ سماہرا کی قبر پر کھڑا اس سے باتیں کرتے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ دسمبر موسم خواب پُرانے لایا ہے
جو بچھڑ کے گئے اُن کے یہ فسانے لایا ہے
ہر چیز جو سرد پڑی اب دل بھی جم سا گیا
کیوں یادوں کو ہم سے پھر یہ ملانے لایا ہے
(تنزیل اُفق)
پاپا۔۔۔چلیں۔!!
مہر کی آواز سن وہ ہوش میں آیا تھا ۔۔
کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد اس نے واپسی کی راہ لی تھی۔
پچھلے کچھ سالوں سے یہ اس کا معمول تھا وہ مہرالنسا کے ساتھ یہاں آتا تھا۔۔وہ مل کر فاتحہ پڑھتے اور اسکی قبر پر پھول چڑھایا کرتے تھے۔۔
قبر کے دوسری طرف کھڑے شخص نے بہت باریکی سے ان دونوں کا معائنہ لیا تھا اور کوئی خیال آتے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ چھائی تھی۔۔۔
جس نے خوشی ، نفرت ، تلخی سب شامل تھی۔
یا اللّٰہ ! آج انٹرویو میں پاس کروا دینا۔۔۔
وہ لفٹ میں کھڑی آس پاس سے بے خبر دعا کرنے میں مصروف تھی جبکہ لفٹ میں کھڑا لڑکا اس کو منہ میں بڑابڑاتا دیکھ کوئی پاگل گمان کر رہا تھا۔ دعا نے خود پر اس کی نظریں محسوس کیے اُس کو گھوری سے نوازا تھا ۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟
آج سے پہلے کوئی لڑکی نہیں دیکھی کیا!!!!
وہ اس کو مسلسل خود کو تکتے دیکھ تپ کر بولی ۔۔۔
دیکھیں ہیں بہت دیکھی ہے مگر تمہاری جیسی پاگل پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔
خود کو پاگل کہنے پر اس کو منہ حیرت سے کھلا تھا اس سے پہلے وہ اسکو کوئی کرارا سا جواب دیتی لفٹ کھلنے کے باعث وہ باہر جا چکا تھا۔جب کہ وہ خون کے گھونٹ بھر کے رہ گئی تھی۔
ڈیڈ۔۔۔۔۔
اس ویک ہمیں پاکستان جانا ہے وہاں میرا کنسرٹ ہے۔۔
عرش نے رات کے کھانے میں اپنے والدین کو اطلاع دیتے ہوئے کہا جس پر سلمان کے چہرے پر سنجیدگی جبکہ معصومہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا۔
عرش تم یہ بات جانتے ہو ہم پاکستان نہیں جانا چاہتا۔۔
وہ کرختگی سے بولے تھے۔۔
پر ڈیڈ۔۔۔میری پوتی ٹیم وہاں ہی ہے۔۔
تم چلے جاو پر ہم نہیں جائیں گے۔۔وہ کہتے ہی معصومہ کو اندر آنے کا بولتے وہاں سے واک آوٹ کر چکے تھے جبکہ معصومہ کا دل الجھ سا گیا تھا عرش کے چہرے پر اداسی دیکھ کر ۔۔۔
سل۔۔سلمان۔۔۔
وہ ٹیرس میں کھڑے اپنے شوہر کے پاس گئیں تھی۔۔۔
اگر تم عرش کی حمایت میں بولنے آئی ہو تو واپس چلی جاو کیونکہ میں کبھی تمہیں وہاں نہیں لے کر جاوں گا۔۔
وہ چہرا سائڈ پر کیے بولے۔۔
ہم دوسروں کی وجہ سے اپنے بیٹے کی خوشی کو نظر انداز نہیں کر سکتے سلمان۔۔۔
میں سنبھال چکی ہوں خود کو۔۔۔
وہ سب میری قسمت کا حصہ تھا جسے میں قبول کر چکی ہوں۔۔
کہتے ہیں ہر سیاہ رات کے بعد ایک حسین صبح ہوتی ہے۔۔
اور دیکھیں آللہ نے آپ کی صورت میں میری حسین صبح عطا کی ہے۔۔
ہماری ایک روشن جنت ہے جس میں آپ ،میں اور ہماری کل کائنات ہمارا عرش ہے۔۔۔۔
پلیز۔۔۔غیروں کی وجہ سے اس جنت کو خراب نہ کریں۔۔
عرش کی بات مان لیں۔۔۔
معصومہ۔۔۔۔
انہوں نے شکوہ کناں نظروں سے ان کی جانب دیکھا تھا جبکہ وہ بنا کچھ کہے اپنا سر ان کے سینے پر رکھ چکی تھیں۔۔
جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ کچھ نہیں سننا چا رہی۔۔
وہ کب سے ویٹنگ ایریا میں کھڑی اپنی نظریں سامنے کاونٹر پر رکھی ایک تصویر پر جمائے ہوئے تھی ۔ جس نے ایک کھڑی بہت خوبصورت انداذ میں بنی ہوئی تھی جس میں شائد وقت بارہ بج رہے تھے اور آدھی گھڑی کا دائے تتلی کے ٹکروں میں اڑتا اندھیرے آسمان میں گم ہو رہی تھیں۔۔۔
میم اینی ایشو۔۔۔؟؟
کاونٹر پہ کھڑی لڑکی اس کو کب سے ایسے ہی بیٹھا دیکھ کت بولی تھی ۔۔
یس میں انٹرویو کے لئے آئی تھی بٹ ابھی تک میرا نمبر نہیں آیا وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔۔
او۔۔۔آپ غلط جگہ بیٹھی ہیں انٹرویو یہاں نہیں اوپر والے فلور پر سر کے ایسیسٹنٹ لے رہے ہیں ۔۔
او۔۔مائی میسٹیک۔۔!!
وہ زبان دانتوں تلے دبا کر بولی اور جلدی سے اوپر کی راہ لی تھی اس نے۔۔
جہاں اور بھی لوگ انتظار میں بیٹھے تھے۔۔
وہ بھی خاموشی کے ساتھ ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔۔
اور کچھ ہی دیر میں اپنا نام اناونس ہونے پر اندر روم میں گئی تھی جہاں شاندار کرسی پر بیٹھے ضامن انٹرویو لے رہا تھا۔
مے آئے کم ان سر ؟
وہ ادب کا مظاہرہ کیے ہلکا سا دروازہ کھول کر بولی جبکہ سامنے کرسی پہ براجمان شخص کو دیکھ کر اس کے ہوش سلب ہوئے تھے۔۔۔۔
یس کم ان۔۔۔
وہ انجان بنتے ہوئے بولا ۔اور اس کو بیٹھنے کا کہا تھا ضامن نے جبکہ وہ جو اس انتظار میں تھی کہ وہ کوئی ریکشن کرے گا مگر اس کو اطمینان سا پاکر وہ بھی بیٹھ چکی تھی۔
ہم تو مس دعا آپ نے کیا سوچ کر ہماری کمپنی میں اپلائے کرنا چاہا۔۔۔
وہ ہاتھ میں موجود کاغذات کو ایک طرف رکھے اس سے مخاطب ہوا۔۔
سر میں نے آپکی کمپنی کا نام سنا ہے اور بہت سے ایڈ بھی دیکھے کہ یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے اسلئے مجھے خوشی ہو گی کہ میں کسی اچھی جگہ کام کروں۔۔۔
اینڈ سیکنڈ چیز آپ کی کمپنی کو اسٹاف کی نیڈ ہے اور مجھے جاب کی۔۔۔سو!!!!!!
ہہممم۔۔۔تو آپ ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کو جاب پر رکھوں گا؟؟
اس نے بھنونے اچکا کر سوال کیا۔۔۔
میں نے ایسا کب کہا سر کہ آپ مجھے ہی رکھیں گے۔۔۔۔
وہ دوبدو بولی۔۔۔
کالیفیکشن تو کافی اچھی ہے آپ کی مگر تجربہ نہیں آپ کے پاس۔۔وہ اس کا جائزہ لیے بولا۔۔۔
سوری سر بٹ جب تک نیو کمرز کو یہ کہہ کر ریجکٹ کر دیا جائے کہ ان کے پاس ایکسپیرئنس نہیں تو وہ سیکھیں گے کیسے۔۔۔ایسے کوئی تجربہ انہیں حاصل ہی نہیں ہو گا۔۔
کیونکہ تجربہ کام کرنے سے آتا ہے۔۔
سب بڑی کمپنیوں کے سو کالڈ تجربات کے نتیجے۔۔۔
کتنے لوگ بے روزگار، غربت کا شکار اور کتنے ہی نوجوان حالات سے بے بس خود کشی کر چکے ہیں۔۔۔
وہ افسوس کا اظہار لیے بولی اور سامنے بیٹھے شخص کی بولتی بند کروا چکی تھی۔۔۔
ہہہممم گڈ۔۔۔مس دعا یو آر آپوائنٹڈ ۔۔۔
آپ میری پرسنل سیکریٹری کی جاب ۔۔۔۔۔
سوری سر۔۔۔۔اس کی بات بیچ میں کاٹ کر وہ اپنی فائل پکڑے کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔۔
میں پرسنل سیکریٹری کی جاب نہیں کروں گی۔۔۔اکاونٹنٹ کی جاب کے لئے آئی تھی۔۔۔
معزرت آپ کا وقت ضائع کیا میں نے۔۔۔
ضامن کو ساکت چھوڑے وہ جا چکی تھی۔۔۔مطلب اس جاب کے لئے لڑکیاں جلدی ہی راضی ہو جایا کرتی تھیں اور وہ۔۔۔۔۔
بچھڑے ہوئے لوٹ کر آیا نہیں کرتے،
بے وفا ساتھ نبھایا نہیں کرتے،
کوئی ہم سے پوچھے عشقِ ناکامی کا حال؟
ہم بے بسی اپنی بتایا نہیں کرتے۔۔۔
(سارہٓ عروج)
حازم۔۔۔
روباب نے حازم کو ہگ کیا تھا پیچھے سے اور یکدم ہی دور ہی تھی اس سے اگر بتی اور گلاب کے پھولوں کی خوشبو محسوس کیے۔۔۔۔۔۔
آپ پھر آج وہاں گئے تھے؟؟؟
اس کا رخ وہ اپنی جانب کیے بولی تھی جو کہ ابھی بھی اپنے سابقہ کام میں مشغول تھا۔۔۔
ک۔۔کیوں ۔۔۔۔آ۔۔آپ اسے بھول نہیں جاتے۔۔۔۔اسے۔۔
حازم۔۔۔
مر چکی ہے۔۔۔وہ لوٹ کر نہیں آئے گی آپ کے وہاں جانے سے۔۔۔
خود تو جاتے ہی ہیں اور ساتھ میں مہر کو بھی لے جاتے ہیں۔۔۔
روباب۔۔۔!!!!
تم سے آج تک میں نے سوال کیا کہ کہاں جاتی ہو کیوں جاتی ہو۔۔۔!!!!!
تم اپنی مرضی کر رہی ہو ۔۔۔گزار رہی ہو نا اپنے مطابق زندگی۔۔۔
اسلئے میرے کام میں بھی دخل اندازی نہ کرو۔۔۔
پہلے اس کا حق تم نے مجھ سے چھینا۔۔۔
اس کے حصے کی محبت، شدت ، دیوانگی یہاں تک کہ اپنا آپ بھی تمہارے نام کر چکا ہوں۔۔۔
ہفتے میں ایک دفع جاتا ہوں اس بیچاری کی آخری آرامگاہ میں فاتحہ پڑھنے اس میں بھی مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔۔
مت بھولیں کہ یہ حق آپ نے خود مجھے سونپا تھا۔۔۔۔
روباب کی بات نے چپ سی لگا دی تھی اسکو صحیح تو کہہ رہی تھی وہ ۔۔۔
یہ سب اسی ہی کی وجہ سے تو ہو رہا تھا۔۔۔۔
