Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 17
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
تم شادی کر لو۔۔۔
واٹ؟؟
شائد تم بھول رہے ہو ۔۔ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں۔۔۔
فیروز کی بات سن کر ضامن کو شاک لگا تھا۔۔
تصحیح کرو۔۔شادی شدہ تھے ، ہو نہیں۔۔۔
فیروز۔۔۔!!!
یار میرا مطلب ہے کہ تم نے اس لڑکی کو اپنے گھر میں پناہ دی ، وہ بھی بنا کسی رشتے داری کے ۔۔۔
ایسے اچھی بات نہیں۔۔میری مانو تو اس لڑکی سے شادی کر لو۔۔
آخر تم بھی کب تک ایسے جیتے رہو گے؟؟
وہ اس کو غصے میں دیکھ سیدھا لائن پر آیا تھا۔۔
اور اگر یہی بات میں بولوں تو؟؟
ضامن نے بھی دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔
شٹ اپ ضامن۔۔ایک تو تمہیں سمجھا رہا ہوں اور تم الٹا مجھے ہی بولو۔۔
فیروز مجھے مت سمجھاو میں جانتا ہوں ، تم اپنی فکر کرو۔۔۔
اکھڑے ہوئے لہجے میں کہتا وہ فون بند کرنے لگا تھا کہ فیروز کی بات پر رکا تھا۔۔۔
اگر تم شادی نہیں کرنا چاہتے تو نہ کرو، پھر اس لڑکی کو جانے دو اپنے گھر سے۔۔۔
کیونکہ بنا کسی رشتے کے تم دونوں کا ایک چھت تلے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔
اور ا گر تم ایسا نہ کر سکو تو دوسرا حل صرف شادی ہے۔۔۔اور اسکی وجہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔۔۔
اور میری نظر میں تمہارے لئے دعا سے بہتر کوئی لڑکی نہیں۔۔۔
واقعی فیروز کی اس آخری بات نے ضامن کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑے، اس کو بہت کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کر دیا تھا
بہت سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچا تھا ۔
®®®™✓
سندل تم رو رو کر کیوں اپنے آپ کو ہلکان کر رہی ہو؟
بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر روتی سندل کو دیکھ وہ بولا تھا۔۔
راحب تم جانتے ہو میری مما میری آئیڈل تھیں اور ان کے بارے میں حقیقت جان کر میرا دل ۔۔۔میرا دل کھینچ سا گیا ہے۔۔
و۔۔وہ کیسے ایک عورت ہوتے ہوئے کسی اور عورت کا گھر برباد کر سکتی تھیں ۔۔
م۔۔مگر وہ ایسا کر چکی ۔۔۔اور۔۔اور ان کے کیے کی سزا میری بہن بھگت رہی ہے۔۔۔
انہوں نے کتنا ۔۔۔غ۔۔غلط کیا ہے ۔۔۔۔
ہچکیوں کی صورت میں روتی وہ اپنا دل کا بوجھ راحب پر بیان کر گئی تھی ۔۔۔
اس نے سندل کو اپنے بازو کے حلقے میں لیا اور اس کی کمر سہلانے لگا۔۔۔
بس ہش۔۔۔چپ ہو جاو۔۔۔سندل
یوں اپنے آنسوں کو بے مول نہ کرو۔۔۔
ر۔۔۔راحب تم ن۔۔نہیں جانتے میں “مما کی اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہی ہوں۔۔
جانتے ہو،”جب آپ کو کسی اپنے سے ایسی امید نہ ہو ، اور وہی کوئی ایسی حرکت کر گزرے جس کی آپ کو توقع نہ ہو ، تو دل پر بہت گہری ضرب لگتی ہے۔۔۔۔۔
غم زدہ لہجے میں وہ بہت گہری بات کہہ گئی۔۔
®®®™✓
ہیرا آج اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا قدم اٹھانے جا رہا ہوں ، تمہارے بعد۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا وہ ہیرا سے خیالوں میں باتیں کر رہا تھا جبکہ ساتھ والی سیٹ میں بیٹھی دعا اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ، وہ سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
دعا۔۔۔کیا دیکھ رہی ہیں؟
اس کو مسلسل باہر نظریں جمائے دیکھ بولا تھا۔۔۔
“دیکھ رہی ہوں سر ،کہ”یہ دنیا کتنی مطلبی ہے ۔”ہر کسی کو اپنی پرواہ ہے ، کسی دوسرے کا احساس نہیں۔’یہاں ہر کوئی اپنے کام کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔۔۔”
گاڑی کو یو ٹرن دیتے ضامن نے کندھے اچکائے تھے۔۔۔
کیسے؟؟؟؟
وہ دیکھیں سر،”وہاں سامنے وہ ایمبولینس میں مریضہ لیٹی ہیں، لیکن کسی کو اس کی پرواہ نہیں، اس کو راستہ دینے کے بجائے ہر کوئی اپنے کام اور وقت کو دیکھ رہا ہے۔۔۔۔
اسکی بات پر ضامن نے ایک نظر باہر دیکھا تھا جہاں اب وہ ایمبولینس پیچھے کی جانب نکل رہی تھی۔۔۔۔
جہاں دنیا سائنس میں ترقی کر رہی ہے ، وہیں لوگوں کے دل بھی مشینوں کی مانند ہوتے جا رہے ہیں۔۔ان میں سے احساس ، محبتیں، چاہتیں سب ختم ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔
لیکن ہزاروں ، لاکھوں میں سے کوئی چند لوگ ہوتے ہیں ، جو اس خوش قسمت جذبات کی ضد میں آ جاتے ہیں۔۔۔
گاڑی کو ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکتے ضامن نے کہا تھا اور باہر نکل کر گاڑی کا دروازا کھولا جبکہ دعا اپنے سر کی اس عنایت پر عش عش کر اٹھی تھی۔۔۔
وہ دونوں چلتے ہوئے اندر ریسٹورنٹ میں آئے جہاں ان کی مانند بہت سے لوگ اپنی ہی دنیا میں مگن تھے۔۔
وہ امریکا تھا۔۔۔
ایک ودیش ملک۔۔۔
جہاں کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔
سب کی اپنی ہی ایک الگ دنیا تھی۔۔۔۔۔
مس دعا آپ جانتی ہیں میں آپ کو یہاں کیوں لایا ہوں۔۔۔
جی۔۔کوئی بات کرنی تھی آپ نے۔۔۔
اپنے موبائل فون کو بیگ میں رکھتے اس نے سرسری سا جواب دیا تھا۔۔۔
ہمم۔۔۔کیا آپ وہ بات جانتی ہیں؟؟
اپنے چشموں کو فولڈ کرتے ٹیبل پر رکھا تھا ضامن نے ساتھ ایک بھرپور ںظر اس نے چہرے پر ڈالی۔۔۔
نو سر۔۔اگر میں بات جانتی ہوتی ، تو کبھی یہاں آکر اپنا آور آپ کا ضائع نہ کرواتی۔۔۔
نارمل انداز میں کہا تھا اس نے جبکہ ضامن کو وہ ایک طنز ہی لگا تھا۔۔۔
مس دعا ! اب تک میں آپ کا بوس تھا اور اب میں چاہتا ہوں کہ یہ اختیار میں آپ کو دے دوں ، !!!
واٹ۔۔۔۔
اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئی تھی وہ اور سب نے نظریں گھوما کر اس کو یوں شاک ہوتے دیکھا تھا۔۔۔
دعا بیٹھ جائیں۔۔۔
وہ لوگوں کی حیرانی کو نظر انداز کیے اس کو بیٹھنے کا کہہ گیا تھا۔۔۔
سر آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔
اف۔۔بیوقوف تو آپ لگتی نہیں۔۔خیر بتاتا ہوں۔۔۔
میں۔۔یعنی ضامن آپ سے یعنی دعا سے شادی کرنے کا خواہشمند ہوں ،کیا آپ یہ قبول فرمائیں گی۔۔؟؟؟
ہاتھوں کو آگے کیے۔۔۔اس نے انگوٹھی پیش کی تھی جبکہ دعا حیرت کے مارے واپس کھڑی ہو گئی تھی جبکہ اب سب کی دبی دبی ہنسی گونجی تھی وہیں پورے ایریا میں۔۔۔۔
مس دعا ۔۔یہ آپ بار بار ہر بات پر کھڑی کیوں ہو جا تی ہیں۔۔۔
بیٹھ کر بات نہیں کر سکتیں۔۔۔
ا۔۔ائم سوری سر۔۔۔بٹ یہاں میں اپنی تعلیم مکمل کرنے آئی تھی۔۔گھر آباد کرنے نہیں۔۔۔
وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
جہاں تک مجھے پتہ ہے آپ اپنی تعلیم مکمل کر چکی ہیں۔۔
جی سر تعلیم تو مکمل ہو چکی ہے، مجبوری کے تحت جاب کی آپ کے آفس میں۔۔۔مجبوری کے تحت رہنا پڑا آپ کے گھر میں لیکن میں نے رینٹ ادا کرتی رہی تھی آپ کو۔۔۔
لیکن مجھے کیا اندازا تھا کہ میرا آپ کے گھر رہنا ٹھیک ثابت نہ ہو گا۔۔۔
میں آج ہی چلی جاؤں گی سر۔۔
بیگ پہنے وہ باہر کی جانب بڑھ گئی تھی جبکہ اس کے پیچھے ضامن گیا تھا۔۔۔
کیا ہم سکون سے بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے؟؟
نوسر۔۔
دعا کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتیں ؟؟
ضامن کے سوال پر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔
وہ ہاتھ تھامے اس کو گاڑی میں لے آیا تھا۔۔۔
“میں ایک پٹھان چوہدری فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، ہمارے گاؤں میں عورتوں کی تعلیم پر بہت پابندی ہے،وہاں کے مرد عورتوں کو پاؤں کی جوتی کا سا مقام دیتے ہیں۔۔ان کو کوئی نوکرانی کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔۔
چھوٹی سی عمر میں ہی ان کی شادی کر دی جاتی تھی۔۔
وہاں جب بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو سوگ منایا جاتا ہے سر اور بیٹوں کی پیدائش پر جشن۔۔۔
وہ تلخ سا ہنسی تھی۔۔۔
اور یہ سب چیزیں مجھے بہت غصہ دلاتی تھیں ، جب اپنی ماں کو اپنے باپ سے بے عزت ہوتے دیکھا کرتی تھی۔۔
آخر تھی تو پٹھانوں کا ہی خون نا۔۔۔
غصہ تو ان ہی مانند ہو گا۔۔۔
مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا میں نے ضد کر کے میٹرک کیا اور مزید تعلیم کی خواہش بابا کے سامنے رکھی تو انہوں نے مجھے بہت ذلیل کیا تھا۔
ان کی نظروں میں لڑکی زات کو تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔
جبکہ میری نظر میں عورتوں کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کی۔۔
کیونکہ مرد دن بھر باہر رہتا ہے اور عورت گھر میں بچوں کے پاس ۔۔۔
وہ اپنے بچوں کو سلیقہ سیکھاتی ہے ، دنیا اور جہان کی اونچ نیچ سیکھاتی ہے۔۔
اور اس سب کے لئے اس کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔۔۔
اس لئے صرف اپنی اماں جان کو بتائے میں یہاں اس ملک میں آ گئی مجھے یہاں بھیجنے میں میری دوست اور ماں جان کا ہاتھ ہے۔۔۔
میں یہاں سے تعلیم حاصل کر کے جاوں گی اور گاؤں کی اس روایت کو سرے سے ختم کروں گی۔۔عورتوں کو ان کے حقوق دلاوں گی۔۔
وہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہوئی تھی اور اپنی گردن پیچھے سیٹ پر گرادی۔۔
میرا وعدہ ہے دعا آپ کے اس خواب کو میں پورا کروں گا۔۔۔
کہتے ہی اس نے دعا کی مخملیں انگلی میں خوبصورت انگوٹھی پہنائی تھی جبکہ وہ خاموشی سے ضامن کو دیکھ رہی تھی۔۔
آئے پرومس آپ ہر قدم پر مجھے اپنے ساتھ پائیں گیں۔۔
ماتھے پر عقیدت بھرا لمس چھوڑا تھا اور گاڑی اسٹارٹ کیے گھر کی جانب موڑی تھی۔۔
جہاں اس کے گارڈز نے نکاح کا انتظام پہلے سے کیے رکھا تھا۔۔
دعا نے ایک نظر دعا کو دیکھا تھا جہاں کوئی شکوہ نہیں تھا ، صرف اطمینان تھا جسے دیکھ وہ خوش ہو گیا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر میں ان دونوں کا نکاح طے پایا تھا دعا ، اپنا سر نیم بدل چکی تھی۔
اب وہ دعا ضامن بن چکی تھی ۔۔
ان کے نکاح میں دعا کی ماں نے وڈیو کال کے زریعے شرکت کی تھی ۔اپنی بیٹی کا نکاح یوں دیکھیں گی انہوں نے سوچا نہ تھا مگر وہ مجبور تھیں۔۔
انہوں نے بہت ڈھیر ساری دعاؤں کے تحفے ان کو دیے تھے۔
زندگی بھر ساتھ رہنے کی دعائیں ان کے نام کی تھیں۔۔۔
ضامن بھی خوش ہو چکا تھا۔۔۔دعا کو اپنی زندگی میں لا کر آج کافی عرصے بعد اس کے چہرے پر خوشی کی رمک دیکھائی دی تھی۔۔۔
®®®™✓
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔
م۔۔مما آ۔۔آپ اچھا نہیں کر رہیں ۔۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ش۔۔شادی کر چکے ہیں آپ مجھے ان کے پ۔۔پاس بھیج رہی ہیں۔۔۔
دلہن کے لباس میں ملبوس مہرالنسا نے شکوہ کیا تھا سماہرا سے۔۔۔
کیا اگر میری جگہ آپ کی اپنی بیٹی ہوتی ، یا آپ خود اس جگہ پر ہوتیں تو تب بھی آپ کا جواب یہی ہوتا؟؟؟
مہر ! تم میرے لئے میری بیٹیوں سے بڑھ کر ہو۔۔۔اور یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے میں نے۔۔ ،سماہرا نے کہتے ساتھ مالا اٹھائی تھی مہر کے گلے میں پہنانے کے لئے ، لیکن ان کے ہاتھ بھی ساکت ہو گئے تھے جب مہر کی گردن پر ہو بہو اپنے جیسا وہ چاند کا نشان دیکھ تھا۔۔۔۔
م۔۔۔مہر بیٹا۔۔۔۔
ادھر دیکھو۔۔۔ت۔۔تم کس کی بیٹی ہو؟؟؟
مطلب ۔۔۔۔
ت۔تمہارے پ۔۔پاپا کا نام ؟؟
انہوں نے اس کا چہرا اپنی جانب کیا تھا۔۔
م۔۔میر حازم۔۔۔
کہتے ہی وہ سماہرا کا ریکشن دیکھنے لگی تھی جس کے ہاتھوں سے مالا گرتے گرتے بچی تھی،۔۔
کیا ہوا ۔۔میرے پاپا کا نام سن کر آپ اتنی شاکڈ کیوں ہوئی ہیں؟
کیا آپ انہیں جانتی ہیں؟؟
مہرالنسا جانچتی ہوئی نظروں سے سماہرا کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہی تھیں۔۔
لیکن دوبارا وہ کچھ بولی نہیں تھیں۔۔
بس اس کو ساتھ لئے ہال کی طرف روانہ ہو گئیں۔۔
خاموشی کے ساتھ۔۔۔ا
®®®™✓
لال رنگ کے دلہن کے لہنگے میں ملبوس آفرین کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی اوپر سے عرش کی محبتوں کے رنگ نے اسے مزید دلکش بنایا تھا۔۔۔
اس کے چہرے پر شادی کی خوشی اور گھبراہٹ دونوں واضح ہو رہی تھیں۔۔
جبکہ دوسری جانب بیٹھی مہرالنسا اکتاہٹ کا شکار نظر آ رہی تھی ، اس نے ایک نظر فیروز پر ڈالی جو کہ رومان کو گود میں اٹھائے اسی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جبکہ خوشی ، سماہرا لوگوں کے ساتھ مل کر آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کر رہے تھے۔۔۔
مہر النساء اسٹیج پر بیٹھی اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جن میں بہت گہرا رنگ آیا تھا لیکِن پھر بھی وہ خوش نہ تھی۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا ہی تھا کہ خوشی اور حیرانی کے باعث وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی تھی کیونکہ سامنے ہی سندل کھڑی راحب سے باتوں میں مصروف تھی ، ۔۔۔وہ بنا آس پاس کے لوگوں کی پرواہ کیے اپنا لہنگا سنبھالتے بھاگتے وہ سندل کے گلے لگی تھی بنا اس کو کچھ سمجھنے کا موقع دیا۔۔
ہال میں موجود سب لوگ اس کو شاک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
آ۔۔۔آپ۔۔۔آپی۔۔۔۔۔
سندل بھی حیران رہ گئی تھی جب مہرالنسا کی آواز کان کے پردوں سے ٹکرائی۔۔۔
م۔۔مہر؟؟
ک۔۔کیسی ہو ؟
اس کے دلہن بنے سراپے پر ایک نظر ڈالے بولی تھی۔۔۔
آنسوں دونوں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔
کتنے سالوں بعد دیکھ رہی تھیں دونوں ایج دوسرے کو۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔مما پاپا کیسے ہیں؟ آپ کیسے ہو؟؟
م۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔اور ماما پاپا بھی ٹھیک ییں۔۔
ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیے وہ مسکرا کر بولی تھی۔۔۔
اور یہ کون ہیں؟؟
ایک نظر راحب کو دیکھتے اس نے سندل کو دیکھا تھا۔۔
یہ جیجا ہیں تمہارے۔۔۔
راحب کے ہاتھوں جو تھانے اس نے تعارف کروایا تھا۔۔۔
آ۔۔آپ نے شادی کر لی؟
اب کے مہر کی آنکھیں مزید کھل گئی تھیں۔۔
ہاں میری ماں۔۔میں نے شادی کر لی ہے ، ویسے بھی تم نے تو کر ہی لی تھی میں بچی تھی تو میں نے بھی کر لی۔۔
اب اسٹیج پر بیٹھ جاو ورنہ نمونی دلہن کہلاؤ گی۔۔
آنسوں صاف کرتے اس کو اسٹیج پر واپس لا بیٹھایا تھا اس نے۔۔
ہال میں اچانک لائٹ بند ہوئی تھی، پھر سب کی نظریں وہاں منجمد ہوئی تھی جب اسپاٹ لائٹ اون ہوتے ہی عرش نے ہلکے میوزک میں اپنی سریلی آواز کا جادو دیکھایا تھا۔۔۔
وہ اپنی جانِ حیات پر نظریں مرکوز کیے گانے کے سریلے بول بول رہا تھا۔۔۔
جب کہ سب کے چہروں پر ایک مسکراہٹ تھی۔۔۔۔اس کی اس حرکت پر۔۔۔۔۔
سانسوں کی وہ ہلچل
وہ مہکتا آنچل۔۔۔
بانہوں کے وہ گھیرے
زلف کا وہ بادل۔۔
ہم کو بڑا ہی کرے بے کرار۔۔
وہ پیار پیار پیار۔۔۔۔
آفرین نے اپنی نشیلی آنکھیں اٹھائیں تھی لیکن عرش کے لہجے کا خمار ، اس کی آواز کے سحر محبت کے بوجھل لہجے نے نظریں دوبارا جھکانے ہر مجبور کر دیا تھا اسکو ۔۔۔۔۔
وہ تیرا شرمانہ
وہ نظر کا جھکنا
جاتے جاتے تیرا وہ اچانک مڑنا۔۔
ہم کو بڑا ہی کرے بے کرار۔۔۔
وہ پیار پیار پیار۔۔۔۔
اب عرش سے مائک فیروز نے تھاما تھا اور مہرالنسا کو اپنی نظروں کی ضد میں لئے گانے کا آخری بول گا رہا تھا۔۔۔
وہ لڑائی جھگڑے
بعد میں پچھتانا
روٹھ کے وہ جانا
لوٹ کے پھر آنا
ہمکو بڑا ہی کرے بے کرار وہ پیار پیار پیار ۔۔۔۔۔۔۔
مہر نے فیروز کے پاس جانے کے لئے قدم اٹھائے ہی تھے کہ وہ قدم واپس پیچھے کی جانب لینا شروع ہو گئی تھی جب رومان بھی اسٹیج پر کھڑے فیروز کے پاس گیا تھا۔۔۔۔
مہر کو واپس وہیں بیٹھتا دیکھ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے مائک واپس عرش کو تھما دیا تھا اور خود وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر فنکشن چلنے کے بعد رخصتی کا ماحول بنا تھا۔۔۔
جس میں مہر کو عرش ، سماہرا سلمان نے رخصت کیا تھا جبکہ آفرین کو رخصت فیروز نے کیا۔۔۔۔۔
®®®™✓
آج وہ اسی روم میں موجود تھی جہاں کچھ سال پہلے وہ زبردستی کے رشتے میں باندھ کر یہاں لائی گئی تھی لیکن آج وہ پورے اہتمامِ کے ساتھ یہاں موجود تھی ۔۔۔
اسی شخص کی سیج سجائے جو پہلے تو اس سے نفرت کا دعوے دار تھا۔۔۔
پرانے تمام واقعات اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے۔۔۔
اس کا یہاں لایا جانا۔۔
اسکی حیثیت۔۔۔۔
فیروز کا رویہ۔۔۔
پھر اچانک فیروز کی پھوپھو کا راز۔۔۔۔
اور اس کا یہاں سے جانا۔۔۔
پھر لوٹ کر آنا۔۔۔
اور آخر اس ستمگر کا دوسرا بیاہ۔۔۔۔۔
سب سوچتے آنکھوں میں جھلمل پانی سا تیرا تھا۔۔۔
کمرے میں آہٹ کی آواز پر پیچھے موڑ کر دیکھا تھا جہاں فیروز شمس آنکھوں میں محبت کا جہاں لیے چہرے پر مسکان سجائے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
یہاں کیا کر رہے ہیں آپ؟؟
جائیں یہاں سے۔۔۔
اپنی بیوی کے پاس ۔۔
وہ دلہن کے لباس میں ملبوس تمام حشر سامانی سمیت ، سامنے کھڑے فیروز شمس سے روتے ہوئے بولی تھی۔۔
بیوی کے پاس ہی ہوں۔۔۔
اس کی ہوش ربا سراپے ہر نظریں ٹکائے دیکھ کر بولا
اپنی د۔۔۔دوسری ب۔۔بیوی کے پاس۔۔۔
بمشکل حلق تر کیے وہ بولی تھی۔۔۔
ان کے پاس بھی چلا جاوں گا لیکن پہلا حق تو تمہارا ہے نا۔۔
آخر کو پہلی بیوی کے عہدے پر جو فائز ہو۔۔۔
محبت سے اس کو خود کی جانب کھینچے دھیمے لہجے میں بولا تھا۔۔۔
نہیں ، مجھے نہیں بات کرنی جائیں یہاں سے آپ۔۔۔
آ۔۔آپ بہت برے ہیں۔۔۔
میں نے آپ سے دور ہو کر بھی آپ سے پیار کیا۔۔۔
چا کر بھی نفرت نہ کر سکی۔۔۔
لیکن آپ نے۔۔۔آپ نے دوسری شادی کر لی۔۔۔
میرا انتظار بھی نہ کیا۔۔۔۔
ہاں میں نے کی ہی دوسری شادی۔۔
یہ تم ہی نے تو کہا تھا کہ میں کر سکتا ہوں۔۔
کب سے گلے میں اٹکے آنسوں بہہ نکلے تھے اس ستمگر کی بات پر۔۔۔
آپ کے سینے میں زرہ سا بھی دل نہیں ہے نا؟؟
ہمیشہ مجھے درد ہی دیا ہے۔۔
کبھی خوش نہیں کیا۔۔۔
آپ موقع تو دے کر دیکھیں، یہ خواہش بھی ہم پوری کر گزریں گے۔۔۔
وہ جان لٹاتی نظروں سے اسے دیکھے شوخ لہجے میں بولا تھا۔۔۔
م۔۔مجھے آ۔۔آپ سے بات نہیں کرنی آپ ۔۔۔آپ جائیں اپنی بیوی اور بیٹے کے پاس۔۔۔
نروٹھے پن سے کہتی وہ مقابل کو بہت پیاری لگی تھی۔۔کہ بے ساختہ وہ اس کے دلنشین چہرے پر پیار کر گیا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ اپنے لال سرخ چہرے کو لئے تھوڑا پیچھے کھسکی تھی۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔مہر تم بھی نا۔۔۔۔
ہنستے ہوئے وہ اس کو گھماتے ہوئے اپنی جانب کیا تھا۔۔۔
وہ میری بیوی نہیں۔۔۔اور نا ہی رومان میرا بیٹا ہے ۔۔۔۔ہاں بیٹے جیسا ضرور ہے مگر بیٹا نہیں۔۔۔۔
اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے فیروز ہی بات پر۔۔۔۔
ی۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟
بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔۔دلّ جانم۔۔۔
آج سے کچھ سال پہلے اس اندھیرے میں جب تم مجھے تنہاہ چھوڑ گئی تھی میں نے تمہیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ، یہاں تک کے تمہارے باپ کے گھر بھی گیا لیکن ناکارہ۔۔۔۔۔۔
میں نے خود کو بس اپنے کام تک محدود کر لیا تھا ،خود کو اپنے گھر والوں سے بھی دستبردار کر گیا تھا میں۔۔
کب آفرین اور خوشی نے تعلیم مکمل کی اندازہ ہی نہ ہوا۔۔۔
بابا نے ان دونوں کو گاؤں واپس بلا لیا۔۔۔
وہاں اپنے دوست کے بیٹے سمیر سے خوشی کی شادی کروا دی ۔۔۔۔
خوشی میری منگیتر تھی ، وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر میں تم سے نکاح کر چکا تھا۔۔۔اور دوسری شادی کا ظلم میں کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
میں ایک وقت میں ایک ہی کا بن کر رہنا چاہتا ہوں۔۔۔
مہر کے ہاتھوں کو اپنے سینے سے لگایا تھا اس نے۔۔۔
سمیر ایک آرمی فارس آفیسر تھا۔۔اور تم جانتی ہو آرمی نوجوانوں کی زندگیاں وطن کے نام ہوتی ہیں۔۔سمیر بھی اپنے وطن سے محبت کرنے والا ہی تھا۔۔
جس نے ہر چیز میں پہل وطن اور اسکی عزت کو رکھا تھا۔۔۔
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا، جب رومان کی پیدائش ہونے والی تھی وہ دونوں ہسپتال میں تھے۔۔۔لیکن سمیر کو ارجینٹ کال آنے کے باعث واپس ڈیوٹی پر جانا پڑا تھا۔۔وہ خوشی کو انتظار کرنے کا کہہ جا چکا تھا کبھی نہ لوٹ کر آنے کے لے۔۔۔
شائد خوشی کی زندگی میں خوشی نہ تھی۔۔۔
وہ انتظار کرتی رہی سمیر نہ آیا۔۔کیونکہ وہ شہید ہو چکا تھا۔۔۔۔
خوشی بہت چپ چپ رہنے لگی تھی۔۔
مما بابا نے ہم دونوں بہن بھائیوں سے بڑھ کر خوشی کو پیار دیا اور اس کی یہ حالت دونوں کے لئے کسی کرب سے کم نہ تھی۔۔۔
بابا کو خوشی کے دکھ نے مزید نڈھال کر دیا تھا وہ زیادہ دن حیات نہ رہ سکے اور اس گورِ فانی سے کوچ کر گئے۔۔اور مما ویسے ہی آدھے فالج میں تھیں۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے وہ بھی ہمیں چھوڑ گئی تھیں۔۔۔
خوشی ، رومان اور آفرین ہمیشہ کے لئے یہاں شہر آ گئے تھے میرے پاس۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ مسکرا کر بولا تھا۔۔۔
اور جانتی ہو؟
رومان نے جب بولنا شروع کیا تو اس نے پہلا لفظ پاپا بولا تھا۔۔۔
وہ اپنی ماں کے بجائے زیادہ وقت میرے ساتھ گزارا کرتا تھا۔۔۔اس ننھی جان نے میرے ازیت بھرے لمحوں کو خوبصورت بنایا تھا۔۔۔۔
وہ باپ کی کمی محسوس نہ کرے اسلئے ہم نے اسے بتایا نہیں۔۔۔
اسلئے میں چاہوں گا کہ تم بھی اسکو ایک اچھی ماں دوست کی طرح ٹریٹ کرو۔۔۔۔
اس میں کوئی مسئلہ نہیں فیروز۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔۔
جب وہ بڑا ہو گا تو وہ سمجھ جائے گا حقیقت؟؟؟
ہمم شائد۔۔۔۔
اچھا یہ بتاو ،”اگر میں کہوں ، روباب تمہاری سگی ماں نہیں بلکہ سماہرا ہیں ،”
تو تمہارا ریکشن کیا ہو گا؟
وہ نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کیے بولا
ایسا کیسے ممکن ہے ؟
ممکن ہے ، مہرالنسا۔۔۔
یہ حقیقت ہے۔”تمہاری سگی والدہ سماہرا میری پھوپھو ہیں۔”
یہ جو تمہاری گردن پے “چاند” کا نشان ہے ، یہ ہماری خاندانی پہچان ہے۔۔۔
مطلب؟؟؟
وہ کنفیوژ سی بولی تھی۔۔۔۔
مطلب یہ کہ ،”سیم ایسا مارک پھوپھو کی گردن پر بھی ہے ۔”
ک۔۔کیا آپ مزاق کر رہے ہیں؟؟
نہیں میں مزاق نہیں کر رہا ،یہ سچ ہے۔۔۔۔
جب تمہاری پیدائش ہوئی تھی تو تمہارے باپ نے ، تمہیں مردہ ثابت کر کے اپنی محبوبہ یعنی تمہاری دوسری ماں روباب کو تمہیں سونپ دیا۔۔اس کی خواہش کے مطابق۔۔۔۔۔
اور اس حصے کا غم بھی میری پھوپھو اور تمہاری ماں کے حصے میں آیا۔۔۔۔
ضبط سے کہتے وہ اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ؟؟؟وہ بے یقینی سے بولی تھی۔۔۔
معلومات۔۔۔۔معلومات بھی کوئی چیز ہوتی ہے ،جو کہ میں نے نکلوائی تھیں۔۔
آنکھ ونک کیے وہ محبت سے اسکو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیا تھا اور بنا سمجھنے کا موقع دیے اپنی محبت کی بارشیں اس پر نچھاور کرنے لگا۔۔
®®™™✓
عرش پھولوں سے مہکتے ہوئے کمرے میں آیا تو آفرین کو کھڑکی کی سائڈ پر نیچے نماز پڑھتے پایا تھا۔، اس دلکش خواب ناک ماحول میں وہ کوئی حور معلوم ہو رہی تھی اپنے اس عمل سے۔۔۔
چہرا وہ پورا اپنا میکاپ سے پاک کر چکی تھی لیکن پھر بھی اس کی محبت کی محبت کی چمک ، خدا کا نور ، عرش کو پاہ لینے کا احساس وہ سب احساسات اس کے چہرے پر بیک وقت نمایاں ہو رہے تھے جو کہ اس کے قدرتی حسن کو مزید نکھار رہے تھے۔۔۔
وہ بیڈ پر کونیوں کے بل لیٹتا اس کو دیکھنے میں محو تھا۔۔۔۔
دعا سے فارغ ہونے کے بعد آفرین نے مسکرا کر عرش کو دیکھا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں.؛ کہ میں آپ کا انتظار کرنے کے بجائے یہاں دعا کر رہی ہوں؟
اس کی آنکھوں میں ابھرتے سوال کو پڑھتے ہوئے بولی تھی اور ساتھ جائے نماز لپیٹ کر سائڈ پر رکھی۔۔
نہیں۔۔ میں تو یہ دیکھ رہا ہوں ، آج سے پہلی ایسی حسین دلہن کہیں نہیں دیکھی ، جس نے پہلی اہمیت حقیقِ الٰہی کو دی ، جو کہ دلہن ہے لیکن بغیر کسی آرائش کے اتنے نور سے بھرپور۔۔۔
میں بہت قسمت والا
ہوں آفرین جسے تمہارا ساتھ نصیب ہوا ہے۔۔۔
اس کے ہاتھوں کو تھامے اپنے پہلو میں بیٹھایا تھا۔۔۔۔
جس رب سے روزانہ آپ کو ہر نماز ، تہجّد میں مانگا ہے ، کیا اس کا اتنا حق بھی نہیں کہ میں ان قیمتی لمحات جو اس نے ہمیں نصیب کیے ، ان میں سے کچھ وقت اس کی شکر گزاری کے کئے وقف کر دوں۔۔۔
محبت سے عرش کی آنکھوں میں دیکھتے اپنے وہی دھیمے لہجے میں بولی تھی جسکا عرش سلمان دیوانہ تھا۔۔۔
میری زندگی کی دعا ہو تم۔۔۔
انمول تحفہ ہو جو خدا نے دیا ہے مجھے۔۔۔
میری کسی انجان نیکی کے سلے میں۔۔۔۔
آنکھوں میں پیار کا جہان لیے، لہجے میں خمار ، آواز نے عشق کا راگ لئے۔۔۔وہ آفرین سے گویا ہوا اور ساتھ ہی اپنی محبت اور عشق کی پہلی مہر اس کی پیشانی ثبت کی۔۔۔
میری محبت ،میرا عشق، میری دیوانگی ہو تم۔۔۔۔۔۔
اس دل کی دلربا ، ملکہ آفرین ہو تم۔۔۔۔
آفرین کو اپنی محبت کی بارش میں بھگوئے ، اسکو شرمانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
دو دل ، دو جانیں جن کی عشق کی نہ ابتدا تو تھی لیکن انتہاہ نہ تھی۔۔۔
ملا چکی تھی قسمت انہیں، باندھ چکی تھی ان کو ایک مضبوط محرم کے رشتے میں۔۔۔۔
®®®™✓
شادی سے آنے کے بعد سلمان سونے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ سماہرا کسی گہری سوچ میں محو تھیں۔۔
کیا ہوا معصومہ اتنی اداس کیوں ہو؟
بیڈ سے ٹیک لگائے وہ ان کی جانب دیکھتے بولے تھے۔۔۔
مہرالنسا میری بیٹی ہے سلمان۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔۔
سماہرا نے فوراً ان کی جانب دیکھا ۔۔۔
ارے بیگم آپ نے دل سے اسے اپنی بیٹی مانس ہے،:آج دیکھ بھی لیا ہے۔۔۔
نہیں سلمان ،”آپ میری بات نہیں سمجھے وہ میری حقیقی بیٹی ہے ،”
اب حیرتوں کی دنیا میں جانے کے باری سلمان کی تھی۔۔۔۔
پر کیسے۔۔۔۔
وہ بات مکمل نہ کر پائے تھے ، خاموش ہونا پڑا تھا انہیں جب باہر سے کوئی شور سنائی دیا تھا وہ دونوں ہی باہر گئے تھے اور دنگ رہ گئے تھے جب باہر کھڑی ہستی کو کھڑے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
