Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 16

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj

تنہائیوں کے درد سے وہ خوب واقف تھا فراز،

پھر بھی دنیا میں مجھے تنہا بنایا اس نے۔

دعا پریشانی سی لان میں بیٹھی اپنے خیالوں میں گم تھی ، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ضامن کے ساتھ فلیٹ پر گئی تھی مگر اونر نے اسی وقت دعا کو فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔

آپ مجھے تھوڑا سا ٹائم مزید دے دیں ، میں اس وقت کہاں جاؤنگی؟

پریشانی سے کہتی وہ اپنے سامان کو دیکھنے لگی تھی جو کہ کسی کوڑے کی ماند دروازے پہ رکھا گیا تھا۔۔

یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ہم بہت ٹائم دے چکے ہیں اب آپ جائیے۔کل یہاں نیو فیملی نے آنا ہے۔۔

تقریباً ایک مہینہ پہلے ہی اونر نے اس کو خالی کرنے کا کہہ دیا تھا مگر ابھی تک اسے کوئی نیا فلیٹ یا گھر رہائش کے لئے نہیں مل پایا تھا۔

فکر مند سی وہ اپنا سامان اٹھائے واپس باہر آئی تھی جہاں ضامن ابھی تک گاڑی میں بیٹھا فون استعمال کر رہا تھا۔

کیا ہوا؟

اسکو واپس آتا دیکھ ضامن نے حیرت سے پوچھا تھا۔

جس پر وہ تمام روادار اس کے گوشے گوار گزار چکی تھی

او۔۔۔اب کیا کرنا ہے؟

جانچتی نظروں سے اسکے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔۔

و۔۔وہ آپ مجھے فل الحال کسی ہوٹل میں چھوڑ دیں۔۔انگلیاں چٹخاتے وہ نظریں جھکائے بولی تھی۔

ہممم۔۔

کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلایا تھا، پچس منٹ کی مسافت کے بعد جیسے ہی گاڑی ضامن کے گھر کے پاس رکی تھی دعا نے حیرانی سے دیکھا تھا اسے۔۔

سر۔۔یہ ۔۔۔

شٹ اپ مس دعا ، بحس نہیں اندر آئیں بس۔۔

روانی سے کہتا وہ اندر چلے گیا اور سامان لے جا کر گیسٹ روم میں رکھا۔

وہ بھی من من قدم اٹھاتے اندر داخل ہوئی۔

®®®

فیروز نے ہر جگہ معلوم کروایا یہاں تک کہ اپنے تمام ریسورسز بھی استعمال کر لئے لیکن مہر کا کچھ پتہ نہ چلا تھا۔۔دوسری جانب حازم کا بھی یہی حال تھا وہ بھی چین سے بیٹھ نہ پایا تھا کیونکہ۔۔اس کا لخت جگر نا معلوم تھا۔۔

دونوں ہی پریشان حال بنے ہوئے تھے،ہسپتال ، مورگ ، پولیس اسٹیشن، ریلوے اسٹیشن ، وغیرہ سب چیک کروا چکے تھے لیکن نتیجہ صفر نکلا تھا۔

©©©

کچھ سال بعد۔۔۔

یہ منظر فیروز شمس کے کمرے کا تھا جہاں پر نیم تاریک اندھیرا چھایا ہوا تھا پورے کمرے میں پھیلی سیگریٹ کی سمیل ماحول کو عجیب طرز بخش رہی تھی کہ کسی عام بندے کا وہاں بیٹھنا محال ہو جاتا جبکہ وہ صوفے پر بے ترتیب حلیہ کھلی شرٹ ، بکھرے بالوں کے ساتھ سوچوں کے محور میں کھویا تھا ، اسکی سوچوں کا مرکز صرف مہر النساء تھی جس کا علم اسے ابھی تک نہ ہوا تھا۔۔

دل میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ، آج سے کچھ سال پہلے بھی یہ شعلے بھڑکتے تھے بدلے کی آگ میں ، کسی کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لئے مگر آج یہی آگ کسی کی یاد ، کسی کے ہجر کی وجہ سے تھی۔۔۔۔

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم

کہ تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں فراز

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

مہر گڑیا چلو جلدی سے تیار ہو جاو ہمیں نکلنا ہے تھوڑی دیر میں۔

کدھر جانا ہے آنٹی؟

مہر نے حیرانی سے پوچھا تھا۔

آنہاں۔۔پہلے بھی کہا تھا آنٹی نہیں۔مما بلایا کرو ، عرش کی طرح عزیز ہو مجھے تم۔۔

آج بھی وہ دن یاد ہے جب تم نے ہوش میں آنے کے بعد آنکھیں کھولیں تھیں تو

پہلا لفظ مما پکارا تھا، “کتنا اپنے پن کا احساس دلایا تھا تمہارے اس لفظ نے۔

اسلئے میں چاہوں گی کہ آنٹی نہیں تم مجھے مما ہی کہو۔بہت خوبصورت لگتا ہے یہ لفظ تمہارے منہ سے۔۔

اس کے چہرے کو محبت سے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا ان۔۔

اسلئے چلو اب جلدی سے تیار ہو جاو تمہارے بھائی کا رشتہ دیکھنے جا رہے ہیں ۔۔

مسکرا کر کہتی وہ خود بھی تیار ہونے چلی گئی تھیں جبکہ مہر کے چہرے پر بہت مطمئن سی مسکان تھی۔۔

تھوڑی دیر میں ہی سلمان مینشن سے گاڑی نکل کر اپنی منزل کی جانب گامزن ہوئی تھی۔

©©©

حازم اسٹڈی روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ میل چیک کر رہا تھا نجانے کیا سوجی کہ کوڈ ڈال کر آفس کے سی سی ٹی وی فوٹیج اون کر کے چیک کرنے لگا ،

سکرول کرتے کرتے ایک جگہ اس کے ہاتھ تھمے تھے جب اس نے اپنے آفس کے پرائیویٹ روم کی وڈیو پلے کی تھی اور جیسے جیسے وہ دیکھتا گیا اس کی آنکھیں لال سرخ ہونا شروع ہو چکی تھیں ،غصے سے رگیں تن سی گئی تھی۔۔

کیا دیکھ رہے ہیں حازم۔۔

روباب نے پیچھے سے آکر ان کے گلے کے گرد بازو حائل کیے اپنے تشنگہ لب ان کے کندھے پہ رکھے تھے ۔۔

حازم نے جلدی سے لیہ ٹاپ کا رخ بدلہ تھا اور پھر روباب کے ہاتھوں کو سر کے پیچھے سے گھما کر اپنے سامنے رکھی ٹیبل پر بیٹھایا تھا۔

کچھ خاص نہیں۔۔

بس دیکھ رہا ہوں کہ میری بیوی مجھ سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔

ماتھے پر بکھری زلفوں کو کان کے پیچھے اڑسا تھا ، روباب نے با ساختہ حازم کے چہرے کو دیکھ مسکراتے ہوئے نظریں جھکائے تھیں ۔۔

میری بیوی مجھ سے اتنی محبت کرتی ہے کہ اس نے ، اپنی عزت تک کی پروا نہیں کی ، اپنا آپ سجا کر تھالی میں پیش کیا۔۔

پہلے کافی میں نشا ملایا ، پھر اپنی عزت کو خود مجھ پر لٹا کر ، مجھے ہی ظالم ٹھہرا دیا۔۔۔

واہ روباب واہ۔۔۔

وہ ہاتھ جو کچھ دیر پہلے ان کی زولفوں کو سنوار رہے تھے ، اب اسی سے ان کے بالوں کو اپنی سخت گرفت میں جکڑا تھا حازم نے کہ درد سے روباب بلبلا اٹھی تھیں۔۔

ح۔۔۔حاز لیو می۔۔۔ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہٹانا چاہا تھا کہ گرفت مزید سخت ہوئی کہ وہ صرف کرا کر رہ گئیں۔۔

ی۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ م۔۔میں نے ایسا کب کیا؟

ان کی آنکھوں میں دیکھتے اپنی حیرت کو چھپانا چاہا تھا۔۔

جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ اپنی غلطی مان کیوں نہیں لیتی …

م۔۔میں سچ بول رہی ہوں، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔

بہتی آنکھوں سمیت انہوں نے دبی آواز میں چیخ کر کہا تھا۔۔

اوو۔۔سیریسلی!!!

تو پھر یہ کہا ہے۔؟؟۔لیپ ٹاپ کے سامنے پھینکا تھا انہیں کے وہ اندھے منہ گری تھی زمین پر اور سامنے سکرین پر چلتی وڈیو کو دیکھ دنگ رہ گئی تھی شرم سے سر جھک گیا تھا ان کا اپنے آپ کو ایسے دیکھ ۔۔۔

کیا ہوا ؟ شرم آ رہی ہے؟

جھٹکے سے انکا رخ اپنی جانب موڑا تھا۔۔

یہ سب کرتے جب شرم نہ آئی تو دیکھنے میں کیوں ہاں۔۔۔

دیکھیں نہ اپنے آپ کو اس بے شرمی کے روپ میں ، آج افسوس ہو رہا ہے خود پر کہ میں نے تم سے محبت کی جس نے بے شرمی کی تمام حدود کو ہی پار کر دیا تھا۔۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں اس بے حیائ کی وجہ ، جس کو کر گزرنے کے لئے آپ نے شادی تک کا انتظار نہ کیا۔۔۔۔

جانتی ہو ،” اسی گناہ کی وجہ سے اتنے سالوں سے میں اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتا رہا تھا ، مجھے لگتا تھا کہ میں نے غلط کیا تمہارے ساتھ مگر مجھے کیا معلوم غلط کرنے والی ناگن کوئی اور نہیں بلکہ میری وہی نادان محبت ہے۔۔

ح۔۔حازم م۔۔میں م۔۔ح۔۔محبت ک۔۔

شٹ اپ ! روباب یہ لفظ کچھ ججتا نہیں تمہارے منہ پر۔۔

بے شک تم نے کی ہو محبت لیکن تمہاری محبت پاک نہیں ہے روباب ۔۔۔

میری نظر یہ محبت ہی نہیں روباب جس نے تمہیں زنا کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔

وہ افسوس سے کہتے وہ سے نکلنے لگے تھے کہ قدم باہر کھڑے سندل اور راحب

پر گئی جو نجانے کب سے وہیں کھڑے تھے ۔سندل کی آنکھیں آنسوں سے تر تھیں ۔۔

ایک نظر ان دونوں کو دیکھ سندل کے سر پہ ہاتھ رکھے جا چکے تھے وہ۔۔

سندل بھی بنا روباب سے ملے الٹے قدموں سے واپس جا چکی تھی ، دوبارا نہ کبھی آنے کے لئے۔۔۔

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے‎

ہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگے‎

گئی رتوں کا تعلق بھی جان لیوا تھا‎

بہت سے پھول نئے موسموں میں مرنے لگے‎

دروازا کھولے جیسے ہی وہ داخل ہوئے تھے اس روم میں ، سماہرا کی مسکراتی تصویر نے ان کی نظریں اپنی جانب مبذول کروائی تھی۔۔

جس میں وہ لال ہی رنگ کا سوٹ پہنے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی جانب جھکی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔

آج کتنی طویل عرصے کے بعد وہ اس روم میں آئے تھے۔۔

وہ مدتوں کی جدائی کے بعد ہم سے ملا‎

تو اس طرح سے کہ اب ہم گریز کرنے لگے‎

غزل میں جیسے ترے خد و خال بول اٹھیں‎

کہ جس طرح تری تصویر بات کرنے لگے‎

یہ کیا کیا آپ نے؟؟

وہ حیران پریشان کھڑی اس سے سوال کرتے ہوئے بولی۔۔۔

یار میں نے کون سا شوق سے کیا ہے۔۔؟؟

میری رویل بلو کلر کی شرٹ نہیں مل رہی۔۔

اف۔۔۔وہ تو میں نے چھت پر سکھانے کے لئیے ڈالی ہے آپ انے ایک مرتبہ پوچھ تو لیا ہوتا۔۔۔

آپ ایک مرتبہ مجھ سے پوچھ تو لیتے!!!

میں نے کتنی محنت سے کل الماری سیٹ کی تھی۔۔

اور آگے بڑھ کر کپڑے سمیٹنے لگی تھی۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔

میرا مطلب۔۔ہے کہ اسے بعد میں کرنا پہلے جا کر میری شرٹ لاو ۔۔

سامنے رکھی الماری کو دیکھ کئی سال پہلے بیتا ہوا وقت یاد آیا تھا جسے سوچ وہ مسکرانے لگے تھے لیکن وہ مسکان صرف ایک لمحے کے لئے تھی ۔۔

بہت دنوں سے وہ گمبھیر خامشی ہے فرازؔ‎

کہ لوگ اپنے خیالوں سے آپ ڈرنے لگے‎

کمرے کی ویرانی نے انہیں دوبارا لب بھینچے پر مجبور کر دیا تھا وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹے تھے آنکھیں موندے۔۔۔

تھوڑا زور سے دباو!! جان نہیں ہے کیا ہاتھوں میں۔۔

تمہیں نا کبھی عقل نہیں آنی ہے۔۔۔یہاں لیٹو میں بتاتا ہوں کیسے دباتے ہیں۔کہنے کو تو ایک سلیقہ شعار لڑکی ہو مگر کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی ۔۔

حازم اٹھ کر بیٹھا اور سماہرا کا سر اپنی گود میں رکھ کر آرام آرام سے اس کے سر کی مالش کرنے لگا۔۔

اس طرح دباتے ہیں۔۔وہ اس کے سر کی فیزیو کرتے ہوئے بولا۔۔جبکہ دوسری طرف سماہرا سر میں سکون ملنے کے باعث نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔۔

سماہرا تم میری ہو، یہ میرا خود سے وعدہ ہے کہ تمہیں واپس لے آؤں گا۔۔۔۔

اور سماہرا کے ساتھ بتائے گئے لمحات کو سوچتا حازم خود سے ایک عہد کرتے وہ نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔۔

اب یہ تو وقت بتائے گا کیا سماہرا مل پائے گی حازم کو ۔۔۔۔

®®®™

سلمان لوگوں کی گاڑی جیسے ہی داخل ہوئی اس گھر کی پارکنگ میں مہر کے باہر نکلتے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔

م۔۔مما ی۔۔یہاں لڑکی دیکھنے آئے ہیں؟

وہ سماہرا کی آنکھوں میں دیکھتے حیرت سے گویا ہوئی تھی اور مہر کے سوال پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا پھر قدم اندر کی جانب بڑھائے جبکہ مہر النساء نے سماہرا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا کہ وہ بے ساختہ مسکرا دی ۔۔

وہ گھر کی ہر چیز کو بغور دیکھ رہی تھی جو کہ اتنے سالوں بعد بھی ویسے ہی تھیں بس رنگ میں کچھ ردوبدل کیا گیا تھا ۔

®®®™

پُر کرو جام کہ شاید ہو اسی لحظہ رواں

روک رکھا ہے جو اک تیر قضا نے کب سے

فیضؔ پھر کب کسی مقتل میں کریں گے آباد

لب پہ ویراں ہیں شہیدوں کے فسانے کب سے

سر نیچے کچھ گیسٹ آئے ہیں آپ سے ملنے کا کہہ رہے ملازمہ نے آکر فیروز کو کہا تھا جو کہ کاپی کا کپ تھامے موبائل میں جھکا ہوا تھا۔

اوکے انہیں لاونچ میں بیٹھاؤ میں آتا ہوں ۔

ہنوز اپنے فون کی جانب جھکے اس نے جواب دیا تھا پھر ملازمہ کے جانے کے بعد اٹھ کر شیشے کی جانب آیا تھا اور ایک نظر اپنے بکھرے حلیہ پر ڈالی آنکھوں کے گرد پھیلے سیاہ ہلکے ، گلابی ہونٹ جو کہ مسلسل سگرٹ نوشی کی وجہ سے سیاہ ہو رہے تھے۔

ہوا میں سرد آ خارج کرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔

جیسے ہی اس نے لاونچ میں قدم رکھا بھونچکا رہ گیا تھا وہ سماہرا کو دیکھ کر۔ ۔۔

پ۔۔پھوہھو۔۔۔

آپ۔۔۔آپ زندہ۔۔۔۔وہ تقریباً بھاگنے کے انداز میں ان تک آیا تھا جبکہ سماہرا اور سلمان فیروز کے اس ریکشن پر کھڑے ہوئے تھے اور مہر سائڈ پر کھڑی ان تینوں کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔

پھوپھو آ۔۔آپ نے پہچانا نہیں؟ میں آپکا فیضی۔۔۔

سماہرا کے چہرے پر اجنبیت دیکھ وہ ان کے بازوں کو تھامے خوشی سے بولا تھا ۔۔

چ۔۔۔چھوٹے!!!!!

سماہرا نے حیرت اور خوشی کی سی کیفیت میں فیروز کو دیکھ کر اپنے گلے سے لگایا تھا۔

پھوپھو ہم سب آپ کو۔بہت یاد کرتے تھے ، ہمیں لگا ہم آپ کو کھو چکے ہیں ، دادا دادی تو آپ کو یاد کیے اس دنیا اس کوچ کر گئے اور سامنے ہی رکھے صوفے پر براجمان ہوا تھا جبکہ ان لوگوں کو آپس میں بات کرتا دیکھ مہر اٹھ کر لان میں آ گئی تھی ، کیونکہ فیروز کی نظر ابھی تک مہرالنسا پر نہیں گئی تھی کیونکہ وہ کارنر پر تھی۔۔۔

آسمان میں چمکتے چاند کو دیکھ کر وہ بھی مسکرا دی تھی کیونکہ آج سماہرا مل چکی تھی اپنی فیملی سے ، فیروز اور سماہرا کے چہرے پر جو خوشی تھی اس نے مہر کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔

کافی عرصے بعد آج سب مل چکے تھے یقیناً اب ایک ساتھ رہیں گے بنا غم کے ۔۔

لیکن ایسا صرف اسے لگتا تھا کیونکہ خوشی اور غم کا بہت گہرا رشتہ ہے ، جہاں خوشیاں ہوں وہاں غم کچھ لمحوں کے لئے ہی صحیح لیکن آ ہی جاتے ہیں۔

بھیا بھابھی کیسے ہیں؟

سماہرا کے اس سوال پر جو ماحول میں خاموشی چھائی تھی وہ انہیں بہت کچھ سمجھنے پر مجبور کر گئی تھی۔۔

فیضی۔۔؟؟

وہ دونوں بھی خالقِ حقیقی میں جا سوئے ہیں۔۔

خود پر ضبط کیے وہ لب بھیچے بولا تھا۔۔

آپ اگر حیات تھیں تو ہمیں کبھی پلٹ کر کیوں نہ دیکھا ، کیا ہماری یاد آپ کو کبھی نہیں آئی ،

فیروز کے اس سوال پر سماہرا نے سلمان کی جانب دیکھا تھا۔۔

دل تو بہت چاہتا تھا ملنے کو مگر “٫زندگی اور اس کی تلخیوں نے اتنا خود غرض بنا دیا کہ چاہ کر بھی پلٹ نہ سکی ۔”

ناخنوں کو کھروجتے وہ تلخی سے ہی گویا ہوئی تھیں جبکہ چہرے پر ایک مسکان تھی شائد لہجے میں چھپی اس تلخی کو چھپانا چا رہی تھیں۔

بائے دا وے پھوپھو آپ یہاں شائد کسی کام سے آئی تھیں؟

اپنی نشست سے اٹھ کر اب وہ سماہرا کے ساتھ بیٹھا تھا کہ سلمان نے دونوں کو گھورنے کے انداز میں دیکھا ، سماہرا اپنی ہنسی چھپا گئی تھی جو کہ سلمان کے چہرے کے ریکشن کو دیکھ کر بے ساختہ نکلنے والی تھی۔

ہم یہاں آفرین کا رشتہ ، اپنے بیٹے عرش کے لئے دیکھنے آئے تھے مگر یہاں آ کر کرشمہ ہو گیا کہ وہ آفرین کوئی اور نہیں میری بھتیجی ہے۔

کیا تم ہمیں اس لائق سمجھتے ہو کہ آفرین کو ہمیں دے دو ؟

انہوں نے ایک امید سے فیروز کا ہاتھ تھاما تھا۔۔

پھوپھو یہ کیسی بات کر رہی ہیں آپ آفرین آپکی ہی بیٹی ہے ، بس میں ایک بھائی ہونے کے ناطے عرش سے ملنا چاہوں گا اگر کوئی مسئلہ نہ ہو تو۔۔

نہیں فیضی عرش تو نہیں آیا ہاں البتہ اس کی بہن ضرور آئی ہے۔۔

انہوں نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

کہاں ہے مجھے تو نظر نہیں آئی۔۔

اس نے آس پاس نظریں دوڑائیں تھیں ۔۔

شائد وہ باہر چلی گئی ہے میں دیکھتی ہوں ،

ارے نہیں آپ بیٹھیں میں آفرین اور خوشی کو بھی بلاتا ہوں اور آپکی بیٹی سے مل لیتا ہوں۔۔

ملازمہ سے کہتا خوشی اور آفرین کو بلایا تھا جبکہ خود قدم باہر لان کی جانب لیے تھے جہاں اسے کوئی جانا پہچانا سا وجود کھڑا دیکھائی دیا۔۔

ایکسکیوز می۔۔

مہر نے جب اپنے پیچھے فیروز کی آواز سنی تو اس کے۔دل کی دھڑکنیں تیز رفتار میں دوڑی تھیں آنکھوں کو بند کیے ایک گہرا سانس لیا تھا اس نے پھر آرام سے پیچھے جیسے ہی پلٹی تھی مقابل کھڑے فیروز کو اپنی جگہ ساکت کر گئی تھی۔۔

م۔۔۔م۔۔مہر۔۔۔

ایک ہی دن میں دوسرا دھجکا لگا تھا فیروز شمس کو ۔۔۔۔۔

کہاں تھی تم مہر؟

اس نے لمحوں میں فاصلہ طے کیا تھا۔۔

فیروز شمس پل پل تڑپا ہے تمہاری یاد میں۔۔

اس نے مہر کو چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھر کے محبت سے کہا تھا جبکہ وہ اپنے چہرے پہ چپ کا قفل لگائے بیٹھی تھی۔۔

کتنے عرصے بعد وہ آج اسے دیکھ رہا تھا اپنے سامنے ، اسکے دل کو کرار سا آیا تھا۔

وہ چھوٹی سی لڑکی کب سفر طے کرتی اسکے دل میں چھا گئی اسے انداذہ ہی نہ ہوا ۔۔۔

اب تم آ گئی ہو ، میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔

تڑپ کر محبت سے بھینچا تھا اس کو خود میں ، کیا کچھ نہیں اس ملن میں محبت، ہجر کی جدائی، تڑپ ، دیوانگی۔۔۔۔۔۔

مہر نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ پیچھے سے آتے کسی بچے کی آواز سن کر وہ لفظ کہیں اندر ہی دب گئے تھے اس نے آواز کی سمت میں دیکھا ۔۔۔

پاپا۔۔

اس چھوٹے بچے نے جیسے ہی پکارا تھا فیروز کو، لان میں کھڑی مہر کے قدم ڈگمگائے تھے بچے کے ساتھ کھڑی خوشی کو دیکھ کر۔۔۔

اس نے حیرانی اور غم کی ملی جلی کیفیت میں فیروز کی جانب دیکھا تھا۔۔

مبارک ہو۔۔زندگی میں کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔۔چہرے پہ تلخ مسکان سجائے ، گلے میں اٹکے آنسوں کو باہر آنے سے روکتے وہ بولی اور پھر قدم اندر کی جانب بڑھائے تھے۔۔

م۔۔مہر م۔۔میری بات سنو۔۔

اسکو اندر جاتا دیکھ وہ اسکے پیچھے آیا اور اسکے ہاتھوں کو تھام کر روکنا چاہا ۔

ہاتھ چھوڑیں میرا کیا سنوں! کچھ کہنے سننے لائق چھوڑا ہے آپ نے۔۔۔

خوشی کو اگنور کیے اس نے فیروز کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا ۔۔۔

اور اندر جا چکی تھی جبکہ باہر کھڑا فیروز اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا۔۔

پاپا وہ آنتی کون تی۔۔؟ (پاپا وہ آنٹی کون تھی؟)۔۔۔۔۔

ننھے سے رومان نے فیروز کے ان ہاتھوں کو تھام کر کہا تھا جنہیں کچھ دیر۔پہلے مہر نے غصے میں جھٹکا تھا۔۔

بیٹا وہ آپ کے پاپا کی پرنسس ہیں۔۔

محبت سے رومان کے پھولے ہوئے گالوں پر پیار کیا تھا پھر گود میں تھامے اندر بڑھ گیا۔۔۔

®®®™

دعا آفس سے واپس آئی تو اس کی نظر صوفے پہ بیٹھی آنٹی پر گئی ۔۔

کیا ہوا آنٹی خیریت ؟

ان کو یوں گھٹنے تھامے دیکھ وہ پریشانی سے بولی ۔۔

ہاں بیٹا ! بس یہ صاحب جی کے کپڑے لانڈری والا دے گیا تھا تو وہ روم میں رکھنے جا رہی تھی مگر یہ میز گھٹنے پر لگ گئی ہے۔۔

او۔۔آپ آرام کریں میں رکھ آتی ہوں ۔

بیگ اور فائل میز پر رکھے وہ کپڑے اٹھاتی اوپر ضامن کے روم میں آئی تھی۔

دروازا کھولتے ہی اندھیرے نے اسکا استقبال کیا تھا ،ہاتھ بڑھا کر سوئچ آن کیے تو لمحوں میں ہی کمرا روشنی میں نہا گیا۔۔

ضامن کا روم کافی بڑا اور خوبصورت تھا داد دیے بنا نہ رہ سکی تھی وہ۔۔

ہر چیز نفاست سے اپنی جگہ پر رکھی گئی تھی۔۔

وہ آہستہ سے چلتی الماری تک آئی تھی ، کپڑے رکھ کر ابھی وہ الماری بند ہی کرنے لگی تھی کہ ایک نیلے رنگ کی ڈائری نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔۔

ابھی اس نے ڈائری کھولی بھی نہ تھی کہ کسی نے جھپٹنے کے انداز میں ڈائری اس کے ہاتھوں سے چھینی تھی۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ڈائری کو چھونے کی۔۔۔

اس کے ہاتھوں سے ڈائری چھینے کے انداز میں لی تھی۔ضامن نے۔۔

اور شیر کی مانند دھاڑتے مقابل کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کو لرزنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔

ای۔۔ایم س۔۔سوری سر۔۔۔ وہ بس م۔میں دیکھ ر۔ رہی تھی۔۔۔۔

وہ اپنے باہر نکل آنے والے آنسوں کو با مشکل روتے ہوئے بولی۔

کیوں دیکھ رہی تھی کسی نے اجازت دی تمہیں۔۔۔۔۔

غصے سے تیوری چڑھائے وہ غرانے کے انداز میں دھاڑا۔۔۔

تمہیں یہاں رہنے کی اجازت دی تھی میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کی نہیں۔۔۔

ضامن کی اس بات پر دعا نے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا اس کو۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو ، کچھ غلط کہا کیا میں نے؟

بھنونے اچکائے بے زاری ظاہر کی۔۔۔

آئیندہ میری پرسنل چیزوں سے دور ہی رہنا تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہو گا۔۔

اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا تھآ اس نے ۔۔

جبکہ دعا کی بند آنکھوں میں سے آنسوں روانی سے بہہ رہے تھے اس کے دل توڑ دینے والے رویے پر۔۔۔

اب جاو یہاں سے