Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rukht-e-Naseeb Episode 15

Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj

ٹکڑے پڑے تھے راہ میں تصویر کے بہت،

لگتا ھے کوئی دیوانہ سمجھدار ھو گیا۔۔!؟؟

شاک میں تھی وہ سماہرا کی تصویر دیکھ کر ۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب ہو کیا رہا ہے مطلب یہی تصویر وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی مگر اپنے پاپا کے روم میں ، وہ روم جو کہ اوپر والے پورشن میں اس کے روم کے ساتھ تھا جہاں بچپن میں حازم اس کو اکثر لے جایا کرتا تھا ۔۔

اور کئی وقت اس کے ساتھ کھیل کر گزارتا تھا اسی تصویر کے آگے کھڑا باتیں بھی کیا کرتا تھا مگر مہر کے اس ننھے دماغ میں تب یہ باتیں نہیں بیٹھتی تھیں۔۔

مطلب کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آ رہا تھا اور وہ بہت بے چین تھی بات کی تہہ میں جانے کی..

میں ڈھونڈنے کو زمانے میں جب وفا نکلا

پتہ چلا کہ غلط لے کے میں پتہ نکلا

آپ کی پھوپھو میرے پاپا کی فرسٹ وائف ہیں؟

اس کے قدم خود بخود تصویر کی جانب بڑھ رہے تھے جبکہ پیچھے کھڑے فیروز کے پاوں تلے زمین کھینچ لی تھی کسی نے جب اس کی نظر مہر کی گردن پہ بنے چاند کے نشان پہ گئی تھی۔بال ڈھیلے جوڑے مقید ہونے کے باعث وہ صاف واضح ہو رہا تھا۔۔

ی۔۔یہ تمہارا برتھ مارک ہے؟

تصویر میں کھوئی مہرالنسا کو رخ جھٹکے سے اپنی جانب موڑا تھا کہ وہ سیدھا اسکے کشادہ سینے سی آں ٹکرائی تھی۔۔

ک۔۔کیا؟ وہ نا سمجھی سے اسکی جانب دیکھتے بولی ۔۔

یہ جو گردن پہ نشان ہے کیا برتھ مارک ہے؟ وہ اپنے ہواس پہ قابو پاتا بولا تھا اور دل میں شدت سے ایک دعا اٹھی تھی کہ جواب نہ میں ہو مگر مہر کے ایک یک لفظی جواب نے اس کی انا ، اسکے غرور سب کو نیست کر دیا تھا۔۔۔

جی ہاں۔۔یہ میرا برتھ مارک ہے اور پوری فیملی میں سے صرف یہ میرے پاس ہی ہے۔

اس کے اس جملے نے فیروز شمس کو کہاں سے کہاں لا کر کھڑا کر دیا تھا۔

وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر باہر نکلتا چلا گیا تھا۔جبکہ۔اس کے گھر سے جانے کے بعد وہاں سے ایک اور وجود نکلا تھا۔۔

جس کے آنے سے مکمل ہو گئی تھی زندگی

دسخطیں خوشیوں نے دیں تھیں مٹ گئی تھی ہر کمی۔۔

©©©

ضامن دعا کو گیسٹ روم میں لایا تھا جبکہ وہ گھبراہٹ کے مارے اپنی انگلیاں چٹخنے میں مصروف تھی۔

مس دعا یہاں بیٹھیں:”صوفے پہ بیٹھنے کا کہتا خود بھی تھوڑا سا فاصلہ بنا کر وہ بھی وہیں بیٹھ گیا تھا اور اسکا ہاتھ تھام کر ڈرسینگ کرنے لگا تھا۔۔۔

سس۔۔۔۔جیسے ہی ڈیٹول لگی روئی نے چھوا تھا دعا کے ہاتھوں ایک سسکی اسکے چہرے سے نکلی تھی۔۔

بی ریلیکس دعا۔۔۔

آرام سے زخم کو صاف کرتا وہ اسے مخاطب کر گیا تھا جس کی آنکھوں میں درد کے باعث آنسوں امڈ آئے تھے۔۔

دعا نے انجانے میں ضامن کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں ہمیشہ غصہ اور سنجیدگی رہتی تھی مگر آج اس کے چہرے پہ اطمینان تھا ۔۔

وہ کافی خوبصورت تھا لمبا چہرا ، تیکھی ناک ، پوائنٹڈ آئز ، جن میں ہر لمحہ کسی کا عکس دیکھتا تھا اسے، بھورے سلکی بال جنہیں وہ ترتیب سے سیٹ رکھتا تھا۔۔

ڈریسنگ کرنے کے بعد کاٹن کو ڈسٹبین میں پھینکا تھا پھر اوپر اپنے کمرے میں گیا وہاں سے جیسے وارڈ روب اوپن کی تھی ہیر کے تمام کپڑے ترتیب سے ایک جانب رکھے ہوئے تھے جسے دیکھ کر ایک سرد خارج کی تھی ۔۔

ڈھونڈتا تھا اس پل میں دل جسے یہ سو دفع

ہے سہانا راز اس بن روٹھی شامیں دن خفا

ہیر کا ایک ڈریس نکال کر وہ نیچے بیٹھی دعا کو دے آیا تھا ۔جسے زیب تن کر کے ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ ناک ہوا تھا۔۔ڈوپٹہ ترتیب سے لیتی اس نے دروازہ کھولا تو باہر ضامن ہی موجود تھا۔۔

جی؟

وہ یہ کہنا تھا کہ صبح آفس آپ اپنے ٹائم پر پہنچ جائے گا۔۔

دعا کو وہ ہیر کے لباس میں دیکھنا چاہتا تھا تبھی دروازہ ناک تو کر لیا تھا مگر جب کچھ سمجھ نہ آیا تھا یہی کہہ گیا۔۔

جی سر ۔۔ وہ سر جھکائے کہتی واپس دروازہ بند کر چکی تھی جبکہ وہ اوپر روم میں چلا آیا تھا۔۔

©©©

فیروز نے اپنے پی اے کو فون پر کبھ کہا تھا اور اسکے جواب کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا تھا ۔۔آفس میں کھڑا وہ ادھر سے چکر کاٹ رہا تھا دل تھا جو بیچین ہوئے جا رہا تھا۔۔دل میں یہ ہی خیال آ رہا تھا کہ اگر مہر حقیقت میں ہی سماہرا کی بیٹی ہوئی تو وہ اپنے گھر والوں کو منہ دکھائے گا۔۔

اس معصوم کو کیسے بتائے گا کہ اسی ہی کی ماں کے لئے وہ اس سے بدلہ لے رہا تھا۔۔

سوچوں کے محور سے باہر لا پٹخا تھا فون کی اس کال نے۔۔۔

سر۔۔آپ کا شک صحیح ہے۔۔

مہرالنسا ! میم سماہرا ہی کی بیٹی ہیں جنہیں اپنی دوسری وائف کے کہنے پر انہوں نے دنیا والوں کے لئے مار دیا تھا ۔۔مگر درحقیقت وہ بیٹی اپنی سیکنڈ وائف کو دی تھی ان نے۔۔اور برتھ سرٹیفکیٹ پہ ان کی ایج کم کروائی گئی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مہرالنسا میم سماہرا اور حازم کی بیٹی ہیں اور سندل روباب اور حازم کی۔۔۔۔

پی اے کی اس افورمینشن نے اس کا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیا تھا۔۔۔

ی۔۔یہ میں نے کیا کر دیا ۔۔۔شٹ

ایک زوردار پنچ اس نے کانچ کے ٹیبل پہ مارا تھا۔۔۔

نہیں۔۔چھوڑوں گا حازم تمہیں۔۔۔

تمہاری وجہ سے ایک اور خسارہ آیا ہے ہماری زندگی میں۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں ایک وحشت ایک غصہ چھایا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔۔۔

کیوں بے وجہ دی یہ سزا کیوں خواب دیکھے وہ لے گیا۔۔

جیے جو ہم لگے ستم عذاب وہ ایسے دے گیا۔۔۔

©©©©©

کڑی دھوپ کی مسافر وہ لڑکی جس نے اپنے شوہر کو ہرجائی پایا۔۔۔۔۔۔

اسکی زندگی کا پہلا رخ جس میں اسے صرف دکھ ، دھوکہ ، غم ،تکلیف ملا ۔۔۔

وفا کی امید لگائی بیٹھی اس مسافر کو۔۔ لا کھڑا کیا تھا تپتی دھوپ کے صحر میں لیکن پھر۔۔۔۔۔۔۔

حازم نے جیسے ہی وہ بک کی مین لائینز پڑھی تھیں دل بے تاب سے ہوا تھا اس کتاب کو مزید پڑھنے کے لئے۔

رائٹر کا نام دیکھنا چاہا تو وہاں لکھا گیا تھا”گمنام”

یہ کیسی لکھاری ہیں جن نے اپنا نام بھی نہیں لکھا۔۔

ایک کسٹمر جو شائد خود بھی کتاب خریدنے آیا تھا رائٹر کا نام نہ لکھے ہونے کے باعث مزاق اڑاتے ہوئے بولا تھا۔۔

اسکی بات پر ایک نظر دیکھا تھا حازم نے اسے پھر بک کو لیتا نکلتا چلا گیا تھا وہاں شاپ سے اور سیدھا رخ اپنے آفس کے وی آئی پی روم میں کیا تھا۔۔

جس میں ایک مکمل تصویر لگائی تھی اپنی اجڑی فیملی کی ۔۔۔

بیچ میں مہر ، اور سائڈ پہ سماہرا اور حازم۔۔۔

یہ تصویر اس نے اسپیشل ایڈٹ کروائی تھی۔۔۔

اس تصویر کو اس کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا تھا۔۔کیونکہ شادی کے بعد روباب نے آفس کا رخ کبھی نہ کیا تھا۔۔

کڑی دھوپ کے مسافر اس شخص کو

کوئی ہمسفر شناسا سا مل گیا۔۔

سارہٓ

اس کتاب کے پہلے صفحے پر یہ شعر تحریر کیا گیا تھا اس ایک شعر پہ پوری کہانی کا مرکز تھا۔۔یہ کتاب جو ہار کر جیتنے والی لڑکی کی داستان تھی۔۔

یہ کتاب جو چھا گئی تھی آتے ہی ۔۔۔اس کتاب نے لوگوں کو اپنے ساتھ ایک بندھن میں جکڑ لیا تھا۔۔۔

کتاب کے ہر لفظ کو پڑھتے حازم نے شدت سے ان کو محسوس کیا تھا۔۔

اس کتاب میں موجود وہ لڑکی کا لیڈ کردار جس کا نام عروشہ تھا ، اس کو جیلس کروانے پر مجبور ہو چکی تھی جب شوہر کے بے وفائی پر اس لڑکی کا ہاتھ صائم نے تھاما تھا آخری صفحے کو بھی پڑھتے وہ کتاب بند کر چکا تھا۔۔

۔۔شام سے رات ہو چکی تھی اسے یہ کتاب پڑھتے پڑھتے وقت کا انداذہ نہ ہوا تھا اسے۔۔۔

اب شدت سے وہ منتظر تھا اس کے دوسرے حصے کا۔۔۔

©©©

وہ آئیں نہ لے جائے نہ ہاں اسکی یادیں ہے جو یہاں

نہ راستہ نہ کچھ پتہ میں اسکو ڈھونڈو گا اب کہاں

فیروز بار میں بیٹھا حرام مشروب خود میں انڈیل رہا تھا۔۔

کچھ لوگوں کی یہی کمزوری ہوتی ہے وہ مشکل وقت میں خدا کی بارگاہ میں جانے کے بجائے اس حرام جام کو خود میں انڈیل کر خوشی یا غم بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

ک۔۔کیا مہر معاف کر دے گی مجھے اس خطا کی؟؟

گلاس کو ایک نظر دیکھتے خود سے سوال کیا تھا اس نے۔۔

ن۔۔نہیں معاف کرے گی وہ مجھے۔۔۔ن۔۔نہیں معاف کرے گی۔۔

کیا ۔۔۔کیا میں نے معاف کیا تھا اسکو؟؟

کیا میں نے۔۔۔میں نے معاف کیا اس کے باپ کو؟؟

تو وہ مجھے کیسے معاف کرے گی۔۔۔

کانچ کے گلاس میں اپنا چہرا دیکھتا وہ کسی پاگل کی مانند خود سے باتیں کر رہا تھا۔۔

م۔۔میں منا لوں گا اسے۔۔۔

وہ مان جائے گی۔۔۔جب اسکو اسکے باپ کی اصلیت بتاوں گا تو وہ صرف مجھ سے پیار کرے گی۔۔۔

اپنے قدموں کو زمین پہ منجمد کرتا باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے اس نے اور بہت مشکل سے ڈرائیونگ کرتا گھر تک پہنچا تھا۔۔۔

م۔۔مہر ۔۔۔

م۔۔مہر

وہ گھر پہ نہیں ہے۔۔

اسکو پکارتا وہ روم میں جانے لگا تھا جب خوشی کی آواز سنتا رکا تھا وہ۔۔

کیا بکواس ہے یہ۔۔؟

کہاں ہے وہ؟

وہ چیختے ہوئے بولا تھا کہ ایک پل کو خوشی بھی سہم چکی تھی۔۔

م۔۔مجھے نہیں پتہ وہ آپ کے پیچھے ہی نکلی تھی۔۔

خوف کے مارے اس نے بمشکل ہی آواز نکال کر کہا تھا۔۔

میں ڈھونڈنے جو کبھی جینے کی وجہ نکلا

پتہ چلا کہ غلط لے کے میں پتہ نکلا۔۔۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس باہر گر گیا اسے ڈھونڈنے کو ۔۔۔

خوشی تو وہیں کھڑی اسکا جنونی انداز دیکھ رہی تھی مہر کے لئے۔۔۔

وہ بے نام سا سڑکوں پہ مارا مارا پھر رہا تھا اسکی تلاش میں ، پھر کسی خیال کے تحت حازم کے گھر کی جانب گاڑی موڑی تھی۔۔۔

ح۔۔حازم۔۔۔باہر نکلو۔۔۔

کہاں چھپایا ہے میری بیوی کو؟

لاونچ میں وہ چلاتے ہوئے داخل ہوا تھا۔۔۔

جبکہ روم میں موجود روباب اور حازم دونوں باہر نکلے تھے اس کے چلانے پر۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے لڑکے۔۔۔

وہ تمہارے پاس تم ہی تو لے کر گئے تھے!!

روباب نے بھی اسی کے انداذ میں کہا تھا۔۔۔

شٹ اپ یو لیڈی۔۔۔

سسر صاحب بتا دیں کہاں چھپا رکھا ہے مہر کو ورنہ آپ۔دونوں کی اصلیت میڈیا میں لانے میں کوئی گریز نہیں کروں گا۔۔۔

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ ۔۔۔واٹ یور نون سینس ۔۔۔

کون سی اصلیت ہاں؟؟

روباب بھی چیخ کر گویا ہوئی تھی۔۔۔

وہی اصلیت جو تم دونوں کی ہے۔۔۔اگر میری بیوی صحیح سلامت نہ ہوئی تو زندہ نہیں چھوڑوں گا تم لوگوں کو میں۔۔

غصے سے کہتا وہ جا چکا تھا وہاں۔۔۔

حازم۔۔۔لیٹس گو۔۔

ائم ایم فیلنگ ٹائریڈ۔۔۔

ان کے ہاتھوں کو تھام کر وہ جیسے ہی اندر لے جانے لگی تھیں اپنے ہاتھوں کو جھٹک کر چھڑایا تھا روباب کے ہاتھوں سے۔۔۔

یو سلی وومن۔۔۔

یہاں میری بیٹی کا کچھ علم نہیں اور آپ کو اپنے آرام کی پڑی ہے۔۔

ح۔۔حا۔۔شٹ اپ ۔۔گو اینڈ لیو می۔۔۔

کہتے وہ جا چکے تھے باہر لان میں۔۔۔

©©©

ضامن جب صبح ڈائٹنگ ٹیبل پہ بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا کہ اسکی نظر دروازے سے باہر جاتی دعا پہ پڑی۔۔۔

مس دعا۔۔آپ کہاں جا رہی ہیں؟

ایک نظر اس پہ ٹکا کر کہا تھا جس نے ابھی تک ہیر کا ڈریس پہنا تھا اور اس میں واقعی وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔

سر آفس۔۔۔اس نے ضامن کی جانب دیکھ ادب سے جواب دیا تھا۔۔

سیریسلی؟

اور وہ بھی مجھے بنا بتائے؟

ناگواری کے تاثرات چہرے پہ جھلکے تھے۔۔

سر کل آپ ہی نے کہا تھا کہ وقت پہ آفس پہنچ جاوں۔۔۔

اف۔۔ مس دعا ۔۔بٹ اب میں کہہ رہا ہوں آج آپ کی آفس کی چھٹی ہے جائیں ریسٹ کریں۔ویسے بھی آپ کا کام ٹائپنگ کا ہے اور ہاتھ تو ویسے ہی آپکا زخمی ہے۔بٹ سر۔۔کچھ کہنا چاہا تھا اسنے مگر وہ اسے بیچ میں ہی ٹوک گیا تھا۔۔

نو آرگیو۔۔۔مس دعا۔۔۔

کہتا اپنی کیز اور بیگ لئے باہر نکل گیا جبکہ دعا سرد خارج کرتی واپس گیسٹ روم میں بند ہو گئی۔۔