Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 14
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
ض۔۔۔ضامن۔۔۔ضامن۔۔۔
ضامن سیو۔۔می۔۔۔م۔۔میں مرنا نہیں چاہتی۔۔۔
ض۔۔۔ضامن۔۔۔۔۔۔
ہیر۔۔۔اس کی آنکھیں یکدم کھلی تھیں آس پاس دیکھا تو وہ اپنے اسٹڈی روم میں موجود تھا سامنے رکھی ٹیبل پہ لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا یقیناً کام کرتے کرتے اسکی آنکھ لگ چکی تھی۔۔
دلی کیفیت اچاٹ سی ہوئی تھی طبعیت پر گھبراہٹ طاری ہونا شروع ہو چکی تھی۔۔گھڑی میں وقت دیکھا جو کہ تین کا ہندسہ بجا رہی تھی۔۔پھر پاس رکھی اپنی جیکٹ پہنی سیگریٹ اور چابی اٹھا کر باہر کی جانب ہو لیا۔۔۔
اندھیری رات میں جہاں ہر چرند پرند بشر اپنے گھروں میں سکون کی نیند فرما رہے تھے وہیں ضامن اسی رات کے سائے میں اپنی گاڑی کو لے کر نا معلوم سفر پہ نکل چکا تھا۔۔
ابھی اس نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ کوئی لڑکی اچانک اس کی گاڑی سے ٹکرائی تھی۔۔۔ہاتھوں میں جلے سیگریٹ کو پھینکے وہ باہر نکلا تھا۔۔۔
سی۔۔۔سیو می۔۔۔پلیز
ہیلپ م۔۔می۔۔۔
وہ لڑکی پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اٹک اٹک کر گویا ہوئی۔۔
©©©
آفس سے چھٹی کرنے کے بعد جب دعا گھر جا رہی تھی تو راستے میں اسکی نظر ایک لڑکی پہ گئی تھی جسے وہاں کے آوارہ لڑکے چھیڑ رہے تھے۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو لڑکی کو…
غصیلی نظروں سے ان لڑکوں کو دیکھ کر بولی تھی وہ۔۔۔
ارے واہ ! ایک اور شکار خود چل کر آیا ہے لگتا ہے آج قسمت کچھ زیادہ ہی مہربان ہے۔۔۔
پہلے لڑکے نے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا تھا۔۔
یو(گالی)….کہتے ہی دعا نے ہاتھ میں موجود پرس گھوما کر ایک لڑکے کے چہرے پر مارا تھا۔۔پھر لڑکی کو اشارہ کیا جس نے چپل اتاری۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نے مل کر ان کی درگت بنا رہی تھیں جبکہ آس پاس لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جو کہ پہلے لڑکوں کی حرکت کو اگنور کرتے ہوئے جا رہے تھے۔۔
دعا نے ایک نفرت بھری نظر اس ہجوم پر ڈالی تھی اور پھر ان لڑکوں پر۔۔
©©©
کالج سے آنے کے بعد آفرین نے ڈریس بھی چینج نہیں کیا تھا فوراً بیڈ پہ ڈھہ سی گئی تھی چہرے پہ ایک شرمنگی مسکان سجی ہوئی تھی اور آج ہوئی عرش اور اپنی ملاقات کو سوچنے لگی تھی جب سے وہ ملی تھی اس کے دل کی دھڑکنیں تیز رفتار سے چل رہی تھیں۔۔۔
سنتے ہیں اپنی دھڑکن تیرے تڑپنے میں،
فرق نہیں اب میرے دل کے دھڑکنے میں،
دل کتنا بے کرار سا ہو رہا تھا۔۔یہ وہی جانتی تھی آج کتنی خوش تھی وہ ، عرش کی آنکھوں میں بھی وہی خمار دیکھ کر ، بالکونی سے آتے تیز ہوا کے جھونکے سے اس کے بال اڑ رہے تھے ۔۔یکدم وہ اٹھی تھی بیڈ سے جب یاد عرش کا ڈائری میں دیا گیا آٹوگراف یاد آیا تھا۔۔
جیسے ہی اس نے وہ پیج اوپن کی تھا وہ شاکڈ ہو گئی تھی عرش کے لکھے گئے شعر کو پڑھ کے جس کے نیچے اس نے اپنا دستخط کیا ہوا تھا۔۔
بہت حسیں سہی تیری عقیدتوں کے گلاب
حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا
ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں
تجھے عزیز مرا فن، مجھے جمال ترا
عرش![]()
دوسری جانب عرش بھی لان میں بیٹھا اس پری پیکر کے خیالوں میں گم تھا ، آفرین کی جس چیز نے اسے اٹریکٹ کیا تھا وہ تھی اسکی آنکھیں۔۔۔
اسکا کتابی چہرہ جس میں بہت سی باتیں محفوظ تھیں۔۔۔
ایک کشش سی ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی تھی۔۔۔
روگ میرا بڑتا جائے کوئی تو سنبھالے نا،
راحتیں ملیں اب ہم کو دل کے دہکنے میں۔۔
©©©
رات کے پہر دعا کی آنکھ آہٹ کی آواز سے کھلی تھی۔وہ یکدم الرٹ ہوئی تھی سرگوشیوں کی آواز پر۔۔۔
اس نے کمفرٹر ہٹایا اور پاوں میں چپل پہن کر دروازے کو ہلکا سا کھول کر دیکھا تو وہی اوباش لڑکے اس کے گھر میں موجود تھے ان کو یہاں پا کر اسکا سانس اٹکا تھا۔۔اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ مصیبت اسکے گلے میں پڑنے والی ہے۔۔
اس نے خاموشی سے جیسے ہی دروازا بند کرنا چاہا تھا ویسے ہی کسی نے جھٹکے سے کھولا تھا دروازے کو اور وہ جو اس عمل کے لئے تیار نہ تھی سیدھا جا کر بیڈ کی سمت میں گری تھی۔۔
کیا ہوا بے بی ہمیں یہاں دیکھ کر اچھا نہیں لگا؟
ایک لڑکا اس کو زمین پر گرا دیکھ کر بولا تھا جس کی آنکھیں ان کے ہاتھ میں موجود چاکو دیکھ کر ہی کھل چکی تھی ۔۔۔
ت۔۔تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلے جاو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔
خود میں ہمت جمع کرتے بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہا! ہمارے ساتھ اچھا نہیں ہو گا یا تمہارے ساتھ ؟ ویسے ٹھیک نہیں کیا ہمیں سب کے سامنے بے عزت کر کے۔۔
پہلے تم نے کیا اب ہماری باری کہتے ہی اس نے قدم اس کی جانب بڑھانے چاہے تھے لیکن حاضر دماغی کے ساتھ دعا نے ٹیبل پہ رکھی تیل کی بوتل کھول کر آہستگی سے زمین پہ پھینکی تھی جس سے آگے بڑتا لڑکا بہت برے طریقے سے سلپ ہوا تھا
موقع کا فائدہ اٹھا کر وہ روم سے تیزی سے نکلی تھی جبکہ غصے کی شدت میں اس لڑکے ہاتھ میں موجود چاکو گھوما کر پھنکا تھا جو دعا کے بازو کو چیرتا آگے نکل گیا ۔۔۔
اس لڑکے کا ساتھی جو فلیٹ کے باہر کھڑا سائد پہرا دے رہا دعا نے اس کی نظروں سے بچ کر نکلنا چاہا تھا۔۔لیکن پہلے لڑکے کی چلاتی آواز پہ اسکی نظر بھاگتی ہوئی دعا پہ پڑ چکی تھی۔۔تبھی وہ دونوں ہی اس کے پیچھے گئے تھے۔۔۔
ہئے۔۔۔اسٹاپ یو ایڈٹ گرل۔۔۔۔
اپنی مخصوص زبان میں کہتے اسکو رک جانے کا کہا تھا مگر وہ ان کی آوازوں کو نظر انداز کرتے بھاگتی چلی جارہی تھی ۔انجان تھی وہ ان راستوں سے جہاں وہ رات کے اس لمحے اپنی عزت بچانے کو بھاگ رہی تھی۔۔
من میں دعائیں کرتی کسی کو مدد کے لئے پکار رہی تھی کہ تبھی سامنے سے ایک گاڑی آتی دیکھائی دی تھی ۔۔۔
س۔۔۔سیو ۔۔سیو می پلیز۔۔ہیلپ می۔۔۔
اکھڑتی سانسوں کے ساتھ بولتی وہ مقابل شخص کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔
جب کہ وہ پیچھے سے آتے لڑکوں کو دیکھ معملہ سمجھ گیا تھا۔۔تبھی دعا کو ایک سائڈ پہ کرتا ان لڑکوں کی جانب بڑا تھا جو اس کو دیکھ کر واپس پلٹ رہے تھے۔۔
وائے یو آر گوئنگ بیگ ؟؟
ان کو دیکھتا تیش سے دھاڑا تھا وہ آنکھیں یکدم سرخ ہوئی تھی اسکی ، سانسیں تیز رفتار سے چل رہی تھیں۔۔یہ منظر اسے کئی سال پہلے لے گیا تھا۔۔اس بارے میں سوچتے اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔سینے میں ایک آگ سی بھڑکی تھی۔۔۔
خود کے غصے پہ کنٹرول کرتا اب وہ دعا کی طرف پلٹا تھا۔۔
مس دعا رات کے اس پہر آپ یوں سڑکوں پہ کیا کر رہی تھیں۔۔؟؟
اس کے دائیں بازو کو غصے کی شدت سے جھنجھوڑ کر کہا تھا ضامن نے کہ یکدم درد سے اسکی سسکی نکلی تھی ۔۔
ضامن نے جب اپنے ہاتھ میں نمی محسوس کی تو ہاتھ کو دیکھا تھا جہاں دعا کے بازو سے خود رس کر اس کے ہاتھ کو بھگو رہا تھا جبکہ وہ بہادر آج اس کے سامنے خاموش آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔
دعا۔۔۔۔
پکار پہ دعا نے روئی روئی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا تھا جو کہ رونے کے باعث لال سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
چلو میرے ساتھ۔۔
ان نظروں سے آنکھیں چراتا وہ کہتا آگے بڑھ چکا تھا جبکہ وہ وہیں اس جگہ پہ اسٹیل کھڑی تھی۔۔۔
مس دعا لیٹس کم وی می۔۔
اب کے اس نے دانت پیستے ہوئے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے گاڑی میں بیٹھایا تھا۔۔اور زن سے گاڑی بھگاتا اپنے گھر میں لایا تھا۔۔
©©©
فیروز سائڈ پہ گیا وہاں پر ورکرز کو کام سمجھانے کے بعد ابھی آفس میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ گھر کے لینڈ لائن سے فون آیا تھا نجانے کیا کہا گیا کہ وہ سو کی سپیڈ سے بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔
آپ لوگ سب باہر جائیں مجھے اپنی بیوی سے اکیلے میں بات کرنی ہے؟
ان سب کو باہر نکالتا وہ دروازے کو اندر سے لاک کر چکا تھا پھر قدم بھرتا بیڈ پہ لیٹی مہر کے پاس آیا تھا۔۔۔
کتنے درد لے آئے ہیں ہم تو تیری چوکھٹ سے
اپنے غم چھپا لیں گے ہم جھوٹی مسکراہٹ سے
یہ کیسا مزاق ہے مہر؟
اس کے بائیں ہاتھ پہ بندھی پٹی کو دیکھ کر وہ غصے پہ قابو پاتے بولا تھا۔۔
یہ مزاق نہیں ہے حقیقت ہے۔۔۔میری تلخ زندگی کی حقیقت۔۔۔
مجھے دیکھ کر آپ کو اپنی پھوپھو کے ساتھ ہوئی نا انصافی یاد آتی ہے نا؟
میں نے اس وجہ کو ہی ختم کرنا چاہا تھا مگر شائد یہ زندگی بھی مجھے رسوا کروانا چاہتی ہے۔۔۔
اداس مسکان چہرے پہ سجائے وہ فیروز کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی ۔۔۔
اگر مرنے کا اتنا ہی شوق تھا تو مجھے بولتی نہ جانم میں یہ کام بغوبی انجام دیتا یوں خود اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔
اسکے پٹی بندھے ہاتھ کو اپنے ہاتھو میں لئے کہا تھا اس نے جبکہ مہر نے درد کو ضبط کیے چہرا پھیرا تھا اپنا۔۔
آنہاں۔۔وائفی یوں نظریں نہ چثراو زرہ ہم بھی تو دیکھیں کتنا ضبط ہے ہماری بیگم میں۔۔۔
اسکی لال آنسوں سے بھری آنکھوں کو اپنی جانب کیا تھا جو کہ درد کی شدت کو برداشت کرنے کے باعث تھیں۔۔۔
دوبارا کبھی اگر ایسا گھناؤنا مزاق کیا تو فیروز شمس سے برا پوری زندگی میں تمہارے لئے کوئی نہیں ہو گا۔۔۔
اسکے جبڑے کو تھام کر چہرا اپنی جانب گھومایا تھا۔۔
آپ سے برا میں نے کوئی دیکھا بھی نہیں ہے۔۔۔
جھیل سی گہری آنکھوں کے ساتھ بہتے آنسوں کے ساتھ بولی تھی۔۔۔
فیروز نے ان آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں فلکوت عکس اسی کے چہرے کا تھا۔۔۔
جسے وہ جان کر نظر انداز کر گیا تھا۔۔۔
بھیگی بھیگی پلکوں میں عکس تیرا رہتا ہے
آنکھ سے جھلک جائے تو پیار تیرا بہتا ہے۔۔
مہر جو فیروز سے کسی اپنے پن کے احساس کی امید لگائے بیٹھی تھی لیکن۔ اسکا وہی کاٹ دار لہجہ محسوس کر کے اس کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچی تھی۔۔
آ۔۔آپ چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجھے کیوں زبردستی کے رشتے میں خود بھی بندھے ہیں اور مجھے بھی باندھا ہے کیوں برباد کر رہے ہیں ہم دونوں کی زندگیاں۔۔
م۔۔میں یوں گھٹ گھٹ کر نہیں جینا چاہتی !!
پلیز مجھے آذاد کر دیں اس قید ہے ۔۔۔
اب کے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑا تھا اسکے سامنے جبکہ وہ غصے سے لب بھینچ گیا تھا۔۔پھربنا اس کی حالت کا لحاظ کیے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ دوسرے روم میں لایا تھا۔۔۔
ساتھ ساتھ چلنے والے راہیں کیوں بدلتے ہیں
راہیں جب بدل جائیں تو راستے بھٹکتے ہیں۔۔۔
اپنے شوہر کو شدتِ جذبات سے چاہنے والی ، اسکی وفا شعار بیوی شہرِ خموشاں میں جا بسی ۔۔۔کیوں ؟؟؟ کیوں؟؟؟؟
جانتی ہو؟؟؟
صرف تمہارے باپ کی وجہ سے ، جو کہ میری انمول پھوپھو کی قدر نہ کر پایا ، کسی دوسری عورت کو لا بیٹھایا میری پھوپھو کی ہنستی بستی زندگی برباد کی ہے تمہارے باپ اور ماں نے۔۔۔
کیا وہ عورت نہیں تھی ان کا دل ، ان کے جذبات نہیں تھے؟؟
کیا نہیں تھے ہاں؟؟
وہ چلا کر بول رہا تھا جبکہ مہر ابھی تک سناٹوں کی ضد میں تھی سامنے لگی تصویر کو دیکھ کر۔۔۔
ی۔۔۔یہ آ۔۔آپ کی پ۔۔پھوپھو..؟
وہ حیرت کی زیاتی سے بولی تھی ، اس کو سانس بھی بمشکل آ رہا تھا۔۔۔
ہنہ۔۔جن کی زندگی تباہ و برباد کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تمہارے باپ نے۔۔
