Rukht-e-Naseeb (Dasht-e-Harjai Season 2) by Sara Arooj NovelR40483 Rukht-e-Naseeb Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Rukht-e-Naseeb Episode 12
Rukht-e-Naseeb by Sara Arooj
پہلے مجھ سے نفرت کا اظہار کیا ، میری خواہشوں کو میری محبت کو بے مول کیا آپ نے حازم ۔۔میرے جذبات میرے احساسات کو توڑا آپ نے،
لیکن جب میں اپنے دل کو سنبھال چکی تھی، احساس دلا چکی تھی کہ “میں آپکی نہیں” تب ۔۔۔ تب دوبارا آپ نے میرے دل کو اپنی جانب مائل کیا۔۔۔
کیوں؟؟
دوبارا رسوا کرنے کے لئے۔۔۔
سماہرا حازم کا کالر دبوچے سراپہ سوال بنی ہوئی تھی ۔۔
جبکہ حازم خاموش تھا اس کی آنکھوں میں موجود درد و تکلیف کو دیکھنے کے باوجود بھی۔۔
آپ نے اس لڑکی کی روح ،اسکی زندگی پہ گہری ضرب لگائی ہے اسکی بیٹی تک کو چیھن کر حازم وہ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،کبھی نہیں۔۔
آپ۔۔۔۔۔
بے وفا۔۔۔۔۔
ہرجائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں م۔۔میں۔۔سماہرا۔۔۔۔۔۔
وہ نیند سے بیدار ہوا تھا۔۔چہرا پورا پسینے سے شرابوز ہورہا تھا۔۔
آس پاس نظریں دوڑائیں تو وہاں نہ سماہرا تھی اور نہ اسکی پرچھائی۔۔۔
البتہ پہلو میں اس کی بیوی موجود تھی،جس کی خوبصورتی اسٹیٹس، ایٹیٹیوڈ کے نشے میں بہک کر اس نے محبت کرنے والی بیوی کو دھوکا دیا تھا۔۔
وہ سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تھا جب اپنی پشت پر روباب کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
حازم۔۔اس کے لئے خود کو برباد نہ کریں ، بھول جائیں سب کچھ ۔۔۔
بس اتنا یاد رکھیں آپ کے پاس آپکی بیوی موجود ہے جو کہ آپ سے بے انتہاہ محبت کرتی ہے اور آپ اس سے۔۔۔
حازم نے ان کے اپنے پاس سے دور کرنا چاہا تھا جب ان نے اپنا سر حازم کے کندھے پر رکھا تھا۔
میرے لئے آپ نے سماہرا کو ٹھکرایا تھا اور آج۔۔ آج اس کے لئے مجھے ٹھکرا رہے ہیں۔۔وہ بھول چکی ہے آپ کو ، بڑھ چکی ہے آگے تو آپ کیوں ہیں پیچھے۔۔۔
خاموش بیٹھے حازم کے چہرے کو اپنے قریب کیے سوال کیا تھا ان نے جو دونوں جے رشتے کو مزاق بنانے کے در پہ تھا۔۔
آپ کی روباب آپ سے بے انتہاہ محبت کرتی ہے ، وہ یوں آپ کو اداس نہیں دیکھنا چاہتی بس آپ مجھ سے بات کریں مجھے محسوس کریں ، ہماری محبت کو دیکھیں حازم ۔۔۔
اور پھر ہوا بھی یونہی تھا وہ روباب کی باتوں میں آ چکا تھا صرف چند لمحوں کے سکون کے لئے ، سماہرا کی یادوں سے راہ فرار کے لئے۔۔۔
کامیاب ہو چکی تھی اسکی بیوی اسکو اپنی جانب مائل کرنے میں ۔۔
انجانے میں ہی وہ پھر اس کی یادوں سے بے وفائی کر گیا تھا۔۔۔
©©
آپ کو آفس میں دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی مجھے۔۔۔
کمپیوٹر پہ چلتے دعا کے ہاتھ کچھ لمحے کے لئے ساکت ہوئے تھے ضامن کی بات پر۔۔
ورنہ اتنا کچھ ہونے کے بعد مجھے امید نہیں تھی کہ آپکو یہاں دوبارہ دیکھوں گا۔۔
ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے دوسرے سے کرسی کو تھامے کھڑا تھا وہ۔۔
کیوں میں نہیں آ سکتی؟
اب کے سوال دعا کی جانب سے کیا گیا تھا۔۔
نہیں مطلب اکثر لڑکیاں تو جاب چھوڑ دیتی ہیں ایسے اسکینڈلز پر ۔۔
مسٹر ضامن ۔۔دوسری لڑکیوں اور دعا میں بہت فرق ہے۔
دعا ایک خود اعتماد لڑکی ہے وہ لوگوں کے خیالوں کو سچ ثابت نہیں ہونے دے گی یہاں سے جا کر بلکہ ان کے خیالوں کو منفی ثابت کرے گی اپنے رویوں سے۔۔۔۔
اب کے دعا کرسی سے کھڑی ہوئی تھی اور مقابل کے روبرو آئی تھی۔۔۔
اسکا مطلب دعا بہت ڈھیٹ ہے۔۔
ضامن نے طنزیہ کہا تھا۔۔
نہیں۔۔وہ ایک مضبوط کردار کی مالک ہے کبھی اپنے کردار پر غلط بات برداشت نہیں کرے گی بلکہ غلط کہنے والوں کو منہ توڑ جواب دے گی اپنے رویے سے۔۔۔
مضبوط لہجے میں کہتی ضامن کو خاموش کروا گئی تھی ۔۔۔
ہمم۔۔۔اس کو تائیدی نظروں سے اسکو دیکھا تھا پھر بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا۔۔
©©
کانچ کے بنے ویل فرینشڈ آفس میں بیٹھا جہاں ہر چیز نفاست سے رکھی گئی تھی، وہ بیٹھا کسی غیر مرئی نقطے پر غور کر رہا تھا۔۔کہ فون کی بچتی مخصوص ٹون سے وہ خیالات کی دنیا میں لوٹا تھا۔۔۔
کسی انجان نمبر سے کوئی وڈیو موصول ہوئی تھی اسے ، چہرے پہ چھائے تاثرات کچھ پریشان زدہ سے تھے جب اس نے وڈیو اون کی تھی پھر دیکھتے ہی دیکھتے چہرے پہ غصہ ، غم ساتھ جھلکنے لگا تھا۔۔۔
حازم نے فوراً وڈیو بند کر کے کال ملائی تھی مقابل کو جسے دو بیلز کے بعد فوراً موصول کر لیا گیا تھا۔۔۔
کیسے ہیں سسر جی۔۔۔۔
مجھے امید تھی آپکی کال لازمی آئی گی۔۔
میری بیٹی کہاں ہے؟
یہیں ہے اپنے شوہر کے پاس ۔۔۔
چہرے پہ زہریلی مسکان سجائے پہلو میں بیٹھی مہر کی طرف دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں آنسوں آنا شروع ہو گئے تھے اپنے باپ کی آواز سن کر اور یہ آنسوں فیروز کو سخت برے لگے تھے۔۔
م۔۔۔میری بیٹی سے بات کرواو……
انہوں نے التجائیہ انداز میں کہا تھا۔۔۔
او۔۔۔بڑا تڑپ رہے ہیں یہ لیں کریں بات۔۔۔کہتے احسان کرنے والے انداز میں فون اس کو تھمایا تھا۔۔۔
پ۔۔۔پا۔۔۔پا۔۔۔!!!
بہتی آنکھوں کے ساتھ پکارا تھا اپنے باپ کو۔۔۔۔
م۔۔مہر۔۔۔میری بچی ۔۔۔۔وا۔۔واپس آ جاو پاپا کے پاس ، اگر اس شخص نے زبردستی شادی کی ہے تو ہم کیس لڑ لیں گے مگر لوٹ آؤ۔۔۔
حازم کی تمام بات فون سپیکر پہ ہونے کے باعث فیروز سن رہا تھا۔۔مہر نے ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں صاف وارننگ نظر آ رہی تھی۔۔
ن۔۔نہیں م۔۔میں نے خود ۔۔۔بس اتنا کہہ کر وہ رخ پھیر گئی تھی دل تو تھا کہہ دے باپ سے آ کر لے جاو اس قید سے مگر ساتھ بیٹھے فیروز کی وجہ سے کہہ نہ پائی تھی۔۔۔
جی تو سن لی آواز اپنی بیٹی کی سسر جی۔۔۔
ہنستے ہوئے کہتا ان کے زخموں کو ہرا کر گیا تھا۔۔۔
اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو تمہارے خلاف میں کمپیلن کروں گا۔۔وہ باقاعدہ دانت پیستے ہوئے بولے تھے۔۔۔
شوق سے کیجئے گا ۔
طنزیہ کہتے وہ فون بند کر چکا تھا اور ایک طائرانہ نظر روتی مہر پہ ڈالی تھی ۔۔
ایکٹنگ اچھی کر لیتی ہو۔۔آئی ایم امپریسڈ۔۔۔
آئبرو اچکا کر کہتا وہ داد دینے کے انداذ میں بولا ۔۔
لیکن۔۔۔یکدم اس کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔
اگر یہ بات ہم دونوں کے بیچ سے باہر نکلی تو بہتر نہیں ہو گا تمہارے لئے ۔۔۔
باپ کی آواز پہ آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو باخوبی دیکھ چکا ہوں ، اور یہ خوشی دوبارا ان آنکھوں میں نظر نہ آئے۔۔۔
دغا برداشت نہیں فیروز شمس کو ۔۔۔
جھٹکے سے اس کے وجود کو چھوڑتا نکلتا چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
آنسوں میں غم ملا کے
تم کو میرا دل دکھا کے
کیا ملا ہے یہ بتا مجھے۔۔۔۔۔
©©
نہ روح تھی جسم میں
نہ آنکھ میں خواب تھے
جو مر چکا ہے اسی کو مار دے
تیری وفا مطلبی ،
نظر ملا کر تو مجھے اپنے غرض کے جوے میں ہار دے۔۔۔
حازم وہیں روتے ہوئے زمین پی بیٹھا تھا وہ اس وقت صرف بے بس باپ لگ رہا تھا اتنا تو وہ جان چکا تھا یہ شادی اس نے اپنی مرضی سے نہیں کی ہے ورنہ کبھی وہ روتی نا۔۔اس کی آواز میں درد و تکلیف کو اس نے شدت سے محسوس کیا تھا حال کا ماحول ماضی میں لے جا کر پٹختا تھا اسے۔۔۔
کون ہے وہ شخص جو اس کی بچی کے پیچھے پڑ چکا تھا۔۔۔
کیا یہ مکافات عمل تھا۔۔
اس کے کیے کی سزا۔۔۔۔
آہہہہ۔۔۔۔غصے سے بالوں کو نوچا تھا اس نے۔۔
وہ پاگل ہو رہا تھا۔۔
©©©
جی تو پیارے دوستوں۔۔
ہمارے کالج کے سپر اسٹار عرش سلمان اپنی خوبصورت آواز سے یہاں کا موسم۔بدلنے والے ہیں۔۔
ہوسٹ کی اس آواز کے ساتھ جہاں تالیوں کی آواز گونجی تھی وہیں سیکنڈ چئیر پہ بیٹھی آفرین کا ڈوپٹہ سیٹ کرتا ساکت ہوا تھا اور نظریں اسٹیج کی جانب اٹھی تھیں جہاں وہ دشمنِ جاں مائک ہاتھوں میں تھاما مسکرا کر سب کو دیکھ رہا تھا۔۔اچانک کی عرش کی نظریں آفرین کی گہری سیاہ آنکھوں سے ٹکرائیں تھیں۔۔۔
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھنے میں محو تھے ۔کہ۔ہوسٹ کی آواز سے ہوش میں آئے تھے۔۔۔
لیٹس اسٹارٹ یور سونگ۔۔۔۔
آنکھوں میں تیری
عجب سی عجب سی ادائیں ہیں
ہو آنکھوں میں تیری
عجب سی عجب سی ادائیں ہیں
دل کو بنادے جو پتنگ سا سے
یہ تیری وہ ہاویں ہیں
عرش آفرین پہ نظریں جمائے مسکراتے ہوئے سونگ گا رہا تھا۔جب کہ وہ خود پہ اس کی نظریں محسوس کیے کنفیوز ہو رہی تھی اس کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا عرش اسکے کالج کا اسٹوڈنٹ ہو گا۔۔۔
آئی ایسے رات ہیں جو
بھاہت خوشنصیب ہیں
چاہیں جیسے دور سے دنیا
وہ میرے قریب ہیں
کتنا کچھ کہنا ہیں
پھر بھی ہیں دل میں
ساول کہیں
سپنوں میں جو روز کہا ہیں
وہ پھر سے کہوں یا نہیں
گانے کے اس بول پر آفرین کی آنکھیں بھی بے اختیار اس کی جانب اٹھی تھیں۔۔
جو کہ اب دوسری جانب دیکھ رہا تھا۔۔ایک ستائش سی اسکی آنکھوں میں رونما ہوئی تھی۔۔۔
آنکھوں میں تیری
عجب سی عجب سی ادائیں ہیں
ہو آنکھوں میں ٹیریجب سی عجب سی ادائیں ہیں
دل کو بنادے جو پتنگ سا سے
یہ تیری وہ ہاویں ہیں
تیرہ ساتھ ساتھ ایشا
کوئی نور آیا ہیں
چاند تیری روشنی کا
ہلکا سا ایک سایا ہیں
تیری نظروں نے دل کا
کیا جو حسر اثر یہ ہوا
اب انمیں ہی دوب
کے ہو جو پار یہی ہیں دعا
آنکھوں میں تیری
عجب سی عجب سی ادائیں ہیں
ہو آنکھوں میں تیری
عجب سی عجب سی ادائیں ہیں
دل کو بنادے جو پتنگ سا سے
یہ تیری وہ ہاویں ہیں
سونگ کے ختم ہوتے ہی سب نے تالیاں بجائی تھیں ۔۔جسے عرش نے مسکرا کر سر کو۔خم کرتے وصول کیا تھا۔اب اس کی کوشش اس جھرمٹ سے نکل کر باہر جانے کی تھی جہاں کچھ دیر پہلے آفرین گئی تھی۔لیکن اپنے عقب سے آتی آواز پر وہ یکدم مسکرا کر پلٹا تھا۔۔
کین آئے ہیو یور آٹو گراف پلیز۔۔۔؟
عرش تو اسے اپنے اتنا قریب دیکھ کر آس پاس کو بھول چکا تھا۔۔۔
آفرین لانگ پیچ کلر کے سوٹ پہ سائڈ پہ ڈوپٹہ ٹکائے سادی سی جیولری پہنے عرش کا دل دھڑکا گئی تھی۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔
آفرین کی آواز اس کو ہوش میں لائی تو اس نے مسکرا کر ڈائری تھامی تھی ۔۔۔
پھر کچھ لکھ کر اس کی جانب بڑھائی ۔۔۔
مائے نیم از آفرین۔اینڈ آئے ایم یور بگیسٹ فین۔۔۔
آفرین نے ہاتھ آگے کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔
میں بھی۔۔
خواب سی کیفیت میں اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔۔
یس۔۔۔
آئی مین۔۔میں بھی اتنی خوبصورت لڑکی جو کہ میری فین ہے اسکا فین ہو چکا ہوں۔۔۔
اس کی تیاری کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا اس نے۔۔۔
عرش کے لہجے میں چھایا محبت کا پیغام اسکی دل کی دنیا ہلا گیا تھا۔۔
