Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Rooh e Mohabat (Last Episode)
Rate this Novel
Rooh e Mohabat (Last Episode)
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
صبح پہلی فلائٹ سے وہ لوگ کراچی واپس آئے تھے ان کے گھر پر تالا لگا تھا ارحم نے وقتی طور پر ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لیا تھا
ماہے نور قدم قدم پر اسکے ساتھ تھی اسے سنبھال رہی تھی یہ سب کیسے ہوا وہ خود بھی پریشان تھا کوشش کر رہا تھا سب کچھ ریکور کر لے۔۔
اکثر ٹینشن میں وہ ماہے کو بھی بے نقط سنا دیتا مگر وہ چپ کر کے سنتی اور پھر اسے گلے لگا لیتی اور پھر وہ سکون محسوس کرتا۔۔۔
تین مہینے ہوگئے تھے انہیں یوں دربدر ہوئے۔۔
ماہے اپنے اندر آئی تبدیلی محسوس تو کر رہی تھی مگر ہمت نہیں تھی کہ اسے کچھ بتا سکے
وہ صبح کا جاتا رات گئے تک ہی واپس آتا تھا
ایسے میں ماہے کو اس سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا
آج بھی تو تھکا ہارا گھر آیا تو ماہے نے اسکے آگے گرم گرم روٹی ڈال کر رکھی۔۔
کھانا کھا کر وہ کمرے میں آگئی تبھی ارحم کمرے میں آیا تھا
کیوں کر رہی ہو یہ بتاؤ ہاں؟؟ وہ غصے میں ایک دم اسکی طرف بڑھا تھا
ارحم میری جان کیا ہوا ہے آپ کو؟؟؟
کیوں چھوڑ کر نہیں جارہی ہاں کچھ بھی تو نہیں میرے پاس نا پیسہ نا گاڑی نا رتبہ جیسے سب چھوڑ گئے تم بھی چھوڑ جاؤ نا۔۔وہ ہزیانی انداز مین چیخ رہا تھا وہ اسکی کیفیت اچھے سے سمجھ رہی تھی
کیوں جاؤں چھوڑ کر ہاں آپ کو بتائیں کیوں جاؤں کیا میں بس آپ کی خوشیوں کی ساتھی تھی اب برا وقت پڑا تو چھوڑ جاؤں بھول جاؤں کس طرح بن کہے ہر خواہش پوری کی۔۔
اب میری باری ہے تو میں پیچھے ہٹ جاؤ کیوں اتنا کم صرف سمجھتے ہیں آپ مجھے میں نے محبت نہیں کی تھی مگر آپ سے خودبخود ہوگئی آپ کی ہنسی سے آپ کے غصے سے آپ کی آنکھوں سے آپ کے ہاتھوں سے آپ کے کپڑوں سے اپنی خوشبو سے تو کیسے چلی جاؤں ؟؟؟
آپ تو میرے جینے کی وجہ ہو کیسے چھوڑ جاؤں آپ کو بتائیں مجھے ایک وجہ بتا دیں چھوڑ جانے کے۔۔
اسکا گریبان پکڑے وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔۔۔
اب اگر ماہے آپ سے الگ ہوگی تو اس وقت جب اس کی زندگی ختم ہوگی سنا آپ نے جہاں بھی رکھیں گے خوشی خوشی رہ لونگی مگر آپکا ساتھ چاہیے بس۔۔۔۔
آپ ہونگے تو سب برداشت کرلوں گی تو یہ غربت کیا چیز ہے۔۔۔
کبھی کچھ نہیں مانگوں گی نا کپڑے نا زیور نا بڑا گھر صرف اور صرف آپ کا ساتھ چاہئے
اور وہ بس اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا
وہ واقعی سب سے الگ تھی اسے لگا تھا وہ بھی اسے چھوڑ جائے گی مگر یہ تو کچھ نہیں چاہتی اسے اپنی سوچ پر افسوس ہوا تھا غصہ آیا تھا
وہ ہمیشہ اسکی تکلیف کا باعث بنتا تھا
ماہے۔۔۔وہ ایک دم اسکی طرف بڑھا تھا
نہیں معاف کرونگی کبھی معاف نہیں کرونگی اس سب کے لئے آپ کو آئی سمجھ۔۔۔
اس پیچھے ہٹاتی وہ روتی ہوئی مڑی تھی تبھی زور کا چکر آیا وہ زمین بوس ہوتی مگر ارحم نے وقت رہتے اسے سنبھالا تھا۔۔۔
ماہے۔۔۔۔۔
ماہے کیا ہوا ہے یوں نا کرو آنکھیں کھولو ماہے پلیز۔۔۔۔ وہ دیوانہ بنا اس پر جھکا کہہ رہا تھا مگر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ اس کی بانہوں میں جھول رہی تھی اسے اٹھا کر وہ تیزی سے باہر نکلا تھا اب اسکا رخ اسپتال کی طرف تھا۔۔۔













وہ اسے لئے اسپتال آیا تھا اور اب۔ ے صبری سے ٹہلتا ڈاکٹر کے بلاوے کا انتظار کررہا تھا
جو اندر اسکی ماہے کا چیک اپ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔
اللہ کی پلیز مجھے معاف کردیں میں بیت گناہگار ہوں بس میری ماہے کو کچھ نہیں ہو پلیز اللّٰہ میں اب کوئی شکوہ نہیں کرونگا کوئی شکایت نہیں کروں گا آپ نے اس کی شکل میں مجھے اس دنیا کا بہترین تحفہ دیا ہے وہ مخلص ہے سچی ہے میں غلط ہوں میں معافی مانگتا ہوں۔ مجھے معاف کردیں اللّٰہ پلیز۔۔
وہ اپنے رب کی حضور گڑگڑا رہا تھا تبھی ڈاکٹر نے اسے اپنے کیبن میں بلایا تو وہ بے صبرا بنا جلدی سے اندر داخل ہوا تھا
جی ڈاکٹر۔۔۔
آپ۔۔۔
جی میں ان کا ہسبنڈ۔۔۔۔
دیکھیں آپ کی وائف بہت کمزور ہیں اوپر سے انہوں نے کسی بات کا صدمہ لیا ہے ان کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ یہ سب برداشت کر سکیں۔۔
مطلب میں سمجھا نہیں۔۔۔۔
وہ ناسمجھی سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا
آپ کی وائف ماں بننے والی ہیں کیا یہ بات آپ کو نہیں پتا؟؟ ڈاکٹر نے قدرے حیرانی سے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
اوو دیکھیں اب انکا بہت خیال رکھنا ہے کوئی ٹینشن نہیں دینی خوش رکھنا ہے۔۔
آئی ول ڈاکٹر۔۔۔
اب آپ لے جاسکتے ہیں انہیں۔۔
ڈاکٹر کے بولنے پر وہ اسے لئے باہر آیا تھا اس نے ماہے کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ ہاتھ چھڑاتی ٹیکسی میں بیٹھ گئی جب کے وہ شرمندہ ہوگیا
گھر آکر بھی وہ بنا بات کئے بستر پر لیٹ گئی
ماہے آئی ایم سوری پلیز مجھے معاف کردو میں نے غلط کیا بہت غلط۔۔
وہ پشیمان تھا
آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں عادت ہے مجھے آپ بے فکر رہیں میں ناراض نہیں ہوں۔
غصے سے بولتی وہ رخ پھیر گئی تبھی اسنے ایک جھٹکے سے اسے اٹھا کر اپنے روبرو کیا تھا
تم میری زندگی کی پہلی عورت ہو جس نے ہر حال میں میرا ساتھ دیا ہے مجھے چھوڑا نہیں برا نہیں کہا
مجھے بھروسہ کرنا سیکھایا ہے تم نے مجھے معاف کردو آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اسے بانہوں میں بھینچے وہ فریاد کررہا تھا
ماہے نے نرمی سے اسکے گرد حصار باندھا تو وہ پرسکون ہوا تھا
آنے والی صبح ان کے لئے خوشیاں لائی تھی ارحم اپنا کیس جیت گیا تھا اور اسے اسکی ساری پراپرٹی واپس مل گئی تھی اور یہ سب نے اپنے آنے والے بچے کے نام کیا تھا
زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر آگئی تھی وہ بدل رہا تھا وہ بدل گیا تھا روح سے کی گئی محبت نے اسے بدل دیا تھا۔۔۔
چھ سال بعد۔۔۔۔
اففف ان کا کیا کروں ارحم۔ ۔۔۔ کہاں ہیں آپ پلیز۔۔
اپنے بچوں کو دیکھ وہ روہانسی ہوئی تھی جنہوں نے پورا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا چھ سال میں چار بچے۔۔
وہ گھن چکر ہوگئی تھی ارحم کے سامنے شریف بنے وہ اسے تگنی کا ناچ نچا دیتے تھے مگر ان کی یہی شرارت اس گھر کی رونق تھی ارحم کا خاندان نہیں تھا اس کی خواہش تھی اسکا گھر ہو اس کے بہت سارے بچے ہوں۔۔۔
اور اب وہ اس کے بہت سارے بچوں کے بیچ بیٹھی ان کی شرارتوں پر ہنس رہی تھی کیونکہ جانتی تھی کبھی کبھی بچوں کے ساتھ بچہ بن کر ہی انہیں سمجھایا جاسکتا ہے۔۔۔
ختم شد
