Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Last updated: 11 February 2026
Rate this Novel
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
بارش اپنے زوروں پر تھی وہ کب سے شیلٹر کے نیچے کھڑی گاڑی کا انتظار کررہی تھی پریشانی اسکے ہر انداز سے بیاں تھی
افف کہا پھنس گئی ۔۔۔
سر پر ہاتھ مارتی اس نے گھڑی پر نظر دوڑائی۔۔
آج تو شامت پکی ہے۔۔۔
اسے جہاں کھڑے آدھا گھنٹہ ہونے کو آیا تھا آس پاس سے گزرتے لوگ آپ نا ہونے کے برابر رہ گئے تھے جو اسے مشکوک نظروں سے گھورنے میں مصروف تھے
منحوس ان کو دیکھوں کیسے گھور رہے وہ سخت نالاں ہوئی تھی
تبھی اس کے برابر ایک گندہ سا آدمی آکر بیٹھا تھا
اےے بلبل کہاں جانا ہے۔۔اس نے اپنے غلیظ دانتوں کی بھرپور نمائش کی تھی۔
اسکی نظروں سے خائف وہ تھوڑا پرے سرک گئی تھی
ایک رات کا کتنا لے گی دل خوش کردونگا تیرا ۔۔وہ آدمی ابھی بھی اپنی غلاظت سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔
وہ اسکی باتوں سے گھبرا کر ایک دم اٹھی تھی اور شیلٹر سے نکل گئی جبکہ اپنے پیچھے اسے مسلسل اسکی آواز آرہی تھی اب وہ چل کم بھاگ زیادہ رہی تھی
اففففف پلیز آج بچا لیں پلیز اللّٰہ۔۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی دعا کر رہی تھی۔۔
تبھی سامنے آنے والی گاڑی سے ٹکراتے بچی تھی
ٹائر بری طرح چڑچڑائے تھے وہ سامان چھوڑے وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی
اسے لگا شاید آج اسکی زندگی کا آخری دن ہے۔۔۔
تبھی وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے تیزی سے باہر نکلا تھا نظر سامنے زمین پر بیٹھے وجود کر پڑی تو وہ تھم سا گیا
براؤن شلوار سوٹ پہنے دوپٹہ سر کر جمائے بھیگی بھیگی سی وہ اس نے دل میں اتری تھی
آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔ اسے اپنے کہے لفظ اجنبی لگے تھے وہ کہاں اسے کہنےکا عادی تھا ۔۔۔۔
آواز سن کر اسنے پٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں
میں ۔۔میں زندہ ہوں مجھے یقین نہیں آرہا ہو بے قرار سے اپنے آپ کو چھو کر دیکھ رہی تھی یہ جانے بغیر کے اسکی ایک ایک ادا سامنے والے کے دل پر وار کر رہی ہے
تم ٹھیک ہو زندہ ہو اسکا ہاتھ تھام کر اٹھاتے وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا
شکریہ۔۔۔وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔
یوں روڈ پر پاگلوں کی طرح بھاگنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔۔
وہ ایک آدمی میرے پیچھے لگ گیا تھا مجھے ساتھ لے کر جانے والا تھا میری ماں نے کام سے بھیجا تھا اور میں یہاں پھنس گئی اب وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی۔۔
بات کرتے کرتے اسکے لہجے میں خوف سمٹ آیا تھا گہری جھیل سی آنکھوں میں اداسی دیکھ اسکا لہجہ چھلنی ہوا تھا وہ خود اپنی کیفیت سے انجان تھا۔۔۔
کچھ نہیں کہیں گی وہ تمھیں۔۔۔۔چلو میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔
آج وہ زندگی میں ہر وہ کام کر رہا تھا جو پہلے کبھی نہیں کیا اور اسکی آفر پر وہ ہونق بن گئی تھی فوراً نفی میں سر ہلاتی قدم پیچھے لئے تھے
وہ اسکا ڈر سمجھ سکتا تھا
بے فکر رہو تم محفوظ رہو گی۔۔اسنے اسے تسلی دی تھی۔۔
وہ مجھے ماریں گے۔۔وہ خوف سے کانپی تھی
کوئی کچھ نہیں کہے گا چلو ۔۔۔ وہ دونوں ہی بارش میں بھیگ گئے تھے اسے ناچاہتے ہوئے بھی اسکی گاڑی میں بیٹھنا پڑا تھا۔۔
اس کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی زن سے بھگائی تھی۔۔۔
