Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Rooh e Mohabat (Episode 06)
Rate this Novel
Rooh e Mohabat (Episode 06)
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
واپسی پر وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ بستر پر گرتے ہی ہوش وحواس سے بیگانہ ہوئی تھی
وہ کمرے میں آیا تو اسے دیکھتا مسکرا اس پر جھکا تھا
وہ جو گہری نیند میں تھی ایک دم گھبرا کر اٹھی تھی اور اسے خود سے دور کیا تھا
اور اسکے یوں کرنے پر وہ ایک دم اس کے بال مٹھی میں جکڑ گیا
اہ۔۔۔۔ ارحم۔۔۔۔ مجھے درد
مجھے بھی ہوا جب تم نے مجھے خود سے دور کیا۔۔۔دور ہونا ہے مجھ سے بتاؤ
وہ غصے سے پاگل ہورہا تھا۔
ماہے کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے
نیں۔۔
دور نہیں جانے دونگا ماردوگا تمہیں جان سے وہ پاگل ہوگیا تھا اسکا منہ دبوچے وہ سب فراموش کرگیا تھا۔۔
اسکے منہ چھوڑنے پر وہ بھاگ کر واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔
دروازہ کھولو ماہے۔۔۔ وہ دیوانہ ہو رہا تھا
نجیجن۔۔۔۔نہیں آپ ماروگے۔۔ ہچکیوں سے روتی وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور دوسری طرف وہ بالوں کو مٹھیوں میں بھینچے پورا کمرہ تہس نہس کرگیا۔۔۔












پوری رات واشروم میں بیٹھے بیٹھے اسکی کمر اکڑ گئی تھی
مگر وہ اتنا ڈر گئی تھی کہ اسکی ہمت ہی نہیں ہوئی باہر نکلنے کی
باہر سے آتی کھٹ پٹ پر وہ گھبراتی اور دبکی تھی جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ اب چلا گیا ہے تو اس نے ہمت کر کے کمرے سے باہر قدم نکالا تھا آج پھر اسے اپنا بچپن یاد آیا تھا۔۔
کیوں کرتے ہیں آپ ایسا ۔۔۔ کمرے کی حالت دیکھ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
مجھے معلوم کرنا ہوگا ایسا کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ جو آپ اس طرح ہوگئے ہیں۔۔
خود سے بولتی اس نے جلدی جلدی سے کمرہ صاف کیا اور باقی کام ملازمہ کو بولتی وہ سرونٹ کوارٹر کی طرف آگئی جہاں ارحم کی پرانی ملازمہ رہتی تھی۔
اسے دیکھتے ہی وہ اٹھ بیٹھی تو وہ ان کے پاس جاکر بیٹھ گئی
خیریت بیٹا آج آپ یہاں؟؟
اسے دیکھ وہ حیران ہوئی تھیں
جی اماں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔
کیسی بات؟؟ وہ پریشان ہوئی تھیں
مجھے ارحم کے ماضی کے بارے میں سب جاننا ہے وہ کیوں ایسے ہیں اتنے غصے والے بلکل بدل جاتے ہیں وہ
ان کو بتاتی وہ رودی تھی
بیٹا سنبھالو خود کو۔۔
اس بچے نے بہت کچھ سہا ہے اللّٰہ بس اسے صبر سے چھوٹی سے عمر میں بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں جبھی اسکی شخصیت مسخ ہوگئی ہے۔۔۔
اماں کے بولنے پر اس نے پریشانی سے انہیں دیکھا۔۔
آپ بتائیں نا مجھے مجھے سب جاننا ہے تبھی میں ان کے قریب ہو سکتی انہیں ٹھیک کرسکتی۔۔وہ ایک عزم سے بولی تو انہوں نے بات شروع کی تھی۔۔












روبی اور جمشید صاحب کی کو میرج تھی جمشید صاحب عمر میں بڑے تھے ان کا ایک ہی بیٹا تھا ارحم ان دونوں کا لاڈلہ مگر کچھ عرصے سے وہ اپنی ماں کی توجہ نہیں پا رہا تھا
وہ زیادہ تر اپنا وقت پارٹیز اور دیگر کاموں میں سرف کرتی ہیں وہ معصوم بچہ اپنی ماں کی محبت کے لئے ترستا رہتا۔۔
جمشید صاحب کو بھی اب کی عادت بری لگنے لگی تھی وہ انہیں سمجھاتے تھے مگر وہ مان کر نا دیں
تبھی ایک دن جب کوئی گھر میں نہیں تھا معصوم ارحم نے اپنی ماں کو اپنے ایک دوست نے ساتھ بیڈروم میں جاتے دیکھا وہ معصوم کہاں جانتا تھا کسی چیز کے بھی بارے میں
وہ ماں سے ملنے اوپر گیا تو اسکی ماں بنا لباس نے اس آدمی کی بانہوں میں جھول رہی تھی ۔۔۔
اسے دیکھ ایک دم بدحواس ہوتی اسے مارتی چلی گئی جبکہ وہ بچارہ اپنا قصور بھی جان نا پایا
اسے اتنا زردکوب کیا گیا کہ وہ ڈرا سہما رہنے لگا اسکی شخصیت متاثر ہورہی تھی روبی بیگم کا جب دل کرتا اسے مارتی اور جب یہ بات جمشید صاحب کو پتا چلی وہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھے
ان دونوں میں طلاق ہوئی تو جمشید صاحب بلکل خاموش ہوگئے اور ایک دن چپکے سے آنکھیں موند لیں۔۔۔
اس معصوم کی زمہ داری اس کی دادی نے سنبھالی مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا جارہا تھا تلخی اسکے اندر بڑھتی جارہی تھی
انہوں نے اسے بہت سنبھال کر رکھا تھا مگر وہ لڑکا تھا بری صحبت کا شکار ہوا اپنی ماں کا کیا اسے یاد آتا تو وہ یونہی پاگل ہوجاتا۔۔۔
پھر اسکی زندگی میں تنزیلہ آئی۔۔
جو اسے سب سے الگ لگی وہ ساتھ رہتے ایک دوسرے کا خیال رکھتے مگر اسکا ماضی جان کر وہ اسے چھوڑ گئی اسے کسی اور سے محبت ہوگئی تھی وہ ٹوٹا بکھرا اور برا بن گیا
اسے محبت لفظ سے نفرت ہوگئی اسکا دل کرتا سب تہس نہس کر ڈالے وہ پتھر بن گیا تھا اس پر کچھ اثر نہیں کرتا تھا وہ بنا فیلنگ والا انسان تھا اسے سب فیلنگ لیس کہتے تھے مگر اسے پرواہ نہیں تھی
وہ لوگوں کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا وہ شدت پسند بن گیا تھا
اکثر اپنے ماضی کو یاد کرتا وہ ہوش کھو بیٹھتا تھا تب اسے ملازم سنبھالتے تھے وہ دنوں کمرے سے نہیں نکلتا تھا
لوگ اسے پاگل سمجھنے لگے تھے مگر وہ پاگل نہیں تھا وہ اکیلا تھا اسے سہارا چاہیے تھا جو کوئی اسے کبھی دے ہی نہیں سکا
وہ دنوں بس پانی پر گزارہ کرتا زیادہ سے زیادہ سیگریٹ پیتا،لوگوں سے دور رہتا تنہائی پسند ہو جاتا اور نارمل ہوتا تو کام کام کام اس کے علاؤہ اسے کچھ نہیں سوجھتا تھا وہ مشین بن گیا تھا جسے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا
وہ لوگوں کے درد کو نہیں سمجھتا تھا اسے سب اپنی طرح بے حس لگتے تھے
اسی عورت ذات سے نفرت ہوگئی تھی۔
وہ ان کے نام تک سے چڑتا تھا ناجانے کتنی عورتیں اسکے پاس آتی تھیں مگر وہ آنکھ اٹھا کر انہیں نہیں دیکھتا تھا دھتکار دیتا تھا اسے نہیں چاہیے تھا کوئی اور پھر اس نے ماہے کو دیکھا تو لگا سب کچھ الگ ہے وہ خود پر سے اختیار کھو گیا اور بنا اسکی مرضی جانے اسے زندگی میں شامل کرگیا۔۔
جیسے جیسے وہ اسکی کہانی سنتی جارہی تھی اسکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے
