Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Rooh e Mohabat (Episode 05)
Rate this Novel
Rooh e Mohabat (Episode 05)
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
پورا وقت نا وہ خود سکون سے رہا تھا نا اسے رہنے دیا تھا وہ شرماتی لجاتی اسکی پناہوں میں پگھلتی جارہی تھی
جبکہ وہ تو انتہا کی حد تک بےباک تھا۔۔
ماہے نور نے اس کے بکھرے بال اپنے ہاتھوں سے سمیٹے تو وہ اسکا ماتھا چومتا برابر میں لیٹ کر اسکا سر اپنے سینے پر رکھ گیا
چاہے کتنا بھی ناراض ہو لینا ماہے مگر چھوڑ کر مت جانا مجھے۔۔۔
اسکا ہاتھ چومتا وہ بےبسی سے بولا تو اسکا ماتھا چوم کر مسکرا دی
آپ میرا مسکن ہیں آپ کے سوا اب ہے ہی کون اس دنیا میں میرا؟
آپ میرا گھر ہیں میرا دل ہیں میں کیسے رہ سکتی ہوں آپ کے بغیر وہ تھوڑے ہی وقت میں اسکی محبت میں ڈوب گئی تھی شاید محبت ایسی ہی ہوتی ہے بنا غرض کے۔۔۔۔۔













ان کی شادی کو مہینہ ہوگیا تھا وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا بہت محبت کرتا مگر معمولی سے بات کر اسکا اچانک موڈ بگڑ جاتا جس سے وہ اب پریشان رہنے لگی تھی اسے لگتا تھا ارحم کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے ورنہ اس جیسا پیارا انسان اچانک اتنا وحشی نہیں بن سکتا ۔۔
ملازموں سے وہ زیادہ بات نہیں کرسکتی تھی ارحم کی اس پر ہر پل نظر رہتی تھی
وہ اسے ایک پل بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا
اسے ڈر لگتا تھا اسکی ماں اور تنزیلہ کہ طرح ماہے بھی اسے چھوڑ جائے گی
مگر بھلا جو خود ساری ذندگی محبت کے لئے ترسی ہو وہ اپنا محبت بھرا آشیانہ چھوڑ کر کہاں جائے گی مگر ارحم اپنے دل کا کیا کرتا اپنی ماں کے بعد اسے دادی کے سنبھالا تھا مگر تنزیلہ کے بعد وہ بلکل ٹوٹ گیا تھا غلط صحبت میں رہنے لگا تھا
اور پھر ایک دن وہ اسے ملی اور اسکی زندگی میں بھونچال برپا کرگئی۔۔
وہ پہلی نظر کی محبت کا شکار ہوا تھا وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا مگر اسکی شادی کا سن کر وہ اپنے قابو میں ہی کہاں رہا تھا بھلا۔۔۔
اسے جو ٹھیک لگا اس نے کیا وہ اب ماہے کو کھونے کا نہیں سوچ سکتا تھا اسنے تو یہ بھی نہیں سوچا کہ ماہے کیا چاہتی ہے وہ خود غرض بن گیا تھا
وہ محبت کا مارا تھا اسے محبت سے ہی سدھارا جاسکتا تھا ماہے ہر ممکن اسکا خیال رکھتی تھی مگر کبھی کبھی وہ اس کی ایک غلطی کی بھی اسے کافی بھاری سزا دیتا اور پھر اسے کھونے کے ڈر سے پاگلوں کی طرح اس پر اپنی محبت کی بارش کرتا تھا
وہ نارمل بیہیو نہیں کرتا تھا وہ ایک قابل بزنس مین اندر سے مکمل ختم ہوچکا تھا۔۔۔












اسکا موڈ آج بہت اچھا تھا آج ارحم نے اسے باہر گھومنے لے جانے کا وعدہ کیا تھا اس لئے وہ سارے کام جلدی سے نمٹا کر اب تیار ہونے میں مصروف تھی جب سے وہ آئی تھی ارحم کے کام اس نے اپنے زمے لئے ہوئے تھے۔۔۔
اچھے سے تیار ہوکر اس نے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا تو خود ہی شرما گئی کتنی پیاری ہوگئی تھی وہ کالے رنگ کی کامدار فراک ہلکا میک اپ ڈائمنڈ جیولری جو ارحم نے اسے دلائی تھی وہ کہاں سوچ سکتی تھی اس سب کے بارے میں اوپر سے ارحم کی محبت نے ایک الگ ہی رنگ چڑھایا تھا
وہ کمرے میں آیا تو اسے یوں خود کو دیکھتے پاکر اسے اپنے حصار میں قید کیا تو وہ بے ساختہ مسکرا دی
اب ہم مکمل ہوئے ہیں ۔۔۔اسکے ہاتھ پر اپنے ہاتھ جماتی وہ آہستہ سے بولی تو وہ جھک کر اسکی کان کی لو چوم گیا
مجھ سے مت شرمایا کرو جان ارحم ہمارے درمیان شرما شرمی والی کوئی بات نہیں
اسکا رخ اپنی طرف موڑتا وہ اسکے لبوں پر جھکا تھا
ماہے نے بھی اپنی بانہیں اس کے گلے میں ڈالی تو وہ اسے خود میں بھینچ گیا
ارحم ہمیں جانا تھا نا۔۔
لبوں کو آزادی ملتے ہی ماہے نے اسے یاد دلایا تھا
اس کی بات پر وہ مسکراتا اسکا ہاتھ تھامے باہر آیا تھا
اسے وہ سب سے پہلے سی سائیڈ لے کر گیا تھا
پانی دیکھ تو وہ پاگل دیوانی ہوئی تھی ارحم تو اسے دیکھ دیکھ ہی پاگل ہوئے جارہا تھا کہ اتنا نایاب اور قیمتی موتی اسکا ہے بنا کسی ملاوٹ کے بلکل خالص۔۔۔
وہ ہنستی کھیلتی سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی
وہاں موجود کئی لڑکیوں نے ارحم کو اس نے ساتھ دیکھا اور جل گئی مگر وہ دیوانہ تو اپنی دیوانی کو دیکھنے میں مصروف تھا جیسے اس سے زیادہ ضروری کوئی دوسرا کام ہی نا ہو۔۔۔
وہاں سے ارحم کے منع کرنے کے باوجود اس کے گال گپے اور چنا چاٹ کھائی تھی اور اسے بھی کھلائی تھی وہ اسے خوش دیکھ کو خوش تھا پھر وہ اسے پورے کراچی کی ہر خاص جگہ لے کر گیا تھا وہ تو کبھی ایسے گھومنے نکلی ہی نہیں تھی اس نے لئے یہ سب بہت نیا اور انوکھا تھا ارحم تو بس اسکی خوشی میں خوش تھا آخر میں وہ اسے دو دریا لایا تھا
اتنے خوابناک ماحول میں دونوں نے ڈنر کیا تھا
تبھی واپسی پر وہ ایک بار پھر ساحل پر جانے کے لئے باضد ہوئی تھی ارحم کے لئے اس کی خوشی اہم تھی اس لئے وہ اسے لئے ساحل پر آیا تھا جہاں وہ اب اسکا ہاتھ تھامے ننگے پیر ساحل پر چلتی اس سے اپنے دل کا حال بیان کر رہی تھی
ارحم نے اسکے گرد بازو پھیلائے تو وہ پورے حق سے اس کے سینے سے لگی تھی سمندر کی موجیں ان کے پیروں کو چھوتی واپس لوٹ رہی تھیں
وہ خوش تھی بے حد خوش ایسا لگ رہا تھا وہ ہواؤں میں اڑ رہی تھی ارحم نے اسکے چہرے کر خوشی دیکھی تھی واپسی پر وہ بس اسی سب کے بارے میں بات کرتی رہی تھی جبکہ وہ آج صرف اسے سننا چاہتا تھا۔۔۔۔
