Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Rooh e Mohabat (Episode 04)
Rate this Novel
Rooh e Mohabat (Episode 04)
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
وہ کمرے میں آیا تو کمرے میں ملیجگا اندھیرا چھایا ہوا تھا اور وہ پری پیکر اس کے بیڈ پر پورے حق سے براجمان تھیں اسے دیکھتے اسکی دھڑکن بڑھی تھی
بھاتی قدم اٹھاتا وہ اسکے پہلو میں دراز ہوا تو اسکی پلکیں لزری تھیں
میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو تو کیوں میرا امتحان لینے کر تلی ہو پہلی نظر کی محبت ہو میری میرے دل کا حال بے حال کردیا ہے تم ان سب چیزوں کا حساب کون دیگا۔۔
اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسنے اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
لزرتی پلکیں کپکپاتے ہونٹ۔۔وہ دیوانہ ہوا تھا تبھی جھک کر اسکے ماتھے پر اپنے پر حدت لب رکھے تو اس نے ایک دم مٹھیاں کو بھینچا تھا
آنکھیں کھولو۔۔۔اس نے ایک حکم صادر کیا تھا
آنکھیں کھولو ماہے۔۔اس کے لہجے میں اب سختی در آئی تھی
ماہے کو اس کے لہجے سے خوف آیا تھا کبھی ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔
سامنے وہ مغرور شہزادہ پورے حق سے اس کر جھکا ہوا تھا
اسکی آنکھیں کھولنے پر اسکی آنکھوں پر لب رکھ گیا
نام پتا ہے میرا؟؟ اس نے کان کے قریب آتے اس سے سوال کیا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا تو وہ مبہم سا مسکرایا
ارحم۔۔۔۔
نام لو میرا۔۔۔ ایک اور حکم۔۔۔
ج۔۔جی اس نے تھوک نگلا تھا۔۔۔
میں نے کہا نام لو میرا۔۔۔
ارحم۔۔۔
اس نے بڑی دقعت سے اس نے نام لیا تھا تبھی وہ ایک دم اسکے ہونٹوں پر جھکا تھا اور پوری شدت سے اس نے اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی کہ وہ تڑپ اٹھی اسکی شرٹ مٹھیوں میں بھینچے اسکے خود کو اس سے چھڑایا تھا
مگر وہاں گرفت آہنی تھی۔۔۔
اسکے ہونٹوں کو آزادی دیتا اب وہ اسکی گردن کر جھکا تھا آہستہ آہستہ وہ اس پر پورا قابض ہوا تھا اور اس پر اپنی گرفت تنگ کرگیا تھا کہ وہ مظاہمت میں بھی نا کر سکی
لمحہ لمحہ گزرتی رات اسکے جنون کو پاگل پن میں بدل رہی تھی اور وہ مومی گڑیا تکلیف سے بے حال ہوتی خود کو اس نے رحم و کرم پر چھوڑے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں بھینچ گئی۔۔۔۔













صبح اسکی آنکھ موبائل کی بیل کر کھلی تھی مندی مندی آنکھیں کھولے اس نے ٹائم دیکھا جہاں صبح کے گیارہ بج رہے تھے اور پھر ایک نظر اپنے پہلو میں بکھری بکھری سی اسکی شرٹ پہنے سوئے ماہے پر پڑی تو وہ اس پر جھک کر اسکا ماتھا چومتا اٹھ بیٹھا جب کے موبائل کی آواز کر اسکی نیند بھی کھلی تھی
رات ارحم کی سرگوشیاں اسکو محبت کا احساس دلانا وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟؟
ارحم نے اپنی کمر پر اسکی نظروں کی تپش محسوس کی تو مسکرایا
اور اپنا رخ اسکی طرف کیا۔۔۔۔
اٹھ گئی میری جان؟؟
اسکے بال ہاتھوں سے سنوارتا وہ پیار سے بولا تو سر اثبات میں ہلا گئی
مجھے معافی مانگنی چاہیے تم سے مگر میں کیا کروں میں تو شاید تم سے بات کرتا مگر تمہاری شادی کا پتا چلا تو مجھے یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا میں جانتا ہوں تم اس سب سے خوش نہیں تھیں جبھی یہ کیا۔۔
کیا مجھے معافی۔۔۔
کیسی باتیں کررہے ہیں آپ؟؟مجھ سے معافی مت مانگیں آپ نے تو مجھے اس جہنم سے آزادی دلوائی ہے آپ تو میرے محسن ہیں مسیحا ہیں میں آپ کی شکر گزار ہوں اور آپ کوئی اجنبی نہیں ہیں میں جانتی ہوں آپ کو اس دن بارش میں بھی آپ کو پہچان گئی تھیں مگر اس وقت میں بہت ڈری ہوئی تھی
اسکا ہاتھ تھامے وہ اس پر اپنی محبت آشکار کرگئی وہ اسے اکثر اخبار و رسائل میں دیکھتی تھی وہ اسکا کرش تھا ان کی پہلی ملاقات جیسی تھی وہ بے حد پریشان اور ڈری ہوئی تھی…,
مجھے اچھا لگا تم نے سچ بولا مجھے سچ بولنے والے پسند ہیں جھوٹ سے سخت نفرت ہے مجھے۔۔
اسکے گال سہلاتا وہ مسکرا کر بولا تھا اب ریڈی ہوجاو پھر مجھے نیچے ملو
اسے بولتا وہ فریش ہونے چلے گیا
جبکہ وہ حیران سے اسے دیکھنے لگی کتنا عجیب رویہ تھا اسکا مگر اسکے پاس کوئی آپشن نہیں تھا کہ یہاں سے اب کہیں اور جائے اسے یہ رستہ نباہنا تھا ہر حال میں۔۔۔












وہ نیچے آئی تو ڈائننگ ٹیبل بیٹھا اسی کا ویٹ کر رہا تھا اسکے دئے لباس میں وہ دمکتی شہزادی لگ رہی تھی
ارحم نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس بیٹھایا تو جھکھکتی بیٹھ گئی
اتنی لوازمات اس نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھے تھے جتنے اس وقت اس ٹیبل پر موجود تھے
وہ ایک ایک کر کے اسے پتا نہیں کیا کیا سرو کر رہا تھا اسکے چہرے کی چمک ہی انوکھی تھی
ماہے نے پہلی بار اسے مسکراتے دیکھا تھا وہ مسکراتے ہوئے کتنا پیارا لگتا تھا ۔
ماہے کا ہاتھ غیرارادی طور پر اسکے گال پر گیا تھا۔۔۔
اس نے چونک کر اسے دیکھا تو وہ جھینپ کر ہاتھ ہٹانے لگی مگر وہ اسکا ہاتھ تھامتا لبوں سے لگا گیا
تو وہ شرما گئی تبھی ملازم کے آنے پر اس نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالا تو ارحم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بنا تھا
ایک دم اسکا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچے وہ بھڑکا تھا
آئندہ میرا ہاتھ جھٹکنے کی غلطی مت کرنا۔۔۔
غصے سے اسکا منہ چھوڑتا وہ لمبے ڈاگ بھرتا باہر نکل گیا جبکہ وہ آنسو بہاتی خود کو کوستی رہی۔۔۔












وہ کیبن میں بیٹھا سخت مضطرب تھا اس بچاری سے زبردستی نکاح کیا اور اب یہ سب اس کی بھی تو کوئی غلطی نہیں تھی وہ اتنی بولڈ نہیں تھی مجھے سمجھا چاہیے تھا خود کو سرزنش کرتا وہ پریشان ہوا تھا اگر وہ ناراض ہوکر چھوڑ گئی تو۔۔۔
اس کے دل میں ڈر کنڈلی مار کر بیٹھا تھا پوری میٹینگ وہ پریشان ہی رہا اور وہاں سے فارغ ہوتے ہی وہ گھر کے لئے نکلا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہیں وہ اسے چھوڑ کر نا چلی جائے۔۔
گاڑی سے اترتے وہ تقریباً بھاگنے کے انداز میں اپنے کمرے میں آیا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی
ارحم کی جان میں جان آئی تھی اسے سامنے دیکھ کر ۔۔
آگے بڑھ کر اس نے جلدی سے اسے گلے لگایا تھا اسکے گال چومے تھے وہ تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئی تھی مگر اتنی ہمت کہاں سے لاتی کہ اسے خود سے الگ کرسکے۔۔۔
بس اسکا لمس جابجا اپنے چہرے پر محسوس کرنے لگی۔۔
جو دیوانہ وار اس پر جھکا اسے چومنے میں مصروف تھا ۔۔۔
