Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh e Mohabat (Episode 08)

Rooh e Mohabat by Hoor Suleman

ارحم آپ تو مجھے کہیں گھمانے بھی نہیں لے کر گئے۔۔۔

وہ دونوں اس وقت لان میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے

تبھی اس نے منہ بسور کر شکوہ کیا تو وہ مسکرا دیا ۔

کہاں جانا ہے میری جان نے۔۔ہلکا سا جھک کر اس نے محبت سے پوچھا تھا۔

ہممم۔۔۔اس نے پرسوچ انداز میں اپنی تھوڑی پر انگلی رکھی

ارحم کو اس وقت کو ڈھلتی شام کا ایک بے حد خوبصورت منظر لگی تھی۔۔

وہاں جہاں بس خوشیاں یوں کوئی غم نا ہو آپ ہو میں ہوں ہماری محبت ہو۔۔۔

وہ ایک جذب سے آنکھیں میچ کر بولی تو وہ مبہوت سا ہوا تھا

بھلا وہ کہاں اس قابل تھا کہ اسے اتنا پیارا ساتھی ملتا۔۔

ایسی جگہ کہاں ہیں اب یہ بھی بتا دیں محترمہ۔۔

وہ زرا جھکا تو وہ دلفریب انداز میں مسکرائی تھی

آپ کی بانہوں میں۔۔۔ اس نے ہاتھ کر اپنا ہاتھ رکھے وہ سچائی سے گویا ہوئی

جبکہ اس کی بات پر وہ دل سے مسکرایا تھا۔۔

مجھے بھی وہی سکون ملتا ہے۔۔وہ اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بولا تھا

تو چلیں نا کہیں جہاں بس محبت ہی محبت ہو نا آپ کا غصہ نا کام لڑائی۔۔۔

ٹھیک ہے میری جان میں کل تک سارے کام سمیٹ کر ٹکٹ کرواتا ہوں۔

سچی میں ۔۔۔۔۔۔وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی

مچی میں۔۔۔وہ بھی اسی کی طرح بولا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔

زندگی کو اسے خود سہل کرنا تھا وہ اپنی زندگی جو کسی ماضی کی تلخی کی نظر کبھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

آج کا پورا دن اس نے اپنا کام ختم کرنے میں لگایا تھا وہ اسے پاکستان ٹور پر لے کر جانا چاہتا تھا مگر یہاں کام بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا

اس لئے سارے کام نبٹاتے نبٹاتے اسے کافی رات ہوگئی تھی۔۔

اس کے لئے گجرے لئے وہ گھر آیا تھا اندر داخل ہوتے ہی اسکی نظر صوفے پر موجود ماہے پر پڑی تھی جو شاید اسکا انتظار کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی اسے اس پر رج کر پیار آیا تھا

وہ کیوں اتنی اچھی تھی اسے بانہوں میں بھرے وہ اسے اوپر کمرے میں لایا تھا اسے بیڈ پر لٹائے وہ پیار سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

عورت کو لے کر اسکا نظریہ بدل رہا تھا وہ خود کو خوش قسمت تصور کررہا تھا

اگلی صبح بہت روشن تھی وہ دونوں جلد ہی اپنی منزل پر روانہ ہوئے تھے

ارحم نے بائے روڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا پورے راستے وہ اسکا دماغ کھاتی رہی تھی وہ یہ سب پہلی بار دیکھ رہی تھی اور وہ مسکراہٹ دبائے اس کا اشتیاق سے بھرپور چہرہ دیکھ کر سکون محسوس کررہا تھا

سفر طویل تھا ارحم نے راستے میں ایک ہوٹل میں گاڑی روکی تھی جہاں سے انہوں نے رات کا کھانا کھایا تھا

ارحم یہ کھانا تو بہت مزے کا ہے وہ چٹخارہ لیتے ہوئے بولی تو اسکی اس ادا پر عش کر اٹھا

میری جان یہ چاہے کتنا بھی اچھا کیوں نا ہو تمہارے ہاتھ کے کھانے جتنا لذیذ نہیں ہے۔۔

اوہو آپ کو تو بس میری تعریف کرنے کا موقع چاہیے یہ نا ہو اس تعریف سے کی پھول کر میں موٹی ہو جاؤں وہ ہنس کر بولی تو وہ سر ہلا گیا

کھانا کھا کر وہ ساتھ بنے سرائے میں آئے تھے کمرہ چھوٹا تھا مگر بے حد صاف ستھرا چھوٹا سا بیڈ سائیڈ ٹیبل اور ایک الماری اور دیوار گیر شیشہ۔۔۔

وہ تو یہاں کی ہی دیوانی ہورہی تھی

پوری رات اسکے سینے پر سر رکھے اس نے آنے والے دنوں کی پلاننگ کی تھی

اگلے دن وہ لوگ مری پہنچے تھے

ارحم آرام نہیں کرنا نا ۔۔ ارحم کو بستر میں منہ دئیے دیکھ وہ چٹخی تھی

تبھی اچانک سے ارحم نے اسکا ہاتھ تھام اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔

اور پھر اسے بنا کچھ کہنے کا موقع دیا وہ اپنی من مانی پر اتر آیا تھا

اور اسکا لمس پاتے ہی وہ بھی مدہوش ہوئی تھی۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

صبح وہ معمول سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی اور ارحم کو بھی اٹھا کر کھڑا کیا تھا

جو اب معصوم شکل بنائے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ ظالم بنی اپنی تیاری مکمل کر رہی تھی

ایسے مت دیکھیں رات آپ نے ترس کھایا تھا جو میں کھاؤ؟؟

تو بھئی میں نے تو آرام ہی کروایا تھا۔۔۔

لیکن میں نہیں کرواؤ گی چلیں اب۔۔

اسکا ہاتھ تھامتی وہ باہر بڑھی تھی اور پھر ارحم نے اسے نتھیاگلی اور کئی مشہور جگہیں دیکھائی تھیں۔۔۔

ارحم یہ کتنا خوبصورت ہے نا۔۔۔

سامنے بنے پہاڑ دیکھ وہ مبہوت ہوئی تھی۔۔

وہاں سے انہوں نے بہت کچھ کھایا بھی تھا اور اس نے اپنے لئے پیک بھی کروایا تھا

پورا دن گزار وہ واپس آئے تھے اگلے دن انہیں پھر آگے کا سفر کرنا تھا

اگلی صبح ان لوگوں نے آنسو جھیل کا دورہ کیا تھا پورا دن آس پاس کی وادی گھومتے وہ بس ایک دوسرے میں مدہوش تھے۔۔۔

ڈرائی فروٹس کے درخت دیکھ وہ حیران ہوئی تھی اتنے ساری پھلوں کے درخت اور وہاں موجود جھیلیں اور دریا۔۔۔

اسکا بس چلتا وہ تو وہی رہ جاتی ارحم اسے زبردستی اپنے ساتھ ہوٹل لایا تھا

تبھی اچانک ارحم کا فون بجا تھا جسے سن کر وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا

ارحم کیا ہوا ہے ارحم؟؟؟؟؟؟ وہ بدحواس سی آگے بڑھی تھی

سب ختم ہوگیا ہے نور سب کچھ۔۔۔

کیا ہوا ہے کچھ بتائیں گے؟؟؟

میرا بزنس ڈوب گیا گھر نیلام ہوگیا ہے میں سڑک پر آگیا ہوں نور۔۔۔۔

میرے پاس کچھ نہیں رہا۔۔۔

وہ رو رہا تھا نور کو لگا اسکا کلیجہ نوچ لیا ہو کسی نے۔۔

ارحم اللّٰہ پاک اور دیں گے آپ کیوں ایسے کر رہے آپ کو کچھ ہوا تو میرا کیا ہوگا پلیز ایسا مت کریں ہم آج ہی گھر کے لئے نکلتے ہیں پلیز روئے نہیں۔۔

اسے سنبھالتی وہ بیڈ تک لائی تھی۔۔

میں سونا چاہتا ہوں پلیز۔۔۔

ہاں آپ سوجاؤ۔۔

اسے سلا کر وہ وہی اس کے پاس بیٹھ گئی اور اسکے سر میں انگلیاں چلانے لگی اور یہ کرتے کرتے اسکی اپنی آنکھ بھی لگ گئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *