Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh e Mohabat (Episode 01)

Rooh e Mohabat by Hoor Suleman

بارش اپنے زوروں پر تھی وہ کب سے شیلٹر کے نیچے کھڑی گاڑی کا انتظار کررہی تھی پریشانی اسکے ہر انداز سے بیاں تھی

افف کہا پھنس گئی ۔۔۔

سر پر ہاتھ مارتی اس نے گھڑی پر نظر دوڑائی۔۔

آج تو شامت پکی ہے۔۔۔

اسے جہاں کھڑے آدھا گھنٹہ ہونے کو آیا تھا آس پاس سے گزرتے لوگ آپ نا ہونے کے برابر رہ گئے تھے جو اسے مشکوک نظروں سے گھورنے میں مصروف تھے

منحوس ان کو دیکھوں کیسے گھور رہے وہ سخت نالاں ہوئی تھی

تبھی اس کے برابر ایک گندہ سا آدمی آکر بیٹھا تھا

اےے بلبل کہاں جانا ہے۔۔اس نے اپنے غلیظ دانتوں کی بھرپور نمائش کی تھی۔

اسکی نظروں سے خائف وہ تھوڑا پرے سرک گئی تھی

ایک رات کا کتنا لے گی دل خوش کردونگا تیرا ۔۔وہ آدمی ابھی بھی اپنی غلاظت سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔

وہ اسکی باتوں سے گھبرا کر ایک دم اٹھی تھی اور شیلٹر سے نکل گئی جبکہ اپنے پیچھے اسے مسلسل اسکی آواز آرہی تھی اب وہ چل کم بھاگ زیادہ رہی تھی

اففففف پلیز آج بچا لیں پلیز اللّٰہ۔۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی دعا کر رہی تھی۔۔

تبھی سامنے آنے والی گاڑی سے ٹکراتے بچی تھی

ٹائر بری طرح چڑچڑائے تھے وہ سامان چھوڑے وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی

اسے لگا شاید آج اسکی زندگی کا آخری دن ہے۔۔۔

تبھی وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے تیزی سے باہر نکلا تھا نظر سامنے زمین پر بیٹھے وجود کر پڑی تو وہ تھم سا گیا

براؤن شلوار سوٹ پہنے دوپٹہ سر کر جمائے بھیگی بھیگی سی وہ اس نے دل میں اتری تھی

آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔ اسے اپنے کہے لفظ اجنبی لگے تھے وہ کہاں اسے کہنےکا عادی تھا ۔۔۔۔

آواز سن کر اسنے پٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں

میں ۔۔میں زندہ ہوں مجھے یقین نہیں آرہا ہو بے قرار سے اپنے آپ کو چھو کر دیکھ رہی تھی یہ جانے بغیر کے اسکی ایک ایک ادا سامنے والے کے دل پر وار کر رہی ہے

تم ٹھیک ہو زندہ ہو اسکا ہاتھ تھام کر اٹھاتے وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا

شکریہ۔۔۔وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔

یوں روڈ پر پاگلوں کی طرح بھاگنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔۔

وہ ایک آدمی میرے پیچھے لگ گیا تھا مجھے ساتھ لے کر جانے والا تھا میری ماں نے کام سے بھیجا تھا اور میں یہاں پھنس گئی اب وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی۔۔

بات کرتے کرتے اسکے لہجے میں خوف سمٹ آیا تھا گہری جھیل سی آنکھوں میں اداسی دیکھ اسکا لہجہ چھلنی ہوا تھا وہ خود اپنی کیفیت سے انجان تھا۔۔۔

کچھ نہیں کہیں گی وہ تمھیں۔۔۔۔چلو میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔

آج وہ زندگی میں ہر وہ کام کر رہا تھا جو پہلے کبھی نہیں کیا اور اسکی آفر پر وہ ہونق بن گئی تھی فوراً نفی میں سر ہلاتی قدم پیچھے لئے تھے

وہ اسکا ڈر سمجھ سکتا تھا

بے فکر رہو تم محفوظ رہو گی۔۔اسنے اسے تسلی دی تھی۔۔

وہ مجھے ماریں گے۔۔وہ خوف سے کانپی تھی

کوئی کچھ نہیں کہے گا چلو ۔۔۔ وہ دونوں ہی بارش میں بھیگ گئے تھے اسے ناچاہتے ہوئے بھی اسکی گاڑی میں بیٹھنا پڑا تھا۔۔

اس کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی زن سے بھگائی تھی۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

وہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے موجود اس کی سوتیلی ماں نے اسے بالوں سے پکڑا تھا

کہاں مر گئی تھی زلیل بے غیرت لڑکی۔۔

اہہ۔۔۔وہ درد سے کراہی تھی

حرام زادی بول کس یار سے مل کر آرہی ہے اسکے ہاتھ سے سامان چھوٹ کر گرا تھا مگر اس ظالم عورت کو پرواہ نہیں تھی اسنے آج بھی اپنا غصہ اس معصوم جان کر نکالا تھا ماں تو پیدا ہوتے ہی مر گئی تھی جبکہ باپ اسے اس سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ مر گیا تھا

تب سے وہ یونہی اسکا ظلم سہتی بڑی ہوئی تھی اور اب اٹھارہ سال کے ہونے پر وہ اسکی شادی اپنے بھائی سے کرنے والی تھی۔۔۔

وہ ماہے نور بچپن سے اب تک اس سب کی عادی بن گئی تھی مگر اب جو کل اسکے ساتھ ہونے والا تھا وہ اسے توڑ کر رکھ رہا تھا

کل جب وہ کمرے میں کام کررہی تھی تبھی اپنے پیچھے اس نے آہٹ سنی تھی

پیچھے راشد کھڑا مسکرا رہا تھا اسکی سوتیلی ماں کا بھائی اسکا منگیتر۔۔۔

کیا ہورہا ہے جانم۔۔۔اسکے یوں بولنے پر اسکا دل خراب ہوا تھا

وہ اسکے برابر سے گزر کے جانے لگی تبھی اسکی نازک کلائی اس موٹے سانڈ کے ہاتھوں میں آئی تھی

جو اسے اپنی طرف کھینچتا دیوار سے لگا گیا تھا۔۔۔

کہاں بھاگ رہی ہے بلبل۔۔۔ اسکے ماتھے سے لکیر کھینچا وہ اسکے ہونٹوں پر آکر رکا تھا

اسکا دل کیا اپنی جان کے لے۔۔۔۔۔

اس کے نازک ہونٹوں کو مسلتے وہ مدہوش ہوکر اس پر جھکا تھا تبھی وہ ایک دھکا دیتی باہر کی طرف بھاگی تھی دل تیز تیز دھڑک رہا تھا

سامنے سے آتی شکیلہ نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا

تبھی پیچھے سے غصے میں بھرا راشد باہر آیا تھا اور اسے بالوں سے پکڑ کر دھنک کر رکھ دیا تھا

چھوڑ دے راشد مر جائے گی۔۔۔۔

شکیلہ نے اسے چھوڑانا چاہا تھا

مرنے دے اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھے دھکا دینے کی…

مر تو اندر ۔۔اسے بھیج شکیلہ نے راشد جو گھورا تھا

صبر کرلے کچھ دن تیرے پاس ہی آئے گی

صبر ہی تو نہیں ہوتا شکیلہ کی بات کر وہ بے باکی سے بولا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

پورے آفس میں ٹھنڈک ہورہی تھی اے سی فل اسپیڈ سے آن تھا

جبکہ وہ اپنے اندر کی تلخی کم کرنے کے لئے سیگریٹ ہر سیگریٹ پھونک رہا تھا

وہ اس لڑکی کو چاہ کر بھی اپنے دل و دماغ سے نہیں نکال پارہا تھا

ماضی کی یادیں اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی مگر چھم سے اس لڑکی کا معصوم چہرہ اسکی نظروں میں آ جاتا وہ آہنی حالت سے پریشان بیٹھا اپنے اندر کی گھٹن باہر نکال رہا تھا

پریشانی سے ماتھا مسلتا وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔

نہیں میں اس سے محبت نہیں کرسکتا یہ عورت زات بھروسے کے قابل نہیں ہے

خود کو یقین دلاتا وہ تلخی سے بولا تھا۔۔۔

دروازے پر ہوتی دستک پر وہ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔

کم ان۔۔

اسکے بولتے ہی اسکا خاص آدمی اندر آیا تھا

بلایا تھا سر آپ نے۔۔۔؟؟ وہ مؤدب انداز میں بولا تھا

ہممم بیٹھو اشرف۔۔۔ مجھے تم سے ایک کام ہے مگر یہ کام بہت ضروری ہے مجھے معلومات چاہیے یہ ایڈریس ہے۔۔اس نے ایک چٹ اسکے آگے کی تھی

یہاں رہنے والوں نے بارے میں ایک ایک بات مطلب ایک ایک معلوم کرو اور کل تک مجھے بتاؤ وہ اپنی بات پر زور دیتا بولا تھا ۔۔۔

ہو جائے گا سر بے فکر رہیں۔۔

گڈ جاؤ کل اسی ٹائم ملو مجھے اور تم جانتے ہوں مجھے کام میں دیر پسند نہیں۔۔وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا تو اشرف سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھ گیا

کیسے کیسے تم ارحم خان نے دل میں اتر گئی کیسے۔۔۔ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے وہ بے بس ہوا تھا۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *