Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh e Mohabat (Episode 03)

Rooh e Mohabat by Hoor Suleman

اس چھوٹی سے گھر میں آج میں مکمل شور شرابہ تھا دلہن کو تیار کرنے کے لئے محلے کی ہی لڑکیاں آئی تھیں

وہ بےجان وجود لئے سب دیکھتی رہی تھی اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ کچھ بولتی سب چپ بیٹھی سب سہہ رہی تھی

اسے مکمل دولہن کا روپ دیا گیا تھا آج کے دن کے لئے راشد کی پہلی بیوی کا جوڑا اسے دیا گیا تھا

مکمل دولہن بنے وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی

تبھی بارات آنے کا شور اٹھا

ساری لڑکیاں بھاگ کر باہر بھاگی تھیں جبکہ اسکی ہتھیلیوں میں پسینہ آیا تھا اس نے پریشانی سے اپنے ہاتھ مسلے تھے

تبھی باہر سے ایک بار پھر شور کی آواز سنائی دی تھی کچھ انجان لڑکیاں اندر آئی تھیں اور اسے بے حد مہنگا اور نفیس جوڑا پہننے کو دیا تھا وہ بدحواس سی اندر گئی اور منہ دھو کر کپڑے بدل کر آئی تھی اندر آئی لڑکیوں نے ایک بار پھر اسے تیار کیا تھا ہر چیز بے حد نفیس و قیمتی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے ہوش تو تب آیا جب وہ لڑکیاں اسے لئے باہر آئیں

اپنے سامنے راشد کے زخمی وجود کو دیکھ اس نے چھکے چھڑے تھے جب کے ایک طرف روتی دھوتی اسکی ماں اسے گھور رہی تھی اسے کچھ برا ہونے کا خدشہ ہوا تھا۔۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

وہ دروازہ دھاڑ سے مارتا اپنے آدمیوں نے ساتھ اندر آیا تھا اتنے امیر کبیر آدمی کو دیکھتے وہاں ہر کوئی مرعوب ہوا تھا مگر ہوائیاں تب آتی جب اس نے ایک حکم کر اسکے آدمیوں نے راشد کو دھنک کر رکھ دیا تھا جبکہ بیچ بچاؤ کے لئے آتی شکیلہ بھی ساتھ آئی عورتوں کا شکار بنی تھی۔۔۔

اس نے ایک اشارے پر لڑکیاں عورتوں سے پوچھتی اسکے کمرے میں گئی تھیں اور ٹھیک ایک گھنٹے بعد اسے سنوار کر باہر لائی تھیں

وہ جو بے حس بنا بیٹھا تھا اس کو دیکھتا رہ گیا

لال رنگ کے بہت خوبصورت کام دار جوڑے میں فل میک اپ کے ساتھ اسکا حسن مزید نمایاں ہوا تھا جبکہ دوسری طرف اس اجنبی کو دیکھتی وہ بوکھلا گئی تھی

مگر اتنی ہمت کہاں سے لاتی کہ اپنا منہ کھولتی ماں اور راشد کا حال دیکھ وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی یہ کس نے کیا ہے۔۔

اس کے پاس آتے ہی ارحم نے اسکے لئے اپنے پاس جگہ بنائی تھی

بنا چوں چراں نکاح کرو میں کوئی مظاہمت برداشت نہیں کرونگا اسکے کان میں سرگوشی کرتا وہ اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا کرگیا تھا

نکاح شروع کریں۔۔ اسکی آواز میں اتنا رعب تھا کہ کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ بیچ میں بول سکے اس نے مری آواز میں قبول ہے کہا تھا

وہ جو اپنے نصیب سے نالاں تھیں اچانک اس افتاد کر سنبھل بھی نہیں پارہی تھی کہ اسے جھٹکے ہر جھٹکے مل رہے تھے وہ انسان جسے اس نے اپنے خوابوں میں آنے کر بھی پابندی لگا تھی آج پورا کا پورا اسکا تھا۔۔۔

مگر یہ سب اتنا عجیب انداز میں ہورہا تھا کہ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی ہاں اسنے شکر ادا کیا تھا کہ اس موٹے سے جان چھوٹ گئی تھی۔۔۔۔

نکاح ہوتے ہی وہ اٹھ کر راشد نے سامنے گیا تھا اور اسکا گریبان پکڑ کر جھٹکے سے اسے اوپر اٹھایا تھا

درد کی شدت سے اسکی چیخ نکلی تو وہ استہزایہ ہنسا تھا

کیا ہوا تکلیف ہورہی ہے ؟؟؟ بڑا ضعم ہے نا اپنے مرد ہونے پر اتنی بھی تکلیف برداشت نہیں وہ غرایا اور ایک مکا کھینچ اسنے منہ پر مارا اور مارتا ہی گیا

شکیلہ کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں مگر سب بے حس بنے تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔

رخصتی کرو۔۔۔ ایک حکم دیتا وہ باہر کی جانب بڑھا

تو ساتھ آئی لڑکیاں اسے ساتھ لئے آگے بڑھی تھیں

میرا سامان۔۔۔وہ بوکھلائی تھی

میم وہاں سب سامان موجود ہے آپ آجائیں

اسکا ہاتھ تھامتی وہ اسے باہر لائی تھیں جہاں وہ گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا

اسکے برابر میں بیٹھتے ہی اس نے گاڑی بڑھانے کا حکم صادر کیا تھا۔۔۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

گاڑی اپنی منزل پر رواں دواں ایک پر آسائش بنگلے کے آگے رکی تھی

ماہے نے حیران نظروں سے وہ محل نما بنگلہ دیکھا تھا ایسا تو بس اس نے سوچا ہی تھا

باہر آؤ ۔۔

اسے حکم دیتا وہ اندر بڑھ گیا جبکہ اس کے یوں رویے پر اسکا دل بجھا تھا پتا نہیں کیوں وہ اسے لایا تھا

اب تو دل میں عجیب طرح کے وسوسے آنے لگے تھے ہول اٹھنے لگی تھی۔۔۔

ان لڑکیوں کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی تھی دل زور زور سے دھڑک رہا تھا

سامنے بے حد وسیع خوبصورت لان دیکھتی وہ مرعوب ہوئی تھی

جیسے جیسے وہ اندر جارہے تھے اسکی حالت بگڑتی جارہی تھی

اور جیسے ہی اسے اندر لے جایا گیا وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تھی

ساتھ کھڑی لڑکیاں ایک دم گھبرائی تھیں۔۔۔

جبکہ اندر موجود ارحم ان کی آواز پر بھاگتا باہر آیا تھا اور اسے یوں بے ہوش دیکھ اس کے ماتھے پر شکنیں پڑی تھیں

تم لوگوں کے گھورنے سے یہ ہوش میں نہیں اجائے گی

ان سب کو چھڑکتا وہ اسے بانہوں میں بھرتا لمبے ڈاگ لئے سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔

اسکا کمرہ بے حد خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا اسے بیڈ کے بیچ لڑا کے وہ ایک دم اس پر جھکا تھا

کتنی پیاری تھی وہ۔۔۔اسکا ایک ایک نقش حفظ کرتا وہ دیوانہ ہوا تھا

دل میں کئی جذبات ایک ساتھ جاگے تھے مگر اسے ہوش میں لانا ضروری تھا اس لئے لڑکی کو اندر بھیجتا وہ خود باہر آگیا

بہت مشکل تھا خود پر ضبط کرنا۔۔

تھوڑی دیر بعد اس لڑکی ماہے نور کے ہوش میں آنے کی خبر اسے دی تھی تو وہ تھوڑا ریلکس ہوا۔

اس کے لئے کھانے کا بول وہ خود اسموکنگ روم میں گیا مگر آج سیگریٹ پینے کا دل ہی نہیں تھا

شام سے رات ہوگئی تھی وہ اب بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا جہاں موجود معصوم وجود اسکے ڈر سے آنکھیں موندے پڑا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *