Rooh e Mohabat by Hoor Suleman NovelR50523 Rooh e Mohabat (Episode 02)
Rate this Novel
Rooh e Mohabat (Episode 02)
Rooh e Mohabat by Hoor Suleman
وہ بے حال سی اسٹور روم میں بند تھی درد سے جسم دکھ رہا تھا مگر اسے پھر بھی کام کرنا تھا محنت کرنی تھی اسکی سوتیلی بہنیں کچھ نہیں کرتی تھیں بلکہ سب وہی کرتی تھی اسے اٹھارہ کا ہوئے ابھی ایک دن ہی ہوا تھا
اور گھر میں اسکی شادی کی بات ہورہی تھی راشد پہلے سے شادی کر کے اپنی بیوی کو طلاق بھی دے چکا تھا مگر پھر بھی کسی نے اس سے شادی پر اعتراض نہیں کیا تھا وہ اس پر غلیظ نظریں رکھتا تھا وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی مگر بھاگنے کے لئے ٹھکانہ ہونا بھی ضروری ہے
تھک کر اس نے آنکھیں موندی تو اس مغرور شہزادے کا چہرہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آیا تھا اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تھی اسے حق نہیں تھا کہ وہ خواب میں بھی یہ سب سوچتی اسے اپنی قسمت کر جی بھر کر رونا آیا تھا۔۔۔
تھک گئی تھی وہ اپنی اس زندگی سے اسے برائے نام کھانا دیا جاتا تھا کپڑوں کے نام پر وہ اپنی بہنوں کی اترن پہنتی تھی پورا دن کولہوں کے بیل کی طرح کام میں جتی رہتی پھر بھی چھوٹی چھوٹی بات پر شکیلہ اسے مار مار کر ادھ موا کردیتی۔۔۔
وہ مر جانا چاہتی تھی مگر افسوس یہ بھی اس نے بس میں نا تھا۔۔
روتی تڑپتی بلکتی وہ اپنی ماں کو یاد کرنے لگی جس کی شکل بھی اس نے نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔
تبھی دروازہ زور زور سے بجا تو وہ ہمت کرتی جلدی سے دروازے تک آئی تھی سامنے شکیلہ اور اس کی چھوٹی بہن کھڑی تھی اسے دھکا دے کر اندر آئی
اور ایک شاپر اسکی طرف بڑھایا اس نے ناسمجھی سے اس شاپر کو دیکھا اور پھر انہیں۔۔۔
مایوں کا جوڑا ہے کل تجھے مایوں بیٹھانا ہے تیار ہوجانا میں تو خلاف تھی ان چونچلو کے مگر تیرا ہونے والا خصم زیادہ ہی باؤلہ ہوا جارہا ہے
منہ بنا کر بولتی وہ دونوں ماں بیٹی جیسے آئی تھیں ویسے ہی واپس چلے گئیں۔۔
جبکہ وہ ایک بار پھر اپنی قسمت کو رونے کو اکیلی رہ گئی تھی۔۔۔












وہ آفس کے لئے تیار ہوتا نیچے آیا تو ملازمہ نے اسے دیکھ کر جلدی سے ناشتہ لگایا ورنہ اسکا کیا بھروسہ کہ سزا دے دیتا ۔وہ اس عالیشان گھر میں اکیلا رہتا تھا
باپ کے انتقال کے بعد اس کی ماں اسے چھوڑ کر چلے گئی تھی اسکی پرورش اسکی دادی نے کی تھی مگر وہ اسے برے دوستوں کی صحبت سے نہیں بچا پائی تھیں اسکے دادا دادی نے اسے اس قابل بنایا تھا اسکا ملک میں ایک نام تھا پہچان تھی مگر اسکا غصہ وہ سب ناقابل برداشت تھا
دادا دادی کے انتقال کے بعد وہ اکیلا ہوا تھا وہ دوستوں کے ساتھ پرانی روش کر چلا گیا اپنی ویران زندگی کو اس نے سنوارنے کے لئے تنزیلہ سے شادی کا فیصلہ کیا مگر وہ اسے چھوڑ گئی کیونکہ اسے اس سے بیٹر آپشن مل گیا تھا اس کا عورت زات سے بھروسہ اٹھ گیا تھا اور اب اچانک ماہے نور کا اسکی زندگی میں آنا اسکی زندگی میں طوفان لایا تھا۔۔
اب تمہیں کوئی موقع نہیں ملے گا جو ہوگا میری مرضی کا ہوگا۔۔
خود سے بولتا وہ کورٹ کے بٹن بند کرتا باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
جہاں ڈرائیور نے اسے دیکھتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ پورے کروفر سے بیٹھا تھا اسکے بیٹھتے ہی گارڈز نے اپنی پوزیشن سنبھالی تھی۔۔۔
آفس میں اسکا الگ ہی رعب و دبدبہ تھا۔۔۔
اس نے آتے ہی آفس میں ہلچل مچ جاتی تھی۔۔۔












وہ سوگوار سی مایوں کے پیلے جوڑے میں بیٹھی تھی اس سادگی میں بھی اسکا حسن غصب ڈھا رہا تھا
ایک ایک کر کے محلے کی عورتوں نے اسکی رسم کی تھی ۔
معنی خیز سرگوشیاں،اسکے چہرے کر کوئی رنگ نا کا سکی وہ بت بنی اپنے ساتھ ہوئی کاروائی دیکھتی رہی دل بجھا ہو تو کہاں کچھ اچھا لگتا ہے
سوگوار سا حسن لئے وہ سب کی توجہ کا مرکز بنی بیٹھی
جاؤ بیٹا بچی جو لے کر جاؤ تھک گئی ہوگئی محلے کی ایک عورت نے اس کی جان بخشی کی تو شکر ادا کرتی اپنے کمرے(اسٹور روم) میں آئی تھی
اور پھر اتنا روئی کہ اسکی ہچکیاں بندھ گئی مگر یہاں کوئی اسکو چپ کروانے والا نہیں تھا وہ بے حال ہوتے یونہی روتے روتے نیند کی آغوش میں چھپ گئی۔۔۔۔












وہ اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا تبھی انٹر کام کر اسے اشرف نے آنے کی اطلاع ملی تھی
آجاؤ اشرف۔۔۔ اسے اندر آتے دیکھ وہ جام چھوڑ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا
کیا خبر لائے؟؟
سر اچھی خبر نہیں ہے۔۔ اشرف کی بات پر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے
جلدی بولو اشرف۔۔۔۔
سر وہ کسی علی صاحب کا گھر ہے ان کی ایک بیٹی ماہے نور ہے باقی سوتیلی بیٹیاں ہیں دو شکیلہ اپنی سوتیلی بیٹی ہر بہت ظلم کرتی ہے اور اب اس کی شادی اپنے طلاق یافتہ بھائی سے زبردستی کروا دیتی ہے اپنی بات مکمل کرتا اس نے ایک لفافہ اسکے آگے کیا تھا جس میں تمام افراد کی تصاویر موجود تھیں اس دشمن جان کی تصویر دیکھ کر وہ ٹھٹھکا تھا اتنا معصوم دل موہ لینا والا حسن۔۔۔
یہ کون ہے؟؟
سر یہ ماہے نور ہے کل ان کی شادی ہے ان پر بڑا ظلم ہے اور ۔۔
کل کس ٹائم ہے اسکی شادی۔۔ اشرف کی بات کاٹتا وہ پوچھ بیٹھا
شام میں نکاح ہے۔۔۔
کل اس کا نکاح ہوگا مگر مجھ سے تیاریاں مکمل کرو حکم دیتا اس نے اشرف کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ سر جھکا کر چلے گیا جبکہ وہ خود اسکی تصویر دیکھتا کہیں کھو سا گیا تھا
بہت جلد چرا لونگا تمہیں میں اپنے پاس قید کرونگا دنیا سے چھپا کر محبت سے اسکی تصویر دیکھتا وہ اسکی تصویر سینے سے لگا گیا
