Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh e Mohabat (Episode 07)

Rooh e Mohabat by Hoor Suleman

بیٹا پلیز انہیں مت بتانا کچھ۔۔۔

آپ بے فکر رہیں آپ کے اوپر کوئی نام نہیں آئے گا انہیں تسلی دیتی وہ باہر اپنے پورشن میں آئی تھی اسکے شوہر کی زندگی اتنی تلخ ہوگی اس نے سوچا بھی نہیں تھا بظاہر خوش دیکھنے والے لوگ اندر سے کتنے ٹوٹے ہوتے ہیں اس کا تو کس کو احساس نہیں ہوتا سب اپنی زندگی میں گم،کسی کی پرواہ کب کرتے ہیں ۔۔

وہ بھی ایک ٹوٹا ہوا شخص تھا جو دنیا کے سامنے مضبوط بنا رہتا تھا مگر آج ماہے کو احساس ہوا تھا کہ وہ اندر سے کتنا اکیلا ہے وہ ڈرتا تھا کہ کہیں وہ پھر سے اکیلا نا رہ جائے اس لئے وہ اکثر زیادتی کر جاتا تھا

آج اسکی حقیقت جانتے وہ بہت افسردہ سی ہوگئی تھی لمحے کو بھی اسکے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اسے چھوڑ جائے بلکہ اسے تو اب اپنے ارحم کو سنبھالنا تھا اسے اپنے ساتھ کا یقین دلانا تھا مگر یہ اتنا بھی آسان نہیں تھا

بچپن کے لگے زخم کو بھرنے میں ابھی بہت وقت درکار تھا زخم لگنے میں لمحہ لگتا ہے مگر اسے مندل ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں جتنا بڑا اور گہرا زخم وہ اتنا ہی درد دیتا ہے اسکا بھی غم بہت بڑا تھا جو اپنے نشان چھوڑ گیا تھا

انسان بعض اوقات خود کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر یہ ظالم دنیا سب ختم کر دیتی ہے اس انسان سے اسکے جینے کی وجہ تک چھین لیتی ہے یہ ظالم دنیا ہی تو ایک انسان کو جانور بننے میں مجبور کرتی ہے آج کل کی لڑکیاں دولت کی لالچ میں ابن آدم سے کھیلتی تو کہیں جسم کی لالچ میں وہ انسان بنت حوا کو نوچ ڈالتے۔۔

قصور دونوں کا برابر ہوتا مگر الزام صرف ایک طرف لگایا جاتا۔۔۔

اسکی تصویر دیکھتی اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسوں رواں ہوئے تھے اسے آہستہ آہستہ سب کرنا تھا اسے ارحم کی بیوی بعد میں پہلے دوست بننا تھا چاہے پھر اسے کتنا ہی کچھ برداشت کرنا پڑے۔۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

آفس کے کیبن میں وہ مضطرب سا بیٹھا تھا جانتا تھا کل جو ہوا غلط ہوا مگر وہ اپنے ڈر کا کیا کرتا۔۔

ماہے کو دیکھ وہ اسکی طرف اٹریکٹ ہوا تھا۔مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا وہ معصوم تھی سیدھی سادی مگر ناجانے کیوں اسے اپنا ماضی بھولتا ہی نہیں تھا

وہ جب جب بھولنا چاہتا اسکا ماضی پوری آب وتاب کے ساتھ اسکے سامنے آجاتا اور وہ انجانے میں اسے اذیت سے دوچار کردیتا۔۔۔

ابھی بھی وہ پچھتاوں کی زد میں تھا۔۔

کل کا رویہ یاد آیا تو ایک بار پھر ڈر غالب آیا کہ کہیں وہ چھوڑ کر نا چلی جائے اس لئے اپنا کام چھوڑ وہ اندھا دھند بھاگا تھا رش ڈرائیو کرتا وہ گھر پہنچا تو وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔

دل کو جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے چیرا تھا۔۔

ماہے۔۔اسکی آواز میں کتنا درد تھا

تبھی اسے اپنے سینے پر اس نے نرم ہاتھ محسوس ہوئے تھے

ماہے یہاں ہے ارحم۔۔محبت سے کہتے اس نے اسکی پشت پر اپنے لب رکھے تھے ۔

وہ بے یقین ہوا تھا۔۔

پلٹ کر اسے سینے سے لگایا جیسے اسکا یقین کرنا چاہتا ہو۔۔۔

میری جان تم ہو نا مجھے چھوڑ کر تو نہیں گئی نا۔۔

اسکا ایک ایک نقش چومتے وہ دیوانہ ہوا تھا

میں ہی ہوں ارحم میں نے کہاں جانا؟؟ میرا ٹھکانہ تو آپ ہی ہیں نا۔۔۔ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئے اس نے محبت سے کہا تھا۔۔

آئ ایم سوری جان میں بہت برا ہوں بہت درد دیتا ہوں نا اسکے چہرے کو چومتے اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔

ارحم۔۔۔اسکے چہرے پر نمی محسوس کرتی وہ تڑپ سی گئی تھی

نہیں۔۔۔روئے نہیں نا۔۔۔۔

اسکا ہاتھ تھامتی اسے بیڈ پر بیٹھائے اس نے محبت سے اسکے آنسوں صاف کئے تھے۔۔

میں ایک اچھا انسان نہیں ہوں ماہے مجھے سب چھوڑ جاتے ہیں تم بھی چھوڑ جاؤ گی میں جانتا ہوں ۔۔۔۔وہ تڑپ رہا تھا

کس نے کہا ماہے اپنے ارحم کو چھوڑ جائے گی ماہے کے ارحم کو بہت پیارے اور اچھے انسان ہیں ان کے جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں

اور ماہے وعدہ کرتی ہے ماہے اپنی آخری سانس تک اپنی ارحم کو نہیں چھوڑے گی اسکے ماتھے پر لب رکھے تو وہ سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔

اس نے جھک کر اسکی آنکھوں پر لب رکھے تھے آہستہ سے اسکے گال پر لب رکھے وہ اسکے ہونٹوں کے پاس آئی تھی اور تھوڑا جھجھکی مگر ہمت کر کے اسکے لبوں پر اپنے لب رکھے تو وہ دیوانہ ہوا تھا اسے مضبوطی سے تھامے بیڈ پر گرایا تھا وہ کٹی ڈال کی طرح اسکے سینے پر گری تھی اور وہ اس پر اپنی گرفت سخت کرتا چلا گیا

جبکہ وہ آنکھیں بند کئے اسے محسوس کرنے لگی۔۔۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

اس نے کروٹ لئے اپنے برابر میں لیٹے ارحم کو دیکھا جو تھوڑی دیر پہلے کی نیند کی آغوش میں گیا تھا اس نے محبت سے اسکے بال سمیٹے اور اس کے ماتھے پر لب رکھے وہ اسے بدل دے گی اپنی محبت کے رنگ میں رنگ دے گی اسے یقین تھا اس پر کمفرٹر ٹھیک کرتی اس نے اپنی شرٹ پہنی تھی

اور اٹھ کر کھڑکی پر آگئی شام کے سائے دور دور تک پھیل رہے تھے مگر اسکا دل روشن تھا کیونکہ اس نے کسی کی زندگی بچانے کا عہد کیا تھا اسے اپنے محبوب شوہر کو اس دنیا کی تلخی سے دور لے جانا تھا لیکن اس کے لئے اسے یہاں سے ارحم کو دور لے کر جانا تھا مگر کہاں۔۔

اسے ایسی جگہ دیکھنی تھی جہاں ماضی کی کوئی تلخی نا ہو وہ ارحم کو سب سے چھپا کر کہیں دور لے جانا چاہتی تھی اسکا دماغ تیزی سے تانے بانے بن رہا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا اس نے خود کو یقین دلایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *