Raahguzar by Mariyam Bibi NovelR50658 Raahguzar (Last Episode)
Rate this Novel
Raahguzar (Last Episode)
Raahguzar by Mariyam Bibi
تمہیں مجھ سے نکاح نہیں کرنا
وہ سر آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا
مج ے جانے دو میری ماں میرا انتظار کررہی ہوگی
پلیز وجدان تم مجھے چھوڑ
دو
وجیہہ نے آگے بڑھتے وجدان سے کہا
مینے تو تمہیں نکاح کا آپشن دیا تھا مگر تمہیں شاید قید ہونا اچھا نہیں لگا جیا
اسیلیے میرا فرض بنتا ہے کے تمہاری مرضی کو مان کر تم سے نکاح نا کروں
وہ اسکے بلکل قریب آکر بولا
شکریہ وجدان تمنے مان لی میری بات
اسنے تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پیچھے مڑی جب اسنے اسکا ہاتھ تھام لیا
ارے کہاں جارہی ہو میری بات تو مکمل ہونے دو
اسنے اسے پیچھے کھینچا جس سے وہ اسکے سینے سے جالگی
تم بولو جلدی اسنے اسسے پیچھے ہوتے کہا مگر اسنے دوبارہ اسے خود میں بھینچ لیا
وجدان
وہ کچھ بولتی اسنے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا
نا بہت بول لیاتمنے اب میں بولوں گا اور تم سنو گی
اسنے اسکا منہ دباتے کہا
مینے سوچا تھا کے تم سے شادی کرلوں گا۔تمہیں اپنی بیوی بنالوں گا۔بچے پیدا کروں گا
مگر تم قید ہونا چاہتی ہی نہیں تو میں کون ہوتا ہوں تمہیں قید کرنے والا
نا میری بات مکمل نی ہوئی جان
جیا بولنے لگی کے اسنے چپ کرادیا
ٹھیک ہے تم آجکل کی لڑکی ہو آزاد ہو تو اب میں بھی تمہیں آزاد ہی رکھوں گا
ہمیشہ کیلیے اپنے پاس
اپنی گرل فرینڈ بناکر
جیسے دوسری لڑکیاں رہتی ہیں میرے ساتھ میری قربت میں تم بھی رہنا
وہ خباست سے ہنسا
وجیہہ کا چہرہ سفید پڑ گیا
دفع ہوجاو میرے پاس سے تم تم بہت ہی گھٹیا ہو
نفرت ہے مجھے اپنے آپ سے کے مینے کبھی تمہاری مدد بھی لی تھی
لعنت ہو تم جیسے گھٹیا انسان پر
چھوڑو مجھے
وہ چلائی
چٹاخ
وجدان نے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پر جڑدیا
وہ بیڈ کے کنارے جا گری
اسکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا
وہ جلدی سے اسکے پاس آیا
اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھایا
وہ درد کی شدت سے کراہ اٹھی
آہ وجدان میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے جانے دو تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو ناں تو پلیز زبردستی مت کرو میرے ساتھ میری ماں سے میرا رشتہ مانگ لو
قسم کھا کر کہتی ہوں انکار نہیں کروں گی مگر عزت سے رشتہ مانگ لو
وجیہہ نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا
مانگ لوں
میں منگتا لگتا ہوں تجھے
اسنے اسے جنجھوڑا
مجھے اب تم سے شادی کرنی ہی نہیں ہے
نہیں کرنی تو مجھے جانے دو
وجیہہ نے منت بھرے لہجے میں کہا
ارے جان من تمہیں کس نے کہا کے شادی کے یا نکاح کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ہوتا
ہوتا ہے
آج سے بلکے ابھی سے تم میری رکھیل ہو
بس یہی رشتہ رہے گا تمہارے اور میرے بیچ میں
وہ اسکے قریب ہوا
وہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گئی تھی
جو لفظ وہ کبھی فلم میں بھی نہیں سنتی تھی آج وہ وہی بننے جارہی تھی
وہ پتھر کی ہوگئی تھی
اسکا جسم اوردماغ شل ہورہا تھا
جبکے وجدان اسکے قریب ہورہا تھا
اسکے دماغ میں بس اسکے اپنوں کے الفاظ گونج رہے تھے
میری بیٹی میرا مان ہے مجھے فخر ہے کے وجیہہ میری بیٹی ہے
یہ الفاظ رجا بیگم کے تھے
اللّٰہ تمہارے جیسی بہن ہر کسی کو دے
اسے کہیں کھائی سے ردا کی آواز سنائی دی
یقین مانو رجا اگر آج اسفر زندہ ہوتا تو جیا میری بہو بنتی
یہ الفاظ رانیہ بیگم کے تھے
میری بہن
میری بیٹی
میری بھتیجی
اسکے کانوں میں یہ الفاظ بار بار گھوم رہے تھے
تم میری رکھیل بنوں گی آج سے بلکے ابھی سے
اسے وجدان کے آواز سنائی دی
جو اسکا ڈوپٹہ ہٹارہا تھا
وہ اسکے گردن پر بوسہ دیرہا تھا جب اسے آواز آئی
میری بیٹی مان ہے میرا
میری بیٹی
اسکی ماں نے کتنے حق سے کہا تھا ناں کے میری بیٹی میرا مان ہے
وہ اسکی شرٹ کو چھونے لگا جب اسنے اسے زوردار دھکا دیا
پتا نہیں اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی
وہ دور جاکر گرا
اسنے نیچے سے اپنا ڈوپٹہ اٹھایا
اسنے ڈوپٹہ سر پر لیا
وجدان بھی اٹھ کھڑا تھا
تمہارے پاش اب کوئی آپشن نہیں ہے
وہ طنزیہ ہنسا
میرے پاس آپشن ہے
اسنے آنکھوں میں آئے آنسووں کوصاف کیا
اور بیڈ کے پاس پڑے پسٹل کو دیکھا
اسنے دیکھا کے وہ پسٹل اٹھارہی ہے اسیلیے آگے بڑھا
لیکن تبتک وہ اٹھا چکی تھی
آگے مت بڑھنا سمجھے اسنے اسپر پسٹل تان کر کہا
وہ وہیں رک گیا
دیکھو تم مجھے مار کر بچ نہیں سکتی ہو
اسنے اسے دھمکایا
صحیح کہا تمنے میں بچ نہیں سکتی
تم نا سہی تمہارے دوست جو باہر بیٹھے ہیں میری عزت لوٹ لیں گے
یہی ناں
مگر وجدان میں ایک عورت ہوں مجھے اپنوں کا مان رکھنا ہے
مجھے میری ماں کا مان نہیں توڑنا
مجھے اپنی عزت بچانی ہے
چاہے وہ مرکے ہی کیوں نا ہو
اور ویسے بھی مجھے میری غلطی کی سزا جو مجھے ملی ہیکے کسی راہ گزر پر اعتبارکیا
اسکی مدد لی
مجھے کیا کسی کو بھی راہ گزر پر اتنا اعتماد نہیں ہونا چاہیے
مجھے تمسے نفرت ہے اور مجھے میری ماں کا مان بھی رکھنا ہے
مجھے اپنی عزت بچانی ہے
میرےمرےہوئے وجود سے تو تم اپنی ہوس پوری کرنے سے رہے
وہ جو اسکی باتیں سنرہا تھا اسکے مرنے کی بات سے وہ پریشان ہوکر آگے بڑھا
مگرتب تک دیر ہوچکی تھی
وجیہہ کامردہ وجود زمینبوس ہوچکا تھا
وجیہہہہہ
وہ ترپ کے لپکا
اسکا سر اپنی گود میں رکھا جہاں اسنے گولی ماری تھی
کیوں کیا تم نے ایسا
میں تمسے پیار کرتا ہوں جیا
تمنے ایسا کیوں کیا
میں تو تمہیں ڈرانے کیلیے
اور تمنے اپنی جان ہی
وہ سے پکار رہا تھا مگر اسکے وجود میں جنبش بھی نا ہوئی
وہ بے حس بے حرکت
پڑی رہی
تمھارے سینے میں دل نہیں ہے
تمھیں زرا بھی رحم نہیں ہے مجھ پر جب میں کہہ رہا ہوں اُٹھو تو کیوں نہیں اُٹھ رہی تم
اُٹھو
پلیز بیکار کے ڈرامے مت کرو
اب وہ نخوت سے بولا
سمجھ نہیں آرہی
تمہیں
ماروں تو عقل آئے گی تمھیں
پیار کی زبان تو سمجھ آتی نہیں ہے نا
ہے نا اگر آتی تو ایسے نہ کرتی تم
اسے پتا نہیں چلا کب ایک نھنھا سا آنسو اس کے خون سے لت پت چہرے پر جذب ہوگیا
ہاتھ جوڑوں تمھارے
کچھ تو بولو
وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑرہا تھا
اس سے آگئے کچھ کہا نہیں جارہا تھا
کچھ اٹک گیا تھا اسسے حلق میں
کیا ہوا تھا اسے سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا
کم سے کم اُٹھ نہیں سکتی تو کچھ بول تو دو
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا
مانتا ہوں مینے تمہیں دکھ پہنچایا ہے
مگر
اب اس کی آواز بھیگی تھی
معاف کرو وجیہہ مجھے
وجدان زاروقطار رورہاتھا
گولی کی آواز سے اسکا دوست بھی آگیا تھا
جووجدان کو سنبھالنے لگ گیا
@@
ایک سال بعد
وجی کھالو ناں پلیز
اقراء بیگم نے اسےزبردستی بریانی کھیلاتے کہا تھا
جبکے وہ منہ کھول ہی نہیں رہاتھا
آخر وہ بھی تنگ آکروہاں سے چلی گئیں
بیشک وہ ماں تھیں مگراپنی نافرمان اولادکو اس حال میں دیکھ کرانہیں کوئی فرق نہیں پڑتاتھا
وجیہہ کی موت نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا
ایک سال پہلے جب وہ اسے قبر میں اترتا دیکھ رہا تھا تب اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا
اور وہ زمین بوس ہوگیا
ڈاکٹر نے کہا تھا کے شدید پریشانی کی وجہ سےاسےفالج ہوگیاہے
اور آج ایک سال میں
وجدان اکرام ٹوٹ چکا تھا
ٹوٹتا بھی کیسے ناں
اتنے دل جو توڑ چکا تھا
آج اسکی جو حالت تھی اس سے بہتر کتے کی ہوتی ہے
اکرام صاحب تو اسے اس حالت میں دیکھ کر ایسے گرے کےاٹھ ہی نا سکے
انکی موت کو بھی گیارہ ماہ ہوچکے تھے
تب سے اقراء بیگم کو اسکی کوئی پرواہ ناتھی
وہ ماں جو اسکے صدقے واری جاتی تھیں
آج بمشکل اسے دو وقت کا کھانا کھیلانے آتیں یا کبھی کبھار وہ بھی نوکروں کے ذمے ہی لگادیتی
وجدان توجہ نا ملنے کے باعث چپ ہوگیا تھا
وہ چین سے سویا نہیں تھا تب سے
وجیہہ کا چہرہ ہی اسے ہمیشہ نظر آتا تھا
اسکی اتنی بری حالت تھی مگر پھر بھی نا مرا
کیونکے اسنےمحبت ہمیشہ جسم سے ہی کی تھی
اگر اسے روح سے محبت ہوتی تو وہ بھی اسکے ساتھ ہی مرجاتا
ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺎﺷﻖ
ﺑﺎﺕ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ
اس لڑکی نے اپنی عزت اور اپنوں کا مان بچانے کیلیے اپنی جان تک قربان کردی
ہم سوچتے ہیں کے اسنے خودکشی کی ہے اسکی کہاں بخشش
مگر یہ بھی تو سوچیں کے اسنے اپنی عزت بچالی تھی
بےداغ خودکشی کی موت مرنا بہتر ہے داغ دار ہوکر جینے سے
اور وہ لڑکا جو عورت کو پیر کی جوتی سمجھتا تھا
آج ایک عورت کی ہی وجہ سے عبرت کا نشان بن گیا تھا
بے شک راہ گزر پر بھروسہ یا سو کالڈ پیار
اہک اجنبی انسان کی وجہ سے آپکی عزت۔جان ۔مال اور مان جاسکتا ہے
یہ کبھی سوچا ہے
یہ سوکالڈ نفسیاتی محبت سے
انسان کو بہت مہنگا پڑتا ہے
پر سمجھنے کی بات ہے
ہمیں سمجھنا چاہیے
چراغِ محفل بن
چراغِ راہ گزر نہ بن
ایک زلیخہ کا انتخاب کر
ہر ایک کا یوسف نہ بن
ختم شد
