Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 08)

Raahguzar by Mariyam Bibi

وجدان کے جانے کے بعد اسکی نظر دروازے پر پڑی

دروازہ باہر سے لاکڈ نہیں تھا

اسنے دیکھا کے دروازہ کھلا ہوا ہے اور اسی موقعے کو غنیمت جان کر وہ باہر دیکھنے لگی

جہاں اسے کوئی نظر نا آیا

وہ اب ڈر تو نہیں رہی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک خوف یہ بھی تھا ک وہ ایک مرد ہے اور وہ ایک عورت ہے

کہیں اسکے ہاتھوں پکڑی گئی تو

اس سے آگے سوچا نا گیا

ڈرتی سہمی سی سیڑھیاں پار کر وہ اب نیچے حال تک آ چکی تھی

جبھی علی وجدان کے دوست نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا

اور وجدان کو بلانے لگا

وجیہہ گھبرائ سی مڑی تو دیکھا کے وجدان بھی سیڑھیوں سے اتر رہا ہے

تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں سے بھاگنے کی

وجدان اسے جنجھوڑتے ہوئے بولا

چل میرے ساتھ

وجدان اسے گھسیٹتا ہوا کمرے تک لایا

وہ پٹخ دیا

کہا ہے ناں کے پیار کرتا ہوں تم سے تو کیوں مجھے مجبور کررہی ہو

وہ آرام سے بولا

گھٹیا قسم کے بے شرم انسان ہو تم محبت تو دور کی بات ہے مجھے تمہاری شکل دیکھنا بھی گنوارہ نہیں ہے پستول کی طاقت سے ایک لڑکی کو ٹارچر کر کے خود کو محبت کا دعویدار کہتے ہو

شرم آنی چاہیے تمہیں

وہ غرائی

گھٹیا قسم کے انسان ہو تم

محبت تو کیا میں تمہاری طرف دیکھنا بھی گنوارہ نہ کروں

تم جیسے لڑکے بس عورت کو کھیل تماشے کا سامان سمجھتےجسے پسند کیا اٹھا لیا

دل بہلایا اور پھینک آئے

وہ اور لڑکیاں

چٹاخ

بند کرو بکواس اپنی

اگر تمنے اب بھاگنے کی کوشش کی تو میں مار ڈالوں گا تمہیں سمجھی

وہ اس کے قریب آکر بولا تھا

وجیہہ اسے دھکا دے کر وہاں سے بھاگ گئی

مگر اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ اس کے قدم تیز تھے وجدان لمبے لمبے ڈگ بھر تے ہوئے اس کے پاس گیا

اور اس کاہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنے ساتھ گھسٹتے ہوئے لایا

وہ زمین پر ریڑھنے لگی تھی مگراس نے اس کی ایک بھی نا چلنے دی

پھراسے چئیر پر زبردستی بیٹھایااوراسکے ہاتھ پیر باندھ دیے

وہ اسے کرسی سے باندھ چکا تھا

پلیز مجھے جانے دو تم مجھ سے اتنا تو بدلہ لے رہ ہو اب مجھے یوں اس طرح باندھ کر کیا فائدہ ہو گا تمہارا

وجیہہ منت بھرے لہجے میں بولی

فائدہ ہوگا نا تم شاید میرا پرپوزل قبول کر لوگی

اتنا کہہ کر وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر جاکر بیٹھ گیا

وجیہہ اسے مسلسل گھور رہی تھی

میں نہیں مانوں گی

وہ ضدی بچے کی طرح بولی

اف کتنا بولتی ہو تم

وہ اٹھا اور رسی کو بیڈ سے بھی باندھ دیا

اور اس کے منہ پر بھی ٹیپ لگا دی تھی

اب وہ نیچے آیا اور جو کھانا اسنے بنوایا تھا اس کیلیے لیکر اوپر آیا

وجیہہ کرسی سے بندھی بھی خود کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی

جیا بے بی تم اس طرح کیوں کررہی ہو

اگر تمہیں میں پسند نہیں تو کوئی بات نہیں

وہ کمرے میں آتے ہی بولا

تم ایک مشرقی لڑکی ہو شادی کے بعد خود ہی مجھے چاہنے لگ جاؤ گی

وہ اپنے لیے کرسی کھنچتے ہوئے بولا تھا

لو کھانا کھالو

بریانی ہے

مجھے بہت پسند ہے

اب تمہیں ہی میری پسند کا خیال رکھنا ہے ناں اسلیے بتا رہا ہوں

وجدان اسکا منہ کھولتے بولا

جبکے وہ منہ موڑ گئی

مجھے نہیں کھانا

وہ غصے سے بولی

تم نہیں جانتی اس طرح کر کے تم اپنے ساتھ مجہے بھی ازیت دے رہیہو

مجھسے تمہاری حالت دیکھی نہیں جاتی پلیز کھانا کھالو

اس نے پیار بھرے لہجے میں کہا

واہ بہت خوب

زخم بھی خود دیتے ہو اور مرہم بھی لگانے آگے

مت بھولو کے میری اس دکھ اور حالت کے زمیدار بھی تم ہی ہو

اگر تمہیں واقعی تکلیف ہوتی ہے تو کیوں بنایا ہے میرا یہ حال

چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجہے

اسنے روتے ہوے بولا اور سوالیہ آنکھوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی

پتا نہیں میری ماماماں کا نام لیتے ہی وہ زور سے رونے لگ پڑی

بند کرو اپنی بکواس

وجدان چلایا

کھانا کھانا ہے تو کھالو

اب مجھے تمہاری بات نہیں سننی سمجھی

مولوی آتا ہوگا اسلیے تیار رہنا نکاح کیلیے

وہ کہکر نکل گیا اور وہ گھٹی گھٹی سسکیاں لینے لگی

@@@

وہ رورہی تھی جب وہ کمرے میں آیا

وجیہہ روو مت اٹھو مولوی صاحب آرہے ہیں

تم نکاح کے پیپر پر سائن کر دینا سمجھی

وجیہہ اس کی بات سن کر اور زور سے رونے لگ گئی

اب وہ اس کے ہاتھ کھول رہا تھا

صاحب آپکے دوست آگئے ہیں

ملازم نے اسے اطلاع دی

اچھا تم جاو

وہ اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب وجیہہ نے اسکی جیب میں گن دیکھ کر نکال لی اور اس پر تانتے ہوئے

بولی

دور ہوجاو مجھ سے

میں گولی ماردونگی تمہیں

وہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی

وہ دروازے کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی تھی

اسلیے اسے اندر آتے سائم اور فرخ (وجدان کے دوست

جنہوں نے اسے وجیہہ کی طرف مائل کرایا تھا)کو نا دیکھ سکی

وہ اس پر گن تانے کھڑی تھی جب سائم نے اسے دھکا دیا

تو گن بیڈ کے نیچے چلی گئی

اور وجدان اسکی طرف آیا

جو کے اب اسکے دوستوں کے قبضے میں تھی

تم کیا سمجھ رہی تھی کے تم مجھے مار کر بچ جاوگی

نہیں وجیہہ بی بی

اگر تم مجھے مار کر میرے کام نا آسکی تو میرے یہ دوست تو تمہیں بنا کسی رشتے کے بھوگ لگا لیں گے

وہ انکی طرف اشارہ کرتے بولا

وجیہہ سٹپٹاگئی

ہاں بھابھی ویسے بھی ہمیں وجی کی جوٹھ کھانے میں بہت مزا آتا ہے

اگر آپ نے اسے ماردیا تو ہم ہیں ناں

کیوں وجی

وہ مکاری سے ہنسے تھے

وہ بھی اس کا ڈرامہ سمجھ چکے تھے

ہاں کیوں نہیں

وہ بھی وجیہہ کی طرف دیکھ کر ہنسا تھا

وہ یہ سب اسے ڈرانے کیلیے کررہا تھا

تاکے وہ دوبارہ اسے مارنے کی کوشش نا کرسکے

@@@

اس نے اسے کافی ڈرانے کی کوشش بھی کی تھی

وہ ڈر بھی گئی تھی مگر اب بھی اپنی بات پر قائم تھی

وہ اسے سمجھا کر چلا گیا تھا

اور وارن بھی کرگیا کے اگر اب وہ یہاں سے بھاگی تو انجام کی زمہ دار وہ خود ہوگی

اس کے جاتے ہی وہ پھر سے رونے بیٹھ گئی

کاش وہ اس سے اس دن موبائل نا لیتی

کاش اس سے فون پر بات ہی نا کرتی تو آج یہ دن دیکھنے نا پڑتے

اسکی ماں اس کیلیے کتنی پریشان ہونگیں

اسکی بہن اسکی پھپھو سب ہی لوگوں کو جواب دے رہے ہونگے

ان پر کیسی قیامت گزررہی ہوگی

وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی

وجیہہ گٹنوں میں سردیے رورہی تھی

جب کھٹاک سے دروازہ کھلا اور ایک نحیف سا آدمی ہاتھ میں رجسٹر لیئے وجدان کے ساتھ کمرے میں آیا

ساتھ میں وجدان کے دوست بھی تھے

بیٹی نکاح نامے پر دستخط کردو

تمہارا نکاح وجدان اکرام سے کیا جارہا ہے

نکاح خواں نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھے کہا

اور ایک کاغذ جوکے نکاح نامہ تھا اسکی طرف بڑھایا

وجیہہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے پیپر دیکھ رہی تھی

وجیہہ سائن کرو

وجدان نے زبردستی اسے پیپر تھماتے کہا

وجیہہ نے پیپر پکڑ لیے اور کھڑی ہوگئی

پیپر اس کے ہاتھ میں ہی تھے

وجدان گھبراگیا تھا

وجیہہ نے پیپر پھاڑ دیے

اور وجدان کے منہ پر پھینک دیے

یہ کیا بدتمیزی ہے

وجدان چلایا

بدتمیزی

تم کہہ رہے ہو بدتمیزی

جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا وہ کیا ہے وجدان

وجدان اس کی حرکت پر آگ بگولا ہوگیا اور غصے سے باہر چلاگیا

@@@

کافی دیر بعد جب وہ کمرے میں آیا تو وجیہہ صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی

وہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا

اور وجیہہ کی وحشت میں بھی اضافہ ہوگیا

اور وہ ڈرتے ڈرتے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *