Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar by Mariyam Bibi

وجدان اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا
بے جا لاڈ پیار نے اسے ضدی بنادیا تھا
وہ ہر وہ چیز حاصل کرلیتا جو اسے بھاتی تھی
اور یہی رویہ وہ انسانوں کے ساتھ بھی کرتا تھا
اسے جو بھی لڑکی اچھی لگتی وہ اسے اپنی غلام بنالیتا اور بعد میں جب اسکا دل بھر جاتا تب اسے چھوڑ کر نئی تلاش میں لگ جاتا
اسکی اسی عادت سے پریشان ہوکر
اقراء بیگم اور اکرام صاحب اسے بقول انکے اکیلا چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے
جبکے یہ بات درست نا تھی
اسکی شامیں کلب میں اور راتیں لڑکیوں کی بانہوں میں گزرتی تھیں
اس نے ناجانے کتنی لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی تھیں
اسکی شکل ہی تھی کے اسکے سکینڈل سن کر بھی لڑکیاں اس پر مرتی تھیں
اور وہ انکے جذباتوں سے کھیلتا رہتا
بقول اسکے کے عورت تو ہے ہی پیر کی جوتی
ایک سے دل بھرے تو دوسری لیلو
مگر شاید اسے معلوم نا تھا کے یہ جوتی ہی اسے گندگی اسے بچاتی ہے۔اسے کانٹوں پر چلنے کے قابل بناتی ہے
اگر وہی جوتی منہ پر پڑ جائے تو مرد کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا
جیا جیا
کہاں ہو تم؟
ردا چلاتی ہوئی اسے پکار رہی تھی
آپی واش روم میں ہوں
وجیہہ نے آواز لگائی
جیا جلدی آ
مجھے تجھ سے ضروری بات کرنی ہے
ردا نے اپنے پیر اوپر کرکتے کہا
جی بولیں
وجیہہ باتھ روم سے نکل کر تولیے سے ہاتھ پونچھتی باہر نکلی
بات سنو میری غور سے
ردا نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا
جی بولیں آپی
جیا
مما نے مجھے کہا تھا
آپی پلیز اگر آپ اس رشتے کی بات کرنے آئیں ہیں تو
جیا میری بات سن لو پہلے
میں تمہیں بتانے آئی ہوں کے ایک نیا رشتہ آیا ہے تمہارا
اسیلیے بات سن لو
لڑکا یو کے میں سیٹل ہے اسکی تین پہنیں اور چار بھائی ہیں
ماں باپ نہیں ہیں
اتنے بچے پیدا کرنے کے بعد کون زندہ رہ سکتا ہے
وجیہہ بڑبڑائی
کچھ کہا تم نے
نہیں تو میں کیا کہوں گی
وجیہہ نے معصوم شکل بناکر کہا
اچھا ماما کہرہی تھیں کے تم ایک بار
ہاں ماما کہرہی ہیں ایک بار لڑکے والوں سے اور لڑکے سے مل لو
بات کرلو
اگر تمہارا مزاج انکے ساتھ ملتا ہوا تو
خیر سے تمہاری شادی کردی جائے گی
اور میں کہونگی کے ماما میری پڑھائی
تو کہیں گی
بس اور کتنا پڑھو گی
تمہیں ہم نے بہت پڑھالیا ہے
اپنی بہن کو دیکھا
دس پڑھ کے ہی گھر سنبھالنے لگ گئی
اور تم ہوکے بی ایس کرکے بھی آگے ککی پڑھائی کا سوچ رہی ہو
ماما مجھے پڑھنا ہے
تو کہیں گی بیٹا تم اتنا تو پڑھ ہی چکی ہوکے نکاح نامے پر سائن کرسکو
اور آگے پڑھنا ہی ہے تو شادی کے بعد پڑھ لینا
اب انہیں کون سمجھائے
کے ہر کوئی میرے بابا جانی جیسا نہیں ہوتا
شادی کے بعد بچے پیدا کروں گی یا پڑھوں
آہ
اسکی بات درمیان میں ہی رہ گئی
جب رجا بیگم نے اسکا کان پکڑ لیا
اور ردا کھی کھی کرنے لگی
نالائق شرم نہیں آتی اپنی ماں کی نکل اتارتے
انہوں نے خفگی سے کہا اور اسکا کان اور مڑوڑا
اف ماما جانی کان چھوڑدیں میرا
اگر کان ٹوٹ گیا تو کوئی مجھ سے شادی بھی نہیں کرے گا
اسکے کہنے کی دیر تھی کے انہوں نے اسکا کان چھوڑ دیا
ہیلو ہیلو
کون بول رہا ہے
وجیہہ نے کوئی دسویں بار فون اٹھاکر کان سے لگاتے کہا
اور ہر بار کی طرح اس بار بھی جواب ندارد تھا
جب بولنا ہی نہیں تو کال کیوں کی
نان سینس
اسنے کال کاٹ کر کہا
وہ پڑھنے بیٹھی تھی جب اسکا فون مسلسل بج رہا تھا
اسے ڈسٹربینس ہورہی تھی
اسیلیے اسنے فون بند کردیا
کافی دیر بعد جب وہ پڑھ چکی تو اسے فون کی یاد آئی
اسنے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھالیا
اسنے موبائل آن کیا ہی تھا کے پھر سے کال آنے لگی
اسنے بے زاریت سے فون اٹھایا
اور ٹیک لگالی
اب کی بار اسنے ہیلو بھی نہیں کہا تھا
وہ کال کاٹنے لگی تھی جب اسے دوسری جانب سے انجان آواز سنائی دی
ہیلو
ہیلو وجیہہ
اب اسکی حیرت کی انتہا نا رہی
کے کال کرنے والے کو اسکا نام کیسے پتا چلا
وجیہہ آپ سن رہی ہو
اگلے بندے نے دوبارہ کہا
کے مبادہ وہ موبائل آن کرکے سو تو نہیں گئی
وہ حیران ہوگئی تھی
وجیہہ
آپ کو میرا نام کیسے پتا چلا؟
آخر وہ پوچھ ہی بیٹھی
او کم آن آج کے دور میں نام۔نمبر۔پتہ معلوم کرنا کونسا مشکل کام ہے
وہ بندا اسکی بات پر شاید ہنسا تھا
جی دردست فرمایا آپ نے مگر میرا نام۔نمبر اور پتہ پتہ کرنا بہت بڑی بات ہے مسٹر
اب جلدی سے بتاؤ تم کون ہو
وجیہہ نے یہ کہہ کر تو گویا بات ہی ختم کردی
اوکے وجیہہ پھر کل ملتے ہیں تمہاری یونیورسٹی میں اپنا خیال رکھنا
اسنے کہکر کال کاٹ دی
جبکے وجیہہ اسکے الفاظات پر غور کرتی رہ گئی
پتہ نہیں کون جسے میری یونیورسٹی کا بھی پتہ ہے
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب رجا بیگم نے اسے کھانے پر آواز دی
اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی
کھانا کھاتے وقت بھی وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی
پتہ نہیں کون ہے یہ بندا اگر اسنے میرا راستہ روکا یا مجھے تنگ کیا تو میں کیا کروں گی
وہ پلیٹ میں ایسے ہی چمچ چلارہی تھی
جب رجا بیگم نے اسے آواز دی
کیا ہوا جیا تم کھانا نہیں کھارہی
انہوں نے اسے ہلا کر پوچھا
جی ماما جانی کچھ نہیں وہ میں سوچ رہی تھی کے اگر آپ بریانی نا بناتی تو میں اتنی موٹی نا ہوتی
اسنے مزاق نے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *