Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 01)

Raahguzar by Mariyam Bibi

آج اسے وہ خوشی ملنے جارہی تھی جس کا اسنے

انتظار کیا تھا

وہ گاڑی چلاتے ہوئے من ہی من ہنستا اور مارے خوشی سے آنکھیں جہپکتا ہوا گھر کو پہنچا

اسکی خوشی کی کوئی انتہا نا تھی

کیونکے آج اسےاسکی محبت اسکا عشق جو ملنے والا تھا

@@@

اس نے جوں ہی دروازہ کھولا

لال جوڑا چوڑیاں زیور سب ایک طرف پڑے تھے

جیسے وہ چھوڑ کے گیا تھا

اور کمرے میں کسی کے سسکنے کی آوازیں آ رہی تھیں

دیکھو اب یہ پرانے زمانے کی فضول رسومات کو چھوڑو

بند کرو یہ ٹیپیکل دلہن کی ایکٹنگ

اور جلدی سے تیار ہوجاو

مولوی صاحب آتے ہی ہونگے

اتنا رونا ضروری نہیں ہے

آنکھیں خراب ہوجائیں گی

پھر ان نشیلی آنکھوں سے مجھے کیسے دیکھو گے جان

وہ مسکرائے جارہا تھا

COME COME GET UP EARLY DARLING

پھر تمہیں تیار بھی ہونا ہے مجھے معلوم ہے کے تم لڑکیاں کتنا ٹائم لگاتی ہو تیار ہونے میں

چلو شاباش

اسنے اسکےکندھےپر ہاتھ رکھکے کہا

اٹھو جان

اسنے اسکاہاتھ جھٹک دیا

پر بولی کچھ بھی نہیں

دیکھو جیسے بھی صہی اب تم مجھے قبول کرلو اچھا ہوگا

وہ جیسے کسی بچی کو سمجھا رہا تھا

ساتھ ہی وہ اپنے ساتھ لائے پھولوں سے بستر بھی سجا رہا تھا

تمہیں پسند ہیں ناں پھول

اسنے پوچھا

وہ زمین پر بیٹھی گٹنوں پہ سر رکھ کر روئے جا رہی تھی جیسے اس کی بات وہ سن ہی نہی

رہی یا پھر سننا نھیں چاہتی تھی

تمہاری عقل ابھی تک ٹھیکانے نہیں آئی

وہ اپنے ہونٹ دباتے ہوئے بولا

اسی دم وجیہہ

کے بال پکڑ کر اسے جنجھوڑتے ہوئے بولا

آہ اسکی کراہ نقلی

دونوں ہی اک دوسرے کو غصے سے گھور رہے تھے

مار دو مجھے

جان سے ماردو

اگلے ہی پل اس لڑکی نے منہ سے بات نکالی

وجدان جو کہ دل ہی دل میں اس بات سے مطمئن ہوچکا تھا کہ وہ اس سے شادی کرنے کو تیار ہے اس بات سے اسےپریشانی ضرور ہوئی لیکن حیرانی نہیں

کیونکے وہ ایک مشرقی لڑکی سے اسبات کی امید رکھتا تھا

اگر یہی ڈراما کرنا تھا تو تم نے مجھ سے ہاں کیوں بولی

بولو اسنے اسے جنجھوڑا

بتاؤ مجھے

اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوے کہا

تمہیں کیا لگتا ہے تم میرے سر پہ پستول رکھ کر مجھسے نکاح کرلو گے اور تم جیت جائوگےنہیں وجدان احمد اتنی جلدی نہیں

تم جیت سکتے

کیا سمجتے ہو تم یہ جو مجھے آدھی رات کو میرے گھر سے ا ٹھا کر

دور کسی اکیلے جگہ میں لاکر

صبح شام پستول سے ڈرا کر مجہےنکاح کے لئے راضی کرلوگے

ہاں

اپنے آپ کو مرد سمجھتے ہو یہی ہے تمہاری مردانگی اور یہ ہے تمہاری محبت

ایک لڑکی کو اسکے ماں باپ کی نظروں میں گرادیا اسے سماجھ میں ذلیل کروایا

کسی لڑکی پہ دل آجائے تو اسکا دل جیتا جاتا ہے نا کہ اسے اذیت دیکر اس طرح توڑا جاتا ہے اور یہ کوئی محبت نہیں بس حوس ہے

اگر اس سب کو محبت کہتے ہیں

تو

لعنت ہو ایسی محبت پر

وہ ایک ہی سانس میں بولتی جا رہی تھی اور وہ خاموش سن رہا تھا

جیسے اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہو

وہ بات ختم کر کے روتی ہوئی صوفےپر بیٹھ گئی

وہ آہستا سے اٹھ کر اسکے سامنے آگیا اور جیب سے پستول نکال لی

وہ نڈر اسکی طرف دیکھ رہی تھی

پر بولی کچھ ہیں

ٹھیک کہا تم نے محبت حاصل کرنے کے لئے پستول بیچ میں لانا کہاں کی مردانگی ہے

وہ پستول بیڈ پر پھینکتے ہوئے بولا چلو مانا کے پستول سے نھیں ڈرتی تم ٹھیک ہے بھئی نہیں ڈرائونگا آج کے بعد

اسنے زور سے دروازے کولات مارتے ہوئے بولا

وہ اس کی باتیں

غور سے سنے جارہی تھی کوئی اندازا نہ تھا کے اگلے پل وہ کیا کرنے والا ہے

وہ اسکے قریب آکر صوفے پر اطمینان سے بیٹھ گیا

وہ وہاں سے اٹھنے ہی لگی تھی کےاسنے جھٹ سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

اور اسکے اور قریب آگیا

وہ چھوڑانے کی کوشش کر رہی تہی پر وجدان کی پکڑ مضبوط ہوتی جارہی تھی

وہ اسکے بالوں میں انگلیاں ڈال کر سہلانے لگا اور ایک شیطانی سی مسکان ہونٹوں پہ سجائے تھا

وجیہہ

کو آنے والے کسی برے لمحے کا احساس ہونے لگا

اسکا دل زور زور سے دہڑکنے لگا اور. ڈر سےاسکی طرف دیکھ رہی تھی

ٹھیک کہا تم نے محبت حاصل کرنے کے لئے پستول بیچ میں لانا کہاں کی مردانگی ہے

اس چھوٹنے کی وہ ناکام کوششیں کر رہی تہی پر اس کی پکڑ مضبوط ہوتی جارہی

وہ شیطانی مسکان ہوٹوں پہ سجائےاسے دیکھ رہا تھا

اسکی نظروں سےاسکا دل زور زور سے دہڑکنے لگا اور

وہ زار و قطار رونے لگی

ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے گڑ گڑانے لگی

تمہیں اللّٰہ کا واسطہ ہے میرے ساتھ ایسا مت کرو

میں نے کیا بگاڑ اہے تمہارا

کیوں میری زندگی برباد کرنے پہ تلے ہو

بے بسی کی حالت میں بولے جارہی تھی اور وہ وہیں بیٹھا اس کی طرف دیکھ رہا تھا

میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں اس کے علاوہ میری اور کوئی خواہش کوئی آرزو نہیں

ہے

وہ بولتے ہوے اٹھ کھڑا ہوا

مجھے صرف تمسے مطلب ہے میرا یقین کرو میں تمھیں اپنی عزت بنا نا چاہتا ہوں

;وو نیچے زمیں پر بیٹھ گیا بلکل اسکے پاؤں میں جیسے کوئی فقیر سدا دے رہا ھو۔

اور سے بھیک نا ملنے پر اسکی حالت ہو

جیسے کوئی بچہ اپنی بات منوانے کی ضد

کر رہا ھو

میرا یقین کرو میں تمہارے ساتھ حلال اور نکاح

جیسا پاکیزہ رشتہ رکھنا چاہتا ہوں

وجدان نے وجیہہ کی طرف طرف دیکھتے ہوئی کہا

تو یہ تمہاری نظر میں پاکیزگی ہے

کبھی پستول دکھا کر تو کبھی عزت پامال کرنے کی دہشت سے

ایک لڑکی کو کمرے میں بند کر کےاسکے قریب آتے ہو

اسنے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا

میں نے تمہاریعزت پی کوئی ہاتھ نہیں ڈالا اور نا ہی ایسی گھٹیا حرکت میں کر سکتا ہوں

اتنا بھی بغیر ت نہیں ہوں

یعنی مانتے ہوکےتم بے غیرت ہو

اس نے اس کی بات کاٹ کر کہا

نہایت ہی۔

گھٹیا اور کم ظرف قسم کے انسان ہو تم جو کسی کمزور لڑکی کا فائیدہ اٹھا رہے ہو

بے انتہا محبت کرتا ہوں میں تمسے پلیز میرے جذبات کو سمجھو

میرے پاس تمھا رے ساتھ زبردستی کرنے ک علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

میں تمہاری محبت میں بلکل اندھا ہوچکا ہوں بہلا چکا ہوں کے میں

خود کون ہوں

میرا خاندان میری پہچان میرا گھر

سب کچھ بھولادیا

میں ہر وہ

کوشش کر رہا ہوں جس سے بس تم حاصل ہوجاؤ

وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کیے جارہا تھا جیسے اسکی کی آ گ اور ہی بھڑکتی جارہی تھی۔

لیکن تم مجہے پسند نہیں ہو

وجیہہ نے انکار کرتے ہوے بول ہی دیا

ایک بار میرا ساتھ اپنا لو محبت ہونے میں دیر

نہیں لگتی اور مجہے پورا یقین ہے تمہیں مجھسے محبت ہوجایگی

اسنے اسرار کرتے ہوے کہا

خوشفہمی ہے تمہاری

اسنے کہا

دونو

کی تقرار جاری تھی اسسے پہلے کے وہ کچھ کہتاکہ اچانک علی(وجدان کا دوست) کا فون آیا

ہیلو

اسنے کال اٹینڈ کرتے ہوے بولا

کہاں ھو تم

یار میں کب سے گھر کہ باہر ویٹ کرہا ہوں قاضی صاحب کو اور بھی نکاح کیلیے جانا ہے

ہاں یار میں کال کرنے ہی والا تھا تمہیں

فون پر بات کرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا

وہ ایک دم سے اپنی طاقت کھوتے ہوے زمین پر بیٹھ گئی جیسے کوئی بہت بڑ ی جنگ کی

لڑاآئ سے تھکی ہوئی ہو

وہ زور زور سےرونے لگی اور اس لال جوڑے زیورات اور پھولوں سے سجی سیج کو اداسی ک ساتھ دیکھنے لگی

وہ من ہی من یہ سوچنے لگی کہ اسکے اتنے دن غایب رہنے پر ممی کا کیا حل ہوا ہوگا کیا ممی کو خبر ہوگی بھی یا نہیں کے وہ کس حال یں ہے

وہ اسےڈھونڈ رہے ہونگے

وہ اداسی سے پورے کمرے کو تکتی جارہی اور اپنے گھروالوں کو یاد کرتی جارہی تبھی اسکی نظر بیڈ پر پڑے پستول پر پڑی

@@@

یار مجہے لگتا ہے میں اس کےساتھ زیادتی کر رہا ہوں محبت تو نہی

وہ صاف لفظوں میں مجھسے اظہار نفرت کرتی ہے

وہ علی (جو اسکا قریبی دوست تھا) کہ ساتھ نیچے بیٹھک میں اپنی پریشانی بتا رہا تھا

یار کوئی زیادتی نہیں کررہا تو

لڑکیاں تو ہوتی ہی ایسی ہیں

اگر تو تھوڑا سا بھی اسے اپنا پیسہ دیکھائے گا

تو باوقی لڑکیوں کی طرح وہ بھی تیرے سامنے پیش ہوجائے گی

علی نے مکاری سے اسکے کان میں سرگوشی کی

بات تو تیری ٹھیک ہے مگر میں اسکے ساتھ وقت گزاری نہیں کرنا چاہتا

مجھے اس سے محبت ہے اور میں چاہتا ہوں کے اس سے نکاح کرکے اپنی فیملی بناوں

وہ مجھ سے اور میں اس سے بے شمار پیار کروں

وجدان نے ایک عجیب سی چمک آنکھوں میں لیے کہا

یار تجھے کوئی عورتوں کی کمی ہے تیرے ایک اشارے پر لائن لگ جائے اور تو ہیکے ایک معمولی سی لڑکی جسکے پاس نا حسن ہے نا دولت ہے

کیوں تو اسکے پیچھے خوار ہورہا ہے میرے بھائی

چل ایک کام کر

تجھے اسکے ساتھ پیار ہی کرنا ہے تو

وہ آنکھ دبا کر بولا

بس کر علی تونے کہا تھا اسے اٹھا لا سب ٹھیک ہوجائے گا

یہ ٹھیک ہوا

اور اب تو چاہتا ہے کے میں بغیر نکاح کے اسکی عزت خراب کردوں

وجدان نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا

لے بھئی تو تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے یہ کام تو پہلی بار کررہا ہے

علی نے تنگ آکر کہا

وہ کب سے اسے آئیڈیا پر آئیڈیا دیے جارہا تھا مگر وہ اسکی بات سن کے ہی نہیں دے رہا تھا

میرے دوست وہ دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں ہے

وہ الگ ہے سب سے اسی لیے تو میرا دل اسپر آیا ہے

اور اگر مینے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا تو وہ پھر کبھی مجھ سے پیار نہیں کرے گی

وہ پھر ساری عمر مجھ سے نفرت کرے گی

اور تو تو جانتا ہی ہے ناں

کے جس سے ہم محبت کریں وہ ہم سے نفرت کرے تو دل پر کیا گزرتی ہے

اسیلیے میں اسکی نفرت قبول نہیں کرسکتا

بس

وجدان اپنی بات مکمل کرکے کھڑا ہوگیا

تو جا باقی میں دیکھ لوں گا

میں کہیں نہیں جارہا

میں نیچے ہی رہونگا سمجھا تو

علی بھی اسی کا دوست تھا

آخر اسے کیسے اکیلا چھوڑ دیتا

مر پھر

وجدان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا

@@@

وہ کمرے سے نکلا ہی تھا کے وجیہہ نے دروازا بند کردیا

اور جلدی سے بیڈ پر پڑے پستول کو اٹھالیا

وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی کے یہ کیسے چلتا ہے

وہ اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی

اسے ایک مسلمان ہونے ے ناطے یہ یاد تھا کے خودکشی حرام ہے

پھر اسکے دماغ نے کہا اپنوں کو رسوا کرنے سے تو موت ہی بہتر ہے

پھر اسکا دل بولا

نا وجیہہ نا

جس کام کو اللّٰہ نے حرام قرار دیا ہے تو کون ہوتی ہے وہ کام کرنے والی

اسکا دماغ بولا

وجیہہ گولی مارلے خود کو

کم از کم اس ہوس کے مارے انسان کے نام پر حیوان سے تو بچ جائے گی

دل اسے منع کررہا تھا

جبکی دماغ اسے اکسا رہا تھا

اس دل اور دماغ کی لڑائی میں وہ کس کی سنتی

دونوں تو اسکے اپنے تھے

آخر کار اسنے فیصلہ کرلیا اور اپنی آنکھیں موند لیں

@@@

وجدان جلدی جلدی سیڑھیاں چھڑ رہا تھا

اسکا دل پتا نہیں کیوں گھبرائے جارہا تھا

وہ ابھی دروازے پر پہنچا ہی تھا کے

اسے ٹھوکر لگ گئی

وہ دوبارہ اٹھا اور دروازہ کھولنے لگا

جب اسے احساس ہوا کے وہ اندر سے لاک ہے

وہ جلدی سے ساتھ والے کمرے میں گھسا

اور اس کمرے کی ملحقہ کھڑکی سے جو اندر سے اس کمرے کے بیڈ سائیڈ پر کھلتی تھی سے کمرے میں آیا

آگے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹکا

اسکے پیروں سے زمین ہی نکل گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *