Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 07)

Raahguzar by Mariyam Bibi

یار تو ٹھیک کہ کرہا ہے

تہمل سے بہت بات کرلی اس سے

مگر مان نہیں رہی تو ایسے ہی سہی

تم انتظام کروا کر رکھنا

یہ کام تو ہم رات میں ہی کرلیں گے

وجدان نے علی کی بات سن کر کہا

پر وجی اس کے گھر والوں کی کافی بدنامی ہوجائے گی پھر تو

جب تم اسے اٹھا لاؤ گے

کوئی نہیں

خیر ہے

جب نکاح ہوجائے گا تب وہ میری پاپند ہوجائے گی

تب اسکے گھر والے بھی مان ہی جائیں گے

وجی انکل آنٹی سے کیا کہوگے اس کے بارے میں؟

علی کے دماغ میں بھی پہلی بار یہ بات آئی تو پوچھ بیٹھا

کچھ نہیں

انہیں کونسا میری پرواہ ہے

بس مام کردیتیں ہیں فون ایک مرتبہ

اور بس انکا فرض ختم

جب ان لوگوں کو میری پرواہ نہیں تو میں کیوں کروں

اب تم تیاریاں کرلو

اپنی بھابھی کو گھر لانے کی

وجیہہ ویڈز وجدان

کیا خوب میچ ہے

وجدان قہقہہ لگاتا ہوا اٹھ گیا

@@@

منگنی کی رسم کے بعد گھروالے آپس میں بیٹھے تھے

جہاں زیشان اور وجیہہ بھی ساتھ بیٹھے تھے

گھر والے بہت اچھے تھے

اور وجیہہ سب کے ساتھ گھل مل گئی تھی

کچھ دیر بعد جب سب لوگ نکلنے لگے تھے

تب زیشان کا چہرہ اترا ہوا تھا

اسنے وجیہہ کی طرف دیکھا تو وہ چپ چاپ سی اور پریشان حال ادھر ادھر دیکھے جا رہی تھی

کیا بات ہے بیٹا کیوں پریشان کھڑی ہو یہاں

اسما بیگم نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

جی ممی جی وہ بس ایسے ہی

وجیہہ نے مسکرا کر کہا

وہ بھلا انسے کیا کہتی

اسلیے چپ ہی رہی

اچھا چلو شاباش بیٹا اب آرام کرلو کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہو

انہوں نے پیار سے اسکی تھوڑی تھپتھپاتے کہا

جی ممی

وہ بھی مسکرا دی

@@@

انتظام کرلیا تم نے

وجدان نے فون پر علی سے بات کرتے کہا

ہاں ہوگیا ہے

علی نے جواب دیا اور فون بند کردیا

@@@

رات کے دو بج گئے تھے

اسے مہمانوں سے فارغ ہوتے ہوئے

مہمان کچھ خاص ا تھے پھر بھی باتوں میں وقت کا پتہ نا چلا

وہ ابھی ابھی اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی

پینسل ہیل کے ساتھ چل چل کر اس کی ایڑیاں دکھ رہیں تھیں

سب سے پہلے اس نےسر گلے اور بازو کو دوپٹے کے بوجھ سے آزاد کیا تھا

یہ نہیں تھا کے وہ ڈوپٹہ نہیں لیتی تھی

مگر وہ اپنے روم میں آکر سب سے پہلے ڈوپٹہ ہی الگ کرتی تھی

آج بھی اسنے وہی کیا

اس کے ہر انداز میں شدید تھکن نمایاں تھی

بیڈ پر بیٹھتی وہ اپنے پیروں کو ہیل کے بوجھ سے آزاد کر رہی تھی

جب باہر کھٹکا ہوا تھا

اسے لگا کے کمرے کی بالکونی پر کوئی ہے

جوتے کا سٹرپ کھولتے ہوئے اس نے چونک کر گلاس ونڈو کو دیکھا تھا

جوکے بالکونی میں کھلتی تھی

وہ اس طرف گئی

اور اگلے ہی لمحے وہ بالکونی میں موجود تھی

اچھی طرح اوپر نیچے دیکھنے کے بعد جب اس کی تسلی ہو گئی تب وہ واپس کمرے میں آ گئی تھی

اور اچھی طرح دروازے کو بند کر لیا تھا

وہ پھر سے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے جوتے کا سٹرپ کھولنے لگی تھی

اس کے پاؤں جوتا لگنے سے تھوڑے تھوڑے چھل گئے تھے

یہ اس کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا تھا

ہر بار ہیل اسکے پاوں زخمی کرتی تھی

مگر وہ وجیہہ ہی کیا جو اپنی پسندیدہ چیز چھوڑدے

وہ ایسے ہی بیٹھی ان کا جائزہ لے رہی تھی اور ساتھ ساتھ کریم بھی لگا رہی تھی

اسے جلن کا احساس ہورہا تھا

وہ کریم کی ڈبی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر مڑی ہی تھی کے لائٹ چلی گئی

ارے یہ کیا ہوا لائیٹ کو

پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا وہ ایک دم پریشان ہوتے ہوئے خود سے بولی تھی

اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا

ابھی وہ بیڈ سے کھڑی ہو کر دو قدم ہی چلی تھی کہ اس کا پاؤں اس کی اپنی ہی جوتی میں الجھا تھا اور وہ ایک دم لڑکھڑا گئی تھی مگر اس سے پہلے کہ وہ گرتی دو مضبوط ہاتھ اسے تھام چکے تھے

جیسے ہی کسی کے ہاتھوں نے اسے گرنے سے بچانے کے لیے تھاما اس نے خوف سے چیخنا چاہا تھا مگر مقابل نے اس کے منہ کو اپنے بھاری ہاتھ تلے دبا کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا

اور اسکے ناک پر رومال رکھ دیا

کچھ ہی لمحے بعد اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں

سامنے کھڑے شخص کا کام ہوچکا تھا

اور وہ فاتحانہ انداز سے اسے اٹھاکر جیسے آیا ویسے ہی چلا گیا

@@@

صبح کے دس بج رہے تھے جب وجیہہ کی آنکھ کھلی

اسنے اردگرد دیکھا تو وہ جہازی سائیڈ بیڈ پر لیٹی تھی

کھڑکیوں پر موٹے پردے پڑنے سے دن میں بھی رات کا گمان ہورہا تھا

اسکا سر بھاری ہورہا تھا

اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے وہ کہاں ہے

اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا

اور کوئی کمرے میں آیا

اندھیرے کے باعث وہ اسکا چہرہ نا دیکھ سکتی تھی

وہ اٹھ کھڑی ہوئی

جب مقابل نے اسے اپنی گرفت میں لے لےلیا

چھوڑو مجھے

کون ہو تم؟

مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟

اسکے سوالوں کا جواب مقابل نے قہقہے سے دیا

اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئ تھیں

وہ خود کو آزاد کروانے کے لیے بھرپور زور لگا رہی تھی

مگر مقابل کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے بری طرح مچل کر رہ گئی تھی

اس کی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقابل شخص اسے اسی طرح تھامے الٹے قدموں پیچھے چل رہا تھا وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ ہی پیچھے کو گھسیٹی جا رہی تھی

آخر وہ شخص بلکل دیوار کے ساتھ لگ کر رک گیا تھا اور اسی طرح اسے بھی بلکل اپنے ساتھ لگا لیا تھا

مگر بولا کچھ نہیں تھا نہ ہی ابھی تک اس کی کمر سے اپنا ہاتھ ہٹایا تھا

اس شخص کی اس حرکت پر وہ ایک بار پھر تڑپ اٹھی تھی

مگر مقابل شخص پر تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا

اس وقت وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی

اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے

کیسے خود کو اس انجان شخص سے آزاد کروائے

اسنے اپنا پیر اسکے پیر پر مارنا چاہا

تبھی اسنے اسکے دونوں پیروں کو اپنے پیروں سے دبادیا

اسنے مزاحمت کی

مگر بے سود رہی

اسنے وجیہہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ کسمسائی

مگر مقابل بھی ضدی تھا

شدید بے بسی کے عالم میں وہ سسک اٹھی تھی

وہ اس وقت نجانے کس انجان شخص کے رحم و کرم پر تھی

کیوں رو رہی ہو

وجیہہ

کیا اتنا برا لگتا ہے تمھیں میرا چھونا ؟

اس کے کان کے بلکل پاس کہیں جانی پہچانی سی آواز گونجی تھی

مگر وہ پہچاننے سے قاصر تھی

اسنے اسے بڑی مشکل سے دھکا مارا مگر پھر بھی وہ اس کی گرفت سے نکل نا سکی

تم کیوں ایسا کر رہی ہو؟

کیوں ڈرتی ہو اتنا مجھ سے؟

بولو وجیہہ

جواب دو مجھے

وہ بولے جارہا تھا

اور وہ گم سم سی تھی

بولو وجیہہ

اسے جنجھوڑ کر بولا

میں تمہیں نہیں جانتی

پلیز مجھے چھوڑ دو

میری ماما پریشان ہونگیں

وجیہہ تم نہیں جاسکتی کہیں پر بھی

مجھ سے نکاح کیے بغیر

وہ غراتے ہوئے بولا

نہیں

میں تمہیں

نہیں جانتی اور میری منگنی ہو چکی ہے

جانے دو مجھے

وہ روتے ہوئے بولی

تبھی اسنے اسے پرے دھکیلا اور پردے برابر کرنے لگا

اچانک روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں

تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اس طرح یہاں لانے کی

وجیہہ کی نظر جب وجدان پر پڑی تو چیخ اٹھی

دیکھو میری منگنی ہو چکی ہے

تم میرا پیچھا چھوڑ دو

اس نے ہاتھ جوڑتے کہا

کیا کہا تم نے منگنی

ہا ہا ہا ہا ہا

اچھا مزاق ہے

ایک رات گھر سے باہر ایک انجان مرد کے ساتھ رہنے والی کو کون اپنائے گا

دیکھو جیا

تمہارے پاس میری بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے

اگر میں نا مانوں تو؟

وجیہہ نے آنسووں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھا

اس کیلیے بھی میرے پاس آپشن ہے

وجدان نے کوٹ کی جیب میسے پسٹل نکال کر کہا

تم مجھے ماردو گے

چلو مار دو مجھے

وجیہہ نے اسکا گن والا ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھ کر کہا

او جان تم بھی ناں

میں بھلا تمہیں کیسے مارسکتا ہوں

یہ تو تمہاری ماں اور بہن کیلیے ہے

اگر تم مجھ سے شادی ان کی وجہ سے نہیں کررہی تو

میں انہیں ہی راستے سے ہٹا دیتا ہوں

وجدان یہ بات اتنی آسانی سے کہہ گیا جیسے انسان کو نہیں بلکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے ہٹانا ہو

😏

کیا

یہ کیا کہہ رہے ہو تم

وجیہہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا

سچ کہہ رہا ہوں

نکاح کرلو ورنہ میں تو چلا

اسنے وجدان نے قدم بڑھاتے کہا

رکو

وجیہہ نے اسے آواز دی

مجھے تمہاری آفر منظور ہے

اسنے ہلکی آواز میں کہا

THATS MY GIRL

وجدان نے فاتحانہ انداز سے کہا

اور نکل گیا

وہ ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح زمین پر بیٹھتی گئی

یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ

مجھے بلکل بھی اسبات کا اندازہ نہیں تھا

وہ روتے ہوئے خود سے کہہ رہی تھی

@@@@

#حال

@@@@

وہ کمرے میں داخل ہوا تو اگلا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا

اس سے پہلے کے وہ ٹریگر دباتی

وجدان نے اس سے پستول چھین لیا

وہ ہڑبڑا گئی تھی

تم

چٹاخ

وجدان نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا

تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی خود کو نقصان پہنچانے کی

وجدان اسے جنجھوڑتے ہوئے بولا

پلیز وجدان مجھے جانے دو

میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں

پلیز ایسا مت کرو

وجیہہ نے روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے

وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھتا رہا

پھر ایک دم اٹھ کر باہر چلاگیا

اور وہ وہیں صوفے کے قریب بیٹھ گئی

@@@

وہ نیچے علی کے ساتھ بیٹھا تھا جب

اچانک اسے کھانے کا خیال آیا اور وجیہہ کی طرف اٹھ کر چلا آیا

ملازم کو بریانی بنانے کا کہکر وہ سیدھا روم میں آیا

لیکن وہ ٹھٹھک گیا

کیونکے کمرے کا دروازہ کھلا پڑا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *