Raahguzar by Mariyam Bibi NovelR50658 Raahguzar (Episode 05)
Rate this Novel
Raahguzar (Episode 05)
Raahguzar by Mariyam Bibi
مگر کیوں جیا
تم کیوں مجھے دکھ دے رہی ہو
رجا بیگم نے روہانسی ہوکر کہا
ماما جانی آپ نے میری پوریبات تو سنی نہیں میں یہ کہرہی تھی کے آپ ہی لڑکے کی پکچر دیکھ لیں مجھے آپکی پسند پر پورا بھروسہ ہے آپ کبھی بھی میرے لیے کچھ غلط نہیں سوچ سکتیں اسلیے
وجیہہ نے انکے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا
جیا تمہیں علم نہیں ہے کے تم نے یہ بات کہکر میرے دل کو کتنا سکون پہنچایا ہے
رجا بیگم نے جذبات سے بھرے لہجے میں کہا
جی ماما مجھے پتا ہے آپ بلکل فکر نا کریں میں آپ کی مرضی سے جب آپ کہیں گی شادی کرلوں گی اب خوش ہیں آپ
وجیہہ نے مسکرا کر کہا
وہ یہی تو چاہتی تھی کے وہ اپنی ماں کا مان نا توڑے
اسلیے اپنی خوشیوں پر پابندی لگارہی تھی
ہاں اب میں بہت خوش ہوں
تم نے مجھے بہت خوش کردیا ہے جیا
رجا بیگم اسے پیار کرتے ہوئے نکل گئیں تھیں
تبھی نمرہ روم میں آئی
جیا یہ میں کیا سن رہی ہوں تمنے شادی کیلیے ہاں کردی؟
ہاں نمرہ تم بھی تو یہی چاہتی تھی اور ماما بھی اس بات سے ہی خوش ہیں بہت اور کیا تم خوش نہیں ہو؟
پگلی بھلا میں کیسے خوش نا ہووں گی
میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے
وہ مسکرائی تھی
بس مجھے اس بات کاڈر ہے کے کہیں وہ کچھ غلط نا کر بیٹھے
نمرہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے
نمرہ
جیا وہ تم سے محبت کرتا ہے
ایسے کیسے تمہیں کسی اور کا ہونے دے گا
نمرہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اگر وہ مجھ سے محبت کرتا تو اپنے والدین کو رشتے کیلیے بھیجھ دیتا
مگر نہیں تمہیں مینے بتایا تھا ناں کے میری کلاس فیلو کی بہن کو اسنے کس طرح چیٹ کیا تھا
پھر بھی جیا تمہیں احتیاط کرنی چاہیے اس سے
نمرہ ے اسے سمجھایا
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں ماما سے کہتی ہوں کے جتنی جلدی ہوسکے وہ میری شادی کرادیں
میری شادی ہوجائے گی تب وہ میرا کچھ بھی بگاڑ نا پائے گا
اکون جانے حالات کیا کرتے ہیں اور اسکے ایمان کی یہی مضبوطی اسے غلط کرنے سے روکے گی
محبت میں کبھی دوراہے کا امکاں نہیں ہوتا
یہ ہوتی ہے تو ہوتی ہے
نہیں ہوتی تو جتنا بھی جتن کر لو
نہیں ہوتی ہے
اگر کوئی اچھا لگ جائے تو سب خامیاں اُسکی
اچانک
خوبیوں کی اوڑہنی میں چُھپ سی جاتی ہیں
مگر اگر محبت نا ہوتو خوبیاں بھی خامیوں میں بدل جاتی ہیں
بس انسان وہی کرتا ہے جس پر اسکا دل مطمئن ہوتا ہے
دل کی بات اسلیے سنی جاتی ہے کیونکے وہ اللّٰہ تعالٰی کا گھر ہوتا ہے
اور اللّٰہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کے اسکا گھر کوئی توڑ دے
اسلیے وہ ایسے شخص کا انتخاب بلکل بھی نہیں پسند کرتا جسکی محبت میں ذرا برابر بھی کھوٹ ہو
بس انسان کے سمجھنے کی دیر ہے
کہ جب دامن میں لاکھوں چھید ہو جائیں
کبوتر کے پروں کے ساتھ لپٹے
سب عیاں جب بھید ہو جائیں
تب رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا
بے شک وہ اللّٰہ اہلِ ایمان والوں کو رسوا نہیں ہونے دیتا
چاہے وہ اس بات سے اپنے خالق سے بھی دور ہوجائیں
@@
وجیہہ یونیورسٹی کیلیے تیار ہورہی تھی
اسبات کو ایک ہفتہ ہوچکا تھا اور اس نے محسوس کیا تھا کے رجا بیگم کتنی خوش تھیں
وہ انہیں خوش ہی دیکھنا چاہتی تھی
پاپا کے بعد انہوں نے ہی تو سب کچھ سنبھالا تھا
یہ نہیں تھا کے وجیہہ انہیں دکھ دیتی تھی بلکے وہ تو ہمیشہ انکی ہر بات مانتی تھی
بس شادی کو لیکر وہ انکی ایک نا سنتی تھی
وہ ان سے دور جانا نہیں چاہتی تھی
اور بچپن سے ہی اسفر کا نام اپنے نام کے ساتھ سننے کی عادت تھی
پر وہ کہتے ہیں ناں کے قسمت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں وہ ایسے کھیل کھیل جاتی ہے اور کوئی کچھ کر ہی نہیں پاتا
یہی اس کے ساتھ بھی ہوا تھا
جب وہ اور اسفر سات سال کے تھے تب اسے شدید قسم کا بخار ہوگیا
اور ایسا بخار چڑھا کے اسکی جان نکال کر ہی دم لیا
وجیہہ کسی سے کچھ کہتی نا تھی مگر وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی
وہ ماضی کی سوچوں میں گم تھی جبھی الارم کی گھنٹی نے اسے حال میں لا پٹخا
وہ سر جھٹک کر تیار ہونے لگ گئی
وہ تیار ہوکر باہر نکلنے لگی تھی جب رجا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں
جیا بیٹا آج یونی سے جلدی آجانا
کچھ لوگ تمہیں دیکھنے کیلیے آرہے ہیں
کیا ابھی اتنی جلدی
وہ سوچ کر ہی رہ گئی
جبکے اسکی زبان سے نکلا بھی تو یہ کے
اوکے ماما
اور وہ ان سے ملکر نکل گئی
@@
وجدان ہر روز اس سے پیار کا اظہار کرتا
اسے کسی نا کسی طرح حاصل کرنے کی کوشش کرتا مگر وہ مان کے ہی نا دے رہی تھی
وجدان تھک چکا تھا
اسے مناتے مناتے
علی اسے نت نئے نئے پلان بتاتا
وہ ان پر عمل کرتا مگر سب بے سود رہ جاتا
آج بھی وہ اس سے بات کرنے کیلیے چھٹی کے وقت کا انتظار کررہا تھا
اسے دو گھنٹے ہوچکے تھے باہر کھڑے کھڑے
مگر وجیہہ ابھی تک نا آئی تھی
آتی بھی کیسے بھلا
اسنے تھک ہار کر گارڈ سے پوچھا تو اسنے بتایا کے وہ تو بارہ بجے ہی چلی گئیں تھیں
وہ اتنی جلدی کیوں چلی گئی
وہ سوچتے ہوئے علی کے گھر کی جانب چلاگیا
@@
وہ گھر پہنچ چکی تھی اور اسوقت کچن میں شامی کباب تل رہی تھی
رشتے والوں نے ابھی ہی آجانا تھا
اسلیے وہ اپنی تیاریاں مکمل کررہی تھی جب دروازے پر بیل بجی
رجا بیگم نے دروازہ کھولا تو بانو لڑکے والوں کو لے کر کھڑی تھی
کچن میں کام کرتی وجیہہ کو باہر سے ہی انکی آواز آرہی تھی
وہ شامی پلیٹ میں سجارہی تھی جب نمرہ اسے باہر لینے کیلیے آئی
آجاؤ جیا لڑکا اور اسکی فیملی والے تم سے ملنا چاہتے ہیں جلدی سے آجاؤ
نمرہ اسے کہتے ساتھ ہی کپوں میں چائے انڈیلنے لگ گئی
وجیہہ نے ایک چکر کمرے کی طرف لگایا اور لپ گلوز درست کی اور ڈوپٹہ سلیقے سے اوڑھ کر وہ مہمانوں سے ملنے چلی گئی
السلام و عليكم
اسنے سب کو مشترکہ سلام کیا
سب نے ہی اسکے سلام کا جواب دیا
وعليكم و السلام بیٹا بیٹھو ہمارے پاس
اسماء بیگم نے اسے اپنے پاس بٹھاتے کہا
انکے بلکل سامنے ہی ایک ڈیسینٹ سا نوجوان سلیقے سے بیٹھا ہوا تھا
وہ بہت خوب صورت تھا
کم تو وجیہہ بھی نہیں تھی مگر بلاشعبہ وہ آج بھی حسین لگ رہی تھی
کیا نام ہے آپکا بیٹا
اسماء بیگم نے نہایت خوشدلی سے پوچھا تھا
لگتا تھا کے وجیہہ انہیں بہت پسند آگئی تھی
جی میرا نام وجیہہ اقبال ہے
وجیہہ نے کانفیڈینس سے کہا
ماشاءاللّٰہ بہت پیارا نام ہے آپکا
تھینکس وہ ہلکا سا مسکرادی
یہ میرا بیٹا ہے زیشان اور یہ میری بہو بیٹی نائیشہ ہے
جی بہت خوشی ہوئی وجیہہ تم سے مل کر
نائیشہ نے مسکراکر کہا
جی مجھے بھی وہ بھی مسکرا دی
مما بات کرلیں آپ آنٹی سے مجھے رشتہ منظور ہے
زیشان نے کہا جب اسماء بیگم نے اس سے اسکی رائے لیتے کہا کے ہمیں تو بچی بہت پسند ہے اب تم بتادو
وہ مطمئن سی اٹھ گئیں
بہن جی بلاشعبہ آپکی بیٹی بہت خوبصورت ہے اچھے اخلاق والی بھی لگ رہی ہے
یہ سب آپ کی ہی پرورش کا نتیجہ ہے بہن جی
ورنہ آج کل کے بچے تو کسی کی سنتے ہی نہیں
خیر مجھے یہ رشتہ منظور ہے آپ پوچھ لیں بیٹی سے میں بھی زیشان سے پوچھ چکی ہوں
اسماء بیگم نے انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا
جی بہن جی وجیہہ کو بھی کوئی اعتراض نا ہوگا
میری بیٹی میری ہر بات مانتی ہے
میرا مان ہے وجیہہ
میں بہت خوش قسمت ہوں جو وجیہہ میری بیٹی ہے
رجا بیگم نے نم آنکھوں سے کہا
وجیہہ انکے اس قدر پیار پر اتنے بھروسے پر آبدیدہ ہوگئی
جی آنٹی
مانا جانی ٹھیک کہرہی ہیں مجھے بھی یہ رشتہ منظور ہے
وجیہہ کہکر انکے پاس آگئی
زیشان اسکے اس قدر ے باک اقرار پر ہکا بکا رہ گیا
وجیہہ بیٹا آپ مجھے ممی بولیں گئیں تو مجھے بہت اچھا لگے گا
انہوں نے مسکرا کر کہا
اوکے ممی
وہ بھی مسکرا کر بولی
@@@
علی یار تم مجھسے یہ کیا کہرہے ہو
مام کبھی بھی نا آئیں گی
سب سے پہلے کہیں گیں
وجی وہ لڑکی بھی تمہاری طرح آوارہ ہوگی
جیسے تم آوارہ ہو
ساری بات مٹی میں ملادیں گیں
انسے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
وجدان نے اپنی بھڑاس نکالی
وجی دیکھ یار وہ بھی یہ ہی سوچ رہی ہوگی کے تونے اپنے پیرنٹس کو اسکے گھر نہیں
بھیجھا
علی وجدان کو سمجھا رہا تھا اور وہ کسی سوچ میں غرق تھا
میرے پاس ایک پلان ہے
وجدان نے آنکھوں میں چمک لیے کہا
بول
علی سیدھا ہو یٹھا
اور وجدان اسے بتانے لگا
کیا
علی کا رنگ فق سے اڑگیا
