Raahguzar by Mariyam Bibi NovelR50658 Raahguzar (Episode 06)
Rate this Novel
Raahguzar (Episode 06)
Raahguzar by Mariyam Bibi
منگنی کی تاریخ ایک ہفتے بعد کی تہہ کرکے وہ لوگ انہیں اسبات کی بھی تسلی دیکر کے انہیں صرف وجیہہ چاہیے اور کچھ نہیں
کہہ کر چلے گئے تھے
رجا بیگم نے رانیہ بیگم اور ساری تیاری مکمل کرلی تھی
وجیہہ کا جوڑا بھی زیشان کی پسند سے اسماء بیگم نے انکے گھر بجھوادیا تھا
وجیہہ سوچوں میں گم رہتی کے اتنی جلدی اسکی شادی ہوجائے گی اور وہ اپنی ماما سے دور ہوجائے گی
یہی وجہ تھی کے وہ شادی نا کرنا چاہتی تھی
مگر رجا بیگم کے خوشی دیکھ کر وہ چپ رہ جاتی
دن تیزی سے گزررہے تھے اور
منگنی میں بھی اب دو دن ہی باقی رہ گئے تھے
ساری تیاریاں ہوچکی تھیں
رجا بیگم کھانا بنارہی تھیں جب دروازے پر دستک ہوئی
وہ دروازہ کھولنے گئیں تو ایک آدمی اور ایک عورت باہر کچھ سامان کیساتھ کھڑے تھے
جی آپ کون؟
رجا بیگم نے ان سے پوچھا
تو آدمی بولا
بہن جی یہ وجیہہ کا گھر ہے؟
جی مگر آپ کون؟
انہوں نے نا سمجھی سے کہا
ارے بہن اندر بلائیں گی نہیں کیا
عورت نے مسکرا کر کہا
جی کیوں نہیں آئیں آئیں
انہوں نے دروازہ چھوڑتے کہا
@@@
یہ کیا بکواس ہے وجی
اگر انکل آنٹی کو پتا چل گیا تو؟
علی نے پریشانی سے کہا
ابے کیسے پتا چلے گا انہیں
بس اب یہی راستہ ہے اسے حاصل کرنے کا
وجدان نے سوچتے کہا
نہیں پتا چلتا انہیں
بس تم ایک نقلی کے ماں باپ کا انتظام کردو
وجدان نے علی سے کہا
تو علی اٹھ کر چلا گیا
وجیہہ میڈم اب مجھے کوئی بھی طاقت تم سے الگ نہیں کر پائی گی
وہ مسکراتا ہوا بولا
مگر اسے معلوم نا تھا کے ہر بار قسمت اچھی نہیں رہتی
قسمت اور وقت کب بازی پلٹ دے کچھ پتا بھی نہیں چلتا
@@@
جی اب بتادیں کون ہیں آپ لوگ اور وجیہہ کو کیسے جانتے ہیں
رجا بیگم نے انہیں بٹھاکر چائے رکھتے کہا
جی میرا نام اقراء ہے اور یہ میرے شوہر اکرام
عورت نے اپنا تعارف کرایا
جی ہم وجیہہ کو اس طرح جانتے ہیں کے وہ ہمارے بیٹے کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی ہے
ہمارے بیٹے کو وہ بہت پسند ہے
اسلیے ہم آپ کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں
عورت نے مکمل اطمینان کے ساتھ اپنی بات مکمل کرلی
جبکے رجا بیگم ششدر سی رہ گئیں
@@@
وجی مینے انتظام کرلیا ہے
کرائے پر ایک عورت اور ایک مرد کا
انہیں سب کچھ سمجھادیا ہے
میں نہیں جانتا کے وجیہہ کا گھر کدھر ہے
اسلیے تم انکے ساتھ چلے جاؤ
علی نے دو لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا
علی یہ لوگ میرا کام کر بھی سکیں گے
وجدان نے اپنی فکر ظاہر کی
صاحب ہم تو پیدا ہی ایکٹنگ کیلیے ہوئے ہیں
ان میسے مرد نے چہرے پر ہنسی لاتے کہا
اف کتنی بو آرہی ہے تم لوگوں میسے
پہلے اچھی طرح نہا لو پھر مام اور پاپا کے کپڑے پہن کر چلے جانا
اور ہاں یہ بات یاد رکھنا کے وجیہہ کا رشتا میرے لیے لیکر ہی لوٹنا سمجھے تم لوگ
اسنے انہیں انگلی دکھا کر کہا
جی صاحب
ان دونوں نےایک ساتھ سر ہلا کر کہا
@@
وہ لوگ تیار ہورہے تھے جب وجدان کا کوئی کام آن نکلا اور وہ علی کو اسکے گھر کا پتا بتا کر نکل گیا
علی ان دو کرائے کے وجدان کے ماں باپ کو مٹھائیاں اور پھل وغیرہ دیکر اسکے گھر کے باہر چھوڑ آیا
اب وہ لوگ رجا بیگم کے سامنے رٹا رٹایا سبق بول رہے تھے
بہن جی آپ چپ کیوں ہیں
اس اقراء(اس عورت نے پوچھا)
دیکھیں بہن آپ نے آنے میں دیر کردی
اور اب کوئی فائدہ نہیں رہا آپکے آنے کا
مطلب
اقراء بیگم نے نا سمجھی سے کہا
مطلب یہ کے وجیہہ کا رشتہ تہہ ہوچکا ہے اور دو دن بعد اسکی منگنی ہے
رجا بیگم نے انہیں بتایا
کیا
آپ ایسا کیسے کرسکتی ہیں
وہ عورت کھڑے ہوکر بولی
کیا مطلب مینے کیا کیا ہے؟
رجا بیگم نے بھی کھڑے ہوتے کہا
آپ ہمارے علاوہ کسی کو اپنی بیٹی نہیں دے سکتیں
یہ کیا بات ہوئی اقراء بہن
میری بیٹی ہے
میری مرضی میں اسکی شادی کہیں پر بھی کروں
آپ ایسے ہی فالتو میں ڈھونس جمارہی ہیں
رجا بیگم کو انکی بات سخت ناگوار گزری اسلیے وہ بھی بول دیں
دیکھیں بہن منگنی ہی تو ہے
ٹوٹ بھی تو سکتی ہے ناں
آپ اسکی وہاں سے منگنی توڑ کر میرے بیٹے کے ساتھ کردیں
اقراء نے ان سے کہا
ارے واہ میں کیوں ایسا کرونگی
نا جان نا پہچان
چچی جی سلام
میں آپ لوگوں کو جانتی تک نہیں اور دیکھا بھالا رشتہ آپکے بیٹے کیلیے توڑ دوں
واہ کیا خودغرض عورت ہیں آپ
رجا بیگم انکی اس بات پر مزید غصے میں آگئیں
دیکھیے
آپ دیکھیے رجا بیگم نے انہیں ٹوکتے کہا
آپ شرافت سے ہی یہاں سے چلی جائیں تو بہتر ہے ورنہ
انہوں نے جان کر ہی بات ادھوری چھوڑ دی
اور وہ لوگ ایک قہر آلود نظر ان پر ڈال کر باہر نکل گئے اور رجا بیگم نے ٹھک سے دروازہ بند کیا
مبادہ کے وہ دوبارہ نا آجائیں
@@
انہوں نے انہیں سب بتایا تھا جو علی نے کہا تھا
مگر وہ راضی نا ہوئیں
وہ لوگ اب ساری بات علی کو بتا رہے تھے
علی نے کار سٹارٹ کرتے وقت انہیں منع کردیا تھا کے وہ وجدان کو فون نا کریں
اور وہ مان گئے تھے
وہ گھر پہنچے تو وجدان کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا تھا
اسکی واپسی رات میں بھی نا ہوئی تھی
علی اسکا انتظار کرتا کرتا سوگیا تھا
جب صبح سات بجے ہی وہ نمودار ہوگیا تھا
وہ سیدھا ان لوگوں کے پاس پہنچا تو وہ لوگ مزے سے سوئے پڑے تھے
وجدان نے انہیں اٹھایا اور
بے تابی سے پوچھنے لگا
کیا ہوا وجیہہ کے گھر والے مان گئے ناں
وہ جوش سے انسے پوچھ رہا تھا
وہ اسے کیا بتاتے بھلا لیکن بتانا بھی ضروری تھا
کیا ہوا بول کیوں نہیں رہے
اسنے آدمی کو جنجھوڑ کر پوچھا
انکار کردیا اسکی ماں نے
اور ان لوگوں نے اسے ساری بات بتادی
وہ سر تھام کر نیچے بیٹھتا چلا گیا
کیا وجیہہ کی منگنی ہے
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا
وہ پاگلوں کے طرح چلارہا تھا
وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی
نہیں
وہ چیخے جارہا تھا
جب آدمی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
صاحب حوصلہ رکھیں
اسنے اسکا ہاتھ جھٹک دیا اور اور وائلٹ سے پیسے نکال کر انکے سامنے گرا کر وہ وہاں سے چلا گیا
اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ کرے تو کیا کرے
@@@
رجا بیگم کل کے فنکشن کی ساری تیاریاں کرکے لیٹنے لگیں تھیں جب ردا آگئی
ماما آپ سو تو نہیں رہی تھیں
ردا نے انکے پاس بیٹھ کر کہا
نہیں ردا تم بتاو کس لیے آئی ہو
ماما آپ بھی جانتی ہیں کے مجھے لگی لپٹی باتیں نہیں کرنی آتیں اسلیے آپ سے یہ کہنے آئی تھی کے
وہ لوگ جو آئے تھے وہ کہیں جیا کے کہنے پر تو
بس ردا تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو
رجا بیگم اسکی بات کاٹتے بولیں
ماما آپ تو ناراض ہورہی ہیں
میرے کہنے کا یہ مطلب تھا کے جیا جوان ہے
ہوسکتا ہے کے
اس سے پہلے کے وہ کطھ اور بولتی
رجا بیگم بول پڑیں
میری جیا ایسی نہیں ہے ردا
اس میں میرا خون ہے
اور وہ اتنی کانفیڈینٹ تو ہے ہی کے اگر اسے کوئی پسند ہوتا تو وہ مجھسے کہتی
مگر مجھے اپنی بچی پر اعتبار ہے
وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی
میرا خون ہے اسکی رگوں میں
رجا بیگم اس سے کہرہی تھیں
آئندہ اس کے بارے میں ایسی کوئی بات نا سنوں میں
جی ماما میں بس ایسے ہی کہرہی تھی
آپ پریشان نا ہوں
ردا نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
وہ لوگ دوسری باتوں میں مگن ہوگئے
اس بات سے انجان کے وجیہہ انکی ساری باتیں سن چکی ہے
وہ آئی تو رجا بیگم سے سر میں مالش کروانے مگر انہیں باتیں کرتا دیکھ جانے لگی تھی جب اس نے ردا کی بات سنی
اور پھر وہ ساکت ساری باتیں سنتی ہی گئی
وہ اپنے کمرے میں آکر بھی یہی سوچ رہی تھی کے
اب وہ اس رشتے ہو دل سے اپنا لے گی
اسکی ماں کو اس پر مان ہے وہ اس مان کو ٹوٹنے نہیں دے گی
@@@
i
وجدان کو لگا تھا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کی کوئی وجہ نہیں بچی ہے
اسے رہ رہ کر وجیہہہ پر غصہ آرہا تھا
کیوں وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے جلتے محبت کے دیپ نہیں دیکھ سکی تھی؟
کیوں
کیا اسنے ایسا
وہ کیسے اس کے ساتھ ایسا کر سکتی تھی
کیسے رہے گا وہ اس کے بغیر؟
اسنے ایک بار بھی اسکے بارے میں نہیں سوچا
جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا
کیسے کٹےگی یہ پہاڑ جیسی زندگی اسکے بنا؟
کیوں ہوئی اس کو یہ محبت ؟
آخر کیوں؟
اسکے پاس ایسے بہت سے کیوں تھے
اور اس کیوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔محبت بھی کتنی ظالم چیز ہے اچھے بھلے بندے کو کیا سے کیا کر بنا کر رکھ دیتی ہے
کتنا بے بس کر کے رکھ دیتی ہے یہ محبت کہ محبوب کے قدموں میں گرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا
محبت کے مارے محبوب کی خاطر دودھ کی نہریں تک نکال لیں پھر بھی اکثر
خالی ہاتھ ہی رہتے ہیں
کیوں اسے بھی محبت نے اپنا شکار کر لیا تھا
یہ نہیں تھا ے اسے پہلے کبھی کوئی اچھی لڑکی نہیں دکھی تھی
پھر بھی یہ عام سی لڑکی اس کے دل پر راج کررہی تھی
اب کیسے وہ اسے بنا جی سکے گا
اسے معلوم نہیں تھا کے وہ اس طرح اس کے دیدار کی خاطر بھٹکے گا
وہ تڑپتے ہوئے سوچ رہا تھا
اب شاید یہی میرا نصیب ہے
وہ سر گٹنوں میں دیکر بیٹھ گیا
کتنی ہی دیر وہ ایسے سسکتا رہا
اپنی ناکامی پر روتا اور کڑھتا رہا
جب ملازم نے اسے علی کے آنے کا بتایا
اور علی بھی دروازہ کھول کے اندر داخل ہوگیا تھا
کیا بات ہے وجی ایسے کیوں بیٹھا ہے؟
علی نے اسے بازو سے پکڑتے کہا
کچھ نہیں علی
وہ اس سے ہاتھ چھڑاتے بولا
کچھ تو ہے اگر تو بتانا نہیں چاہتا تو وہ الگ بات ہے
علی نروٹھے پن سے بولا
وہ اسکا بچپن کا دوست تھا اسلیے اسکے ہر راز سے واقف تھا
توں تو ایسے پوچھ رہا ہےجیسے تجھے پتا نہیں ہے
وجدان اسے دیکھ کر بولا
پتا ہے مجھے پر اب تجھے کیا مسلہ ہے
اسکی ماں نے انکار کردیا ہے
اب بس کر
تجھے کونسا لڑکیوں کی کمی ہے
اچھا بھلا تو ہے
علی نے اسکے کندھے پر ہاتھ مارکے کہا
بس کر علی تو سمجھ کیوں نہیں رہا
میں اس سے محبت کرتا ہوں
اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتا ہوں میں
اس کے بغیر تو جینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مجھے وہ ہر حال میں اس کمرے میں اور اپنی زندگی میں چاہیے ہی چاہیے
وجدان نے ضدی بچوں کی طرح کہا
جو اپنے لیے کھیلونا مانگتے ہیں جیسے
اس کے لیے مجھے کچھ کرنا ہی کیوں نہ پڑے
علی میں سب کچھ کروں گا
بس وہ مجھے مل جاؐئے
علی کو اس کے لہجے میں اس کی سچائی اس کی آنکھوں کی نمی سب سمجھا گئی تھی کے وہ اس سے پیار کرنے لگا ہے
وہ انسان پیار کر بیٹھا جو عورت کو کچھ بھی نا سمجھتا تھا
جس کیلیے عورت زات کھیل تماشے سے بڑھ کر نا تھی
قصور اسکا بھی نہیں تھا
اسکی ماں نے ہی اگر اسے عورت کی عزت کرنا سکھایا ہوتا تو آج وہ ایک عورت کیلیے اپنی عزت قربان کرتا
ٹھیک ہے وجی اگر توں سچ میں اس سے پیار کرتا ہے تو میں تیری مدد ضرور کروں گا
مگر کیسے یار وہ جو نقلی ماں باپ بناکر بھیجے تھے انہیں بھی اسکی ماں نے جواب دے دیا یہ کہکر کے کل میری بیٹی کی منگنی ہے
اور اسبات کو بھی تئیس گھنٹے بیت چکے ہیں
مجھے اس سے یہ امید نا تھی
وہ میرا انتظار تو کرتی
وجدان آخر میں چلایا تھا
اچھا وجی توں چپ کر میرے پاس ایک پلان ہے
علی سے بتانے لگا اور اسکی آنکھیں چمک اٹھیں
@@
جیا جیا
اف یہ لڑکی بھی ناں
جیا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی
نمرہ نے کمرے میں آتے ہی کہا
جیا بیڈ پر بیٹھی کتابوں میں سر دیے کچھ لکھ رہی تھی
اسکے اس طرح بولنے اور کتابیں اکٹھی کرنے پر بے حد ڈسٹرب ہوگئی
کیا مصیبت ہے نمرہ
تم بھی ناں
وجیہہ نے اس سے کاپی لیتے کہا
جیا پاگل ہو تم کیا؟
آج تمہاری منگنی ہے اور تم کتابوں میں سر دیے بیٹھی ہو
پڑھاکو کیڑی![]()
نمرہ بس تھوڑا سا سوال رہتا ہے وہ کرکے تیار ہوتی ہوں میں
وجیہہ اسے کہتے ہی لکھنا شروع ہوگئی
اور نمرہ سر پر ہاتھ مار کے چلی گئی یہ کہکر کے اسکا کچھ نہیں ہوسکتا
@@@
مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا
زیادہ لوگ نہیں تھے بس قریبی دو چار رشتے دار بلائے گئے تھے
منگنی کی رسم شروع کردی گئی تھی
زیشان اور وجیہہ نے رنگ ایکچینج کرلی تھی
پورا گھر تالیوں سے گونج اٹھا تھا
سب ان کی دائمی خوشیوں کی دعائیں کررہے تھے
مگر کوئی یہ نا جانتا تھا کے کب کیا ہوجائے انکی دعا قبول ہوتی بھی ہے کے نہیں
مگر کون جانے قسمت کے فیصلے
ہوتا وہی ہے جو اس رب کا فیصلہ ہوتا ہے
