Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 03)

Raahguzar by Mariyam Bibi

مجھ سے کینٹین میں آکر

ملو

میں تمہارا وہیں پر انتظار کررہا ہوں

اگر دیر کی تو تمہاری کلاس میں ہی آجاؤں گا سمجھی

تمہارا

نام۔پتہ اور نمبر جاننے والا

اجنبی کم اپنا

ہاہاہا

الفاظ ختم ہوچکے تھے اور اسکے ساتھ ہی وجیہہ کو لگ رہا تھا کے اسکا دل بھی بند ہوگیا ہے

آخر کون ہے یہ جو اسکا نام پتہ بھی جانتا ہے

اسی سوچ کو لیے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ باہر نکل آئی

اسکے قدم بڑی تیزی کے ساتھ کینٹین کی جانب جارہے تھے

وہ کینٹین پر پہنچ چکی تھی

کافی رش ہونے کی وجہ سے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی

لیکن کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ نا پایا

تبھی اسے دھکا لگا اور وہ گرتے گرتے بچی

وہ سنبھلی ہی تھی کے اسے اپنے پیر کے قریب ایک لفافہ ملا

اسنے جلدی سے اٹھایا

اسپر کچھ لکھا تھا

وہ ہجوم سے پرے درختوں کے بیچ آئی

اور لیٹر کھول کر پڑھنے لگی

ڈئیر وجیہہ!

مجھے خوشی ہوئی کے تم مجھ سے ملنے آئی

مگر میں ابھی تمہارا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا

اسیلیے تمہارے لیے لیٹر لکھا

تم کلاس کے بعد مجھے پیچھے والے

گراؤنڈ میں ملو

میں تمہارا انتظار کرونگا

اور اگر تم نا آئی

تو شام چار بجے جب تم اپنے کمرے میں کھڑکی کھول کر پڑھ رہی ہوتی ہو تب تم سے ملاقات کرنے آجاونگا

پھر نا کہنا خبر نا ہوئی

😜
😃

تمہارا

اجنبی

وجیہہ کا اسکی بات سن کر دماغ فکھ سے اڑگیا

وہ جلدی سے کلاس سے اپنا بیگ لائی اور اور پچھلے گراونڈ میں آگئی

اسے آئے ابھی دو منٹ ہی ہوئے تھے کے وہ منہ پر نقاب کرکے اسکی جانب آگیا

ہائے وجیہہ

وجیہہ جسکی اسکے طرف پیٹھ تھی اسکی آواز سے چونک کر مڑی

تم تو اتنی جلدی آگئیں

وہ ہنسا تھا

جبکے وجیہہ کو اسکی آواز جانی پہچانی لگی تھی

کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟

وجیہہ نے اسکا سر سے پیر تک جائزہ لیتے کہا

وجدان ہوں میں اور تمہیں چاہتا ہوں

وجدان نے منہ پر سے نقاب اتار کر کہا

آپ

وجیہہ اسکا چہرہ دیکھ کر گھبراگئی

جی ہاں میں

وہ مسکرایا

او تو آپ مجھے کل سے تنگ کررہے تھے

مگر آپ کو میرا کیسے پتا چلا نمبر اور گھر کا

وجیہہ نے پریشانی سے کہا

ارے تم شاید بھول رہی ہو کے تم نے اس دن میرے موبائل سے کال کی تھی اور گھر کا مجھے تمہارا پیچھا کرتے کرتے پتا چل گیا

وہ اسے حیرانی میں دیکھ کر محفوظ ہوا

آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے تھے

وجیہہ نے نا سمجھی سے پوچھا

ارے معصوم لڑکی

ایک جوان خوب صورت لڑکا ایک جوان خوبصورت لڑکی کا پیچھا بھلا کیوں کرتا ہے

اسنے اسکے سر پر چپت لگائی

کیوں کرتا ہے

اسے ابھی بھی وجدان کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی

ارے میں آپ سے محبت کرتا ہوں

اسیلیے آپکے پیچھے آیا تھا اس دن

وجدان نے اس سے ساری بات کہدی تھی

اور اب اس کے جواب کا منتظر تھا جو اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی

کب اور کیسے وجدان آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں

کے آپ مجھسے پیار کرتے ہیں

اور شادی کرنا چاہتے ہیں

اسیلیے میں اسدن آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی

کیونکے تنگ زہن لوگ دو پل کی بات چیت کو محبت کا نام دے دیتے ہیں

اہاں

ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی

وہ کچھ بولنے لگا جب اسنے ہاتھ کے اشارے سے روکا

دیکھیں وجدان

ایز آ سینئیر میں آپکی عزت کرتی ہوں مگر مجھے آپسے کوئی پیار ویار نہیں ہے

اسلیے آئندہ مجھے کال مت کیجیے گا

وہ کہکر جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی

جبکے وہ اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا

@@@

وہ گھر پہنچی ہی تھی جب اسے باہر کے دروازے پر نمرہ مل گئی

نمرہ اسکی خالہ زاد بہن تھی جو کے دوسال پہلے ہی خالقِ حقیقی سے جاملی تھیں

اور نمرہ کے والد اور اسکی بھابھی نے ہی اسے سنبھالا تھا

بھائی ازلان کام کے سلسلے میں دوبئی گئے ہوئے تھے

والدہ کی وفات پر بھی وہ پہنچ نا سکا تھا

وجیہہ بہت خوش ہوئی اسے دیکھ کر

اور پاوں دباتے ہوئے اسکے پیچھے کھڑی ہوگئی

اسکے چہرے پر مسکان واضع تھی

بوہ

وجیہہ نے نمرہ کے کان کے پاس کہا

نمرہ جو اپنے دھیان میں کھڑی تھی اسکی آواز سے بری طرح گھبراکر پلٹی

اف جیا تم ہو تمہیں زرا اندازا نہیں کے مجھے اپنی بڑی بہن کو ڈراتے ہوئے

مجھے کتنا سکون ملتا ہے

وجیہہ نے اسکی بات کاٹ کر اس سے لپٹ کر کہا

تم کبھی نہیں سدھروگی

نمرہ نے اسے پرے کرتے کہا

اور وہ دونوں گھر میں داخل ہوگئیں

کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا اور کھانے کے بعد نمرہ سوگئی اور وجیہہ اپنا پڑھنے بیٹھ گئی

کافی دیر پڑھنے کے بعد جب وہ لیٹنے لگی تب اسکا موبائل روشن ہوا

اسنے موبائل اٹھایا ہی تھا تو اس پر پندرہ سے زائد میسجز آئے تھے

اسنے بغیر پڑھے ہی ڈلیٹ کردیے اور سونے لیٹ گئی

@@@

وہ رات میں اٹھی تو نمرہ کو جاگتا پاکر مسکرائی

وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرائی

وجیہہ ایک بات پوچھوں

نمرہ نے اسے بغور دیکھتے کہا

ہاں پوچھو

اسنے سرسری سا کہا

یہ وجدان کون ہے جیا

کون وجدان

اسنے نا سمجھی سے کہا

اور تمہیں کیسے پتا

جیا جب تم سورہی تھی تب تمہارا فون مسلسل بج رہا تھا

مینے کال اٹینڈ کی تو کوئی وجدان تھا

اسیلیے پوچھ رہی ہوں اور بہت پریشان سا تھا تمہارے فون نا اٹھانے پر

اب سچ سچ بتانا ماجرا کیا ہے

نمرہ نے آئیبروز اچکا کر کہا

اور وجیہہ نے گہری سانس لیکر اسے ساری بات بتادی کے کیسے اس دن اس سے ہیلپ لی اور آج تک کی ساری بات بتا کر چپ ہوگئی

تمہیں وہ اچھا نہیں لگتا کیا جیا

نمرہ اچھا لگے یا نا لگے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس مجھے ابھی پڑھنا ہے اور میں ابھی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی

مجھے اپناکیرئیر بنانا ہے

اسکے بعد کہیں جاکر شادی کا سوچوں گی

وجیہہ نے گویا بات ہی ختم کردی

مگر خالہ تو تمہارے لیے رشتے ڈھونڈ رہی ہیں اور اسیلیے تو انہوں نے مجھے بلایا ہے

نمرہ نے اسکے سر پر بمب پھوڑا

کیا

ماما جانی کیا سوچ رہی ہیں

وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی

اسے آج کسی بھی حال میں شادی کی بات سے تو پیچھا چھڑانا تھا

وہ ابھی انکے روم کی طرف بڑھی ہی تھی جب اسے انکی اور رانیہ بیگم کی آواز سنائی دی

اسکے قدم من بھر کے ہوگئے

کہیں سے اس بات کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا تھا کے وجیہہ آج ان سے دو ٹوک بات کرنے آئی تھی

مگر اس میں ہمت ہی نا ہوئی تھی انکے اور رانیہ بیگم کی بات سنکر

بھابھی جیا اگر کسی اور کو پسند کرتی ہوئی تو

رانیہ بیگم نے اپنے دل کی بات کہا

نہیں رانی

جیا ایسا سوچ بھی نہیں سکتی

مجھے میری بیٹی پر بھروسہ ہے

میری بیٹی میرا مان ہے مجھے فخر ہے کے وجیہہ میری بیٹی ہے

اللّٰہ سب کو اس جیسی اولاد دے

آمین بھابھی میری بھی یہی دعا ہے

رجا حالات بھی دیکھو ناں انسان کو کس طرف لے آتے ہیں

یقین مانو رجا اگر آج اسفر زندہ ہوتا تو جیا میری بہو بنتی

مجھے بہت خوشی ملتی کے میرے بھائی کی بیٹیاں میری اپنی بیٹیاں بنتیں

مگر جو قسمت کو منظور

رانیہ بیگم نے آنکھ کا کونا صاف کرکے کہا

بس بھول جاو رانی کوئی بات نہیں

تم دل چھوٹا مت کرو

جیا جب اٹھے گی صبح کو تو اس سے بات کرلوں گی میں

مجھے پورا پقین ہے کے میری بیٹی میری بات مانے گی

انہوں نے بڑے یقین سے کہا

اور دروازے کے باہر کھڑی وجیہہ کے قدم لرز گئے

اور وہ بغیر آواز کیے جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی تھی

کون جانتا تھا کے اس کی زندگی میں آگے اور کون کون سی مشکلات آنی تھیں

کون جانے کے حالات کیا رنگ لینے والے تھے

کسے پتا کے جو خوشی کے دیپ وہ جلانے کیلیے خوشی منارہے ہیں وہ انکا نصیب بنتی بھی ہے یا نہیں

مگر کون جانے

قسمت اور وقت کے فیصلوں کو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *