Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 02)

Raahguzar by Mariyam Bibi

وجیہہ کو آج یونیورسٹی آتے ایک مہینہ ہو گیا تھا

مگر اس کا دل ابھی تک یونی میں نہیں لگا تھا

یونیورسٹی میں پہلے دن سے ہی سب اس کی ذہانت کے گن گا رہے تھے

سب ہی اس کی قابلیت کی وجہ سے اس سے دوستی کرنا چاہتےتھے

مگر اسے زیادہ دوست پسند نا تھے

اسکی نیچر ہی ایسی تھی

وہ سب سے ہی اچھے سے ملتی تو تھی مگر اس کی دوستی کسی سے بھی نا ہو سکی تھی

اسے لے آنے اور لے جانے کی ذمہ داری اسکے ڈرائیور کی تھی

اب بھی وہ اسی کا انتظار کررہی تھی

وہ پریشان سی پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی

آج کا سارا دن تو بہت اچھا تھا مگر اب دو گھنٹے سے ڈرائیور کے انتظار میں تھی

اور وہ تھا کے آکے نہیں دے رہا تھا

بدقسمتی سے آج وہ اپنا سیل فون بھی ساتھ لانا بھول گئی تھی

اور اب جی بھر کر پچھتا رہی تھی

وہ ہمیشہ ہی غلطی کرکے پچھتاتی رہتی تھی

اسے اپنی لاپرواہی پر غصہ آرہا تھا

پارکنگ ایریا تقریباً خالی ہو چکا تھا

اور یہی بات اسے مزید پریشان کر رہی تھی

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کے کسی نا اسے آواز دی

مس آپ ابھی تک اپنے گھر کیوں نہی گئیں

کوئی پرابلم ہے کیا؟

آواز پر وجیہہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا

وہ ہینڈسم سا لڑکا آنکھوں پہ کالے رنگ کے سن گلاسز لگائے اسی سے مخاطب تھا

اور اب اسے دیکھتے ہوئے اپنے سوال کے جواب کا انتظار کر رہا تھا

وہ میرا ڈرائیور ابھی تک مجھے لینے نہیں آیا ہے

وہ روہانسی ہو کر بولی

آنکھیں تھیں کہ کسی بھی وقت چھلک پڑنے کو تیار تھیں

وجدان نے بغور اس پریشان سی لڑکی کا جائزہ لیا تھا

جو نجانے کیوں اسے بہت اپنی اپنی سی لگی تھی

یہ نہیں تھا کے اسنے کبھی کسی خوب صورت لڑکی کو دیکھا نہیں تھا

مگر اسے وہ ان سب سے الگ لگی تھی

اور وجدان اکرام کو تو ہمیشہ سے ہی الگ چیزیں اٹریکٹ کرتی تھیں

تو وہ بھی اسے اٹریکٹو لگی

جو ہمیشہ کبھی پڑھتے تو کبھی اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی رہتی نظر آتی تھی

وہ کاٹن کے ہلکے سبز رنگ کے کپڑے پہنے سفید رنگ کی بڑی سی چادر اوڑھے ہوئے تھی

گہری کالی آنسوؤں بھری آنکھیں جو مخالف کو لمحوں میں اپنا اسیر بنا لے

وہ اسے سادگی میں بھی اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی

تو آپ اپنے گھر کال کر لیں اس میں کون سی اتنی بڑی بات ہے

ہو جاتی ہے دیر اکثر پریشان مت ہوں

اسنے اسے حونصلہ دیتے کہا

اپنی طرف سے تو اس نے اس کا مسئلہ ہی حل کر دیا تھا

مگر وجیہہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا

وہ کہتی بھی کیا

اسے اپنی لاپرواہی

کی داستان سناتی

اسیلیے چپ ہی رہی

کیا ہوا نمبر نہیں ہے کیا آپ کے پاس گھر کا؟

وجدان نے خاموش کھڑی وجیہہ سے پوچھا

نہیں وہ آج میرا فون گھر رہ گیا ہے

وہ اتنی آہستگی سے بولی تھی کے وہ مشکل سے ہی اس کی پوری بات سن سکا تھا

اوہ

تو کوئی بات نہیں آپ میرے فون سے گھر کال کر کے ڈرائیور کا پتا کر لیں

وہ اپنا سیل فون اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا

نی میں کیسے

وہ بمشکل بولی

جب وہ بول پڑا

ارے ایسے اسنے موبائل کا لاگ کھول کر دیدیا

وجیہہ نے حیرانی سے اس لڑکے کو دیکھا تھا جو کھبی اس سے بات نہیں کرتا تھا

آج کیسے اسکے مدد کررہا تھا

بہرحال وہ اس بارے میں بعد میں سوچے گی

اسیلیے اسنے اس سے فون لے لیا

گھر کے نمبر پر کوئی کال پک نہیں کر رہا تھا تو اس نے اپنے سیل فون پر کال کی تھی

اب کی بار حسب توقع ردا نے کال اٹھا لی تھی

ردا سے بات کرنے کے دوران ہی اس کی نظر گیٹ سے اندر داخل ہوتی اپنی گاڑی پر پڑی تھی

ڈرائیور آگیا ہے میں گھر آ کر بات کرتی ہوں

اس نے جھٹ سے فون بند کیا تھا

بہت شکریہ آپ کا

وہ فون اس کو واپس تھماتے ہوئے بولی تھی

اس نے اپنا نمبر ڈلیٹ ہی نہیں کیا تھا

اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر وہ جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی

تو وہ بھی سر جھٹک کر اپنی گاڑی کی طرف آگیا تھا جہاں اس کے دوست کب سے اس کا انتظار کر رہے تھے

اسکی کامیابی کی خبر کا

اور وہ مسکراتا ہوا انہیں اپنا کارنامہ بتارہا تھا

@@@@

ردا اور وجیہہ دو ہی بہنیں تھیں

ان کے والد آرمی میں تھے ان کا انکے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا

انہیں ان کی ماں نے بغیر کسی سہارے کے پالا تھا

ردا کی شادی اسکے پھوپھی زاد سے ہوگئی تھی

اسکا گھر بھی وجیہہ اور رجا بیگم کے گھر کے ساتھ والی گلی میں تھا

چونکے ارمان نوکری کے سلسلے میں باہر گیا ہوا تھا اسیلیے پھپھو اور وہ سارا دن انکے گھر اور رات اپنے گھر گزارتی تھیں

رانیہ بیگم کی بس یہی خوہش تھی کے کاش انکا بیٹا زندہ ہوتا تو وہ اپنی جیا(وجیہہ) کو اپنی بہو بنالیتیں

مگر جو قسمت کو منظور تھا

وہی ہوناتھا

@@@

وجدان اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا

بے جا لاڈ پیار نے اسے ضدی بنادیا تھا

وہ ہر وہ چیز حاصل کرلیتا جو اسے بھاتی تھی

اور یہی رویہ وہ انسانوں کے ساتھ بھی کرتا تھا

اسے جو بھی لڑکی اچھی لگتی وہ اسے اپنی غلام بنالیتا اور بعد میں جب اسکا دل بھر جاتا تب اسے چھوڑ کر نئی تلاش میں لگ جاتا

اسکی اسی عادت سے پریشان ہوکر

اقراء بیگم اور اکرام صاحب اسے بقول انکے اکیلا چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے

جبکے یہ بات درست نا تھی

اسکی شامیں کلب میں اور راتیں لڑکیوں کی بانہوں میں گزرتی تھیں

اس نے ناجانے کتنی لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی تھیں

اسکی شکل ہی تھی کے اسکے سکینڈل سن کر بھی لڑکیاں اس پر مرتی تھیں

اور وہ انکے جذباتوں سے کھیلتا رہتا

بقول اسکے کے عورت تو ہے ہی پیر کی جوتی

ایک سے دل بھرے تو دوسری لیلو

مگر شاید اسے معلوم نا تھا کے یہ جوتی ہی اسے گندگی اسے بچاتی ہے۔اسے کانٹوں پر چلنے کے قابل بناتی ہے

اگر وہی جوتی منہ پر پڑ جائے تو مرد کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا

@@

جیا جیا

کہاں ہو تم؟

ردا چلاتی ہوئی اسے پکار رہی تھی

آپی واش روم میں ہوں

وجیہہ نے آواز لگائی

جیا جلدی آ

مجھے تجھ سے ضروری بات کرنی ہے

ردا نے اپنے پیر اوپر کرکتے کہا

جی بولیں

وجیہہ باتھ روم سے نکل کر تولیے سے ہاتھ پونچھتی باہر نکلی

بات سنو میری غور سے

ردا نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا

جی بولیں آپی

جیا

مما نے مجھے کہا تھا

آپی پلیز اگر آپ اس رشتے کی بات کرنے آئیں ہیں تو

جیا میری بات سن لو پہلے

میں تمہیں بتانے آئی ہوں کے ایک نیا رشتہ آیا ہے تمہارا

اسیلیے بات سن لو

لڑکا یو کے میں سیٹل ہے اسکی تین پہنیں اور چار بھائی ہیں

ماں باپ نہیں ہیں

اتنے بچے پیدا کرنے کے بعد کون زندہ رہ سکتا ہے

وجیہہ بڑبڑائی

کچھ کہا تم نے

نہیں تو میں کیا کہوں گی

وجیہہ نے معصوم شکل بناکر کہا

اچھا ماما کہرہی تھیں کے تم ایک بار

ہاں ماما کہرہی ہیں ایک بار لڑکے والوں سے اور لڑکے سے مل لو

بات کرلو

اگر تمہارا مزاج انکے ساتھ ملتا ہوا تو

خیر سے تمہاری شادی کردی جائے گی

اور میں کہونگی کے ماما میری پڑھائی

تو کہیں گی

بس اور کتنا پڑھو گی

تمہیں ہم نے بہت پڑھالیا ہے

اپنی بہن کو دیکھا

دس پڑھ کے ہی گھر سنبھالنے لگ گئی

اور تم ہوکے بی ایس کرکے بھی آگے ککی پڑھائی کا سوچ رہی ہو

ماما مجھے پڑھنا ہے

تو کہیں گی بیٹا تم اتنا تو پڑھ ہی چکی ہوکے نکاح نامے پر سائن کرسکو

اور آگے پڑھنا ہی ہے تو شادی کے بعد پڑھ لینا

اب انہیں کون سمجھائے

کے ہر کوئی میرے بابا جانی جیسا نہیں ہوتا

شادی کے بعد بچے پیدا کروں گی یا پڑھوں

آہ

اسکی بات درمیان میں ہی رہ گئی

جب رجا بیگم نے اسکا کان پکڑ لیا

اور ردا کھی کھی کرنے لگی

نالائق شرم نہیں آتی اپنی ماں کی نکل اتارتے

انہوں نے خفگی سے کہا اور اسکا کان اور مڑوڑا

اف ماما جانی کان چھوڑدیں میرا

اگر کان ٹوٹ گیا تو کوئی مجھ سے شادی بھی نہیں کرے گا

اسکے کہنے کی دیر تھی کے انہوں نے اسکا کان چھوڑ دیا

@@@

ہیلو ہیلو

کون بول رہا ہے

وجیہہ نے کوئی دسویں بار فون اٹھاکر کان سے لگاتے کہا

اور ہر بار کی طرح اس بار بھی جواب ندارد تھا

جب بولنا ہی نہیں تو کال کیوں کی

نان سینس

اسنے کال کاٹ کر کہا

وہ پڑھنے بیٹھی تھی جب اسکا فون مسلسل بج رہا تھا

اسے ڈسٹربینس ہورہی تھی

اسیلیے اسنے فون بند کردیا

کافی دیر بعد جب وہ پڑھ چکی تو اسے فون کی یاد آئی

اسنے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھالیا

اسنے موبائل آن کیا ہی تھا کے پھر سے کال آنے لگی

اسنے بے زاریت سے فون اٹھایا

اور ٹیک لگالی

اب کی بار اسنے ہیلو بھی نہیں کہا تھا

وہ کال کاٹنے لگی تھی جب اسے دوسری جانب سے انجان آواز سنائی دی

ہیلو

ہیلو وجیہہ

اب اسکی حیرت کی انتہا نا رہی

کے کال کرنے والے کو اسکا نام کیسے پتا چلا

وجیہہ آپ سن رہی ہو

اگلے بندے نے دوبارہ کہا

کے مبادہ وہ موبائل آن کرکے سو تو نہیں گئی

وہ حیران ہوگئی تھی

وجیہہ

آپ کو میرا نام کیسے پتا چلا؟

آخر وہ پوچھ ہی بیٹھی

او کم آن آج کے دور میں نام۔نمبر۔پتہ معلوم کرنا کونسا مشکل کام ہے

وہ بندا اسکی بات پر شاید ہنسا تھا

جی دردست فرمایا آپ نے مگر میرا نام۔نمبر اور پتہ پتہ کرنا بہت بڑی بات ہے مسٹر

اب جلدی سے بتاؤ تم کون ہو

وجیہہ نے یہ کہہ کر تو گویا بات ہی ختم کردی

اوکے وجیہہ پھر کل ملتے ہیں تمہاری یونیورسٹی میں اپنا خیال رکھنا

اسنے کہکر کال کاٹ دی

جبکے وجیہہ اسکے الفاظات پر غور کرتی رہ گئی

پتہ نہیں کون جسے میری یونیورسٹی کا بھی پتہ ہے

وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب رجا بیگم نے اسے کھانے پر آواز دی

اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی

@@@

کھانا کھاتے وقت بھی وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی

پتہ نہیں کون ہے یہ بندا اگر اسنے میرا راستہ روکا یا مجھے تنگ کیا تو میں کیا کروں گی

وہ پلیٹ میں ایسے ہی چمچ چلارہی تھی

جب رجا بیگم نے اسے آواز دی

کیا ہوا جیا تم کھانا نہیں کھارہی

انہوں نے اسے ہلا کر پوچھا

جی ماما جانی کچھ نہیں وہ میں سوچ رہی تھی کے اگر آپ بریانی نا بناتی تو میں اتنی موٹی نا ہوتی

اسنے مزاق نے کہا

چل پگلی کہیں کی تم کہاں سے موٹی ہو

وہ اسے کہکر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئیں

اور وہ بھی چپ چاپ کھانا کھاکر برتن دھونے لگ گئی

سونے تک اسکے زہن سے فون والی بات بلکل ہٹ چکی تھی

@@@

صبح وہ یونی کیلیے تیار ہورہی تھی جب ردا اسکے کمرے میں آئی

جیا تم جارہی ہو

ردا نے بے تکا سا سوال پوچھا

جی آپی کیوں نا جاوں

اسنے ناگواری سے کہا

نہیں جاو تم

میں روکنے والی کون ہوتی ہوں تمہیں

ردا نے بیڈ سے اسکے کپڑے اٹھاتے کہا

میں تو بس اسلیے پوچھ رہی تھی کے تم آتے وقت میرے لیے ایک گھڑی لیتی آنا

انہوں نے اپنے ڈوپٹے کے ساتھ بندھے پیسے نکال کر کہا

آپی ابھی میں کل ہی تو آپکیلیے واچ لائی تھی

آپنے دیکھی نہیں

وجیہہ نے الماری میسے ڈبہ نکال کر اسے دیا

واؤ جیا یہ تو بہت خوبصورت ہے

تمہیں کیسے پتا چلا کے مجھے گھڑی کی ضرورت ہے

ردا نے اسے گلے سے لگاکر کہا

آپی میں آپکی بہن ہوں مجھے اندازا ہوگیا تھا کے آپکو واچ چاہیے

اسیلیے کل یونی سے لوٹتے وقت لے آئی تھی

وجیہہ نے مسکرا کر کہا

جیا میری دعا ہے کے اللّٰہ تمہارے جیسی بہن ہر کسی کو دے

ردا نے پیار سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا

آمین

رجا بیگم بھی کمرے میں آتے ہوئے بولیں

وجیہہ بیٹا تم ابھی تک گئی نہیں

رانیہ بیگم جو کسی کام سے رجا بیگم کے پیچھے آئیں تھیں اسے دیکھ کر بولیں

جی پھپھو جان بس ابھی نکلنے والی تھی کے آپکی بہو مجھے لیٹ کرانے آگئی

اسنے انسے ملتے کہا

اچھا میری بیٹی تمہیں دیر کرواتی ہے

انہوں نے اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاکر کہا

اف ہو بوا آپ بھی نا کسی کام کی نہیں ہیں

بھلا بہو کو کوئی اتنی ڈھیل دیتا ہے

اگر وہ کچھ مانگیں تو آپکا فرض بنتا ہے کے دو تھپڑ لگاکر اسے چپ کرانےکا

جبکے آپ ہی انہیں سر پر چڑہارہی ہیں

ایک تو میرا بہنوئی ہے بے چارہ

اسکا اتنا خرچہ کراتی ہیں محترمہ

بھلا دو چار ہوتے تو

اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتی رجا بیگم نے ایک دھموکہ اسکی کمر پر جڑ

بیچاری جیا تلملا کر رہ گئی

بھلا اس معصوم نے غلط بھی کیا کہا تھا

پر ان مارنے والی ماوں کو کون سمجھائے

اس سے پہلے کے وہ شروع ہوجاتیں

وجیہہ نے بیگ اٹھا کر بھاگنے کی کی

جبکے وہ تینوں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئیں

@@@

وہ ابھی یونیورسٹی پہنچی ہی تھی کے بارش شروع ہوگئی

وہ بارش سے بچتی بچاتی راہ داری میں آئی

جہاں سامنے سے آتے وجدان سے ٹکراگئی

او مس کہاں گم ہیں

وجدان نے اسکا بغور جائزہ لیتے کہا

کچھ بس وہ بارش سے بچ رہی تھی

وجیہہ نے وضاحت دی اور آگے بڑھ گئی

اور وہ پیچھے سے اسے مسکراتاطہوا تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نا ہوگئی

وجیہہ بیگ میں سے بکس نکالنے لگی جب اسے ایک خط ملا

اسنے خط کھولا ہی تھا کے اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *