Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raahguzar (Episode 04)

Raahguzar by Mariyam Bibi

صبح جب وجیہہ کی آنکھ کھلی تو سورج کی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی

اسنے جلدی سے گھڑی کو دیکھا جو سات بجارہی تھی

مطلب یونی جانے میں صرف ایک گھنٹہ تھا

وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی اور جلدی سے تیاری کرنے لگی

وہ تیار ہوکر نکلنے لگی تھی جبھی نمرہ سے اسکا ٹکراؤ ہوگیا

ارے دیکھ کے جیا

سوری

وجیہہ نے کہا

کوئی بات نہیں لگتا ہے دیر ہورہی ہے تمہیں؟

نمرہ نے اسکی فائل جو اس سے ٹکرانے کی وجہ سے گر گئی تھی کو اسے دیتے ہوئے کہا

تھینکس

ہاں دیر ہورہی ہے

پتا نہیں کیسے آج آنکھ ہی نہیں کھلی

وجیہہ نے فائل پکڑتے ہوئے کہا

اوکے بائے بعد میں ملتے ہیں

وہ کہکر باہر نکل گئی

جیا

کھانا تو کھاتی جاؤ

ماما جانی دیر ہورہی ہے مجھے

ارے آرام سے

رجا بیگم نے پراٹھے کا رول بناکر اسے دیا جو بے دھیانی سے کھاتی نکل گئی

@@@

وہ ابھی یونی کے باہر ہی تھی جب وجدان نے اسے گھیر لیا

اوہو میڈم اتنی جلدی کہاں جارہی ہو

وہ جو اپنے دھیان سے آرہی تھی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی

مجھے لگتا ہے کے آپ کو عینک لگوالینی چاہیے

تاکے آپ کو پتا چل سکے کے سامنے یونیورسٹی ہے اور ایک طلباء یونی کے سامنے ہے تو ظاہری سی بات ہے کے یونی میں ہی جائے گی نا

وجیہہ نے دو قدم پیچھے ہوکر کہا

بہت بولتی ہیں آپ ویسے

آپ نے ابھی تک مجھے ہاں میں جواب نہیں دیا

مینے کل ہی آپ کو جواب دیدیا تھا

کے میں آپ سے محبت نہیں کرتی

اسلیے راستہ چھوڑیں میرا

راستہ تو تب تک نہیں چھوڑونگا جب آپ ہاں میں جواب نہیں دے دیتیں

وہ کمال ڈھٹائی سے بولا

اوہ مسٹر بھلا مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے یا میں آپکو کہیں سے پاگل دکھتی ہوں

جو جھوٹ بولوں؟

وجیہہ نے اپنے غصے پر ضبط کرتے ہوئے کہا

مطلب؟

اسنے نا سمجھی سے پوچھا

دیکھیے سمپل سی بات ہے آپ

مجہے پسند نہیں ہیں پلیز میرا تماشا نا بنایں

یہی مطلب ہے میرا

اسنے راستے سےجاتے ہوئے کہا

لیکن میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں

کیوں؟

اسنے ایک دم سے رک کر اسکی طرف گھورتے ہوئے کہا

میں نہیں جانتا

لیکن قسم سے آپکو دیکھ کر ہی آپ پر پیار آگیا ہے

شاید پہلی نظر والا پیار

شاید یہ آپکو فلمی انداز لگ رہا ہو گا لیکن میرا یقین کرو مجہے آپسے شدید محبت ہے

وجدان نے آخری دانہ پھینکا

جبکے اسکے کانوں میں رجا بیگم کی آواز گونجی

میری بیٹی ایسی نہیں ہے وہ میرا مان رکھے گی

وجیہہ نے قرب سے آنکھیں میچ لیں

کیسی مصیبت ہیں آپ بھی

جان چھوڑو میری

میں بس آپ سے پیار نہیں کرتی مطلب نہیں کرتی

تمہیں میری بات ماننی پڑے گی

سمجھی تم

وجدان نے غصے کے عالم میں اسکے بازو دبوچتے کہا

وجیہہ نے اسے یک نظر دیکھا اور زور دار دھکا مارا

اور غصے سے بولی

دیکھو تم جس ٹائپ کے لڑکے ہو وہ تو اندازہ ہو ہی رہا ہے مجہے

لیکن میں آپ کے ٹائپ کی نہیں ہوں جاکے کسی اور کو پھنساؤ اور میرا ٹائم ضایع نا کرو

اسے پھنساؤ جسے تمہارے بارے میں پتا نا ہو

اب یہ مت کہنا کے آپ اسبارے میں نہیں جانتے

مجھے معلوم ہے کے آپ جیسے لڑکوں کی یٹھک کیسی ہوتی ہے

وجیہہ نے اندھیرے میں تیر چلایا

جوکے صہیح نشانے پر لگا

اور وجدان کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا

ایک نگاہ اسپر ڈال کر

اسنے یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہوے کہا اور اندر چلی گئی

جبکے وہ پیچھے یہ سوچتا رہ گیا کے آخر اسے کس نے بتادیا میرے سکینڈل کے بارے میں

اسی سوچ کے رہتے

اسنے علی کو کال ملائی اور اسے پرل ہوٹل بلایا

اگلے بیس منٹ بعد وہ ایک دوسرے کے سامنے تھے

وجدان نے اسے سب بتادیا تھا

جسکے جواب میں علی بس اتنا بولا کے

یار وجدان

تیری کسی گرل فرینڈ نے بتادیا ہوگا

اسے

تو فکر نا کر

بھاؤ دیگی دو چار دن پھر خودہی دوسری لڑکیوں کی طرح تیرے پیچھے پیچھے گھومے گی

بس تونے اس سے کہہ دینا تھا کے یہ بکواس ہے تو تو بہت شریف ہے

مان جاتی وہ

وہ نہیں مانی یار

وجدان نے افسردہ ہوتے کہا

وجدان یار

بس ایسی لڑکیاں خود کو پاکباز پرو کرتی ہیں بس

مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کے کس نے بتایا ہوگا اسے

تیرے بارے میں

علی نے اس سے پوچھا

پتہ نہیں یار

کون ہوگی وہ

جب کے جس لڑکی کے ساتھ بھی میرا ریلیشن ہو

اسے میں اس قابل چھوڑتا ہی نہیں کے وہ میرے بارے میں

کسی سے کچھ کہہ سکے

تو تو جانتا ہے مجھے کے تیرا دوست کچے کام نہیں کرتا

وہ مکاری سے ہنسا

کر تو اسکے ساتھ بھی لیتا پر کیا کروں دل آگیا ہے سالی پر

اچھا پھر توں ایسا کر اسکے گھر پہنچ جا

اور اسکے ماں باپ کے سامنے اسکا ہاتھ مانگ لے

علی نے مشورہ دیا

نی یار ابھی مام ڈیڈ لندن میں ہی ہیں

چھ ماہ بعد آئیں گے تب تک رک جاتا ہوں

وہ کونسا بھاگھی جارہی ہے

وجدان نے اپنا مسلہ ہی ہل کردیا

@@

وجیہہ یونیورسٹی سے واپس لوٹ رہی تھی جب اسے گلی کی نکر پر وجدان مل گیا

وجیہہ آپ میری بات کیوں نہیں سنرہیں

وجدان نے اسکا راستہ روکا جوکے ایک نگاہ اس پر ڈال کر آگے بڑھ رہی تھی

راستہ چھوڑو میرا

وجیہہ چلائی

وجدان اس سے پھر اپنی محبت کا اظہار کرتے بولا

میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے

تم تم مجھے اس طرح انکار نہیں کرسکتی

وہ اسے دبوچتا ہوا بولا

میں انکار کرچکی ہوں مسٹر وجدان اکرام

وہ سنالی کو تو جانتے ہی ہوگے

ارے وہی سنالی جس سے پچھلے مہینے تم نے اسی طرح پیار کے دعوے کیے تھے

اور پھر آج وہ کہاں ہے وجدان

بولو کہاں ہے وہ

وجیہہ نے اسے دور دکھیلتے ہوئے کہا

میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں

پلیز میرا یقین کرو

دفع ہوجاؤ وہ اسے پرے کرتے ہوئے

چلائی تھی

اور وہاں سے چلی آئی

@@@

کچھ دن ایسے ہی چلتا رہا تھا

وہ یونی سے واپس آتے جاتے اس سے ملتا تھا

مگر وجیہہ نے اس پر اعتبار نا کرنے کی بہت کوشش کی

مگر تھی بھی تو وہ لڑکی تھی نا

جو اپنی تعریف کیلیے پاگل ہوجاتی ہیں

اور وہ تھا بھی اچھا خاصا

اسپر یونی کی لڑکیاں فدا تھیں

لیکن جسے وہ سو کالڈ چاہتا تھا وہ اس سے بھاگتی تھی

وجیہ یونی سے لوٹ رہی تھی جب وہ اسے اسکے گھر کے دروازے کے باہر کھڑا اسے ہی دیکھتا ملا تھا

وجدان نے اسے دیکھ کر ایک سمائل پاس کی تھی

پتا نہیں کب کا دیا اسکے کام آگیا اور ارمان جو کے انکے ہی گھر پر آرہا تھا

اس سے ملا

ارے گڑیا آگئی یونی سے

کیسی چل رہی ہے پڑھائی تمہاری

وہ مسکراتے ہوئے اس سے ملکر پوچھ رہا تھا

اچھی جارہی ہے بھائی

آپ کب آئے ویسے

وجیہہ نے چہکتے ہوئے پوچھا

وہ دور تھے اس سے اسلیے اسے انکی باتیں سنائی نہیں دیں مگر اسکے چہرے پر خوشی دیکھ کر وہ سمجھ رہا تھا کے وہ انکا کوئی اپنا ہے

اسنے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی

@@@

نمرہ کمرے میں داخل ہوئی تو وجیہہ کو سوچوں میں گم پاکر بولی

جیا

آج پھر وہ ملا تھا

ہاں

وہ یہاں تک پہنچ گیا ہے

اس نے پریشانی ظاہر کی

کیا

نمرہ نے حیرانی سے پوچھا

ہاں

میں بھی سوچ رہی ہوں کے گھر کا اڈریس کہاں سے ملا اسے ؟ نمرہ نے حیرت سے پوچھا

میں نے دیا تھا ا سے اور کہا تھا ملاقات ک لیے آجانا

اسنے طنزیہ

لہجے میں کہا

ارے تم تو اسے پسند نہیں کرتی پھر کیوں دیا

نمرہ نے نا سمجھی سے کہا

بیوقوف لڑکی اب مجہے کیا پتا اسکو یہاں کا اڈریس کیسے ملا میں خود اس بات سے پریشا ن ہوں

اب اسکا لہجہ سنجیدہ تھا

ویسے بندا کافی انٹرسٹڈ ہے تم میں

نمرہ نے آنکھ مارکے کہا

اب دیکھو نا کس طرح تمسے اظہار محبت خط کہ ذریعے کیا پھر تمھارے سامنے کھڑا ہوگیا اپنا نام بتایا

محبت کا اظہار کیا

لیکن مجھے ایک بات تو بتاؤ

تمہیں وہ اچھا کیوں نہیں لگ رہا

وہ باتیں کتنی اچھی کرتا ہے دل کرتا ہے کے سنتے ہی جاؤ

اتنا اچھا ہے کسی بھی لڑکی کا دل اجائے اس پر

بس ایک تم ہو جو اسے گھاس نہیں ڈالتی

نمرہ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا

لیکن میں اسطرح کسی بھی راہ گزر پر اعتبار نہیں کرسکتی

وجیہہ نے یکدم اسکی بات کا جواب دیتے ہوے کہا

تو تم ایک کام کیوں نہیں کرتی اس سے ایک بار مل لو کہیں

اور اس کے بارے میں جو جاننا ہے اس سے پوچھ لو؟ نمرہ اس سے سوالیہ انداز میں کہتے ہوئے دیکھ رہی تھی

میرے پاس ٹائم نہیں ہے فضول میں وہ بولتے ہوے کچن کی جانب چلی گئ

لیکن کچھ یاد آنے پر مڑی

تمہیں کیسے پتا کے وہ ہنڈسم ہے؟

وجیہہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا

دیکھ جیا سمپل سی بات ہے اس دن میں بازار گئی تھی خالہ کے ساتھ

تو تمہیں اسکی باتیں سنتے سن اور دیکھ لیا تھا

بس

اور تمنے بتایا نہیں مجھے

وہ بولی

ویسے ہی نہیں بتایا

اچھا کوئی بات نہیں کھانا کھاوگی تم

اسنے کچن میں جاتے ہوئے پوچھا

نہیں ابھی کھایا ہے تم کھالو

نمرہ نے موبائل اٹھاتے ہوئے کہا

اوکےوہ چلی گئی

@@

وہ پڑھنے میں مصروف تھی جبھی رجا بیگم اسکے کمرے میں آئیں

بیٹا میں تمہارا

زیادہ وقت نہیں لونگی بس تمہارے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے دیکھ لو کیسا ہے

ارمان کو تو وہ تمہارے لیے بہت اچھا لگا

ٹیچر ہے وہ اور اکلوتا ہے ماں باپ کا

اسکا بھی تمہاری طرح باپ سر پر نہیں ہے

اسلیے دیکھ لو تصویر اور مجھے بتادینا

رجا بیگم اسکی گال تھپک کر جانے لگیں جب وہ بولی

ماما

وہ مڑیں

وہ سمجھ رہی تھیں کے وہ ہر بار کی طرح انکار کردے گی

ماما مجھے پکچر نہیں دیکھنی لڑکے کی

اسنے سپاٹ چہرہ لیے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *