Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat by Sumayya Mughal Last Episode

Qismat by Sumayya Mughal Last Episode

”اچھا جاؤ“۔ اسے رخصت کرنے کے بعد وہ اطمینان سے کام کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسے اپنے فون کا یاد آیا۔ وہ اپنے کمرے میں گئی۔ اور اس نے آج کئی دن بعد اپنا فون ان کیا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کا فون کب سے بج رہا تھا۔ آخر کار اس نے فون اٹھایا۔
”یہ کس کا نمبر ہے“۔ انجان نمبر سے کال آنے پر اس نے کال پک کی۔
”اسلام و علیکم“۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
دوسری طرف سے جو الفاظ ادا ہوۓ تھے وہ سنتے ہی اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔ اسے لگا وہ دوسرا سانس نہیں لے پاۓ گی۔
”کیا“۔ بےیقینی سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور فون اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ ایک لمحے کے لیے کچھ سوچے بغیر وہ لاؤنج میں بھاگی۔
”کیا ہوا افراء؟“۔ اسے یوں روتا دیکھ کر ساجدہ نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
”سب ٹھیک ہے؟“۔ ماہ رخ بھی تفکر سے پوچھنے لگیں۔ ان کی گود میں ساحر بیٹھا کھیل رہا تھا۔
”امی وہ فون۔۔۔وہ مجھے وہ فون آیا ابھی وہ انہوں نے کہا۔۔۔۔نہیں رہی وہ“۔ اونچی آواز میں روتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھ کر رونے لگی۔
”کون نہیں رہی افراء؟“۔ ساجدہ نے اسے اٹھایا مگر وہ چپ نہیں ہو رہی تھی۔ ماہ رخ نے ساحر کو زمین پر بٹھایا اور بھاگ کر اس کے لیے پانی کا گلاس لے آئیں۔
”امی وہ چلی گئی۔۔۔۔امی“۔ وہ اپنے بال کھینچ رہی تھی۔ ساجدہ نے پہلی بار اسے یوں روتا دیکھا تھا۔
”پاگل ہو گئی ہو افراء“۔ ساجدہ نے مشکل سے اسے جھنجھوڑا تو اس نے اپنے بال چھوڑے۔ وہ روتے ہوئے زمین پر گرتی جا رہی تھی۔
”پانی پیو افراء“۔ ماہ رخ نے زبردستی اسے گلاس پکڑایا۔ ایک سانس میں اس نے پانی پی کر گلاس واپس کیا۔
”بتاؤ اب“۔ ساجدہ اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھیں۔
”انعم کی امی کی۔۔کال۔۔آئی تھی۔۔انہوں نے، انہوں نے کہا۔۔کہا کہ انعم نے پرسوں۔۔۔پرسوں خودکشی۔۔۔۔۔خودکشی کر لی ہے۔۔ وہ نہیں رہی امی“۔ سسکیوں میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں بول کر وہ ساجدہ کے گلے لگ گئی۔ ساجدہ اور ماہ رخ کو شدید دھچکا لگا۔ ساجدہ نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
”میں جانتی ہوں ایک بات کہوں تم سے افراء؟“۔
”تم ساحر کا خیال رکھنا، میں رہوں یا نہ رہوں تم اسے اپنے پاس رکھنا“۔
وہ ساکت سی انعم کی قبر کے سامنے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اس کے الفاظ افراء کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
”افراء آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جانا“۔ انوشے رنجیدگی سے اس کے گلے سے لگ گئی۔ انعم کی موت کا صدمہ افراء کو بہت تھا۔
”انعم۔۔۔نے میرے ساتھ اچھا نہیں۔۔۔کیا میں اسے معاف نہیں کروں گی“۔ افراء کے لبوں سے ابھی بھی الفاظ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔ ایک ہی اچھی دوست بنی تھی اس کی اور وہ بھی چلی گئی۔
”افراء اب چلیں؟ اور کتنی دیر؟“۔ ماہر نے غمگساری سے پوچھا۔ اس سے افراء کی یہ کیفیت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
افراء جب سے انعم کی قبر سے ہو کر آئی تھی روۓ ہی جا رہی تھی۔ سب اس کے لیے مضطر تھے مگر فی الحال اسے کسی کی بھی رغبت نہیں چاہئیے تھی۔
”مت رو افراء تم نے اپنی حالت دیکھی ہے؟ مجھے بہت افسوس ہے انعم کے جانے کا۔ دو دن بعد تمہاری شادی ہے۔ اپنا کچھ تو خیال کرو“۔ منیب صاحب تھوڑا ڈانٹ کر بولے۔ وہ جب سے آئی تھی روۓ جا رہی تھی۔ اور انہیں یہ دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
”میں شادی نہیں کروں گی میری دوست چلی گئی ہے اور آپ سب کو شادی کی پڑی ہے“۔ آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اٹھا کر اس نے سب کی طرف دیکھا اور صوفے سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی اور اندر سے دروازے کی کنڈی لگا لی۔
انوشے اسکے پاس جانے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ ساجدہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔
”کوئی ضرورت نہیں اس کے پیچھے جانے کی وہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی“۔ وہ ٹوک کر بولیں۔ جس پر انوشے واپس بیٹھ گئی۔ ساحر اس کی گود میں ہی تھا۔ اس نے بےچارگی سے اسے دیکھا۔ اس کا باپ بھی دھوکے باز نکلا تھا اور اب ماں بھی نہیں رہی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
”مجھے بہت افسوس ہے ساحر اتنا چھوٹا ہے اور اس کی ماں۔۔۔۔۔“ وہ بس اتنا ہی بول پایا۔
”ہممم“۔ وہ ساحر کے سر پر پیار کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
”بہت اچھا لگتا ہے آپ کو ساحر؟“۔ اس نے انوشے کا پیار دیکھتے ہوئے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اگلے دن،،
”کھانا کھا لو میں تمہارا نا نہیں سنوں گی“۔ ساجدہ اخلاص سے اس نے لیے کھانے کی ٹرے لے کر گئیں۔ ایک دن میں ہی وہ نا کھانے کی وجہ سے پہلے کی نسبت کمزور نظر آ رہی تھی۔
”مجھے نہیں کھانا“۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ کل سے بس وہ اپنا بھیگا چہرہ ہی صاف کیے جا رہی تھی۔
”ٹھیک ہے پھر مجھے اپنی ماں بھی مت کہنا“۔ انہیں بھی اپنا استغاثہ منوانا آتا تھا۔
ساجدہ کی بات سن کر وہ اور تیز رونا شروع ہو گئی۔
”ٹھیک ہے مرضی ہے تمہاری“۔ وہ اٹھ کر جانے ہی لگی تھیں کے افراء نے کھانا شروع کر دیا۔
”شاباش کھاؤ، تم نے ہی تو اس دن مجھے سمجھایا تھا کہ جانے والے کے لیے آنسو نہیں بہاۓ جاتے دعا کی جاتی ہے“۔ ساجدہ نے اسے باور کروایا۔ ”اور اب تم خود رو رہی ہو“۔
”مجھے۔۔۔معاف کر دیں امی میں۔۔۔۔میں اب نہیں روؤں گی“۔ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
”شاباش“۔ انہوں نے اس کے سر پر پیار دیتے ہوۓ طرب سے کہا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ اپنی الماری سے انعم کے کپڑے نکال رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے اسکے کپڑے نکالے ایک بڑا صفحہ اس میں سے نکل کر زمین پر گر گیا۔ اس نے جھک کر وہ صفحہ اٹھایا۔ شاید وہ کوئی لیٹر تھا۔ زمین پر بیٹھ کر اس نے پڑھنا شروع کیا۔
”افراء تم بہت اچھی ہو۔ مجھے تم سے سچ میں بہت پیار ہے۔ پہلے بھی تھا اب بھی ہے۔ میں آج تمہیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں میرے ماں باپ نے مجھے معاف نہیں کیا۔ آخر غلطی جو اتنی بڑی کر دی تھی میں نے۔ مجھ سے ان کی بے رخی برداشت نہیں ہوتی۔ عبدالرحمان نے مجھے دھوکا دیا مگر میں اس سے نفرت نہیں کر پا رہی۔ میں بہت ٹوٹ چکی ہوں۔ میرا دل اب زندگی سے اٹھ چکا ہے۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ آج تم سے ایک چیز مانگنا چاہتی ہوں۔ میں ساحر کو تمہارے حوالے کر رہی ہوں۔ اس کا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔“ اس سے آگے پڑھا نہیں گیا۔ آنکھیں پھر سے بھیگ گئی تھیں اس لیے طیش میں اس نے لیٹر ہی پھاڑ دیا۔ اسے انعم سے نفرت سی ہو رہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اس نے پیار سے ساحر کے ماتھے پر بوسہ دیا جو اس وقت سو رہا تھا وہ گود میں اسے اٹھاۓ انوشے کے کمرے میں گئی۔ اور دروازے پر دستک دی۔
”آ جائیں“۔ اندر سے ماہر کی آواز آئی تو اس نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئی۔ اسے دیکھ کر انوشے نے بازو سے افراء کو پکڑا اور بیڈ پر بیٹھا دیا اور خود بھی بیٹھ گئی۔ ”کیسی ہیں افراء؟“۔ سنجیدگی سے اس نے پوچھا۔
”ٹھیک ہوں انوشے“۔
”ساحر مجھے دے دیں“۔ انوشے نے ساحر کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔
”انوشے کو ساحر بہت پسند ہے“۔ ماہر نے نظریں ملا کر افراء سے کہا جس پر افراء نے سر کو جنبش دی۔ وہ آج آخری بار ماہر کو حسرت سے دیکھ رہی تھی کیونکہ اب اسکا محرم کوئی اور بننے جا رہا تھا۔
”جانتی ہوں اس لیے مجھے آپ سے کچھ مانگنا ہے ماہر“۔ اس نے بھی نظریں ملاتے ہوۓ کہا۔
”یعنی کہ وہ وش سوچ لی آپ نے؟“۔ اس نے اندازہ لگایا جو کہ بلکل درست نکلا۔
”جی“۔ وہ پریشان سی مسکرائی۔
”تو جلدی بتائیں افراء“۔ انوشے بےقراری سے بولی۔
”میں چاہتی ہوں ماہر آپ اور انوشے تم، آپ دونوں میری وش پوری کریں۔ آپ دونوں ساحر کو۔۔۔ساحر کو گود لے لیں اور اس کے ماں باپ بن کر رہیں“۔ اس نے ساحر کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچا کر کہا۔
”کیا سچ افراء؟؟“۔ انوشے نے چلا کر پوچھا اس کی خرمی کی انتہا نا تھی۔
”جی، اور ماہر آپ کو یہ منظور ہے؟“۔ اسنے بمشکل اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
”مجھے دل سے آپ کی بات منظور ہے“۔ اس نے جیسے ہی کہا افراء کے آنسو دوبارہ اسکی آنکھوں سے ہیرے کی مانند چمک کر گرنے لگے اور یہ آنسو غم کے نہیں خوشی کے تھے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
دو ماہ بعد،،
افراء اپنے نۓ کمرے میں دلہن کے روپ میں بیٹھی احسن کا انتظار کر رہی تھی۔ سرخ جوڑے میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ پھول ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ دل کی دھڑکن بہت تیز تھی۔ کچھ ہی پل گزرے تھے کہ احسن دلہے کے روپ میں اندر داخل ہوا۔
”افراء تم بہت اچھی لگ رہی ہو“۔ سلام کرنے کے بعد وہ اسکی تعریف کرتے ہوۓ اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
افراء نے شرم سے نظریں جھکا لیں اور ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
”بڑا مسکرا رہی ہو“۔ وہ شرارت سے بولا۔
”جی اپنی قسمت پر مسکرا رہی ہوں“۔ اس نے بھی شرارت سے کہا۔
”اوہ یعنی کہ تم اپنی قسمت کی خوش قستمی پر مسکرا رہی ہو ہے ناں کیونکہ میں تمہارا شوہر بن گیا“۔ وہ اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑتے ہوئے بولا۔
”جی بلکل“۔ وہ دوبارہ ہنس دی۔
”جانتے ہیں آپ احسن کہ قسمت کو برا نہیں کہنا چاہیے“۔ اس نے بھی احسن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بڑے پیار سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی۔ اب وہ اس کا محرم تھا۔ اور ماہر اب اسکے دل میں پہلے کی طرح موجود نہیں تھا۔ وہ اس کی خاطر اپنے محرم کو ناراض نہیں کر سکتی تھی اور نا ہی اسے بے رخی دکھا سکتی تھی۔
”تمہیں قسمت کچھ زیادہ ہی یاد نہیں آ رہی؟“۔
”ایک ڈرامہ تھا اسکا نام قسمت تھا۔ تو اس کی سٹوری یاد آ رہی ہے مجھے“۔ اس نے کچھ سوچ کر بتایا۔
”اچھا کیا سٹوری تھی؟ مجھے بھی بتاؤ؟“۔ اسنے پیار سے اسکا جھمکا چھوتے ہوئے پوچھا۔
”ایک لڑکی تھی وہ ایک لڑکے سے بہت پیار کرتی تھی مگر اسکی بہن کی شادی ہو جاتی ہے اس لڑکے سے اور پھر ایک دن لڑکی مر جاتی ہے اور جو پہلے والی لڑکی ہوتی ہے ناں اس کی شادی لڑکے سے ہو جاتی ہے“۔ اس نے کچھ اپنی کہانی بتائی اور کچھ خود سے بنا ڈالی۔
”انٹرسٹنگ لیکن دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر یہ ڈراموں میں ہی ہوتا ہے“۔
”جی بالکل“۔ وہ پلکیں جھکا کر بولی۔ اب اسے آگے بڑھنا تھا اسے ماضی یاد نہیں کرنا تھا۔ ماضی بہت دردبھرا تھا مگر مستقبل کی خوشیاں اسکے سامنے تھیں لیکن ان خوشیوں کو تھامنا اسنے خود تھا۔
“اور میرے پاس تمہارے لیے ایک بہت پیارا تحفہ ہے آنکھیں بند کرو“۔
”اچھا دیں“۔ اس نے آنکھیں دھیرے سے بند کیں۔
”اچھا اب کھول لو“۔ اس نے مسکرا کر کہا۔
جیسے ہی افراء نے آنکھیں کھولیں ایک خوبصورت چین جس کی چمک بہت تیز تھی۔ اسکی گردن میں ستاروں کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔
”بہت خوبصورت ہے“۔ اسنے چین کو چھوتے ہوئے کہا۔ اسے آج دل سے خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
”تم سے کم“۔ وہ اسے دیکھ کر کھوۓ سے انداز میں بولا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
”آج تو بڑی پیاری لگ رہی ہیں آپ“۔ اس نے کچھ ادا سے اسکی تعریف کی۔
”اور پہلے کیسی لگتی ہوں؟“۔ وہ اس کے سامنے آتے ہوئے بولی۔
”بہت اچھی“۔ وہ اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے بولا۔
”آئی لو یو ماہر“۔ وہ ہنس کر اس کے سینے پر سر رکھتے ہوۓ بولی۔
”آئی لو یو ٹو“۔ اسنے اپنی گرفت میں انوشے کو لیتے ہوئے کہا۔ قسمت ان دونوں پر بڑی مہربان تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کچھ دن بعد۔۔
”احسن میں آپ کے لیے چاۓ لائی ہوں“۔ افراء نے گرم گرم چائے اسے پکڑاتے ہوئے کہا اور جانے ہی لگی تھی کہ احسن نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے حصار میں لیا۔
”کیا ہوا؟“۔ اس نے پوچھا۔
”تم شادی سے پہلے مجھ سے پیار کرتی تھی کیا؟“۔ اس نے نادر سوال کیا۔
”مطلب؟“۔ اسنے ناسمجھی میں پوچھا۔
”مطلب تم میرا اتنا خیال رکھتی ہو اس لیے مجھے لگا۔ ورنہ میری اپنی بہنیں اور انوشے بھی ماہر سے پیار کرتی تھیں اور تم واحد ہو جسے ماہر سے پیار نہیں ہوا سو آئی گیس کہ تمہیں مجھ سے پیار ہو گا“۔ وہ ہنس کر بولا۔
”اچھا“۔ وہ بھی ہنس کر اسے دیکھنے لگی مگر دل اس کا اداس ہوا تھا۔ اسے کچھ پل کے لیے ماہر یاد آیا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ایک سال بعد،،،
انوشے بےچینی سے افراء کے کمرے میں ٹہل رہی تھی جب ساجدہ کا فون آیا۔ اس نے عجلت میں فون اٹھایا۔
”مبارک ہو انوشے۔۔ بیٹی ہوئی ہے“۔ دوسری طرف جیسے ہی یہ خبر آئی وہ چیخ پڑی۔
”ماہر ماہر ماہر افراء کے بیٹی ہوئی ہے“۔ وہ تیزی میں اس کے گلے سے لگ گئی۔
”مبارک ہو آپ خالہ بن گئی ہیں“۔ ماہر نے اسے سنبھالتے ہوئے کہا۔
اگلے دن افراء گھر آ گئی تھی۔ اسے بہت تھکاوٹ ہو گئی تھی اس لیے وہ بیڈ پر ہی لیٹی گئی تھی۔ سارے اس کے بیڈ کر آس پاس تھے۔
”ناک بلکل افراء جیسا ہے“۔ ساجدہ نے اس ننھی سی بچی کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔
”ارے نہیں نہیں ساجدہ بہن احسن جیسا ہے“۔ ماہ رخ نے اعتراض سے کہا۔
”کیا نام رکھنا ہے پھر احسن بھائی؟“۔ سارہ نے پوچھا۔ وہ آج ہی آئی تھی۔
”جو میری وائف کہیں گی“۔ احسن نے سب کے سامنے ہی بول دیا۔
”استغفراللہ“۔ پیچھے سے کہیں سے معیز کی آواز آئی تھی۔ ابھی تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
”بس جلتے رہنا تم“۔ میرا نے تنک کر کہا۔
ان تینوں کی نوک جھوک شروع ہو گئی تھی۔ سب کو ایسے دیکھتے ہی انوشے کا سر چکرانے لگا۔
”میں نے نام رکھ لیا ہے۔ انعم“۔ افراء نے اپنی دوست کی یاد میں اپنی بیٹی کو اس کا نام دے دیا۔
”بہت پیارا نام ہے“۔ سب نے ایک ساتھ کہا وہ جانتے تھے کہ اسے اپنی دوست سے کتنا پیار تھا۔
”میں نے بھی کچھ سوچا ہے“۔ انوشے نے اپنی گود میں بیٹھی “ماہ نور” کو ماہر کو دیا اور ساحر اس سے لیتے ہوئے کہا۔
”کیا سوچا ہے؟“۔ سب نے پوچھا۔
”ساحر کی مماں یعنی کہ میں نے سوچا ہے کہ میرے ساحر کی شادی میری پیاری بہن کی پیاری سی بیٹی انعم کے ساتھ ہو گی۔ یہ رشتہ آج میں نے تہیہ کیا ہے۔ سب کو کوئی اعتراض تو نہیں؟“۔ اس نے جیسے ہی کہا سب نے خوشی میں نفی میں سر ہلایا کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔
”ساحر کے ابا کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے“۔ ماہر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”میری ایک شرط ہے“۔ افراء نے کہا۔
”کیسی شرط؟“۔ انوشے نے بےچینی سے پوچھا۔
”میری یہ شرط ہے کی جیسے ہی انعم اور ساحر بڑے ہوں گے ہم ان دونوں کو بتا دیں گے اس رشتے کے بارے میں ان سے چھپا کر نہیں رکھیں گے“۔ افراء نے ساجدہ کی طرف دیکھ کر بتایا جس پر ساجدہ نے مسکراہٹ پھیلا کر ہاں میں سر ہلایا۔ اور وہ بھی مسکرائی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب انوشے یا اس کے بچوں کے ساتھ وہ ہو جاۓ جو اس کے ساتھ ہوا۔ وہ اب کسی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”منظور ہے ہمیں“۔ انوشے کہتے ہوئے افراء کے گلے لگ گئی۔ افراء نے پیار بھری نگاہ سے احسن کو دیکھا۔ قسمت اب اس پر بھی مہربان تھی۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *