Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat by Sumayya Mughal Episode06

Qismat by Sumayya Mughal Episode06

افراء انکی ساری باتیں سننے کے باوجود اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی. جو انوشے بولنا چاہتی تھی افراء کی قسمت اسکے بول سے اندھیرا دکھانے والی تھی. مگر شادی کی بات تو وہ اب سمجھی تھی.
”میں اس دن ہاسپٹل میں ماہر کی وجہ سے بہت پریشان تھی افراء اس لیے میرا بیہیویئر بہت روڈ تھا میں بہت پیار کرتی ہوں ماہر سے اور آپکے لیے ماہر کا میسج ہے “. جب اس سے مزید بولا نا گیا تو فون افراء کی طرف بڑھایا.
جھٹ سے افراء نے اس سے فون پکڑ لیا. وہ صحیح کہ رہی تھی ماہر کی چیٹ ہی اوپن تھی اور وہ نمبر بھی ماہر کا ہی تھا.
دل بڑا کر کے اور بہت سے آنسو ضبط کر کے اسنے پڑھنا شروع کیا ”افراء سچ جاننے کے بعد آپ انوشے کو کچھ نہیں کہیۓ گا میں اور انوشے ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں ہم ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں بس ایک آپ ہی ہیں جو ہم دونوں کی مدد کر سکتی ہیں یہ بات میں امی سے نہیں کر سکتا تھا اس لیے آپ پر ٹرسٹ کر کے میں آپ سے بات کر رہا ہوں امی آپکی بات زیادہ مانتی ہیں پلیز آپ امی سے بات کر لیں مجھے یقین ہے کہ وہ آپکی بات ضرور مان لیں گی میں انوشے سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں………“ افراء نے میسج ادھورا ہی چھوڑ دیا اس میں اتنی سکت مزید نہیں تھی کہ اسے مکمل پڑھ لے.
”ٹھیک ہے میں سمجھ گئ ہوں انوشے اور سو جاؤ اس بارے میں ہم کل بات کریں گے“. اپنی اداسی کو چھپاتے ہوۓ اسنے فون انوشے کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور لائٹس بجھا دیں. شاید وہ آنسو چھپا رہی تھی.
”کیا ہوا ناراض ہو گئیں ہیں آپ افراء اور اپنا جواب تو بتا دیں؟“. انوشے نے گھبرا کر پوچھا وہ اس بات کا مفہوم سمجھ نا پائی تھی.
”نہیں ، ہم اس بارے میں کل بات کریں گے ابھی تم بھی سو جاؤ اور میں بھی سونے لگی ہوں“. اپنے آنسو کو چھپاتے ہوۓ وہ بیڈ پر جا لیٹی.
”افراء کیا آپکو برا لگا ہے؟“. بے چینی سے اس نے کچھ دیر بعد پوچھا کیوں کہ افراء کے چہرے سے اداسی صاف نمایاں تھیں. چہرہ کے تاثرات تو وہ پڑھ سکتی تھی مگر اسے چہرے پر تاثرات کی وجہ کا طلسم معلوم نہیں تھا لیکن انوشے کی بات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا.
”لگتا ہے یہ سو گئ ہیں“. انوشے نے اندازہ لگایا.
افراء کی خوشی روگ میں منتقل ہو گئ تھی بنا آواز کے وہ آنسو گرا رہی تھی.
*****************************
انوشے کے سونے کے بعد افراء چھت کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی. آج کی رات نہایت خاموش اور اداس تھی یا شاید اسے محسوس ہو رہی تھی. چھت پر آتے ہی وہ دیوار کے ساتھ کھڑی ہو گئ. آنسو بے تحاشہ گر رہے تھے. منہ پر ہاتھ رکھے وہ روۓ جا رہی تھی. یہ کیا ہو گیا تھا اس کے ساتھ اس نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نا تھا.
انوشے کا ماہر سے بات کرنا , ماہر اور انوشے کی چیٹ , ”اچھا ایک بات تو بتاؤ تم ماہر کو بھائی کیوں نہیں کہتی ہو؟“. انوشے کا اسکے ساتھ باہر جانا , اس دن چھت پر وہ پھول , اس کا ماہر کے لیے یوں رونا , ہاسپٹل میں رہنا اور پتا نہیں کیا کیا. یہ سب اسکی آنکھوں کے سامنے ہی تو ہوا تھا وہ تب بھی نا پہچان سکی.
آج یہ سب اسکی آنکھوں کے گرد منڈلا رہا تھا. دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ ہی وہ زمین پر بیٹھ گئ. آنسو تھم نا رہے تھے منہ پر ہاتھ رکھے وہ روۓ ہی جا رہی تھی.
”اگلے ماہ شادی ہے میری اور ماہر کی“…یہ سب اسکے دماغ میں گھومنے لگا تھا.
”ماہر انوشے سے پیار کرتے ہیں انوشے ماہر سے پیار کرتی ہے میں میں میں کیسے اب ماہر سے شش ششا شادی کر سکتی ہوں“. سسک کر اب وہ رو رہی تھی. دل اور اسکا ضمیر آج ٹکرا گئے تھے.
”نہیں افراء انوشے ماہر سے پیار کرتی ہے یا ماہر انوشے سے پیار کرتا ہے تجھے کیوں پرواہ ہو رہی ہے یہ تیرا مسٔلہ تو نہیں ہے ساجدہ امی تو ہر صورت ماہر کی شادی تجھ سے ہی کریں گی پھر تجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے انوشے کو ماہر کبھی مت دینا وہ بس تیرا ہے تو انوشے کو انکار کر دے“. یہ اسکے دل ہی کی آواز تھی. دل تو اپنی خواہشات کے پیچھے ہی بھاگتا ہے. اچھے برے , غلط صحیح کا فرق اسے کہاں دکھائی دیتا ہے. سچ اور جھوٹ , غلط اور صحیح , اچھے اور برے کا فرق تو ہمیں ضمیر بتاتا ہے. یہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کسے چنتے ہیں دل کو یا ضمیر کو.
”افراء نہیں تم نے ہی تو کہا تھا سچا پیار وہی ہے جس میں ہم اپنے محبوب کی خوشی کے لیے کچھ بھی کر جائیں. اب تم اس سے مکر نہیں سکتی ہو. ماہر کا سوچو افراء اپنی بہن کا سوچو کیا تم اپنے لیے
ان دونوں کا دل توڑ دو گی ؟ نہیں افراء تم ان دونوں کے درمیان سے چلی جاؤ“. یہ ضمیر ہی کی آواز تھی جو اسے حقیقت سے آشنا کر رہا تھا. دل اور ضمیر کی اس جنگ میں ضمیر جیت چکا تھا.
”نہیں میں خودغرض نہیں ہوں میں پیچھے ہٹ جاؤں گی اگر دونوں ایک دوسرے سے شادی بھی کرنا چاہتے ہیں تو میں ان دونوں کے بیچ سے نکل جاؤں گی میں میں میں اگلے ماہ انوشے کی شادی ماہر سے کر دوں گی. میں میں ماہر اور انوشے کی خوشی کے لیے کچھ بھی کروں گی کبھی انوشے کو ماہر سے محبت اور رشتے کی بات نہیں بتاؤں گی“. اپنے آنسو کو صاف کرتے ہوۓ وہ اس خاموش چاند کو دیکھنے لگی. وہ بنا پلکیں جھپکے دیوار سے ٹیک لگاۓ چاند کو دیکھ رہی تھی. نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی.
”جس سے میں محبت کرتی تھی
وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا
پھر کیا یوں میں نے اپنی محبت کا حق ادا
میں نے اسے وہ دے دیا جس سے وہ محبت کرتا تھا“
کئ دیر وہ یونہی ساکن بیٹھی رو رہی تھی. یہ کیسا موڑ لے لیا تھا اسکی قسمت نے اسکی خوشی اب روگ بن گئ تھی. وہ خود غرض نہیں تھی وہ ایسی نہیں تھی کہ ماہر کو اسکا پیار نا دے وہ ایسی نہیں تھی کہ اپنی بہن کا دل توڑ دے. جو اسے کرنا تھا وہ سوچ چکی تھی.
”مماں کی بہت یاد آ رہی ہے میں انکو دیکھنا چاہتی ہوں“. اشک بہاتے ہوۓ انوشے افراء کے پاس دوڑتی ہوئی آئی تھی.
”ہماری مماں کیوں چلی گئیں؟“. نو سالا انوشے نے معصومیت سے سوال کیا.
”میں ہوں نا انوشے کے پاس میں بھی تو امی کی طرح ہوں بڑی بہن بھی تو ماں کی طرح ہوتی ہے میں تمہیں سب دوں گی جو تم کہو گی پھر تمہیں مماں کی کمی شاید محسوس نا ہو“. دس سال کی افراء نے ناجانے کیسے اتنی بڑی بات کر دی تھی.
آج سب اسے یاد آ گیا تھا.
****************************
رات اسکی اشک بہاتے بہاتے ہی گزری تھی آخر وہ اپنی محبت کو قربان جو کرنے لگی تھی. صبح کا موسم بھی کچھ ابرآلود تھا بلکل اس کے دل کی طرح.
”افراء کیا سوچا ہے آپ نے؟“. اٹھتے ساتھ ہی اسنے بےقراری سے یہی سوال دہرایا.
”میں تمہارے ساتھ ہوں اور ماہر تمہیں ضرور ملے گا“. نا جانے کیسے وہ بول پڑی تھی اپنے دل کو چیر کر اس نے ہمت کی تھی.
”کیا ا ا ا سچ میں؟“. وہ شگفتگی سے بولی.
”انوشے تم اور ماہر دوپہر میں کہیں باہر چلے جانا میں امی سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی ہوں اور مجھے امید بھی ہے کہ وہ مان جائیں گی“. افراء نے مسکرا کر کہا گویا جیسے آنسو چھپانا چاہ رہی ہو.
”کیا سچ افراء؟ میں بہت خوش ہوں افراء آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتیں کہ میں اس وقت کیسا محسوس کر رہی ہوں. میرا تو پاگل ہو جاۓ گی سن کر کل جب وہ آۓ گی میں سب بتاؤں گی اسے“. جوش میں وہ کہ رہی تھی.
”انوشے ایسے نہیں کہتے سمجھ آئی اور نا ہی تم کبھی ایسا کرنا“. افراء نے اسے ٹوکا.
”خالہ تو میرا رشتہ ڈھونڈنے کی بات…. “ وہ بول ہی رہی تھی کہ اسنے بات کاٹی.
”تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“. افراء نے اسے تسلی دی.
اسنے انوشے کو تو تسلی دے دی تھی مگر اپنی قسمت کے بدلنے کا غم بہت گہرا تھا.
”آئی لو یو افراء“. وہ یکدم ہی اس کے گلے سے لگ گئ.
افراء نے اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی. دوسرے ہاتھ سے ٹپکتے ایک ننھے آنسو کو ہاتھ کی پشت سے بہنے سے روکا. آج اسکی انگلی میں وہ انگوٹھی بھی نہیں تھی اور شاید اب ماہر کے لیے کوئی اشتیاق بھی نہیں
_____________
افراء نے اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی. دوسرے ہاتھ سے ٹپکتے ایک ننھے آنسو کو ہاتھ کی پشت سے بہنے سے روکا. آج اسکی انگلی میں وہ انگوٹھی بھی نہیں تھی اور شاید اب ماہر کے لیے کوئی اشتیاق بھی نہیں تھی. اب جو کرنا باقی تھا وہ ساجدہ کو منانا تھا اسے یہ سب آج ہی کرنا تھا.
*******************************
اس میں سکت بکل بھی نہیں تھی کہ ساجدہ سے بات کر سکتی مگر یہ سب اسے ہی کرنا تھا. اس کے علاوہ کوئی چارہ اس کے پاس مزید نا تھا.
”کیا کہنا ہے تمہیں؟“. ساجدہ نے بغور افراء کو دیکھتے ہوۓ پوچھا.
******************************
”پتا نہیں امی کیسا ری ایکٹ کریں گی“. اسنے گرم کافی پیتے ہوۓ سامنے بیٹھی انوشے پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا.
”افراء سب سنبھال لے گی“. انوشے کو بے حد یقین تھا.
اور یہ یقین جلد ہی حقیقت میں بدلنے والا تھا.
”آپکو یقین ہے افراء پر؟“. ماہر نے عجیب سوال پوچھا تھا.
”ہاں وہ میری بہن ہے وہ میرے لیے سب کر جاتی ہے“. وہ ایک پل کے لیے فخر سے بولی.
”اگر وہ مان گئیں تو میں افراء کا احسان کبھی بھی نہیں بھولوں گا“. ماہر نے خوشی میں کہا.
”اچھا میرے پاس ایک آئیڈیا ہے“. اس نے کافی اپنے اندر انڈیلتے ہوۓ کہا. جس پر سوالی نظروں سے ماہر نے اسے دیکھا.
”شادی کے بعد تم افراء کی کوئی وش پوری کر دینا“. جیسے ہی انوشے نے کہا اس پر ماہر نے اثبات میں سر ہلایا. اسے انوشے کا آئیڈیا دل کو لگا تھا. اب اسے یہ پورا بھی کرنا تھا. مگر ناجانے آگے افراء نے کیا مانگ لینا تھا اس سے.
افراء نے جب ساری بات بتا دی تو ساجدہ اس پر برس پڑیں.
”غضب خدا کا یہ تم کیا بول رہی ہو؟“. ساجدہ نے انتہائی درشت سے کہا.
سامنے بیٹھی افراء کے چہرے سے خوف کے مارے پسینہ ٹپکنے لگا.
”امی پلیز ناراض نہیں ہوں آپ اگلے ماہ میری شادی کرنے والی تھیں نا پر اب آپ انوشے کی کر دیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں“. اسنے گردن اٹھا کر دیکھا اور بے تحاشہ منتیں کرنے لگی مگر ساجدہ کو زرا بھی اثر نا ہوا.
”ماہر سے مجھے توقع نہیں تھی اور سب سے بڑھ کر مجھے ایسی توقع انوشے سے تو بلکل بھی نہیں تھی“. وہ دکھی انداز میں افسوس کر رہی تھیں.
”محبت پر کسی کا بھی اختیار نہیں ہوتا یہ فیلینگز کسی کے بھی کنٹرول میں کبھی نہیں آ سکتی ہیں“. افراء کو تجربہ تھا کیونک وہ بھی ماہر سے محبت کے رشتے میں بندھی ہوئی تھی.
افراء کی بات پر وہ زرا شانت ہو گئیں. غصہ کرنا کسی بھی مسٔلے کا حل نہیں ہوتا.
”میں کس غرض سے انوشے کی شادی ماہر سے کراؤں؟ کیا تم اب ماہر سے محبت نہیں کرتی ہو؟“. وہ اب تحمل سے پوچھ رہی تھیں.
”امی میں ماہر سے محبت ہی تو کرتی ہوں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ ماہر کی شادی انوشے سے کروا دیں“. وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولی. نا جانے کتنی ہمت جمع کر کہ اس نے یہ الفاظ ادا کیے تھے.
”تو کیا اب تم مجھے بتاؤ گی مجھے کیا کرنا ہو گا؟“. وہ تھوڑا سختی سے بولی تھیں.
”پلیز ایسا تو نا کہیں آپ میری بات کیوں نہیں سن رہی ہیں؟“. اب وہ روتے ہوۓ پوچھ رہی تھی.
”میری بات سنو انوشے بھی میری بیٹی جیسی ہی ہے مگر میں نے تمہاری امی سے تمہاری شادی کا وعدہ کیا تھا اور میں نے ہمیشہ ہی تمہیں اپنی بہو کی نظر سے دیکھا ہے. نہ کہ انوشے کو. میں ماہر کو سمجھا دوں گی فی الحال جاؤ مجھے سونا ہے“. ساجدہ کا لہجہ سپاٹ تھا.
”پلیز ایسا نا کریں ماہر اور انوشے کو میرے اور ماہر کے رشتے کے بارے میں نا بتائیے گا امی میں نے ہمیشہ آپکی بات مانی ہے آپ بھی بس ایک بار میری بات مان لیں میں اپنی بہن کو اور ماہر کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ایک بار اپنی جگہ پر مجھے اور اماں کی جگہ پر انوشے کو رکھ کر سوچیں اگر اماں کو اس سے محبت ہوتی جس سے آپ محبت کرتیں تو پھر آپ کیا کرتیں؟“. پہلی بار افراء نے ایسی بات کہی تھی کہ ساجدہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں.
”بتائیں آپ کیا کرتیں؟ کیا آپ سب جانتے ہوۓ بھی اپنی محبت سے شادی کر لیتیں اور اماں اور اپنی محبت کو روتا چھوڑ دیتیں؟“.
”کیا چاہتی ہو تم؟“. آخر غصے پر ضبط پا کر وہ بولیں. ان کے لہجے میں اب پہلے جیسی کاٹ نہیں تھی.
”میں ماہر اور انوشے کی شادی چاہتی ہوں“. روتے روتے وہ ساجدہ کے قدموں میں آ گری اور ساجدہ جھٹ سے کھڑی ہو گئ.
”ٹھیک ہے جیسا تم کہو“. انہوں نے جھک کر افراء کو اٹھایا. یہ سنتے ہی افراء کے چہرے پر خوشی کی لہریں دوڑنے لگیں.
”امی کیا میں انوشے کو بتا دوں؟“. آنسو پونچتے ہوۓ اسنے پوچھا.
”ضرور بتا دینا“. خفا سے لہجے میں وہ بولی تھیں.
”آپکا بہت شکریہ امی“. وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی.
”اسکی ضرورت نہیں تم جا سکتی ہو ماہر کو میرے پاس بھیج دینا جب وہ آۓ گا“. اکھڑے لہجے میں وہ بولی تھیں افراء کی باتوں سے انکا دل بہت خراب ہو گیا تھا. مگر آج افراء نے ساجدہ کی بہن کی بات کر دی تھی. اسے بھی اپنی بہن سے بہت محبت تھی. لیکن آج اپنی بہن کا نام سن کے وہ افراء سے ہار گئ تھی.
******************************
”افراء“. دبے پاؤں چلتی انوشے سب سے پہلے افراء کے پاس آئی.
”آ گئ تم“. آنسو پونچتے ہوۓ وہ بولی تھی.
”کیا کہا ہے خالہ نے رو کیوں رہی ہیں آپ؟“. انوشے اسکے اشک دیکھ کر گھبرا گئ تھی.
”اسلام و علیکم امی“. نرمی سے کہتا ہوا ماہر خود ہی کمرے میں داخل ہو گیا جس پر ساجدہ نے سر ہلایا اور اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا.
”اماں کی یاد آ رہی تھی“. افراء نا چاہتے ہوۓ بھی جھوٹ بول گئ تھی.
”تو آپ اماں کی وجہ سے رو رہی تھیں؟“. انوشے نے پوچھا ہی تھا کہ ماہر کمرے میں داخل ہوا.
”آپ دونوں کو امی نے بلایا ہے“. پیغام دے کر ماہر نے اپنا رخ کمرے کی جانب کیا جس پر دونوں اٹھ کر ساجدہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں.
****************************
”جی امی“. افراء کہتے ہی صوفے پر بیٹھ گئ اور ساتھ ہی انوشے بھی.
”میں نے بہت ضروری بات کرنی ہے انوشے سے اور ماہر تم سے“. وہ سنجیدگی سے بولیں. یہ سنتے ہی انوشے کے چہرے پر خوف کے آثار آنے لگے.
”کریں خالہ“. نظریں جھکاۓ ہی وہ بولی تھی.
”افراء میرے سے ساری بات کر چکی ہے اور آپ سب کو میں آگاہ کر رہی ہوں کہ میں نے انوشے اور ماہر کی شادی اگلے مہینے کی پچیس تاریخ کو کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے“. جیسے ہی انہوں نے اپنی بات مکمل کی دونوں کے چہرے خوشی سے جگمگانے لگے اور افراء کے چہرے کا رنگ تو پہلے ہی فق پڑ گیا تھا.
”اور آخری بات آج رات سب کے سامنے میں یہ بات کر لوں گی تم سب تیار رہنا“. بڑے دکھ کے ساتھ وہ یہ بات بول گئ تھیں مگر کسی کو ظاہر نا ہونے دیا.
___________
”مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا ہے خالہ کے میری شادی ماہر سے اور وہ بھی اگلے مہینے“. وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولی تھی.
”میں آپکا احسان کبھی نہیں بھول سکتا ہوں امی“. ماہر نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا. مگر افراء کے چہرے پر کسی نے بھی غور نہیں کیا.
بات مکمل کر کے ساجدہ نے سب کو جانے کا اشارہ کیا. انکا دل اتنا برا ہوا تھا کہ اب مزید کسی سے بات کا دل نہیں کر رہا تھا.
***************************
گھڑی سات بجانے کو تھی. افراء چھت پر سے کپڑے اتار رہی تھی. اس کا دل بے حد خراب تھا بلکل موسم جیسا مگر اسکے آنسوؤں کا ذخیرہ اس کے حلق میں ہی اٹک گیا تھا.
”افراء بات سنیں“. افراء کے عقب میں سے آواز آئی تھی اور تیسری دفعہ ماہر نے افراء کو آواز دی تھی مگر وہ اس قدر کھوئی ہوئی تھی کے اسے پتا ہی نا چلا.
”جی جی“. ہوش آنے پر اسنے مڑ کر دیکھا تو سامنے ماہر کھڑا تھا.
”کہاں کھوئی ہوئی تھیں؟“. ماہر نے ہنس کر پوچھا اور یہ پہلی بار تھا کہ ماہر اس سے ہنس کر مخاطب ہوا تھا. افراء دوبارہ اسکی ہنسی میں کھو گئ.
”کیا ہوا؟“. ماہر نے چٹکی بجائی. جھٹ سے افراء نے نفی میں گردن ہلا کر اپنا چہرہ زمین کی جانب کر لیا وہ جانتی تھی کہ سامنے کھڑا شخص اسکا اب نہیں ہے.
”افراء آپ کا بہت شکریہ صرف آپکی وجہ سے ہی امی مان گئ ہیں اب میں آپکو ایک گفٹ دینا چاہتا ہوں“.
”کیسا گفٹ“. نظریں زمین پر مرکوز کیے ہی اسنے جواب دیا. اب اسکا ماہر کی جانب دیکھنے کا کوئی حق نہیں تھا.
”میں آپ کی ایک وش پوری کروں گا جو آپ کہیں گی“. انوشے کا آئیڈیا جیسے ہی ذہن میں آیا اسنے مسکرا کر کہا.
”جو بھی میں کہوں گی وہ آپ پورا کر دیں گے چاہے جو بھی ہو؟“. وہ سنجیدگی سے بولی مگر نظریں ابھی بھی زمین پر تھیں.
”جی ہاں آپ کہیں گی کہ آپکو ڈائیمنڈ چاہیۓ تو میں وہ بھی لے آؤں گا“. اسکے انداز میں سچائی تھی.
”میرے لیے تو سب سے بڑی وش یہی ہے کہ میں آپ کو پا لوں آپ سے شادی کر لوں“. اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے. مگر اسنے اپنے اندر ہی آنسوؤں گا گلا گھونٹ دیا. مگر دل میں افسوس ہونے لگا کاش کہ اس وقت وہ یہ سب ماہر سے کہ سکتی کاش.
”مجھے نہیں سمجھ آ رہا کے میں آپ کو اپنی کونسی وش بتاؤں“. اب وہ پریشان سی مسکرائی تھی.
”چلیں ٹھیک ہے آپ کی وش مجھ پر ادھار ہے جب کوئی وش یاد آۓ مجھے کہہ دیجیۓ گا میں جھٹ سے پوری کر دوں گا“. کچھ دیر بعد سوچ کر اس نے جواب دیا. جس پر افراء نے اثبات میں سر ہلایا.
”اللہ حافظ“. کہہ کر وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا. جیسے ہی افراء نے گردن اٹھائی اسکا چہرہ آنسوؤں کی بوندوں سے بھر گیا تھا. وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کے زمین پر بیٹھ گئ. اور سر موجود چارپائی پر ٹکا لیا. اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ مزید اپنے اشکوں کو بہنے سے روک سکتی. وہ یونہی بہت دیر تک روتی رہی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *