Qismat by Sumayya Mughal NovelR50814 Qismat by Sumayya Mughal Episode01
Rate this Novel
Qismat by Sumayya Mughal Episode01 (Watching)Qismat by Sumayya Mughal Episode02 Qismat by Sumayya Mughal Episode03 Qismat by Sumayya Mughal Episode04 Qismat by Sumayya Mughal Episode05 Qismat by Sumayya Mughal Episode06 Qismat by Sumayya Mughal Episode07 Qismat by Sumayya Mughal Episode08 Qismat by Sumayya Mughal Episode09 Qismat by Sumayya Mughal Episode10 Qismat by Sumayya Mughal Episode11 Qismat by Sumayya Mughal Episode12 Qismat by Sumayya Mughal Last Episode
Qismat by Sumayya Mughal Episode01
Qismat by Sumayya Mughal Episode01
قسمت بھی عجیب ہے نہ. کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے جس کی ہمیں خبر تک نہیں ہوتی. کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا. میری قسمت نے ایسا موڑ لیا جو میرے تصور میں بھی نہ تھا. مگر میں نے قسمت کو برا تک نہیں کہا. کیونکہ میری قسمت تو اس نے لکھی ہے جو مجھ سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے. پھر میں اپنی قسمت کو برا کیسے کہہ سکتی ہوں.
******************************
بہار کا موسم اپنے عروج پر تھا. لاہور کی ان خوبصورت سی گلیوں میں کھلتے ہوۓ رنگ برنگے پھول اور بھی خوبصورت لگنے لگے تھے. کالے بادل سورج کی کرنوں کو زمین پر پہنچنے سے روک رہے تھے. ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر سماں مزید خوش نما بنا رہی تھیں. افراء اس موسم سے بے خبر سی اپنے کمرے میں تھی.
”ارے!! کہیں جا رہی ہیں آپ افراء؟“. کمرے میں آتی انوشے نے افراء کو تیار دیکھ کر بے چینی سے پوچھا. افراء سرخ قمیض اور شلوار میں ملبوس تھی. اور دوپٹہ شانوں پر پھیلایا تھا. ہونٹوں پر لگی سرخ لپ اسٹیک اور بال کھلے ہوۓ تھے. کلائی میں کانچ کی چوڑیاں پہنی تھیں.
”نہیں میں تو کہیں نہیں جا رہی“. افراء نے شانے اچکا کر کہا.
”تو اتنا تیار کیوں ہیں؟“. انوشے نے سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیتے ہوۓ پوچھا.
”بس ایسے ہی“. افراء نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوۓ کہا اور اپنے بالوں میں برش پھیرنے لگی.
”آپ کو خالہ نے اپنے کمرے میں بلایا ہے جلدی جائیں“. انوشے کے کہنے کی دیر تھی کے افراء کا بالوں میں برش پھیرتا ہاتھ وہیں رک گیا.
”کیااااااا امی نے بلایا ہے“. چونک کر وہ انوشے کی طرف پلٹی.
”جی افراء جلدی جائیں اب“.فوری کہ کر انوشے کمرے سے نکل گئ.
افراء نے جلدی جلدی اپنے سرخ دوپٹے سے لپ اسٹیک کو صاف کیا. بالوں کا جوڑا بنایا اور ایک کیچر لگا لیا. بازو سے چوڑیاں بھی اتار کر رکھ دیں. کیوں کہ ساجدہ گھر میں تیار رہنے سے منع کرتی تھی. وہ جلدی جلدی بھاگ کر خالہ کے کمرے میں آ گئ.
”اسلام و علیکم!! امی“. کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام کیا.
”وعلیکم اسلام!! آؤ بیٹھ جاؤ یہاں“. ساجدہ نے اشارہ کر کے کہا.
”جی“. حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ وہ ساجدہ کے پہلو میں جا بیٹھی.
”کیا سوچا اس بارے میں تم نے؟“. بغور افراء کا جائزہ لیتے ہوۓ ساجدہ نے تحمل سے پوچھا.
افراء نے ایک گہری سانس لی. ”جیسا آپ کہیں. مجھے منظور ہے“.
”مجھے اس بات کی نہایت خوشی ہے کہ میری سگی بیٹی نا ہونے کے باوجود بھی تم میری ہر بات کو مانتی ہو“. ساجدہ کے چہرے پر مسکان آ گئ تھی. افراء اور انوشے اس کی بہن کی بیٹیاں تھیں. بہن اور بہنوئی کی وفات تو بہت قبل ایک حادثے میں ہو چکی تھی.
”کیا کر رہی تھی تم بیٹا؟“. حسبِ توقع ساجدہ بولیں.
”میں تیار ہو رہی تھی“. معمول کی طرح صاف گوئی سے جواب دیا. کیونکہ جھوٹ تو وہ بولتی ہی نہیں تھی.
افراء کی بات سنتے ہی ساجدہ نے قہقہہ لگایا. افراء نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا جیسے اس ری ایکشن کی توقع ہی نا تھی اسے.
”کیا ہوا امی؟“. آخر ہمت کر کے وہ بول ہی پڑی.
”دیکھو اب تم ایک,دو سالوں میں میری بہو بننے ہی والی ہو تو تم تیار ہو کر رہ سکتی ہو“. وہ بےساختہ مسکرائیں.
افراء کے دل میں تو خوشی کی لہریں ابھرنے لگیں. چہرے پر خوشی کے آثار آ گۓ.
”اب تم جا سکتی ہو. مجھے خوشی ہوئی کہ تم میرا حکم مانتی ہو“. ساجدہ نے اجازت دیتے ہوۓ کہا.
”جی امی“. اثبات میں سر ہلا کر وہ باہر آ گئ.
وہ مسکراتی اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف آئی اور بے ساختہ ہی بیڈ پر آ بیٹھی. آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے. اور اپنے لبوں پہ ہاتھ رکھ کر روۓ ہی جا رہی تھی. اس کی دعا قبول ہو گئ تھی. یہ آنسو تو اسی خوشی کے تھے.
********************************
”بات سننا انوشے“. میرا کی آواز سنتے ہی زینے پھلانگتی انوشے کے قدم وہیں رک گۓ.
”جی بولو؟“. وہ مڑ کر میرا سے مخاطب ہوئی.
”ماہر کہاں ہے؟“. معصومیت سے اس نے پوچھا.
”یا اللہ میرا ہو یا سارہ دونوں ماہر سے ہی کیوں چپکنا چاہتی ہیں؟“. اسنے خود کلامی کی.
”میں نہیں جانتی کہ وہ کہاں پر ہے“. کہتی ہوئی وہ دوبارہ سیڑھیاں چڑھنے لگی.
”اب میں کہاں پر ڈھونڈھوں ماہر کو. اب ساجدہ آنٹی سے تو پوچھنے سے رہی“. ہار مان کر میرا آگے کی جانب بڑھ گئ.
”جب دیکھو دونوں ماہر کے پیچھے پڑی رہتی ہیں“. خود کلامی کرتے کرتے وہ چھت پر آ پہنچی.
”اوہ تم تم یہاں پر ہو؟“. ماہر کو چھت پر دیکھ کر اسے اچھی خاصی حیرانی ہوئی.
”جی کوئی کام ہے آپ کو میڈم؟“. ماہر نے شرارت سے کہا.
”نہیں بس ویسے ہی میں نے کہ دیا. پر یہاں کیا کر رہے ہو؟“. ابرو کھینچتے ہوۓ وہ بولی.
”مجھے پھول بہت پسند ہیں. اور بہار میں تو کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہو جاتی ہے مجھے پھولوں سے “. مسکرا کر وہ بولا.
”میں نے وجہ پوچھی ہے ماہر تمہاری دلچسپیاں نہیں پوچھیں“. تنک کر انوشے نے جواب دیا.
ماہر اب اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا. ”انوشے میڈم میں نے آپ ہی کے سوال کا جواب دیا ہے. اوبویسلی جب مجھے پھول پسند ہیں تو یہاں کھڑا ہو کر میں پھولوں کو ہی دیکھ رہا ہوں. اب بتائیں مجھے کیا یہ آپ کے سوال کا جواب نہیں تھا“.
”ہممممم!!“. تھوڑی خاموشی کے بعد وہ بول پڑی.
”آپ کیا میرے پیچھے آئی ہیں یہاں؟“. ایک نگاہِ خاص انوشے پر ڈال کر اس نے پوچھا.
”نہیں“. جھوٹ بولتے ہوۓ اس نے جواب دیا. اس وقت انوشے نیلے رنگ کی قمیض کے نیچے گرے ٹائٹس میں ملبوس تھی. بالوں کی چوٹی بنا رکھی تھی جس میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھی.
”ماہر کل میں جب کالج میں میسج کروں گی تو مجھے لینے آ جانا کسی کو بھی بتاۓ بغیر ٹھیک ہے؟“. حکم دیتے ہوۓ وہ بولی.
”جیسا آپ کہیں“. مسکرا کر اس نے جواب دیا.
انوشے بھی مسکرائی اور زینے پھلانگتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ. اس کے سر میں درد اٹھ رہی تھی.
*******************************
افراء کمرے میں فارغ بیٹھی ہوئی تھی. ”انوشے میری بات سنو“. افراے غصے میں بولی.
”جی بولیں“. انوشے نے کھڑے کھڑے ہی جواب دیا.
”دیکھو انوشے میں تمہیں ہزار بار سمجھا چکی ہوں کہ پڑھ لیا کرو کچھ دیر رہ گئ ہے تمہارے پیپرز میں اور ویسے بھی پھر کونسا تم نے آگے پڑھائی کرنی ہے. مجھے دیکھو میں پچھلے سال پڑھ پڑھ کر پاگل ہوئی پڑی تھی. قسم سے کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ تم مجھ سے صرف ایک سال ہی چھوٹی ہو. یوں لگتا ہے کہ تم کوئی چار سال کی بچی ہو. اور دوسری کلاس میں پڑھتی ہو. حالانکہ مجھے سوچتے ہوۓ بھی شرم آتی ہے کہ تم بی-اے میں ہو. اور مجھ سے ایک ہی کلاس پیچھے ہو مگر مجھے ایسا کہیں سے بھی نہیں لگتا. کوئی فکر نہیں تمہیں اپنی پڑھائی کی“. افراء غصے میں بولتی ہی جا رہی تھی. یہ سب وہ آنکھیں بند کر کے بول رہی تھی. جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں سامنے انوشے نہیں تھی. اس نے ایک نظر بیڈ پر ڈالی. وہاں پر انوشے کا کالج بیگ بھی نہیں تھا.
”ہاۓ کہیں ناراض تو نہیں ہو گئ وہ“. سوچ کر وہ گھبرا گئ.
جلدی جلدی اٹھ کر اس نے جوتی پہنی اور دوپٹہ سنبھالتے باہر آ گئ. انوشے لاؤنج میں زمین سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی اور ہاتھ میں کتاب پکڑے پڑھ رہی تھی. افراء بھاگ کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئ.
”سوری سوری ناراض تو نہیں ہو نا“. بڑھ کر اس نے انوشے کا ہاتھ تھامنا چاہا.
انوشے نے گردن اٹھا کر افراء کو دیکھا. گہری سبز آنکھیں پانی سے بھری ہوئی تھیں. افراء اور انوشے کی عمر میں ایک سال کا ہی فرق تھا. قد میں دونوں یکساں تھیں. لیکن انوشے افراء سے پتلی تھی. افراء بھی نارمل جسامت کی مالک تھی. دونوں بہینیں دیکھنے میں پیاری تھیں. مگر افراء کی آنکھوں کا رنگ سیاہ تھا جو کہ اس کی ماں پر گیا تھا.
”رو نہیں انوشے. مجھے معاف کر دو“. افراء نے انوشے کے آنسو پونچے. اور ساتھ ہی معذرت بھی کی.
”افراء میرے سر میں بہت درد ہے اور مجھے وومٹ سی محسوس ہو رہی ہے“. انوشے نے بہتے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا.
”چھوڑو پڑھائی کو میں تمہیں چاۓ بنا کر دیتی ہوں اور دوائی بھی دیتی ہوں“. افراء نے دھیرے سے سہارا دے کر انوشے کو اٹھایا اور دونوں کمرے کی جانب بڑھ گئیں.
”میں چاۓ بنا کر لاتی ہوں تم یہیں پر لیٹی رہو“. بہن کی فکر میں افراء کہ کر کچن میں چلی گئ. دونوں کا کمرہ غالباً نیچے ہی تھا. نیچے والے پورشن میں تین کمرے تھے. ایک میں افراء اور انوشے رہتی تھیں. دوسرے میں ماہر اور تیسرے میں ساجدہ رہتے تھے. دوسرے پورشن میں ماہ رخ اور اس کی بیٹیاں اور باقی دو کمروں میں احسن اور معیز رہتے تھے. اس کے بعد آخری پورشن میں بڑی سی چھت تھی. گھر کافی کھلا اور پیارا تھا.
افراء لاؤنج عبور کرتی کچن میں چلی گئ. اور انوشے آنکھیں موندے لیٹی تھی. اس کے سر میں پہلے بھی اچانک درد ہو جایا کرتا تھا. اب بھی سر میں شدید درد تھا.
ماہر سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گیا. اور ایک نظر انوشے کی کتابوں پر اور بیگ پر ڈالی.
”انوشے بھی نا. چیزیں رکھ کر بھول ہی جاتی ہیں“. خود کلامی کرتے کرتے اسنے چیزیں اٹھائیں اور انوشے کے کمرے کی طرف بڑھا.
___________
”انوشے بھی نا. چیزیں رکھ کر بھول ہی جاتی ہیں“. خود کلامی کرتے کرتے اسنے چیزیں اٹھائیں اور انوشے کے کمرے کی طرف بڑھا.
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا سب سے پہلے اس نے چیزیں صوفے پر رکھیں. اس کے بعد وہ انوشے کی طرف بڑھا.
”انوشے سو رہی ہیں آپ؟“. جیسے ہی ماہر نے کہا وہ بے ساختہ اٹھ کر بیٹھ گئ.
”نہیں میں سو نہیں رہی تھی بس ایسے ہی لیٹی ہوئی تھی“. اس نے پھر سے جھوٹ بولا. وہ حقیقت بتا کر ماہر کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی.
”اچھا افراء کہاں پر ہیں“. انوشے سے فاصلے پر بیٹھتے ہوۓ اس نے پوچھا.
”وہ میرے لیے چاۓ بنانے گئ ہیں بس آتی ہوں گی تم چلے جاؤ میں میسج پر بات کروں گی“. انوشے نے بتایا اور ساتھ ساتھ حکم بھی دیا.
”اچھا میں احسن کے کمرے میں جا رہا ہوں. میری یاد آۓ تو وہاں آ جانا“. اس نے اٹھتے ہوۓ کہا اور کمرے کا دروازہ پار کر گیا. انوشے یونہی مسکرا کر اسے جاتا دیکھتی رہی.
ماہر جیسے ہی کمرے سے نکل کر آگے بڑھا افراء بھی آ گئ تھی. افراء نے اسے ایک نظر دیکھا. اور من ہی من میں مسکرائی مگر ماہر نے نظر اٹھا کر بھی اسے نہیں دیکھا. خوشی خوشی افراء کمرے میں آ گئ.
”یہ لو تمہاری چاۓ اور یہ پیناڈول بھی کھا لینا“. افراء نے پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوۓ کہا. جس میں چاۓ اور پیناڈول پڑی تھی. تھوڑی دیر پہلے والا افراء کا غصہ اڑن چھو ہو گیا تھا. انوشے نے اثبات میں سر ہلایا.
*******************************
احسن اپنے کمرے میں ایل-سی-ڈی کے سامنے بیٹھا ویڈیو گیم کھیل رہا تھا اور ماہر اس کے پہلو میں بیٹھا ویڈیو گیم دیکھ رہا تھا. وقفے وقفے سے ماہ رخ (چاروں کی امی) ماہر اور احسن کو ویڈیوگیم کی وجہ سے ڈانٹ رہی تھیں. مگر مجال ہے کہ دونوں اپنی جگہ سے زرا سا بھی ہلے ہوں.
”امی دو کپ چاۓ ہی بنا لاؤ“. احسن نے سکرین سے نظریں ہٹاۓ بغیر اسے حکم دیا.
”ہونہہ جا رہی ہوں ویسے بھی یہاں بیٹھ کر میں نے بور ہی ہونا ہے.“. وہ پیر پٹختیں کمرے سے باہر چلی گئیں. مگر ماہر اور احسن نے ان کے غصے کو محسوس بھی نہیں کیا. دونوں کی نظریں ابھی بھی گیم پر تھیں. اور وقفے وقفے سے کچھ آوازیں جیسے کہ آؤٹ , ناٹ آؤٹ , یہووووو, واؤ اس طرح کی آوازیں کچن تک سنائی دے رہی تھیں.
********************************
اب تو ماہ رخ چاۓ بنا کر لے بھی آئی تھی. انہوں نے چاۓ کے کپ ٹیبل پر رکھ دیۓ. اور کچھ کہے بنا ہی وہاں سے چلی گئیں.
”کیسی ہو انوشے“. افراء نے واشروم سے باہر آتے ہی پوچھا. وہ نہا کر آئی تھی. چہرے سے پانی ٹپک رہا تھا.
”ظاہر سی بات ہے کہ اگر میں آپکے سامنے بیٹھ کر پڑھ رہی ہوں تو ٹھیک ہوؤں گی“. اس نے الٹا ہی جواب دیا.
”اوہ ہو تم بھی ناں اور سنو میں نماز پڑھنے لگی ہوں تم بھی فوراً آ جاؤ“. انوشے کی طرف دیکھ کر وہ سختی سے بولی.
انوشے نے اثبات میں سر ہلایا اور واش روم کی طرف بڑھی.
*******************************
ماہر کو آۓ ہوۓ گھنٹہ گزر چکا تھا. آخر اس کا ضبط ٹوٹا اور وہ بول ہی پڑا.
” میں ایک گھنٹے سے دیکھ رہا ہوں اور اس ایک گھنٹے میں تم قریب پچاسویں دفعہ آؤٹ ہو چکے ہو. اور تم اگلی باری مجھے دو گے یہ الفاظ بھی میں بیسویں دفعہ سن چکا ہوں“.
”یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے ماہر یہ مجھ جیسے جینیئس کے لیے گیم بنائی گئ ہے“. وہ فخریہ انداز میں بولا.
”میں بتاتا ہوں گیم کس طرح کھیلی جاتی ہے“. ماہر نے اس سے وڈیو گیم کا ریموٹ چھینتے ہوۓ کہا. دونوں کی نظریں دوبارہ سکرین پر جم گئیں.
پانچ منٹ بعد احسن کا قہقہہ بلند ہوا. ”اچھا تو اسے کہتے ہیں گیم کہ پانچ منٹ بعد ہی آؤٹ ہو جاؤ“.
دوبارہ غور سے سکرین پر احسن نے نظر ڈالی تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.
”جی ہاں اسے کہتے ہیں گیم اور یہ کوئی آؤٹ نہیں ہے “یو ون” لکھا آ رہا ہے. جس لیول کو تم نے ایک گھنٹہ لگایا بلکہ ایک گھنٹے میں بھی کمپلیٹ نہیں کیا وہ میں نے پانچ منٹ میں ہی کر لیا“. ماہر فخر سے کہتا ہوا جگہ سے اٹھ گیا. احسن ابھی بھی شاکڈ تھا. اسے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا.
”یہ کیسے کر لیا آخر ماہر نے“. وہ سوچتا سوچتا دوبارہ وڈیو گیم کھیلنے لگا.
”میں تمہیں دو منٹ میں یہ سٹیج پار کر کے دکھاؤں گا“. اسنے ماہر کو چیلنج کیا. آخر اسے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی.
ماہر اسکی بات سن کر قہقہہ لگاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا.
”جا رہے ہو کیا لگتا ہے ڈر گۓ ہو“. احسن نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا.
”جی ہاں فی الحال تو جا رہا ہوں لیکن اگر سالوں بعد بھی تم 2 منٹ میں سٹیج پار کر لو تو مجھے بتا دینا“. طنز کرتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا.
********************************
نماز پڑھنے کے بعد افراء نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ.
”یا اللہ میرے ماہر مجھے اب مل رہے ہیں جس سے میں نے بچپن سے پیار کیا ہے. تیرا بہت شکریہ. میں بہت خوش ہوں. ماں باپ کو تو کھو دیا پر میں ماہر کو نہیں کھونا چاہتی“. دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے افراء یہی دعا کر رہی تھی.
اور دوسری طرف انوشے بھی اس کے پہلو میں بیٹھی تھی. ”ماہر کو میں جلد ہی بتا دوں گی. اے میرے اللہ مجھے ہمت دے تا کہ میں اسے سچ بتا سکوں“. دل کی گہرائیوں سے وہ دعا کر رہی تھی. دعا کے بعد اس نے جائنماز اٹھا کر رکھ دیا.
”میں سو رہی ہوں افراء مجھے 6 بجے جگا دینا میں نے ڈرامہ دیکھنا ہے“. کہتے ہی وہ بیڈ پر لڑھک گئ.
افراء بھی اس کے پہلو میں بیٹھ گئ. آج اسے اسکی ساری خوشیاں مل گئ تھیں. اسکی تیرہ سال کی محبت اسے جلد ہی ملنے والی تھی.
*****************************
رات کا کھانا کھانے کے بعد افراء ٹی-وی دیکھنے میں مصروف ہو گئ. جبکہ انوشے موبائل میں مصروف تھی.
”کیا کر رہی ہو؟“. یوں انوشے کو مصروف دیکھ کر افراء نے پوچھا.
”میں ماہر سے بات کر رہی ہوں“. ہمیشہ یہی جواب افراء کو ملا کرتا تھا مگر آج انوشے نے الٹا سوال پوچھ لیا.
”آپ ماہر سے بات کیوں نہیں کرتیں“. قدرے معصومیت سے اس نے پوچھا تھا.
”بس ایسے ہی“. اس نے شانے اچکا کر کہا.
اصل میں بات تو یہ تھی کہ اس کا رشتہ ماہر سے بہت پہلے طے ہو چکا تھا اور ایسے میں بات کرنے کی اجازت ساجدہ نے افراء کو نہیں دی تھی.
جاری ہے
