Qismat by Sumayya Mughal NovelR50814 Qismat by Sumayya Mughal Episode02
Rate this Novel
Qismat by Sumayya Mughal Episode01 Qismat by Sumayya Mughal Episode02 (Watching)Qismat by Sumayya Mughal Episode03 Qismat by Sumayya Mughal Episode04 Qismat by Sumayya Mughal Episode05 Qismat by Sumayya Mughal Episode06 Qismat by Sumayya Mughal Episode07 Qismat by Sumayya Mughal Episode08 Qismat by Sumayya Mughal Episode09 Qismat by Sumayya Mughal Episode10 Qismat by Sumayya Mughal Episode11 Qismat by Sumayya Mughal Episode12 Qismat by Sumayya Mughal Last Episode
Qismat by Sumayya Mughal Episode02
Qismat by Sumayya Mughal Episode02
سونے سے قبل افراء آئینے کے آگے کھڑی بالوں میں برش کر رہی تھی.
”افراء یہ رنگ مجھے دے دیں پلیز میں کتنی دفعہ مانگ چکی ہوں آپ سے“. انوشے نے دوبارہ وہی ضد لگائی.
”دیکھو یہ میرے لیے بہت قیمتی ہے میں یہ نہیں دے سکتی“. اس نے فوری رنگ اٹھاتے ہوۓ کہا اور پہننے لگی.
یہ وہی انگوٹھی تھی جو ساجدہ نے ماہر کے نام کی اسے پہنائی تھی.
رات بہت سکون سے گزری اور انوشے کی رات تو ماہر سے بات کر کے ہی گزری.
اگلے دن..
انوشے اس وقت کالج میں اپنی کلاس میں تھی. بارہ بج رہے تھے. میڈم عائشہ لیکچر لینے آ چکی تھیں.
حاضری لگانے کے بعد وہ لڑکیوں کی طرف متوجہ ہوئیں.
”کل والا لیسن کس کس کو یاد ہے.؟؟“. ساری کلاس پر نظر ڈالتے ہوۓ انہوں نے پوچھا.
کلاس میں چند ہی لڑکیوں کے ہاتھ اوپر کو اٹھے تھے.
جن میں انوشے کا ہاتھ بھی تھا. جو کبھی کبھی ہی اٹھتا اور جب بھی اٹھتا سب کو حیران کر دیتا.
”ہاں جی جو کل میں نے سمجھایا تھا وہ مجھے آج تفصیل سے سمجھائیں“. مس عائشہ نے انوشے کو اشارہ کیا.
”میم آپ نے کل پڑھایا تھا کہ دنیا میں کسی انسان نے آج تک ترقی نہیں کی ہے جس کا کوئی مقصد نہیں تھا. اور کوئی بھی انسان اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مقصد کا تعین نہ کرے. آپ کی صلاحیتیں آپ کا وقت آپ کی کوششیں آپ کی قربانیاں کسی بھی کام کی نہیں اگر یہ کسی مقصد کے زیرِتابع نہیں. یہ دنیا تعلیم یافتہ لوگوں سے بھری پڑی ہے. لیکن وہ سب ناکام ہیں صرف اس وجہ سے کہ ان کی زندگی کا کوئ واضح مقصد نہیں ہے. ایک ریسرچ کے مطابق دنیا کے %98 پرسنٹ لوگوں کا کوئی واضح نصب العین نہیں ہے. وہ بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں. اور وہی لوگ ناکام ہیں. خواہشات کو پالنا ایک آسان کام ہے. لیکن ان خواہشات کو برقرار رکھتے ہوۓ منظم طریقے سے ایک واضح شکل دینا مشکل کام ہے. خواہشات سب کے پاس ہوتی ہیں لیکن مقصد کسی کسی کے پاس ہوتا ہے. قاسم علی شاہ کہتے ہیں کہ ”عظیم زہنوں میں خواب ہوتے ہیں اور پست زہنوں میں فقط خواہشات“. اور یہ ایک بلکل درست بات ہے. خواہش ایک بیج کی مانند ہوتی ہے. جب تک اسے بویا نہیں جاۓ گا یہ فصل نہیں دے گی. ایک نظر ماضی پر ڈالتے ہیں. ہمارے اس ملک پاکستان کو بنانے کے لیے بھی سب نے کتنی محنت اور کوشش کی. اور یہ سب محنتیں اور کوششیں کسی مقصد کے تحت ہی کی گئ تھیں. پاکستان بنانے کا مقصد تو ہم سب جانتے ہی ہیں“. کہ کر وہ سانس لینے کو رکی. کلاس میں تالیوں کی آواز گونجنے لگی. سب انوشے کے چہرے کو تک رہے تھے. ساری کلاس انوشے کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح حیران تھی.
”شاباش مجھے بہت خوشی ہوئی“. مس عائشہ نے خوشی سے کہا. انوشے کو تو یقین ہی نا آیا کہ اس کی تعریف کی گئ ہے.
”یار انوشے تم نے تو آج کمال ہی کر دیا“. مائرہ نے اسکی تعریف ہی شروع کر دی.
”افراء نے کل مجھے یہ سب سمجھایا تھا. وہ واقعی بہت اچھا سمجھاتی ہے“. بہن کا نام لے کر انوشے کے چہرے پر مسکان آ گئ.
”میں چلتی ہوں“. ایک نظر اسنے اپنے فون پر ڈالتے ہوۓ کہا. ماہر کا میسج آ چکا تھا.
”اچھا مجھ سے مل کر تو جاؤ“. مائرہ نے اسے جاتا دیکھ کر آواز لگائی.
مگر وہ تیز تیز قدموں کے ساتھ گیٹ عبور کرتی باہر آ گئ. نظر ماہر کی کار پر پڑی اور تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئ.
_____________
مگر وہ تیز تیز قدموں کے ساتھ گیٹ عبور کرتی باہر آ گئ. نظر ماہر کی کار پر پڑی اور تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئ. اور ڈور لاک کر دیا.
”اسلام و عکیلم میڈم انوشے“. ماہر نے سلام کرتے ہی کار آگے کی طرف بڑھائی.
”وعلیکم اسلام اینڈ ماہر پلیز مجھے میڈم نا کہا کرو جانتے ہو مجھے ایسا فیل ہونے لگتا ہے جیسے میں تم سے بڑی ہوں“. وہ تنک مزاجی سے بولی.
”اوہ! پھر تو مجھے آپ کو انوشے بیٹا کہنا چاہیۓ تا کہ آپ کو مجھ سے چھوٹی ہونے والی فیلینگ آۓ“. کچھ دیر بعد سوچ کر وہ مزاق میں بولا.
”اف میرے اللہ“. ایک ہاتھ ماتھے پر رکھ کر وہ افسردہ سی بولی.
”آپ جانتی ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں؟“. انوشے کا غصہ کم کرنے کے لیے اس نے موضوع تبدیل کیا.
”یقیناً ہم گھر ہی جا رہے ہیں. میرے سسرال تو نہیں جا سکتے“. انوشے کو بھی غصہ آ چکا تھا.
”ایک ہی بات ہے میڈم“. وہ زرا مسکرا کر بولا.
”کیا مطلب ہے تمہارا“. وہ انجان سی ہو کر پوچھنے لگی مگر ماہر نے کوئی جواب نہیں دیا.
”کہاں پر جا رہے ہیں ہم اب مجھے بتانا پسند کرو گے؟“. تھک کر اس نے پوچھا.
”ہم لنچ پر جا رہے ہیں“. ایک نظر انوشے کو دیکھ کر وہ بولا.
”کیا سچ میں“. یکدم وہ خوشی سے چیخ پڑی.
”اف! دھیان سے بولو لڑکی“. کان پر ہاتھ رکھ کے وہ کچھ ادا سے بولا.
”ہم کہاں جائیں گے لنچ پر؟“. انوشے کے سوالات کا آغاز ہو چکا تھا.
”بس ہے ایک جگہ تھوڑی دور ہے مگر سرپرائز ہے“. ماہر نے اسے مختصر بتا دیا. اس نے بھی مزید کوئی سوال نہیں کیا.
*******************************
کار Abbott روڈ کو کراس کر کے McLoad روڈ پر چل رہی تھی.
”ماہر اور کتنی دیر لگے گی ؟ کہاں جا رہے ہیں ہم ؟ افراء میسج کر رہی ہے اب میں اسے کیا کہوں؟“. ایک ساتھ ہی سارے سوالات انوشے نے کھسکا دیۓ.
”بس تھوڑی دیر انتظار کریں اور افراء کو سچ بتا دیں“. ماہر نے اسے مشورہ دیا.
انوشے نے جلدی جلدی میسج ٹائپ کیا. دوسری طرف افراء کو میسج موصول ہو چکا تھا.
”افراء میں اور ماہر لنچ پر جا رہے ہیں میں تھوڑی دیر میں گھر آ جاؤں گی اللہ حافظ“.
میسج پڑھتے ہی افراء کے زہن میں سب سے پہلے یہی بات آئی ”انوشے کتنا خوش ہو گی ناں جب اسے پتا چلے گا کہ ماہر سے میری شادی ہونے والی ہے“.
مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی. مگر اسے یقین تھا.
بے حد!
بے تحاشہ!
******************************
ماہر نے کار Nisbat روڈ کراس کرنے کے بعد Red chilli کے باہر روکی.
”ماہر رک کیوں گۓ؟“ حیرانگی سے اس نے پوچھا.
ماہر کار سے اتر گیا اور کار کا دوسرا ڈور انوشے کے لیے کھولا.
”اس لیے کیوں کہ ہم پہنچ چکے ہیں“.
”وٹ؟“. انوشے نے ایک نظر ریڈ چلی کو دیکھا.
”ہم یہاں آۓ ہیں اتنی دور سے ؟ مجھے تو لگا تھا کہ کوئی بہت بڑے ہوٹل میں جائیں گے ہم“. چونکنے کے ساتھ ساتھ اس نے طنز کیا.
”انوشے میڈم راستے میں باتیں بھی تو کرنی تھیں آپ سے اب جلدی آئیں“. ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ بولا.
”اچھا“. کچھ سوچ کر وہ بولی اور کار سے اتر گئ.
کار کو لاک لگا کر وہ دونوں آگے کی طرف بڑھے.
ہوٹل کے زینوں کو پار کر کے وہ ہوٹل کے اندر آ چکے تھے. بہت ہی کم لوگ نظر آ رہے تھے. شاید ورکنگ ڈیز میں یہاں رش نہیں ہوتا ہو گا.
”ویلکم ماہر سر“. یونیفارم میں ملبوس ویٹر نے ماہر کے پاس آتے ہوۓ کہا.
”تھینک یو“. ماہر نے مسکرا کر کہا اور پھر انوشے کی طرف اشارہ کیا ”یہ انوشے ہیں“.
”ہیلو میم“. ویٹر انوشے سے مخاطب ہوا. مگر انوشے عجیب نظروں سے ویٹر کو دیکھ رہی تھی.
”لگتا ہے اندر گھسانے کا ارادہ نہیں ہے تمہارا“. انوشے کا ری ایکشن دیکھ کر اسنے ویٹر سے کہا.
”نو نو آئیے سر آپ کے لیے اوپر مینیج کیا گیا ہے“. ویٹر نے دونوں کو آنے کے لیے جگہ دی.
انوشے آس پاس پڑی چیزوں کا جائزہ لے رہی تھی. اندد سے بھی ہوٹل خوبصورت معلوم ہو رہا تھا.
زینے چڑھ کر وہ دوسرے پورشن میں آ گۓ تھے. جہاں پردے کا بھی انتظام کیا گیا تھا.
”ہیو آ سیٹ انوشے میڈم“. اشارہ کرتے ہوۓ وہ بولا.
انوشے اس کے سامنے ہی بیٹھ گئ.
”تم کہنے سے باز نہیں آؤ گے ناں“. آزردگی سے اس نے کہا.
”ہاں جی نہیں آؤں گا“. اس نے دائیں بائیں سر ہلا کر کہا.
”وہ ویٹر کون تھا؟“. اس کے سوالات دوبارہ شروع ہو چکے تھے.
”میرا دوست تھا اور یہاں آنے سے پہلے ہی میں نے اسے خبر کر دی تھی اور لنچ کا آرڈر بھی دے دیا تھا“. ماہر نے سارا پلین بتایا.
”کیا کھائیں گے ہم؟“. انوشے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کے بولی.
”یور فیورٹ پیزا“. اطمینان سے وہ بولا.
”کیااااس سچ“. ہمیشہ کی طرح خوشی میں وہ چیخ کر بولی.
ماہر نے دوبارہ اپنے کانوں کو چھو لیا.
”اچھا ویسے یہاں پر کوئی فلمز یا ڈراماز شوٹ ہوتے ہیں؟“. انوشے نے ایک دم مدھم آواز میں پوچھا.
”نہیں، آپکو ایسا کیوں لگا؟“. اس نے ابرو کو کھینچا.
”ریئلی پر میں نے تو یہاں ہر جگہ کیمرے کی شاپس دیکھی ہیں“. اس کا ری ایکشن حیرانگی کی وضاحت کر رہا تھا.
ماہر کے پاس اسکی بات کا کوئی جواب نہیں تھا سو وہ خاموش ہی رہا.
”ویسے ڈراماز سے یاد آیا 6 بجے سے پہلے گھر جانا ہے میں نے ڈرامہ دیکھنا ہے. آج سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ ہے ڈرامے کی“. انوشے نے پریشانی میں بتایا.
”فکر نہیں کریں ہم جلدی ہی جائیں گے آپکو کالج سے ایک بجے چھٹی ہوئی تھی ابھی تو دو بھی نہیں بجے“. ایک نظر رسٹ واچ پر ڈال کر ماہر نے اسے تسلی دی.
”یہ تو بہت اچھی بات ہے پتہ ہے کل ڈرامے کی لاسٹ ایپیسوڈ ہے میں بہت مس کروں گی کبھی کبھی تو مجھے بہت رونا آتا ہے. بہت ہی سیڈ ڈرامہ ہے. تمہیں بھی بہت سیڈ لگے گا میں تمہیں سٹوری بتاتی ہوں“. انوشے آنکھیں بند کیۓ بولتی ہی چلی جا رہی تھی.
ماہر نے ایک ہاتھ سے اپنا سر پکڑا ہوا تھا اور وہ مسلسل ٹیبل کو گھور رہا تھا. انوشے کب سے اسے ڈرامے کی سٹوری ہی سناۓ جا رہی تھی. وہ بہت ہی زیادہ بولتی تھی.
اسی میں دو ویٹرز آ گۓ اور انوشے خاموش ہو گئ. دونوں نے ان کا آرڈر انہیں تھما دیا.
”تھینک یو“. ماہر نے مسکرا کر ویٹر سے کہا.
”تھینک یو کی کوئی بات نہیں“. دونوں ویٹرز نے مسکرا کر کہا اور چل دیۓ.
”انہیں کیا پتہ میں نے شکریہ ان کو پیزا لانے کا نہیں بلکہ انوشے کو چپ کروانے کے لیے کہا تھا“. من ہی من میں اس نے سوچا.
دونوں نے کھانا شروع کیا. ایک نظر ماہر نے انوشے کو دیکھا پل بھر کے لیے تو وہ چونک ہی گیا تھا.
”ارےےےے انوشے یہ کیا پاگلوں والے کام کر رہی ہیں آپ“. چونک کر اس نے انوشے کو ٹوکا.
گردن اٹھا کر انوشے نے ماہر کو دیکھا. ”بہت افسوس کی بات ہے کہ پیزے کو کافی میں ڈبو کر کھانے کی وجہ سے تم مجھے پاگل کہ رہے ہو“. اس نے تاسف سے کہا.
”ارے لڑکی اور پیزے پر کیچپ کا ڈھیر لگا کر آپ جب کافی میں ڈبو کر کھائیں گی تو کون آپ کو صحیح سمجھے گا ؟“. حیران ہو کر اس نے پوچھا.
”نظر نا لگاؤ مجھے کھا لینے دو“. کہ کر انوشے دوبارہ کھانے لگ گئ.
ماہر پریشان کن نظروں سے اسے یونہی دیکھتا رہا.
*******************************
لنچ کے بعد وہ دوبارہ کار میں بیٹھ گۓ. ماہر نے ایک نظر رسٹ واچ پر ڈالی. گھڑی ڈھائی بجے کا وقت بتا رہی تھی.
”مجھے بہت مزہ آیا تھینک یو“. انوشے نے شکریہ کرتے ہوۓ کہا.
ماہر نے اثبات میں سر ہلایا.
”اچھا یونی کب سے جاؤ گے؟“. انوشے دوبارہ اس سے مخاطب ہوئی.
”کل سے جاؤں گا ویسے بھی لاسٹ سیمیسٹر ہے میرا اس کے بعد میں جاب سٹارٹ کروں گا“. ماہر نے سب خود ہی بتا دیا.
”اچھا میرا بھی لاسٹ ہے“. گہری سانس لے کر وہ بولی.
”میڈم آپ کا لاسٹ سیمیسٹر نہیں لاسٹ کلاس ہے“. ماہر نے اسے باور کروایا.
”میرا ڈریم تھا کہ میں ترکی کی ”سبانجی یونیورسٹی“ میں جا کر پڑھوں بہت سنا ہے اس یونی کے بارے میں میں نے“. وہ دوبارہ بولنا شروع ہو گئ تھی.
”اوہ وہ یونی جو استنبول میں ہے؟“. اب وہ دلچسپی سے پوچھ رہا تھا.
”جی ہاں وہی. اور مجھے بہت شوق ہے ترکی دیکھنے کا خاص کر استنبول“. اسنے اپنی خواہش ظاہر کی.
”چلیں ہم اپنے ہنی مون پر استنبول ہی چلیں گے“. ماہر نے ہنس کر کہا. انوشے بھی ہنس دی.
_____________
”چلیں ہم اپنے ہنی مون پر استنبول ہی چلیں گے“. ماہر نے ہنس کر کہا. انوشے بھی ہنس دی.
”کیا مطلب ہے آپکا“. وہ انجان سی ہو کر بولی.
”میڈم انوشے انجان نا بنیں. جیسے میں جانتا ہی نہیں ہوں“. اسے دیکھ کر وہ ہنسا تھا.
****************************
باقی سفر باتوں میں کٹ گیا. سوا تین بجے وہ گھر کے باہر پہنچ چکے تھے. انوشے کار سے نیچے اتر گئ.
”آپ دھیان سے جائیں میں اپنے ایک فرینڈ سے مل کر آتا ہوں“. اسنے انوشے کو بتایا.
”ایک تو ماہر کے فرینڈز بھی نا“. وہ منہ میں ہی بڑبڑائی.
”جی کچھ کہا آپ نے“. ماہر نے ناسمجھی میں پوچھا.
”نہیں کچھ نہیں دھیان سے جانا“. انوشے نے فکر سے کہا.
”جو حکم میڈم“. کہ کر ماہر نے اگنیشن میں چابی گھمائی اور آگے بڑھ گیا.
مسکرا کر انوشے نے ماہر کو دیکھا. حسبِ معمول گیٹ کھلا ہی تھا. گیٹ عبور کر کے وہ اندر آ گئ.
****************************
”انوشے آ گئ ہو تم“. انوشے کے قدموں کی آواز سن کر افراء نے کچن کے دروازے سے جھانک کر پوچھا.
”جی نہیں میں تو نہیں آئی“. انوشے نے تھکی سی آواز میں کہا.
”اف لڑکی جلدی جا کر یونیفارم چینج کر لو“. انوشے کی بات پر افراء ٹھیک ٹھاک تپی تھی.
اس نے یونیفارم تبدیل کیا. اور فل جامنی رنگ کا سوٹ زیبِ تن کر لیا.
”کیسا رہا سب“. افراء کمرے میں آتے ہوۓ انوشے سے مخاطب ہوئی جو تھک کر بیڈ پر گری ہوئی تھی.
”بہت اچھا، ماہر نے میرا فیورٹ لنچ مجھے کروایا“. نشے کی سی آواز میں اس نے بتایا.
”اچھا ایک بات تو بتاؤ تم ماہر کو بھائی کیوں نہیں کہتی ہو؟“. کمرے کی چیزیں درست کرتے کرتے بے دھیانی میں اس کے منہ سے نکل گیا.
انوشے تھوڑا اٹھ کر بیٹھی. ”افراء آپ میرے سے کتنے سال بڑی ہیں؟“.
افراء کو انوشے کی پہیلی سمجھ میں ہی نا آئ.
”ایک سال“. نا سمجھی میں اس نے جواب دیا.
”جب آپ مجھ سے ایک سال بڑی ہیں تو ماہر تو آپ سے ایک سال بڑا ہے تو یہ کہ ماہر مجھ سے دو سال بڑا ہے تو اسے بھائی کیوں کہوں وہ کونسا میرے سے دس سال بڑا ہے“. لمبی ساری تفصیل بتا کر وہ دوبارہ بیڈ پر لڑھک گئ.
افراء نے انوشے کی بات پر اثبات میں سر ہلایا مگر انوشے نے حقیقت نہیں بتائی تھی اور نا ہی یہ صحیح وقت تھا.
”6 بجے پلیز مجھے جگا دیجیۓ گا افراء“. اپنا پلین بتا کر انوشے سو گئ تھی.
انوشے کے سوتے ہی افراء دوبارہ کچن میں چلی گئ تھی. پہلے وہ برتن دھو رہی تھی اور انوشے کی وجہ سے ادھورے برتن چھوڑ آ تھی. برتن دھونے کے بعد اس نے چاۓ پکنے کے لیے رکھ دی. وہ شروع سے ہی سب کا خیال رکھا کرتی تھی…
جاری ہے
