Qismat by Sumayya Mughal NovelR50814
Last updated: 23 July 2026
Qismat by Sumayya Mughal Episode01Qismat by Sumayya Mughal Episode02Qismat by Sumayya Mughal Episode03Qismat by Sumayya Mughal Episode04Qismat by Sumayya Mughal Episode05Qismat by Sumayya Mughal Episode06Qismat by Sumayya Mughal Episode07Qismat by Sumayya Mughal Episode08Qismat by Sumayya Mughal Episode09Qismat by Sumayya Mughal Episode10Qismat by Sumayya Mughal Episode11Qismat by Sumayya Mughal Episode12Qismat by Sumayya Mughal Last Episode
Qismat by Sumayya Mughal
رات کو وہ تھک کر اپنے کمرے میں آئی تھی. اگلے مہینے شادی کا سوچ کر اسکا دل آسمانوں میں اڑ رہا تھا.
”میں بہت خوش ہوں اگلے مہینے شادی ہے اتنے انتظار کے بعد میری شادی ....“ آنکھوں سے بہتے آنسو کو اسنے صاف کیا.
”کتنا اچھا لگے گا افراء پر یہ ڈریس“. ساجدہ نے لال جوڑا دیکھ کر فخر سے سوچا. لہنگا بہت قیمتی اور خوبصورت معلوم ہو رہا تھا.
بارہ بج چکے تھے اور سارے ہی سو رہے تھے. یک دم انوشے کمرے میں آئی اور کمرہ لاک کر دیا.
”کمرہ کیوں لاک کیا ؟“. اسکی اس حرکت پر افراء نے پوچھا.
”مجھے ضروری بات، کرنی ہے، آپ سے“. رک رک کر وہ بول رہی تھی.
افراء کو وہ سب یاد آ گیا جو پہلے انوشے نے ماہر سے کہا تھا اسکی بات پر ساری خوشی پھیکی پڑ گئ اور دل زور سے دھک دھک کرنے لگا.
”ہاں کہو“. افراء اپنا لہجہ نارمل کرتے ہوۓ بولی.
”وعدہ کریں میری بات سننے کے بعد آپ مجھے ڈانٹیں گی نہیں“. انوشے نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا.
”وعدہ نہیں ڈانٹوں گی“. ساتھ بیٹھی افراء نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے ہاتھ سے مس کیا.
”اماں کی اور میری قسم کھائیں کہ آپ مجھے نہیں ڈانٹیں گی اور میری بات سمجھیں گی“. انوشے نے افراء کا ہاتھ اپنے سر رکھا.
کچھ دیر افراء یونہی اسے گھورتی رہی اور بول پڑی. ”ہاں اماں کی اور تمہاری قسم میں تمہیں نہیں ڈانٹوں گی اور تمہاری بات سمجھوں گی“. افراء نے بمشکل بولا وہ قسم تو نہیں کھانا چاہتی تھی مگر کوئی اور چارہ بھی تو نہیں تھا. دل خطرے کا الارم دے چکا تھا.
ہمت سے اسنے بولنا شروع کیا.
”افراء میں اور ماہر ایک دوسرے سے...“ اس نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی.
”ایک دوسرے سے کیا؟“. سمجھنے کے باوجود وہ اسکے منہ سے سننا چاہا.
”ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور...“ وہ بولتے بولتے دوبارہ رک گئ.
افراء انکی ساری باتیں سننے کے باوجود اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی. جو انوشے بولنا چاہتی تھی افراء کی قسمت اسکے بول سے اندھیرا دکھانے والی تھی.
