Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat by Sumayya Mughal Episode09

Qismat by Sumayya Mughal Episode09

ہاں ہاں جانتی ہوں اور تمہارے علاوہ میرا گفٹ کہاں ہے؟“. اسنے ماہر کے گال تھپتھاتے ہوۓ پوچھا.
”اس کے علاوہ آپکا گفٹ یہ خوبصورت سا کمرہ ہے“. آس پاس کا جائزہ لیتے ہوۓ اسنے کہا.
”ہاں مجھے پتا ہے پر اس کے علاوہ“. ابرو کھینچتے ہوۓ اسنے دوبارہ پوچھا.
”اور یہ فرنیچر“. اسنے اشارے سے کہا.
”سیدھی طرح کہہ دو کے تمہارے پاس میرے لیے کوئی گفٹ نہیں“. وہ خفا سی بولی.
”ہاہاہاہاہا کیوٹ گرل“. اسنے قہقہہ لگایا اور اسکے آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا.
”اب کیا ہے؟“. وہ ناراض ہو کر کہہ رہی تھی. جیسے ہی ماہر نے ہاتھ ہٹایا اسکے ہاتھ میں ایک خوبصورت گولڈن نیکلیس جگمگا رہا تھا جسے دیکھتے ہی انوشے نے اپنا ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا. نیکلیس میں خوبصورت اے اور ایم لکھا تھا جس کے بیچ میں دل بھی بنا تھا.
”یہ ہے میری بیوٹی فل سی وائف کے لیے“. کہہ کر اسنے انوشے کو اپنے ہاتھوں سے نیکلیس پہنا دیا.
”آئی لو یو“. خوشی سے کہتے ہوۓ وہ اسکے گلے سے جا لگی.
”آئی لو یو ٹو مسز ماہر“. اسنے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ کہا.
”تم کتنے اچھے ہو ماہر“. اس سے الگ ہوتے ہوۓ اسنے اسکی تعریف کی.
”اچھا“. اسکے چہرے پر موجود لٹوں کا طلسم توڑتے ہوۓ اسنے کھوۓ سے لہجے میں کہا.
”یہ آپکے ہاتھوں میں بہت اچھی لگتی ہے“. انوشے کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسنے انگلی سے انگوٹھی چھوتے ہوۓ کہا.
انوشے پیار بھری نظر سے اسے ہی دیکھے گئ.
”یہ بھی بہت خوبصورت لگ رہا ہے“. اس کے ایئر رنگز کو دھیرے سے چھوتے ہوۓ اسنے کہا جس پر اسنے آنکھیں میچ لیں. خوبصورت رات صرف انوشے کے لیے تھی جبکہ درد ناک صرف افراء کے لیے.
*****************************
دیر رات تک وہ جاگ رہی تھی نیند کے آثار کم لگنے لگے تو بہت دیر بعد اسنے اپنا فون اٹھایا.
”انعم کی کالز“. خوشی میں سوچتے ہوۓ اس نے دوبارہ کال ملائی اور دوسری طرف جھٹ سے انعم نے کال ریسیو کی.
”افراء“. برسوں بعد آج اسے پکار کر وہ رونے لگ گئی.
”کیا ہوا ہے انعم ؟ سب ٹھیک ہے؟“. اسنے گھبراہٹ میں پوچھا.
”افراء کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے“. بےبسی کے عالم میں اس نے کہا.
”کیا ہوا ہے انعم مجھے بتاؤ؟“. ہمدردی سے اسنے وجہ جاننی چاہی.
”میں کل آ کر سب بتاؤں گی، افراء کیا میں تمہارے گھر آ سکتی ہوں؟“. بہت حسرت لیے اسنے مدھم لہجے میں پوچھا تھا.
”ضرور انعم اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے جانتی ہو پرسوں انوشے کا ولیمہ ہے“. اجازت کے ساتھ ساتھ اسنے بتایا.
”کیا ، انوشے کی شادی ہو گئی؟“. خوشی سے اس نے پوچھا.
”ہاں!! ماہر کے ساتھ ہوئی ہے اور میں نے تمہیں آج بلانے کے لیے اتنی کالز کیں پر تم نے میرا فون بھی نہیں اٹھایا“. اسنے تاسف سے کہا.
”میں کل آ کر بات کروں گی اللہ خوش رکھے اسے اور ماہر سے شادی ہوئی ہے مجھے بہت اچھا لگا سن کر“. اسکے لہجے میں خوشی صاف ظاہر تھی.
الوداعی کلمات کہہ کر اسنے فون رکھ دیا. افراء کے دل کو کچھ سکون ملا تھا.
*****************************
آج کی صبح بہت پیاری تھی. صبح صبح ہی ماہر اٹھ گیا تھا جبکہ انوشے سونے میں محو تھی.
”انوشے اٹھ بھی جائیں“. وہ نرمی سے اسے جھنجھوڑتے ہوۓ بولا.
”اٹھ گئی ہوں“. وہ ایک ہی آواز پر فوری اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے بالوں کو نرمی سے کیچر سے الگ کیا.
”صبح صبح چڑیل بننے کا ارادہ ہے؟“. اب وہ اس کے ساتھ جا بیٹھا.
”نہیں نہیں میں تو نہانے جا رہی ہوں“. ہنستے ہوۓ اسنے بتایا.
”ارے!!! اتنی صبح کیوں؟“. اسنے حیرت سے پوچھا.
”پاگل صبح صبح نہانے سے بہت اچھی صحت ہوتی ہے افراء کہتی ہیں“. وہ اٹھ کر الماری کی طرف گئی اور نیا جوڑا لے کر واشروم میں چلی گئ.
دوسری طرف افراء بھی نہا کر نکلی تھی. اسکی طبیعت کچھ بوجھل سی ہو رہی تھی. سی-گرین قمیض کے نیچے نارنجی ٹراؤزر اور ساتھ میں ہم رنگ دوپٹہ پہن رکھا تھا. بالوں کو کیچر لگاۓ وہ باہر آ گئی.
”انوشے نہیں اٹھی کیا؟“. باہر بیٹھی ایک عورت سے اس نے پوچھا جو منیب کی کزن تھی.
”نہیں ابھی تک تو نہیں اٹھی ہے“. انہوں نے بتایا.
”افراء کافی ہی بنا لاؤ میرے لیے“. انہوں نے حکم دیا.
”اچھا میں بنا کر لاتی ہوں“. افراء نے ایک نظر ساری جگہ دوڑاتے ہوۓ کہا. تقریباً سب ہی جاگ رہے تھے. سب کا جائزہ لیتے ہوۓ وہ کچن میں آ گئی.
دس کپ کافی کے بنا کر وہ لاؤنج میں آ گئی اور سرو کرنے ہی لگی تھی کہ انوشے آ گئی.
”میرے لیے بنائی ہے نا کافی؟“. آتے ساتھ ہی انوشے کافی کی طرف لپکی.
وہ ہلکا میک اپ کر کے آئی تھی اس کے ساتھ ہی ماہر بھی آ گیا تھا. افراء نے ایک نظر ماہر کو دیکھا. اس کے چہرے پر آج الگ ہی خوشی تھی. اسے خوش دیکھ کر افراء خوش نا ہوتی ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا.
”کیسی ہو بیٹا“. حمنہ (منیب کی کزن) نے اسکے سر پر پیار دیتے ہوۓ پوچھا.
”ٹھیک ہوں آنٹی“. کافی کا کپ اٹھا کر وہ صوفے پر بیٹھ گئی.
”اب مجھ سے بھی مل لو“. منیب صاحب نے حسرت سے دیکھا.
”اسلام و علیکم ابو“. سلام کرتے ہوۓ انوشے نے ٹرے میں سے کافی کا کپ اٹھایا اور انکی طرف بڑھا دیا.
”تھینک یو افراء“. منیب نے افراء کو دیکھ کر کہا جس پر افراء نے مسکرا کر سر ہلایا.
”کافی میں نے کہ پکڑائی اور تھینکس افراء کو“. وہ شکوہ کرتے ہوۓ بولی.
”پکڑائی تم نے ہے پر بنائی تو افراء نے ہے ناں“. شرارتی انداز میں کہہ کر وہ کافی پینے لگے.
سب سے ملنے ملانے کا سلسلہ جیسے ہی ختم ہوا انوشے افراء کی پیروی کرتے ہوۓ کمرے میں آئی.
”کیا ہوا ہے افراء آپ ٹھیک ہیں؟“. اسکا ہاتھ جیسے ہی اسنے پکڑا اسے زور کا جھٹکا لگا.
”افراء آپکو کتنا تیز بخار ہے“. گھراہٹ میں اسنے اسکا ماتھا چھوتے ہوۓ کہا.
”نہیں میں ٹھیک ہوں“. اسنے اپنے آپکو نارمل رکھتے ہوۓ کہا.
”دوائی کھائی ہے آپنے؟“. اب وہ ڈانٹتے ہوۓ بولی.
”ہاں“. اسنے کمزور آواز میں جواب دیا اور لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی.
”آپ آج ہی ماہر کے ساتھ ڈاکٹر کے جائیں گی“. اسنے حکم دیتے ہوۓ کہا.
”نہیں“. اسنے صاف صاف منع کیا تھا.
”آپکو میری قسم افراء آپ جائیں گی ورنہ میں بہت ناراض ہو جاؤں گی“. اسکا انداز اٹل تھا اور افراء جانتی تھی اب وہ کسی کی نہیں مانے گی سو اسنے ہار ماننے میں ہی بہتری سمجھی.
”ٹھیک ہے“. ہار مان کر اسنے جواب دیا اور وہیں لیٹ گئی.
__________
”آپکو میری قسم افراء آپ جائیں گی ورنہ میں بہت ناراض ہو جاؤں گی“. اسکا انداز اٹل تھا اور افراء جانتی تھی اب وہ کسی کی نہیں مانے گی سو اسنے ہار ماننے میں ہی بہتری سمجھی.
”ٹھیک ہے“. ہار مان کر اسنے جواب دیا اور وہیں لیٹ گئی.
”6 بجے تیار رہیۓ گا میں ماہر کو کہتی ہوں ٹھیک ہے“. کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی. اسنے نم آنکھوں سے اسے جاتے دیکھا.
******************************
سات بجے کے قریب وہ دوائی لے کر ماہر کے ساتھ دوبارہ کار میں بیٹھی. اسکا چہرہ بخار سے سرخ ہو رہا تھا. باہر کا موسم کچھ بہتر تھا.
”یہ تو گھر جانےکا راستہ نہیں ہے“. غلط راستے پر وہ چونک کر لڑکھڑاتی آواز میں بولی.
”جانتا ہوں لیکن ہم لونگ ڈرائیو پر جا رہے ہیں“. سڑک کی جانب نظریں مرکوز کیے اس نے بتایا. ایک پل کے لیے اِفراء کو تحیر سی ہوئی.
”کیا مطلب ہے آپکا؟“. نا سمجھی میں اسنے پوچھا.
”مطلب کے ہم دوسرے راستے سے گھر جائیں گے مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے“. وہ سنجیدگی سے بولا.
”کریں“. وہ اجازت دیتے ہوۓ بولی.
”آپ نے مجھے اپنی وش نہیں بتائی“. اس نے دوبارہ باور کروایا جس پر افراء ہنس پڑی.
”ماہر آپ سے میں نے کہا تھا کہ میں آپکو ضرور وش بتاؤں گی لیکن مجھے ابھی تک کوئی بھی وش یاد نہیں ہے“.
”آئی ایم شیور کے آپکی کوئی تو وش ضرور ہو گی“. وہ پورے اعتماد کے ساتھ بولا.
کوئی تردید کیے بنا ہی وہ ونڈو سے باہر جھانکنے لگی.
”اب آپ کیسا فیل کر رہی ہیں؟“. اسنے ہمدردی سے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا. مگر اسکی نگاہیں ونڈو سے باہر موجود منظر کو دیکھ رہی تھیں.
”بس ٹھیک ہی“. ٹھنڈی سانس لے کر اسنے جواب دیا. اب وہ اسکے آگے اپنے احساسات اور جذبات کیسے بیان کر دیتی.
”ایک بات کہوں؟“. اسنے اجازت طلب کی. بغیر اجازت کوئی سوال وہ کرتا ہی نہیں تھا اسکا سوال سنتے ہی اس نے اپنے سر کو جنبش دی.
”بہت عجیب ہیں آپ“. اسنے بغیر اس کے چہرے کے تاثرات جانے سامنے دیکھتے ہوۓ کہا.
”ہاں مجھے پتا ہے“. غصہ کیے بغیر ہی اسنے الگ جواب دیا.
”اوہ!! اگر میں یہ انوشے کو کہتا ناں تو اس نے مجھ سے بہت ہی لڑنا تھا“. تحیر سے اسنے کہا.
”اس میں اور مجھ میں بہت فرق ہے“. اس نے مدھم آواز میں کہا مگر وہ سن چکا تھا.
”کس چیز کا فرق؟“.
”شاید قسمت کا“. اسنے دھیرے سے شانے اچکاتے ہوۓ کہا.
نا سمجھی سے ماہر نے سر کو جنبش دی.
****************************
”تھینک یو ماہر“. کار سے اترتے ہی اسنے کہا.
”ضرورت نہیں“. مسکرا کر اسنے کہا جس پر وہ بھی مسکرا دی.
وہ سیدھا اپنے کمرے میں ہی آئی تھی کہ سب نے اسکا حال احوال پوچھنے میں ہی پندرہ منٹ لگا دیۓ جس پر اسے شدید کوفت محسوس ہونے لگی.
”تھینک یو افراء کے لیے“. اپنے بال کنگھی کرتے ہوۓ اسنے آئینے میں سے اسکا عکس دیکھتے ہوۓ کہا. اسکے بال کمر تک آتے تھے جو نارمل تھے زیادہ لمبے نہیں تھے.
”اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میڈم وہ میری بھی کچھ لگتی ہیں“. لیپ ٹاپ پر سر جھکاۓ اسنے جواب دیا.
”لیپ ٹاپ پر کیا کر رہے ہو؟“. اسنے جاسوسی کرتے ہوۓ پوچھا جس پر اسنے فوری ہی لیپ ٹاپ کی سکرین کو گرا دیا. ”کچھ نہیں“.
”مجھ سے جھوٹ“. سینے پر بازو باندھی اسنے پوچھا.
”سرپرائز ہے“. اسنے شانے اچکاتے ہوۓ کہا جس پر انوشے خاموش ہو گئی. اب مزید سوالات پوچھ کر وہ اپنا سرپرائز خراب نہیں کرنا چاہتی تھی.
نو بجے سے پہلے ہی سب کھانا کھا چکے تھے. نو بج کر دس منٹ پر دروازے پر دستک ہوئی. وہ جانتی تھی کہ کون آیا ہے اس لیے فوری ہی گیٹ کھولا. باہر انعم کھڑی تھی جو پہلے سے زیادہ کمزور نظر آ رہی تھی. چہرے سے سنجیدگی بھی صاف ظاہر تھی. وہ اپنے قدم اندر رکھتے ساتھ ہی افراء کے گلے سے لگ گئی وہ رونا نہیں چاہتی تھی سو اپنے جذبات کو نارمل رکھتے ہوۓ ہی وہ خوش دلی کے ساتھ افراء سے ملی.
******************************
”ماہر افراء بھی عجیب ہیں ناں“. لیٹے لیٹے اسے اچانک ہی عجیب خیال آیا.
”کیوں؟“. اسنے انوشے کی طرف چہرہ کرتے ہوۓ پوچھا.
”ابھی تک اپنی خواہش ہی بیان نہیں کر سکیں اگر انکی جگہ میں ہوتی تو میں نے تو تم سے اب تک اس ایک وش میں سو وشز پوری کروا لینی تھیں“. وہ قہقہہ لگا کر بولی تھی کہ ماہر نے اسکے بالوں کو نرمی سے چھوا.
”اوہ تو میڈم آپ اپنی وشز مجھے اب بھی بتا سکتی ہیں“. اسنے اب انوشے کے ہاتھ کو تھامتے ہوۓ پوچھا.
”میری ایک وش ہے کہ میں کسی دوسری کنٹری میں جاؤں“. کافی دیر سوچنے کے بعد اسنے بتایا.
”اس کے علاوہ؟“. اسنے مزید پوچھا.
”ابھی تم میری یہ وش پوری کر دو باقی پھر کبھی بتا دوں گی“.
”ماہر ویسے ایک بات کہ تم میری یہ وش کب پوری کرو گے؟“. خاموشی کو توڑتے ہوۓ اسنے پوچھا.
”جلد ہی پوری کروں گا“. اسنے اندازہ لگایا.
”اچھا ایک اندازے کے مطابق کب تک پوری کرو گے؟“. اب وہ بلکل سیدھی لیٹی تھی اور چھت کو دیکھ رہی تھی. کمرے میں ابھی بھی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی.
”نہیں جانتا“. اسنے مختصر جواب دیا.
”پھر بھی اندازہ لگا کے بتاؤ“. اسنے اصرار کیا.
”سو سال بعد“. اس کے سوالوں سے تنگ آ کر اس نے اپنی انکھوں پر بازو رکھ لیا.
”دیکھو مجھے سچ سچ بتاؤ“. اسے بھی غصہ آیا تھا.
”کچھ دن انتظار کریں اور مجھے اب سونے دیں مجھے نیند آئی ہے“. اب اس نے کروٹ بدل لی تھی.
”اچھا سو جاؤ لیکن مجھے تو بتا دیتے کب وش پوری کرو گے“. جھنجھلاہٹ میں وہ اٹھی اور سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا جس سے کمرے میں جلتی بتیاں بجھ گئیں اور اندھیرا چھا گیا.
********************************
”تم کیسی ہو اب افراء؟“. انعم نے فکرمندی سے پوچھا.
”ٹھیک ہوں“. چھت پر سے اس نے نیچے کے منظر کو دیکھتے ہوۓ کہا. ”تم انوشے سے ملی ہو؟“.
”ملی تھی میں اور وہ بہت خوشی سے ملی جیسے وہ کبھی مجھ سے ناراض ہی نا ہو“. اسنے فوری تردید کی.
”کیا ہو رہا ہے؟“. انوشے نے انکے قریب آتے ہوۓ کہا.
”تم سوئی نہیں؟“. افراء نے پوچھا.
”نہیں میں نے سوچا کہ آپ دونوں سے بات کر لوں“. اپنے بالوں کو کیچر کی گرفت سے آزاد کرتے ہوۓ وہ بولی. اسکے بال نرمی سے اسکی کمر پر گرے.
”یہ تم کیا کر رہی ہو؟“. افراء نے ٹوکا.
”سر میں درد ہے بہت اسی لیے میں نے بال کھول لیے“. سر کو چھوتے ہوۓ اسنے بتایا.
”ہمم!!!!“ اسنے فکرمندی سے اسکی طرف دیکھا. ”کیا یہ میگرین ہے؟“.
”شاید!! میں کل ڈاکٹر کے ضرور جاؤں گی“. اسنے فوری کہا.
”میں تمہیں خود لے کر جاؤں گی کوئی بہانا نہیں چلے گا“. تلخی سے اس نے فیصلہ سنایا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *