Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat by Sumayya Mughal Episode04

Qismat by Sumayya Mughal Episode04

ماہر پتا نہیں کہاں پر ہے کب سے فون لگا رہی ہوں سن نہیں رہا جب آۓ تو مجھے بتا دینا میں ماہ رخ کے پاس جا رہی ہوں“. ساجدہ نے حکم دیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئیں.
”فون نہیں لگ رہا ان کا“. وہ بھی سوچ کر خاصی پریشان ہو گئ تھی.
”کیا کہ رہی تھیں خالہ“. انوشے نے دلچسی سے پوچھا.
”کوئی بات نہیں بیزی ہو گا وہ“. انوشے نے ساری بات تحمل سے سننے کے بعد افراء کے دل کو تو تسلی دے دی تھی مگر اسکے دل میں بھی پریشانی کے آثار جنم لے رہے تھے. کب سے ماہر نے اسکے میسج کا جواب بھی نا دیا تھا. اسے یک دم یاد آیا.
”سنو ماہر کہاں ہو“. اپنے فون پر اس نے جلدی جلدی بےچینی سے ٹائپ کیا. اسی طرح کے کوئی بیس میسج وہ بھیج چکی تھی. مگر کوئی جواب نا آیا.
کئ دیر تک وہ موبائل کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر ساکت بیٹھی تھی. اب تو آدھا گھنٹہ ہونے والا ہے.
ایسا تو کبھی نہیں کیا ایک میسج پر ہی جواب آ جایا کرتا تھا سب ٹھیک تو ہو گا نہ؟ عجیب و غریب سوال اسکے من کو اور بےچینی میں گھسیٹ رہے تھے. دل کی تسلی کے لیے دو چار مس کالز بھی کر دیں مگر بےسود ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی تھی نمبر بند جا رہا تھا. کیا راستے میں تو کچھ نہیں ہو گیا ؟ یہ الجھے سوال اسے ڈرا رہے تھے.
اب تو حد ہی ہو گئ تھی ایک گھنٹہ ہونے والا تھا اور ماہر کی کوئی خبر نہیں تھی. وہ اکیلی کسی کو بتاۓ بغیر ہی پریشانی میں اسیر تھی. کئ میسجس وہ اسے وقفے وقفے سے کر رہی تھی.
تین بجے کسی کی کال آئی ساجدہ اپنے کمرے میں تھیں بڑھ کر انہوں نے فون اٹھا لیا. پل بھر میں ہی انکے ہاتھ میں پکڑا فون لرز گیا.
ساجدہروتی ہوئیں افراء کے کمرے کی طرف آئیں.
”کیا ہوا امی سب ٹھیک تو ہے؟“. افراء نے گھبراہٹ میں پوچھا.
”ما ما ماہر کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے وہ وہ وہ ہاسپٹل میں ہے“. ساجدہ روتے ہوۓ بول رہی تھیں.
افراء اور انوشے کو محسوس ہوا کہ دونوں ابھی گر جائیں گی. افراء کی آنکھوں سے آنسو تو ٹپک بھی رہے تھے.
”کیا“. کھڑی ہوئی افراء بیڈ پر ہی بیٹھ گئ. وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اب کیا ہو گا.
*******************************
ہاسپٹل میں عجیب خاموشی چھائی تھی اور کاریڈور میں تو مکمل سناٹا تھا. عجیب سا سماں ہر سو پھیلا ہوا تھا. ہر طرف وحشت اور خوف تھا. کاریڈور میں وسیم بے چینی سے کھڑا تھا.
وسیم کے بتانے پر سب بھاگے ہوۓ ہاسپٹل آۓ تھے.
”آنٹی ماہر آپریشن تھیٹر میں ہے“. وسیم نے ان سب کو آتا دیکھ کر پریشانی میں بتایا.
”ہاۓ اللہ میرا بچہ کیا ہو گیا اسکو“. ساجدہ روتی ہوئیں پاس پڑے بینچ پر گر گئیں.
”امی امی نا روئیں کچھ نہیں ہو گا ماہر کو آپ پریشان نا ہوں“. افراء نے تسلی دی مگر خود بھی وہ نے تحاشہ رو رہی تھی.
”انوشے نا رو تم بھی یہاں بیٹھو“. انوشے کو روتا دیکھ کر اسنے انوشے کو بینچ پر بٹھا دیا.
”کیسے ہو گیا وسیم بیٹا یہ“. منیب نے پاس جا کر پوچھا.
”انکل ماہر میرے گھر آ رہا تھا کب سے میں اسے کال کر رہا تھا مگر اسنے کوئی جواب نہیں دیا جب میں آپکے گھر آنے کے لیے نکلا تو راستے میں لوگ جمع تھے. شاید کسی نے ماہر کو ہٹ کر دیا تھا. ماہر کی کار اس سے فاصلے پر تھی. میں سب سے پہلے پہنچ گیا تھا اور ہاسپٹل پہنچ کر آپ سبکو اطلاع کر دی“. وسیم بھی رو دینے کو تھا.
”اللہ بہتر کریں گے“. کندھے پر ہاتھ رکھ کے احمر نے اسے تسلی دی.
احسن اور معیز ڈاکٹر کو لے آۓ تھے. ساجدہ بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس گئیں.
”ڈاکٹر صاحب ماہر کیسا ہے“. ساجدہ آنسو پونچتے ہوۓ بولیں.
”دیکھیں ماہر کا خون بہت بہ گیا ہے. یہ ادوایات لا دیں فوری“. ڈاکٹر نے پرچی پکڑاتے ہوۓ کہا. جس پر فوری چاروں وہاں سے دوائی لینے کے لیے نکل گۓ.
”انکل یہ ماہر کی کار کی چابی“. وسیم نے چابی منیب کی طرف بڑھائی.
اور پریشانی میں چاروں آگے بڑھ گۓ.
اب بس وہ چاروں ہی بچی تھیں. سارہ اور میرا وقفے وقفے سے ماہر کی اطلاع لے رہی تھیں.
”ڈاکٹر صاحب بلڈ کا کیا؟“. افراء نے آگے بڑھ کر آنسو ضبط کرتے ہوۓ پوچھا.
”بلڈ بینک میں بلڈ کی بہت کمی ہے مگر پھر بھی آپ وہاں سے پوچھ کر فوری بلڈ کا انتظام کر دیں“. ڈاکٹر نے ساری ہدایات افراء کو دے دی تھیں.
”امی ماہر کا خون تو ہے بھی او پوزیٹو میں جاتی ہوں پتا کرنے“. افراء روتے ہوۓ بولی.
ساجدہ کو کچھ سمجھ نا آیا تو روتے روتے سر ہلا دیا. جبکہ ماہ رخ ساجدہ کو تسلیاں دے رہی تھی.
”میں بھی چلوں گی افراء تمہارے ساتھ“. انوشے نے راستہ روکتے ہوۓ کہا.
”ضد نا کرو ہٹو پلیز انوشے“. وہ ڈانٹتے ہوۓ بولی تو انوشے روتی ہوئی ساجدہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئ.
*******************************
لوگوں سے پوچھ پوچھ کر وہ ہاسپٹل کے بلڈ بینک پہنچ گئ تھی.
”کونسا بلڈ چاہیۓ میم“. ریسیپشن پر موجود نرس نے پوچھا.
”او پوزیٹو“. وہ نشے کی سی آواز میں بولی.
”میم یہاں پر بلڈ کی بہت کمی ہو گئ ہے. یہاں کا اصول ہے کہ جسے بلڈ چاہیۓ وہ اسکے بدلے یا اسکا کوئی اور فیملی میمبر بلڈ ڈونیٹ کرے گا اور اس کے بدلے میں آپکو دیۓ گۓ بلڈ کے پیسے نہیں لیۓ جائیں گے“. اسنے ساری بات افراء کو بتا دی.
”کیا، مطلب میں اپنا بلڈ ڈونیٹ کر لے فری او پوزیٹو بلڈ لے سکتی ہوں؟“. ہربڑی میں اسنے پوچھا.
”جی میم کیا آپ بلڈ ڈونیٹ کریں گی؟“. نرس نے پوچھا.
”جی جتنا چاہیۓ لے لیں ”اے پوزیٹیو“ بلڈ ہے میرا“. افراء نے جلدی جلدی کہا. اسے ابھی کوئی اور راستہ دکھائی نا دے رہا تھا. ماہر کے لیے اس وقت اسے اپنا خون بھی عزیز نہیں تھا.
”امی بلڈ مجھے ہی دینا ہو گا“. اکیلے میں اسنے ساری بات ساجدہ کو بتائی.
”بیٹا نہیں جلد ہی کوئی اور حل نکال لیں گے تو ان چکر میں نا پڑ“. ساجدہ نے منع کرتے ہوۓ کہا.
افراء نے ساجدہ کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا. ”امی آپکو میری قسم کے مجھے آج نا روکیں انوشے کو کچھ مت بتائیے گا بلڈ کے بارے میں. ماہر میری زندگی ہے میں اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں“. اپنی قسم دے کر افراء وہاں سے جا چکی تھی. قسم کے بعد ساجدہ افراء کو روک ہی نا پائی تھی.
اب وہ بلڈ ڈونیٹ روم میں پہنچ گئ تھی. ساجدہ کے لاکھ منع کرنے پر بھی اس نے کچھ نہیں سنا تھا. وہ انوشے کو بتاۓ بغیر ہی آئی تھی.
وہ بیڈ پر لیٹ گئ تھی. سوئی جسم میں داخل ہو رہی تھی. مگر اسے فقط ماہر کی پرواہ تھی اس انسان کی پرواہ تھی جس سے وہ بے حد محبت کرتی تھی.
******************************
کچھ ہی دیر بعد بلڈ روم میں پہنچا دیا گیا تھا. اور ماہر کا معائنہ جاری تھا.
”تھینکیو“. کمرے میں موجود نرس کا افراء نے دل سے شکریہ ادا کیا.
اب اسے بے چینی ہو رہی تھی. جسم نڈھال سا لگ رہا تھا. جیسے اسکی ہمت ختم ہو رہی ہو جیسے اسی پل وہ زمین پر گر جاۓ گی.
____________
اب اسے بے چینی ہو رہی تھی. جسم نڈھال سا لگ رہا تھا. جیسے اسکی ہمت ختم ہو رہی ہو جیسے اسی پل وہ زمین پر گر جاۓ گی.
اور اسی پل اسے چکر آیا وہ گرنے ہی والی تھی کہ اسے کسی کا لمس اپنے وجود پر محسوس ہوا.
”میم آر یو آل رائٹ“. دو نرسیں اس کو پکڑے ہوۓ تھیں.
”شاید نہیں“. وہ کپکپاتی آواز میں بولی.
”آئیۓ میم“. نرس نے اسکے ہاتھوں کو تھام لیا اور اسے دوسرے پورشن میں پہنچا دیا.
”شکریہ“. بمشکل مسکرا کر وہ بولی تھی.
”یو آر ویلکم“. نرس مسکرا کر بولی.
**********************************
خوف بھی ابھی ٹلا نہیں تھا. دل میں وحشت ابھی بھی جاری تھی. لڑکھڑاتے قدموں سے آتی ہوئی وہ بینچ پر جا بیٹھی.
”بیٹا تمہیں کس نے کہا تھا ہم انتظام…….“. منیب کی بات ادھوری رہ گئ تھی.
”ابو ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا تھا“. افراء نے بات کو کاٹ کر کہا.
”آپ چاروں گھر چلی جائیں ہم یہیں پر ہیں افراء کو لے جائیں وہ ٹھیک نہیں ہے“. احمر نے فکرمندی سے کہا.
”نہیں میں یہیں رہوں گی“. افراء نے ضد کی.
”افراء ہم گھر چلتے ہیں بیٹا تمہاری طبیعت بھی نہیں ٹھیک کیا تم میرا حکم نہیں مانو گی؟“. ساجدہ نے اصرار کیا تھا جسے افراء منع نہیں کر پائی تھی.
”میں یہیں پر رہوں گی خالہ آپ تینوں جا سکتی ہیں“. اکھڑے لہجے سے وہ بولی.
”مجھے تم سے بات کرنی ہے انوشے چلو“. لڑکھڑاتے قدموں سے وہ بمشکل اٹھتی ہوئی تیزی سے اسکی کلائی تھامے تھوڑا دور آ گئ.
”انوشے تمہاری فضول کی کوئی بھی ضد نہیں چلے گی میرے ساتھ فوری گھر جا رہی ہو تم“. افراء کی آواز ویسے ہی لڑکھڑا رہی تھی. اسنے جھٹ سے انوشے کا ہاتھ اپنی گرفت میں قید کر لیا.
”نہیں میں ایک دفعہ کہ چکی ہوں افراء آپکو ماہر کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن مجھے ہے“. انوشے نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا.
”کیا ا ا مطلب ہے تمہارا؟“. افراء کو غصہ آ گیا تھا.
”خون دے کر آپ نے کوئی احسان نہیں کیا ہے افراء میں بھی خون دے سکتی تھی“. اسکا لہجہ کافی روڈ تھا.
افراء کے ماتھے پر شکنیں ابھرنے لگیں اس کا دل کیا اسے وہیں تھپڑ مار دے مگر وہ مجبور تھی.
”تو کیا تم نہیں جاؤ گی؟“. آخری بار اسنے پوچھا تھا.
”نہیں جاؤں گی“. انوشے کا لہجہ سپاٹ تھا.
”امی ہم چلتے ہیں آپ اسکو یہیں پر رہنے دیں“. افراء نے انکے قریب آتے ہوۓ غصے میں کہا.
انوشے کا فیصلہ اٹل تھا سو کسی نے کسی بھی قسم کا کوئی اصرار نہیں کیا.
”تم کیوں نہیں گئ بیٹا؟“. منیب نے مایوسی سے پوچھا.
”انکل میں نہیں جانا چاہتی“. گردن جھکاۓ وہ بول رہی تھی.
”کوئی بات نہیں منیب ماہر اسکا آخر بھائی لگتا ہے اسے فکر کیوں نہیں ہو گی؟“. احمر کے بولتے ہی انوشے نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا. مگر بہت سے لفظ بہت سی باتیں منہ میں ہی دم توڑ گئ تھیں.
******************************
”آرام کر لو میں تمہیں کچھ کھانے کے لیے دیتی ہوں “ ساجدہ نے فکر مندی سے کہا.
افراء نظریں چھت پر جماۓ لیٹی ہوئی تھی. اسے انوشے کی وہ بات یاد آ گئ.
(”خون دے کر آپ نے کوئی احسان نہیں کیا ہے افراء میں بھی خون دے سکتی تھی“.) اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو کو اسنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا.
وہ ہنوز ساکت لیٹی تھی. نظریں چھت پر اٹک گئ تھیں. اور بےشمار دعائیں دل میں جاری تھیں. جس پل ساجدہ آئیں وہ فوری کہنیوں کا سہارا لے کر اٹھ گئ.
”احسن کی کال آئی تھی سب ٹھیک طرح سے ہو گیا ہے مگر ماہر کو ابھی ہوش نہیں آیا تم دعا جاری رکھنا“. ساجدہ نے کھانا اسکی طرف بڑھایا.
”جی امی“. بے بسی سے وہ بولی.
”ڈاکٹر نے کہا تھا بہت خطرے کی بات تو نہیں تھی مگر خون زیادہ بہ گیا تھا تم سب جلد نا کرتی تو ناجانے کیا ہو جاتا بہت شکریہ تمہارا“. وہ سینٹی ہو گئ تھیں.
افراء نے گردن اٹھا کر انہیں دیکھا. ”امی آپ جانتی تو ہیں میں کتنا پیار کرتی ہوں ماہر سے بس میں نے یہ سب اسی لیے کیا اور آپ مجھے ایسے شکریہ کہ رہی ہیں جیسے میں کوئی غیر ہوں“. بات مکمل کرنے کے بعد افراء مسکرائی تھی.
”ماہر کی دلہن تمہیں بنانے کا بہت اچھا فیصلہ ہے“. فخریہ انداز سے وہ بولیں. جس پر افراء نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں.
******************************
کئ دیر سب یونہی بیٹھے رہے تھے ماہر کو ہوش آ چکا تھا. سر اور بازو پر بھی پٹی بندھی تھی. اور بھی کئ جگہ بینڈیج لگے تھے. شکر کر کے انوشے روم کی طرف بڑھی تھی. جبکہ وہ چاروں کسی کام سے گھر چلے گۓ تھے.
”ماہر“. انوشے نے آنسوؤں کو ضبط کر کے کہا. وہ ماہر کے پاس پڑے اسٹول پر آ کے بیٹھ گئ تھی.
”جی مادام“. اسکے چہرے کو دیکھ کر وہ بولا.
اور کچھ ہی لمحے بعد وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کے پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے بھی لگ گئ تھی. اسے ایسے دیکھ کر ماہر مایوسی سے اسے دیکھتا رہا. وہ چمکتی سلور رنگ کی انگوٹھی اسکے انگلی میں چمک رہی تھی. انگوٹھی کو دیکھ کر ماہر کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے. وہ اٹھ نہیں سکتا تھا بازو پر ڈرپ لگی ہوئی تھی.
”کیوں رو رہی ہیں دیکھیں میں تو ٹھیک ہوں“. اسنے انوشے کے چہرے سے ہاتھ ہٹانا چاہا مگر وہ روۓ ہی جا رہی تھی.
”انوشے کیوں رو رہی ہیں مجھے بتائیں گی؟“. وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا.
”ماہر تم ٹھیک ہو نا؟“. خوب رونے دھونے کے بعد اسنے بولنے کا تکلف کیا. اور آنسو صاف کرنے لگی.
ماہر بے بسی کے عالم میں اسے ہی دیکھ رہا تھا.
”جیسے رو رہی تھیں آپ مجھے لگ رہا تھا کہ شاید میں مر گیا ہوں“. تمسخر سے وہ بولا.
آنسو صاف کرتی انوشے کا چہرہ ایک دم سرخ پڑنے لگا. ایک زور دار تھپڑ وہ ماہر کے بازو پر رسید کر چکی تھی.
”آہ انوشتے یہ کیا کر دیا ڈرپ والی بازو پر مار دیا“. وہ درد سے کراہ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس بازو کو تھاما ہوا تھا جہاں ڈرپ لگی ہوئی تھی.
”تمہارے ساتھ بہت اچھا ہوا ایسا ہی ہونا چاہیۓ تھا“. انوشے وہی ایکسیڈینٹ والی بات دہرا رہی تھی. طیش میں وہ اسے دیکھے بغیر باہر آ گئ. ماہر کا دل تو انوشے سے ڈھیروں باتیں کرنے کا تھا مگر ماہر کی بات سے اسے غصہ آ گیا تھا.
********************************
قسمت بہت مہربان ہو گئ تھی. ماہر کو اگلی رات میں ہی ڈسچارج کر دیا گیا تھا. جبکہ انوشے ہاسپٹل میں رہی تھی اور رات ساجدہ نے بھی وہیں گزاری تھی. ملنے ملانے کے بعد انوشے تھکی ہاری اپنے کمرے میں آ گئ جبکہ افراء اپنے کپڑوں کی تہ لگا رہی تھی. اسنے انوشے سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا تھا. اسکا دل انوشے کی بات سے کافی دکھی تھا.
”انوشے بات سنو“. میرا کمرے میں آتے ہو انوشے سے مخاطب ہوئی تھی.
”بولو“. اکھڑ مزاجی سے اسنے جواب دیا.
”تم ماہر کے ساتھ ہاسپٹل میں تھی اسکے لیے بہت شکریہ تمہارا میں ماہر کے لیے بہت پریشان تھی“. میرا نے خوشی کا اظہار کیا.
”سو دین؟“. انوشے نے بازو سینے سے باندھتے ہوۓ کوفت سے کہا. جیسے اسکو میرا سے بہت سے شکوے ہوں.
”اگر میں ہوتی تو میں بھی ماہر کو پل بھر کے لیے بھی اکیلا نا چھوڑتی“.
”میرا میرے سامنے ڈرامے کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اگر تمہیں ماہر کی زرا بھی فکر ہوتی تو تم گھر میں پڑی رہنے کی بجاۓ ہاسپٹل میں موجود ہوتی. ویسے تو ہر وقت اس سے چپکنا چاہتی ہو اور وقت پڑنے پر تم اس سے بھاگ رہی تھی“. وہ حقارت سے بولی.
”نہیں انوشے ایسی بات نہیں ہے“. میرا نے صفائی دینا چاہی.
”ایسی ہی بات ہے اور تم جا سکتی ہو“. انوشے نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا جس پر میرا سر جھکاۓ مایوسی سے چلی گئ.
انوشے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو افراء اس کے قریب آئی اور زور سے اسکی کلائی تھام لی.
”انوشے تم کیوں اتنی بدتمیزی کر رہی ہو سب سے؟“. پریشان سی آواز میں وہ بولی.
”آئی ایم سوری“. انوشے نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا.
افراء نے مایوسی سے اسکا بازو جھٹک دیا.
”انوشے تم جب بھی کسی کو میسج لکھتی ہو تو کیا کرتی ہو؟“. افراء نے عجیب سوال کیا.
”کیا کرتی ہوں میں؟“. ناسمجھی میں اسنے پوچھا.
”فار ایکسیمپل جب بھی تم کسی کو میسج کرتی ہو تو سینڈ کرنے سے پہلے تم سوچتی ہو کہ تمہیں کیا لکھنا ہے. ایسا تو نہیں کرتی نا تم کہ بنا سوچے سمجھے کی بورڈ پر ٹائپ کر کے سینڈ کر دیتی ہو. ایم آئی رائٹ؟“. افراء نے وضاحت کی.
انوشے نے اثبات میں سر ہلایا.
”اور تم میسج لکھ کر سینڈ کرنے سے پہلے پڑھتی بھی ضرور ہو کہ کچھ غلط تو نہیں لکھ دیا تم نے رائٹ؟“.
”جی ہاں تو؟“. انوشے نے پوچھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *