Qismat by Sumayya Mughal NovelR50814 Qismat by Sumayya Mughal Episode07
Rate this Novel
Qismat by Sumayya Mughal Episode01 Qismat by Sumayya Mughal Episode02 Qismat by Sumayya Mughal Episode03 Qismat by Sumayya Mughal Episode04 Qismat by Sumayya Mughal Episode05 Qismat by Sumayya Mughal Episode06 Qismat by Sumayya Mughal Episode07 (Watching)Qismat by Sumayya Mughal Episode08 Qismat by Sumayya Mughal Episode09 Qismat by Sumayya Mughal Episode10 Qismat by Sumayya Mughal Episode11 Qismat by Sumayya Mughal Episode12 Qismat by Sumayya Mughal Last Episode
Qismat by Sumayya Mughal Episode07
Qismat by Sumayya Mughal Episode07
گھڑی رات کے دس بجا چکی تھی. گھر میں خوب رونق لگی ہوئی تھی سب لاؤنج میں تھے. انوشے بھی تیار ہو کر لاؤنج میں بیٹھی تھی. اسنے ڈارک بلیو قمیض کے ساتھ سفید شلوار پہنی تھی جس پر ہلکا کام ہوا تھا اور ہم رنگ دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا جبکہ افراء نے سادہ لباس پہنا تھا پیلا اور سفید جو اس پر کافی سوٹ کر رہا تھا. وہ کچن میں چاۓ بنا رہی تھی. وہ سب کی گفتگو کچن میں ہی باآسانی سن سکتی تھی.
”میں نے ماہر کی شادی کا فیصلہ کر لیا ہے“. سب کی خاموشی کے بعد ساجدہ نے بتایا. اور اسے سنتے ہی پہلا شوک میرا کو لگا.
”کیا؟“…
”كب؟“…
”اور كس سے؟“…
سب نے ایک ساتھ ہی سوالوں کی بارش کر دی.
”اس میں اتنا شوکڈ ری ایکٹ کرنے والی کوئی بات نہیں ہے اور ماہر کی شادی اگلے مہینے پچیس تاریخ کو انوشے کے ساتھ ہے“. ساجدہ سارا پلان بتا چکی تھیں. منیب صاحب کو شوک تو اب لگا تھا مگر وہ یوں سب کے سامنے بول نہیں سکتے تھے سو چپ میں ہی بہتری سمجھی.
”انوشے کے ساتھ کیوں؟“. میرا نے جل کر پوچھا.
”میرا بیٹا ہے وہ اور میں اپنی مرضی سے اسکی شادی کا حق رکھتی ہوں“. اکھڑے لہجے میں وہ سب جتا گئ تھیں. انکا دل پہلے ہی دکھی تھا.
اس کے بعد میرا نے چپ رہنے میں ہی اپنی فرزانگی سمجھی.
”مبارک ہو بہت بہت تم کو“. ماہ رخ اور احمر نے ماہر اور انوشے کو دل سے پیار دیا.
انوشے نظریں جھکاۓ شرما رہی تھی.
”اوہ تو تم بھی شرماتی ہو“. معیز نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا.
”شٹ اپ“. انوشے نے نظریں جھکاۓ ہی عجیب جواب دیا تھا جس پر معیز کو اچھا خاصا غصہ آیا تھا.
”مبارک ہو تمہیں انوشے“. احسن نے بھی کہنا مناسب سمجھا.
”ہمممممممم“. سڑ کر انوشے نے جواب دیا.
”یہ تم اتنی سڑی ہوئی کیوں ہو“. میرا بھی بیچ میں ٹپک پڑی تھی.
”آئی تھینک کہ انوشے اس شادی سے خوش نہیں ہے“. معیز نے الگ ہی اندازہ لگایا جس پر دوبارہ انوشے برس پڑی.
”بس کر دو تم تو معیز“. منہ بنا کر اس نے کہا.
”ہممم افسوس کی بات ہے کہ تمہیں ایک تو ماہر مل رہا ہے اور دوسرا تمہارے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے“. میرا نے عجیب حیرانگی سے کہا تھا.
اس سے پہلے کے انوشے کوئی جواب دیتی افراء فوری آ گئ. اب وہ بےبسی کے عالم میں جواب نہیں دے سکتی تھی. افراء نے سب کو چاۓ سرو کی. سب اب اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے.
”افراء بات سنو“. منیب نے موقع دیکھ کر دھیمی آواز میں اسے بلایا. وہ الگ صوفے پر بیٹھے تھے.
”جی“. افراء نے نزدیک آتے ہوۓ کہا.
”یہ ساجدہ نے تو کہا تھا کہ ماہر کی شادی تم سے کرنی ہے“. ان کے لہجے میں الگ کنفیوژن تھی. وہ اتنا ہلکا بولے تھے کے کسی تک آواز نہیں گئ تھی. افراء کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اب کیا جواب دے.
”پتا نہیں“. اسنے ایکٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیۓ تھے. کہتے ہی وہ وہاں سے نکل گئ تا کہ منیب کوئی اور سوال نا پوچھ
لے. جبکہ منیب صاحب کے ماتھے پر عجیب سلوٹیں پڑ گئیں.
___________
”پتا نہیں“. اسنے ایکٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیۓ تھے. کہتے ہی وہ وہاں سے نکل گئ تا کہ منیب کوئی اور سوال نا پوچھ لے. جبکہ منیب صاحب کے ماتھے پر عجیب سلوٹیں پڑ گئیں.
”ماہر تمہیں اس میں دکھا کیا آخر؟“. میرا نے سرگوشی کی.
”بہت کچھ“. ماہر نے انوشے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو سب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اور ماہر تو جیسے اسے دیکھتے ہی اس میں کھو رہا تھا.
”اچھا سب سے زیادہ کیا دکھا؟“. میرا خاصی پریشان تھی اور اس کے سوالات بھی عجیب تھے.
”کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں؟“. اس نے بات کو بدلا.
”ہاں اچھا خیر میں آپکو کیسی لگتی ہوں؟“. ہمت سے اسنے یہ سوال پوچھا. کیوں کہ آج پہلی بار ماہر اس سے یوں مخاطب تھا.
”اچھی ہیں آپ“. ماہر نے نظریں ملاۓ بغیر کہا.
”کتنی اچھی ہوں؟“. میرا نے کھوۓ لہجے میں پوچھا.
”میں بتاتا ہوں“. معیز بھی آ گیا. جسے دیکھتے ہی میرا کے چہرے پر غصے کے آثار آ گۓ. اسے اتنا غصہ آیا کہ وہ اٹھ کر ہی چلی گئ. آخر غصہ آنا ہی تھا.
”یہ کچھ زیادہ جلدی نہیں؟“. احمر صاحب نے پوچھ ہی لیا.
”کوئی اعتراض؟“. ساجدہ نے مشورہ مانگا
”نہیں“. انہوں نے جواب دیا.
******************************
آخر بہت بحث کے بعد شادی فکس کر دی گئ تھی اور کسی نے بھی اپنا اعتراض نہیں جتایا. اور نا ہی کسی کو کوئی اعتراض تھا.
اگلی صبح گھر میں الگ ہی سماں تھا. گھر میں تیاریاں شروع ہو گئ تھیں.
”ہممممم سب پرفیکٹ ہے“. افراء نے انوشے کا جائزہ لیتے ہوۓ کہا. جو اس وقت شادی کا لہنگا پہنے ہوۓ تھی. وہی لہنگا جو ساجدہ نے افراء کے لیے لیا تھا.
”ہاں لیکن اگر انوشے تم تھوڑی صحت بنا لیتی تو فٹنگ بھی تمہیں ٹھیک آ جاتی“. ساجدہ نے انوشے کی فٹنس پر غور کرتے ہوۓ تبصرہ کیا.
”خالہ اب اتنی بھی میں کمزور نہیں ہوں“. اسے تبصرہ اچھا نہیں لگا تھا.
”وہ تو نظر آ رہا ہے“. وہ زرا طنزیہ لہجے میں بولیں.
”خالہ یہ سب آپ اس دن لائی تھیں پر کیوں لائی تھیں؟“. اسنے تحقیق بھرے لہجے میں پوچھا جس پر ساجدہ سوچ میں پڑ گئیں.
”کبھی نا کبھی شادی تو کرنی تھی میں نے ماہر کی کسی نا کسی سے تو اسکی دلہن کے لیے ہی لیا تھا “. کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے جھوٹ بول کر بتایا.
”کتنی پیاری لگ رہی ہوں میں“. آئینے میں دیکھ کر وہ اپنی تعریفیں ہی کیۓ جا رہی تھی.
”اچھا میری پیاری بہنا اب چینج کر لو جلدی سے“. افراء نے سوٹ اسکی طرف بڑھایا جسے پکڑ کر انوشے واشروم کی طرف بڑھی.
”کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟“. افراء کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر ساجدہ نے پوچھا.
”جی“. افراء نے مختصر سا جواب دیا.
”کل منیب نے پوچھا تھا سو میں نے کہ دیا کہ انہیں غلط فمہی تھی تم بھی یہی کہنا“. انہوں نے بتایا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا.
انوشے بھی کپڑے بدل کر آ گئ. ”خالہ ویسے آپکو پہلے افراء کی شادی نہیں کرنی چاہیۓ تھی؟“. بیٹھے بیٹھے انوشے کو عجیب سوال یاد آیا تھا جس میں واقعی دم تھا. یہ سنتے ہی افراء نے عجیب نظروں سے انوشے کو دیکھا.
”ارے ارے ضرور اور ہم بھی افراء کی شادی طے کرنے کے لیے آۓ ہیں“. ماہ رخ نے آتے ہی بم پھوڑا.
”مطلب؟“. نا سمجھی میں افراء نے پوچھا.
”ساجدہ بہنا کیا آپ مجھے افراء میرے بیٹے احسن کے لیے دے سکتی ہیں؟“. ماہ رخ نے خوش دلی سے پوچھا. جسے سنتے ہی افراء کے تن من میں عجیب لہر دوڑ گئ.
”جی جی ضرور بلکہ میں بھی یہی سوچ رہی تھی“. ساجدہ کو دل سے خوشی ہوئی تھی. افراء کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں. ساجدہ یہ کیا بول رہی تھیں یہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.
”واؤ خالہ ایسا کرتے ہیں میری شادی والے دن ہی افراء کی شادی رکھ دیتے ہیں“. انوشے نے اپنی الگ راۓ دی. جو سب کو پسند آئی.
”امی لیکن….“ افراء نا سمجھی میں بولنے ہی لگی تھی کہ بیچ میں ہی ساجدہ بول پڑیں.
”افراء میں تمہاری آلریڈی ایک بات مان چکی ہوں اب میرا حق ہے کہ تم میری یہ بات مانو“. ساجدہ نے اسے ڈانٹنے والے انداز میں کہا جس پر واقعی افراء کو کچھ سمجھ نا آیا.
”تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا افراء احسن سے شادی پر؟“. ماہ رخ نے امید سے پوچھا تھا. افراء ساجدہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی. ساجدہ نے ٹھیک ہی کہا تھا وہ افراء کی انوشے اور ماہر کی شادی والی بات مان گئ تھیں اسکے ذہن میں ساجدہ کی باتیں گھومنے لگیں. ”افراء میں تمہاری آلریڈی ایک بات مان چکی ہوں اب میرا حق ہے کہ تم میری یہ بات مانو“.
اسکا سر چکرانے لگا تھا. لیکن اگلے ہی پل سب کی امید ختم ہو گئ.
”میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی ہوں پلیز امی آپ مجھے سمجھیں“. وہ اب کی بار روہانسا ہوئی تھی.
”کیوں بیٹا؟“. ماہ رخ نے نرم لہجے میں پوچھا جبکہ ساجدہ کو اچھا خاصا غصہ آیا تھا.
”آپ سب مجھے تھوڑا وقت دے دیں میں ضرور شادی کروں گی اور آپ سب جس سے کہیں گے میں اسی سے کروں گی“. افراء نے وقتی طور پر بات کو ٹال دیا.
”یوں کہو نا بیٹا چلو جیسا تم کہو“. ماہ رخ کی بات سن کر افراء کو کچھ حوصلہ ہوا ساجدہ نے بھی افراء کی بات پر ہاں کر دی.
”ٹھیک ہے ہم اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے“. ساجدہ کا جواب سن کے اسے اچھی خاصی تسلی ہو گئ تھی.
سب کچھ تھوڑے ہی وقت کے لیے ٹلا تھا. اسے آگے کیا کرنا چاہیۓ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.
”میں سب کچھ آپ پر چھوڑتی ہوں“. اس نے دل ہی دل میں اللہ سے دعا مانگی تھی اور جو اللہ ہمیں عطا کر دے اس سے بہتر ہمارے لیے کچھ اور نہیں ہو سکتا.
*****************************
وقت تیزی سے گزر رہا تھا. شام کے سات بج گۓ تھے. اور گرمی کا زور ٹوٹ رہا تھا.
”ماہر میں تمہارے لیے چاۓ لائی ہوں“. جاب سے ماہر جیسے ہی آیا انوشے پیار سے فوری ہی چاۓ لے کر اسکے کمرے میں آ گئ.
”اوہ تھینکس“. اسنے کپ پکڑتے ہوۓ کہا.
”ماہر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی ہے کیا تم مجھے سمجھا دو گے؟“. انوشے نے اپنی الجھن بیان کی.
”ضرور“. وہ پیار سے بولا.
”میں بہت کمزور ہوں کیا؟“. وہ معصومیت سے بولی.
”نہیں“. اسنے صاف گوئی سے جواب دیا.
”تو کیا بہت موٹی ہوں؟“. اسکے سوال شروع ہو چکے تھے.
”نہیں بلکل نہیں“. اسنے نفی میں سر ہلایا.
”تو پھر کیا میں سمارٹ ہوں؟“. اسنے اب عجیب سے لہجے میں کہا.
”جی بہت سمارٹ ہیں آپ“. اسنے تعریف کرتے ہوۓ کہا.
”کتنی سمارٹ ہوں؟“. اسنے نیا سوال کیا.
”انوشے کمرے میں آؤ ضروری بات کرنی ہے“. افراء فوری ماہر کے کمرے میں آئی اور اسے بازو سے پکڑ کر لے گئ.
”شکر ہے میں انوشے کے سوالات سے بچ گیا“. اسنے شکر کی سانس لی اور چاۓ پینے لگا.
”کیا ہوا آپ لے کیوں آئی ہو؟“. اسنے چڑ کر پوچھا.
”پاگل ہو تمہاری شادی ہونے والی ہے ماہر سے اور تم کمرے میں گئ تھی“. افراء نے ڈانٹا تھا.
”اوہ! میں بھول گئ تھی اچھا سوری“. اسنے فوری معذرت کی.
”جانتی ہو انوشے میں سوچ کر پریشان ہوتی تھی کہ میری بہن کی جب شادی ہو گی تو وہ مجھ سے دور چلی جاۓ گی اور میری نظروں سے بھی. پر دیکھو نا قسمت نے کیسا جادو کیا تمہیں میں اب روز دیکھ پاؤں گی ہمیشہ دیکھ پاؤں گی“. آج اسے انوشے پر بےحد پیار آیا.
یہ سنتے ہی انوشے کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے اور سبز آنکھیں کِھل گئیں پر اچانک سے اسے کچھ یاد آیا ”نہیں افراء آپ مجھے روز کیسے دیکھیں گی آپکی بھی تو شادی ہو گی اور احسن بھائی تو یہاں نہیں رہیں گے بھول گئیں آپ؟ ماہ رخ آنٹی نے کہا تھا وہ جب اپنے بیٹوں کی شادیاں کریں گی تو وہ یہاں نہیں رہیں گے“. انوشے نے باور کروایا جس پر افراء کا چہرہ پھیکا پڑ گیا.
”میں شادی ہی نہیں کروں گی“. افراء نے آسان حل نکالا.
”نہیں افراء ایسا نا کہیں“. انوشے نے ٹوکا.
”جیسا بھی ہے مگر انوشے تم ماہر کا خیال رکھنا بہت بہت بہت تم بہت لکی ہو کہ تمہیں ماہر مل رہا ہے“. اسنے مایوسی سے کہا کیونکہ وہ اب کسی اور کا تھا.
”میں جانتی ہوں لیکن افراء اگر کبھی میں آپ سب کو چھوڑ کر چلی گئ تو ماہر کا خیال رکھنا آپ……“ ابھی انوشے بول ہی رہی تھی کہ افراء نے جھٹ سے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا.
”نہیں انوشے بری بات ایسی بات نہیں کہتے ہیں تم جانتی ہو مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے جب تم ایسی بات کرتی ہو“. اب وہ رونے والی آواز میں بول رہی تھی.
__________
شادی کی تیاریاں اپنے عروج سے اختتام تک پہنچ چکی تھیں. آنے والے دن واقعی بہت خوبصورت ہونے والے تھے اور کسے کے لیے فقط دردناک.
**********************************
وقت تیزی سے گزرا تھا. سچ کہتے ہیں خوشی میں وقت بہت جلدی گزرتا ہے اور غم میں تو وقت جیسے گزرتا ہی نہیں ہے. سچ تو یہ ہے کہ وقت اسکے مطابق چلتا ہے جو ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں. خوشی میں بہت جلد , غم میں بہت دیر سے اور انتظار میں تو نہایت طویل ہو جاتا ہے.
آج چوبیس تاریخ تھی. کسی بھی قسم کی رسم کو مدنظر نا رکھتے ہوۓ نکاح اور ولیمہ ہی رکھا گیا تھا. جس میں صرف خاص رشتے داورں کو بلایا گیا تھا. سب سے بہتر یہی ہے کہ شادی سادگی سے کی جاۓ کسی بھی رسم کے بغیر کیوں کہ اسلام میں کہیں بھی ان رسموں کو کرنے کا ذکر نہیں.
”قسم سے میرا تو دل بلکل بھی نہیں تھا آنے کا“. سارہ کو الگ ہی ٹینشن تھی.
”کیوں بھئ؟“. میرا نے تفتیش کرتے ہوۓ پوچھا.
”ماہر ہے وجہ اور کون؟“. سارہ نے دائیں آنکھ بند کرتے ہوۓ کہا.
”بہن شرم کرو اپنے ہسبنڈ کے ہوتے ہوۓ بھی ماہر پر نظر ہے تمہاری“. انوشے نے اپنے کانوں کو چھوتے ہوۓ دانت پیستے ہوۓ کہا. ماہر کا سن کر اسے غصہ چڑھ گیا تھا.
”انوشے میرے ساتھ تمیز کے ساتھ بات کیا کرو. اب تو وہ تمہارا ہونے والا ہے اور تم ہو کہ….“ غصے میں بولتے بولتے وہ رک گئ.
”تمہارا کیا بھروسہ کے ماہر کو مجھ سے چھین لو“. انوشے نے کڑا سا جواب دیا.
”تمہاری زبان کچھ زیادہ ہی نہیں چلنے لگ گئ؟“. میرا نے پوچھا.
”بہت عجیب ہو تم انوشے“. سارہ نے سر پکڑ لیا.
”آپکی نظر ہے ماہر پر آئی نو“. ناسمجھی میں وہ غصے میں اٹھ کر سیڑھیاں اتر گئ اسے ماہر کا نام کسی اور سے سننا اب اچھا نہیں لگا تھا.
”افراء“. وہ افراء کو پکارتی ہوئی کمرے میں آ گئ. مگر افراء کمرے میں موجود نہیں تھی.
”افراء تو بازار گئ ہیں“. سوچتے ہی اسنے چہرے پر اداسی پھیلا لی اور جا کر بیڈ پر لیٹ گئ.
”مجھے سارہ کو ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا“. اسے بہت ندامت محسوس ہوئی.
*********************************
”کیا ہوا میری بہن کو اتنے غصے میں کیوں ہے میری بہن؟“. پندرہ سال کی لڑکی نے پیار سے پوچھا جو یقیناً افراء ہی تھی.
”مجھے آج انعم پر بہت غصہ ہے وہ بہت بری ہے“. چودہ سال کی انوشے نے بیزاری سے کہا.
”اوہ! کیا کیا ہے اس نے“. افراء نے وجہ جاننی چاہی.
”مجھ سے روز برے لہجے میں بات کرتی ہے مجھ سے بدتمیزی کرتی ہے اور وہ بہت بری ہے آج بھی ایسا ہی کیا اس نے“. اس نے سارا معاملہ بتا دیا.
”تو پھر تم نے کیا کیا“. اس نے دلچسپی سے پوچھا.
”میں نے بھی ہمیشہ کی طرح اس کے ساتھ برا کیا جو اس نے کیا میں نے بھی وہی کیا“. وہ جوش سے بولی.
”پھر تو تم نے بلکل بھی اچھا نہیں کیا“. اب کی بار اسے افسردگی محسوس ہوئی تھی.
”میں نے بلکل ٹھیک کیا. میں اچھوں کے ساتھ بہت ہی اچھی ہوں اور بروں کے ساتھ بری ہوں“. اسنے جوش سے کہا.
”انوشے دیکھو میری بات سنو جب تم اچھوں کے ساتھ بھی اچھی ہو تو تمہیں تو برے لوگوں کے ساتھ بھی بہت اچھا ہونا چاہیۓ تا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں وہ تمہارے جیسے بننے پر مجبور ہو جائیں. جو تمہارے ساتھ برا کرے تم بدلے میں اسکے ساتھ اچھا کرو“. افراء نے اسے واقعی لاجواب کیا تھا.
انوشے کی آنکھوں میں آنسو آ گۓ. آج اسے افراء کی بات یاد آئی تھی. وہ ہمیشہ افراء کی بتائی ہوئی باتیں بھول جاتی تھی.
”انعم“ ذہن میں آیا تو اٹھ کر بیٹھ گئ.
”پتہ نہیں وہ کیسی ہو گی“. اسے اب انعم کی فکر لاحق ہوئی. تین سال سے اس سے اسکا رابطہ نہیں ہوا تھا.
جاری ہے
