Qismat by Sumayya Mughal NovelR50814 Qismat by Sumayya Mughal Episode12
Rate this Novel
Qismat by Sumayya Mughal Episode01 Qismat by Sumayya Mughal Episode02 Qismat by Sumayya Mughal Episode03 Qismat by Sumayya Mughal Episode04 Qismat by Sumayya Mughal Episode05 Qismat by Sumayya Mughal Episode06 Qismat by Sumayya Mughal Episode07 Qismat by Sumayya Mughal Episode08 Qismat by Sumayya Mughal Episode09 Qismat by Sumayya Mughal Episode10 Qismat by Sumayya Mughal Episode11 Qismat by Sumayya Mughal Episode12 (Watching)Qismat by Sumayya Mughal Last Episode
Qismat by Sumayya Mughal Episode12
Qismat by Sumayya Mughal Episode12
سات بجے دروازے پر دستک ہوئی. بڑھ کر ساجدہ نے دروازہ کھولا. انوشے کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جبکہ افراء بھی پریشان سی کھڑی تھی.
”کیا ہوا؟ افراء انوشے رو کیوں رہی ہے؟“. گھبرا کر انہوں نے پوچھا.
”امی اندر تو آنے دیں پھر بتاتی ہوں“. افراء نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھاما اور اندر آ گئی.
”بتاؤ تو صحیح مجھے؟“. وہ فکرمندی سے پوچھتی ہوئیں انکے کمرے میں گئیں. جبکہ انوشے کمرے میں روتی ہوئی گئی تھی.
”وہ ایکچوئیلی میں نے انوشے کو آج کچھ ایکسٹرا ہی ڈانٹ دیا تو اسلیے وہ رو رہی ہے“. اسنے گہری سانس لیتے ہوۓ بتایا.
”ہمم کیا کہا ہے ڈاکٹر نے؟“. انہوں نے مذید پوچھا.
”امی وہی پروبلمز جو بہت پہلے سے ہیں وہی اب بتائی ہیں ڈاکٹر نے مطلب کوئی سیریس ایشو تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر نے ڈائیٹ لکھ کر دی ہے. آپ جانتی ہیں انوشے کوئی اچھی غذا نہیں کھاتی کبھی دودھ بھی نہیں پیا. بس جنک فوڈ کھاتی رہتی ہے اس طرح کرنے سے دماغ کمزور ہو گا ہی اور درد بھی ہو گا“. وہ تفصیلاً بتانے لگی.
”اور کیا کہا؟“. وہ شکر کی سانس لیتے ہوۓ بولیں.
”اور یہی کہ انوشے میں ایک چیز ہے پتہ نہیں کیا نام لیا تھا ڈاکٹر نے لیکن اس نے یہ بھی کہا تھا کہ انوشے چیزوں میں فوری ری ایکٹ کر سکتی ہے سوچے سمجھے بغیر اور وہ ری ایکشن کبھی کبھی بہت برا بھی ثابت ہو سکتا ہے“.
”تم خیال رکھنا اس کا اچھا“. وہ پھر سے فکرمند ہوئیں.
”ماہر ہے ناں اس کا خیال رکھنے کے لیے“. وہ جھوٹی مسکراہٹ لبوں پر پھیلا کر بولی.
”اچھا!! انعم کہاں ہے؟“. اسنے بات بدلی.
”آۓ گی تو خود ہی پوچھ لینا. انوشے کے پاس جا رہی ہوں میں“. وہ کھڑے ہوتے ہوۓ بولیں جس پر افراء بھی انکے پیچھے آ گئی.
مگر جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا انوشے مست سی سو رہی تھی. دنوں نے ہنس کر ایک دوسرے کو دیکھا.
”امی میں چاۓ بناتی ہوں پھر بیٹھ کر باتیں کریں گے“. افراء نے خوش ہو کر کہا. اس وقت وہ سیاہ قمیض اور سیاہ ٹراؤزر میں ملبوس تھی.
”ٹھیک ہے میں اپنے کمرے میں چلتی ہوں“. وہ اسکا گال تھپتھپاتے ہوۓ کہنے لگیں.
افراء نے چاۓ جیسے ہی رکھی مدھم سی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی. وہ آواز شاید انوشے کے کمرے سے آ رہی تھی. وہ جلدی سے چولہے کی آنچ ہلکی کر کے اسکے کمرے میں آ گئی. کمرے میں اندھیرا تھا اور انوشے کا سیل فون بج رہا تھا. شاید کال آ رہی تھی مگر انوشے سونے میں اتنی مگن تھی کہ اسے کسی چیز کی ہوش نہیں تھی. ماہر کی کال آ رہی تھی اسنے کال پک کی اور فون کان سے لگایا.
”سوئیٹ ہارٹ“. دوسری طرف سے ماہر کی آواز آئی.
ایک پل کے لیے وہ ہڑبڑا کر رہ گئی. ”وہ….وہ میں افراء…وہ سو رہی ہے“.
”سوری افراء مجھے….مجھے لگا کہ انوشے ہیں“. ماہر جلدی سے معذرت خواہانہ انداز میں کہنے لگا.
”ہممم“. اسنے دکھ سے کہا.
”آ گئی ہیں آپ ہاسپٹل سے؟“. دوسری طرف سے استفسار کیا گیا تو وہ گویا ہوئی. ”جی ہاں سب ٹھیک ہے فکر کی کوئی بات نہیں وہ ابھی سو رہی ہے اللہ حافظ“. جلدی جلدی کہہ کر اسنے فون بند کر دیا. اسکا دل اس لفظ سے دکھا تھا.
”افراء“. جیسے ہی وہ جانے کے لیے پلٹی انوشے نے اسے پکارا.
”ہاں بولو“. افراء نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹس جلا دیں.
”آئی ایم سوری میں اب آپکی ساری باتیں مانوں گی“. وہ شرمندہ سی ہو کر کہنے لگی جس پر افراء اسکے پاس آ کر بیٹھی اور اسے گلے سے لگایا.
”گڈ گرل یہ ہوئی نا بات“. اب وہ اس سے پیچھے ہٹتے ہوۓ بولی. ”اچھا جلدی سے باہر آ جاؤ میں چاۓ بنا رہی ہوں“. اسکے بال سہلا کر وہ کہنے لگی اور باہر کی جانب چلی گئی.
*****************************
”یہ لیجیۓ چاۓ آ گئی“. افراء نے میز پر چاۓ رکھتے ہوۓ کہا. ماہ رخ, ساجدہ, انوشے, انعم اور میرا لاؤنج میں موجود تھے اور وہ سب کے لیے ہی چاۓ بنا کر لائی تھی. سب نے ہاتھ بڑھا کر چاۓ کا کپ اٹھایا.
”افراء ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے“. کچھ دیر بعد ساجدہ بولیں.
”کیا فیصلہ کیا ہے؟“. اسکا دل پھر سے بے قابو ہونے لگا. کوئی تو بہت فضول بات تھی جو ساجدہ اس سے کرنے لگی تھیں.
”میں نے اور ماہ رخ نے تمہاری منگنی کی تاریخ طے کر دی ہے“. ساجدہ سنجیدگی سے بتانے. افراء بےیقینی سے انہیں دیکھنے لگی. اسے کچھ سمجھ نا آیا.
”واؤ خالہ جلدی بتائیں کب؟“. انوشے چہک کر پوچھنے لگی.
”پرسوں“. ساجدہ نے چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتے ہوۓ کہا.
”کیا ا ا ا ا“. افراء اب تک بےیقین تھی آنکھوں میں نمی اترنے سے پہلے ہی اسنے آنسو اپنے اندر اتار لیے.
”ہاں افراء پرسوں تمہاری منگنی ہے اور منگنی کا سوٹ ہماری طرف سے ہو گا تمہیں“. ماہ رخ بھی بہت شوق سے بولی.
”واؤ بہت مبارک ہو افراء بہت خوشی ہوئی مجھے“. انعم جو کہ افراء کے ساتھ ہی بیٹھی تھی اسے گلے سے لگا کر کہنے لگی.
”شکریہ“. دھیمی آواز میں کہتی ہوئی وہ پیچھے ہو گئی.
”افراء تمہیں منظور ہے میری بات؟“. ساجدہ افراء سے مخاطب ہوئیں. اب افراء کا منع کرنا بےکار تھا سب کتنے خوش تھے یہ اسے دکھائی دے رہا تھا اور ان سب میں اسکی بہن بھی شامل تھی.
”جی منظور ہے“. وہ نظریں نیچی کر کے بولی.
_____________
”افراء تمہیں منظور ہے میری بات؟“۔ ساجدہ افراء سے مخاطب ہوئیں۔ اب افراء کا منع کرنا بےکار تھا سب کتنے خوش تھے یہ اسے دکھائی دے رہا تھا اور ان سب میں اسکی بہن بھی شامل تھی۔
”جی منظور ہے“۔ وہ نظریں نیچی کر کے بولی۔ کیونکہ اب ساجدہ کے فرمان کی سرتابی قطعاً سالم نہیں تھی۔ اسے کوئی نا کوئی مصالحت کرنی ہی تھی۔ اسی لیے اسی میں ہی آسودگی جانی۔
”مبارک ہو افراء، سیریسلی مجھے یقین نہیں آ رہا ہے“۔ انوشے مارے حظ کے اس کے ساتھ چپک گئی۔ ساجدہ نے اول افراء کو تحیر سے دیکھا اور پھر انبساط سے۔ ان کا دل کسی حد تک آسودہ ہو گیا تھا۔
”میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں آپ کے لیے“۔ اس کی خرمی بیان سے باہر تھی۔
”میں بھی نہیں بتا سکتی کہ میں تمہیں خوش دیکھ کر کتنی خوش ہوں“۔ انوشے سے جدا ہو کر وہ شگفتگی سے بولی۔
”سو سوئیٹ“۔ افراء کے شبدوں سے وہ متاثر ہوئی تھی۔
”مبارک ہو ساجدہ بہن“۔ ماہ رخ اٹھ کر ساجد کے گلے سے لگ کر اپنی حظ کا اظہار کرنے لگیں۔
”خیر مبارک“۔ خوش دلی سے کہ کر وہ ان سے الگ ہوئیں۔
اتنے میں میرا بھاگ کر مٹھائی لے آئی۔ یعنی یہ سب پہلے سے ہی تہیہ تھا۔
”خوش رہو تم“۔ انعم نے اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا۔ وہ بھی اچھا محسوس کر رہی تھی۔ افراء کی دوستی اس سے کافی حد تک ہو گئی تھی۔
”مجھے بہت خوشی ہے افراء تم سوچ نہیں سکتی ہو“۔ ساجدہ نے افراء کو مٹھائی کھلاتے ہوئے کہا۔ سب کے کھلے چہرے کو دیکھ کر اسے فراغت اور خوشی محسوس ہوئی۔ مگر دل کے کسی گوشے میں وہ اداس ضرور تھی۔
***************************
شام ڈھل رہی تھی اور رات میں بدل رہی تھی۔ افراء متاسف نظروں سے چھت پر سے آسمان کو گھور رہی تھی۔
”بات سنو“۔ کسی نے اس کے عقب سے پکارا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
”بولو انعم“۔ اس نے اجازت دی۔
”میں تمہارے لیے واقعی بہت خوش ہوں“۔ وہ بہت ہچکچاتے ہوئے بول رہی تھی۔
“وہ تو نظر آ رہا ہے“۔
”اچھا آج میں جا رہی ہوں گھر وہ عبدالرحمان نے کہا ہے کہ ساحر کو لے جانا“۔ وہ رنجیدہ ہو کر بولی۔
”وہ اچانک کیسے راضی ہو گیا؟“۔ وہ تجسس سے بولی۔
”اسے خوفِ خدا آ گیا ہو گا“۔ وہ شانے اچکاتے ہوئے بولی۔
”یہ تو بہت اچھی بات ہے مگر تمہیں اس پر دوبارہ توکل کرنا چاہیئے؟“۔ اس نے نادر سوال کیا۔
”ہاں کرنا چاہیے مجھے، میں کل ضرور آؤں گی اسے ساتھ لے کر“۔ اسے پوری توقع تھی۔
”تمہاری یاد آۓ گی انعم۔ بہت اچھی دوست بن گئی ہو تم میری“۔ جانے کا نام سن کر اس کے چہرے سے اداسی عیاں تھی۔
وہ اچانک سے ہی اس کے گلے سے لگ گئی۔
”تم کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گئی ہو۔ سب ٹھیک ہو رہا ہے اب“۔ وہ شگفتگی سے کہہ رہی تھی۔
”میں جانتی ہوں ایک بات کہوں تم سے افراء؟“۔ وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے پوچھنے لگی۔
”ہاں ہاں“۔ اس نے اجازت دی۔
”تم ساحر کا خیال رکھنا، میں رہوں یا نہ رہوں تم اسے اپنے پاس رکھنا“۔ اس نے آنکھیں میچتے ہوۓ التجا کی۔
”یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو؟“۔ افراء کے ماتھے پر شکن ابھری اور اس نے ایک تھپڑ اس کے ہاتھ پر رسید کیا۔
اسکی باتوں سے اسے کرب پہنچی تھی۔
”مذاق کر رہی ہوں“۔ وہ ہنس کر بولی۔
”میں چلتی ہوں سب سے مل لیا ہے میں نے“۔ وہ آنسو پونچتے ہوئے کہنے لگی اور اسکے سامنے سیڑھیاں اتر گئی۔ افراء عجیب نگاہوں سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ دل بھی عجیب مغمول ہو رہا تھا نا جانے کیوں۔
**************************
جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں آئی تھی ساجدہ اسکی منتظر تھی۔
”تم خوش ہو ناں؟“۔ جیسے ہی وہ ان کے مقابل بیٹھی انہوں نے تمہید باندھی۔
”بلکل“۔ اس نے بہجت سے بتایا۔
”کوئی شکوہ تو نہیں تمہیں؟“۔ انہوں نے استفسار کیا۔
”نہیں“۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”ماہ رخ کی بات بار بار ٹال نہیں سکتی تھی میں، اور تم کب تک یونہی رہتی؟ آخر کوئی وجہ نہ پوچھتا تم سے شادی نا کرنے کی؟“۔ ان کی بات میں واقعی دم تھا۔
”صحیج کہہ رہی ہیں آپ، مجھے آپ سے کوئی بھی شکوہ نہیں ہے یقین جانیے“۔ اس نے یقین دلایا۔ اسکے الفاظ میں سچائی صریح تھی۔
”اچانک سے تمہیں کیا ہو گیا؟“۔ انہوں نے تحیر سے پوچھا۔ ”تم راضی ہو گئی اتنی جلدی؟“۔ وہ ایسے بولیں جیسے افراء کی باتوں میں شبہ ہو۔
”میں احسن سے شادی بھی کروں گی وعدہ ہے میرا“۔ اس نے دوبارہ یقین دلایا۔
”مجھے یقین نہیں آ رہا“۔ انہیں جیسے توقع نہیں تھی افراء سے۔
”میں ماہر کے انتظار میں یوں نہیں بیٹھی تھی۔ اور واقعی یہ ڈرامہ نہیں ہے کہ ماہر مجھے مل جاۓ۔ میں احسن سے شادی کروں گی اور ایک بات اور آپ سیدھا شادی کریں منگنی نہیں امی۔ ایک بات اور میں نے ایک سبق سیکھ لیا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی شادی بہت پہلے تہیہ کر دیتے ہیں تو انہیں اس بارے میں دونوں کو بتانا چاہیے۔ اگر نہیں بتانا تو دونوں کو ہی ناں بتائیں۔ اب دیکھ لیں اماں اور آپ نے میرا اور ماہر کا رشتہ بچپن میں تہیہ کر دیا تھا اور اس بارے میں صرف مجھے ہی بتایا۔ اور ماہر کو تو معلوم بھی نہیں تھا کہ اسکی شادی میرے سے ہونی ہے۔ اب دیکھیں اسے ہو گیا ناں انوشے سے پیار۔ اگر مجھے بھی خبر نا ہوتی اس بات کی تو مجھے ماہر سے پیار نہیں ہوتا شاید۔ جب سے سنا ہے کہ ماہر سے میری شادی ہونی ہے تب سے میں ان کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔ لیکن یہ سبق مل گیا ہے مجھے کہ ماں باپ اگر بچوں کے رشتے تہیہ کرنا چاہتے ہیں تو دونوں کو اس بات کا بتا دیں یا اگر نہیں بتانا تو دونوں کو ہی ناں بتایا اس طرح کسی کی زندگی خراب ہونے سے بچ جاۓ گی“۔ وہ روہانسا ہو کر بتا رہی تھی۔
”میں جانتی ہوں ہم دونوں سے غلطی ہوئی ہے اس کے لیے معاف کر دو“۔ انہوں نے ابھی ہاتھ جوڑے ہی تھے کہ افراء نے انکے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔
”معافی کی ضرورت نہیں ہے میں ماہر کو بھلا دوں گی اور احسن کو دل سے شوہر مانوں گی۔ میری ماں ہیں آپ اسی لیے آپ کا حکم سر آنکھوں پر“۔ افراء نے جیسے ہی بول بولے ساجدہ نے اسے گلے سے لگا لیا۔ان کے دل میں افراء کے لیے اخلاص بھی تھا اور ارتباط بھی۔
ضروری تو نہیں کہ ہر یک طرفہ محبت کا انجام یہی ہو کہ محبوب اسے مل جائے۔
*******************************
سب گھر والے تیاریوں میں مشغول ہو گئے کیونکہ افراء اور احسن کی شادی پانچ دن بعد رکھی گئی تھی یہ سب بہت جلدی تھا مگر ایک نا ایک دن تو ہونا ہی تھا۔
”میں نے سوچ لیا ہے کہ ہم ہنی مون پر کہاں جائیں گے“۔ فریش ہونے کے بعد ماہر نے اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
”ماہر تم ابھی ہنی مون کو چھوڑو جب افراء کی شادی ہو گی تو پھر ہم چاروں جائیں گے“۔ وہ فراست سے بولی۔
”یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر، بڑی فراست آ گئی ہے آپ میں“۔ وہ اس کی بات سے منفعل ہوا تھا۔
”بس یہ پانچ دن جلدی سے گزر جائیں“۔ اس کا صبر شاید کہیں کھو گیا تھا تبھی وہ اتنی بےصبری دکھا رہی تھی۔
”اچھا پر مجھے ان کی وش پوری کرنی ہے“۔ اس نے باور کروایا۔
”ہاں یاد ہے مجھے“۔ وہ عجلت سے بیڈ پر لیٹ گئی۔
”کتنی جلدی افراء کی بھی شادی ہو گئی“۔ اس نے جیسے ہی کہا انوشے نے فوری تردید کی ”ہو نہیں گئی ہونی ہے“۔
”جانتا ہوں“۔ وہ اسکی بات پر ہنسنے لگا۔
”کیوٹ ہیں آپ بہت“۔ اس نے اسکا گال پیار سے کھینچتے ہوئے کہا۔
”تم بھی“۔ وہ ہنس کر بولی۔
***************************
”ہائے افراء“۔ چھت پر پہلی بار آج وہ افراء کو پکار رہا تھا۔
”جی“۔ وہ بمشکل بول پائی۔ عجیب مضطرب سی حالت ہو رہی تھی اس کی۔
”مجھے بات کرنی ہے آپ سے“۔ وہ بھی ہچکچاتے ہوئے بول رہا تھا۔
”جو کہنا ہے شادی کے بعد کہیے گا“۔ وہ تذبذب سی کہتے ہوئے تیزی سے بھاگ گئی۔
”لگتا ہے شرما گئی“۔ وہ بازو سینے پر باندھے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
**************************
”اب سے تم نے کوئی کام نہیں کرنا افراء“۔ منیب صاحب کی آواز سامنے سے آئی تو وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
”کیوں؟“۔
“کیونکہ تم اب ہماری بہو بننے والی ہو“۔ احسن کے ابو کی آواز سنتے ہی وہ کھڑی ہو گئی۔
”اچھا نہیں کروں گی“۔ اس نے جلدی سے کہا معلوم نہیں تھا اسے کہ اب وہ کیا بولے۔
”مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ میں اپنی بیٹی تمہیں دے رہا ہوں“۔ منیب صاحب نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔
”اب یہ ہماری بیٹی بھی ہے“۔ جیسے ہی وہ دونوں باتیں کرنے لگے وہ تیزی سے وہاں سے کھسک گئی۔
رات اس کے لیے بڑی اداس تھی مگر وہ مصالحت کر چکی تھی۔
”اب مجھے ماہر کو بھول جانا چاہیے“۔ آنسو صاف کرتا ہوۓ اس نے ماہر کے بارے میں سوچا۔ آج وہ ماہر کے بارے میں آخری بار سوچ رہی تھی۔ یہ اس نے تہیہ کر لیا تھا۔ اسکی امنگ اب ماہر کے لیے ختم تھی۔ یہ سب کٹھن تھا مگر اسے ہی کرنا تھا۔ آخر کب تک وہ یونہی بیٹھی رہتی؟
اگلے دن انعم بہت اداس گھر آئی تھی ساحر بھی اس کے پاس ہی تھا۔ اور بہت خوش بھی لگ رہا تھا۔ اور ہونا بھی تھا خوش کیونکہ وہ اپنی ماں کے پاس تھا۔
”سو کیوٹ“۔ انوشے بار بار ساحر کے گال کھینچ رہی تھی جبکہ وہ اسے ڈری ہوئی نظروں سے گھور رہا تھا۔
”میں امی سے مل کر آتی ہوں کل پرسوں تک آ جاؤں گی“۔ اس نے رونے والی آواز میں کہا۔
”ابھی جا رہی ہو؟“۔ افراء نے اعتراض کیا۔
”ہاں کام ہے مجھے، آپ سب ساحر کا خیال رکھنا“۔ وہ نگاہیں چرا کر بولی۔
”ٹھیک ہے بیٹا جلدی آ جانا کام بھی کرنے ہیں ہم نے“۔ ساجدہ افراتفری میں بولیں۔
”ساحر کا میں بہت خیال رکھوں گی“۔ انوشے کو ساحر سے لگن سی ہوئی۔
اس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا۔ سب سے گلے ملنے کے بعد اور اپنے آنسو چھپاتی گھر کی دہلیز پار کر گئی۔ سب اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے تھے۔
”مجھے ساحر بہت کیوٹ لگتا ہے“۔ انوشے بہت بار اس کا گال چوم رہی تھی مگر ابھی بھی اس کا دل نہیں بھرا تھا۔
”اچھا“۔ افراء کا ذہن کہیں اور ہی تھا۔ وہ انعم کے لیے تفکر سی تھی۔
”تم پریشان ہو؟“۔ اسے لگا سو وہ بول گئی۔
”نہیں بس یونہی“۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے ساحر کو گود میں اٹھایا۔
”ہاۓ کاش یہ کیوٹ بےبی میرا ہو جاۓ“۔ اسکی (انوشے کی) یہ آرزو دل سے ادا ہوئی تھی اور کبھی کبھی کچھ بول پورے بھی ہو جاتے ہیں۔
***************************
دن دن بعد،،
“افراء میں جا رہی ہوں“۔ انوشے نے بلند آواز میں اسے بلایا۔ وہ میرا کے ساتھ بازار جا رہی تھی۔
”اچھا جاؤ اور میری چیزیں بلکل بھی نہیں بھولنا“۔ اس نے سختی سے کہا۔
”اچھا اچھا نہیں بھولیں گے“۔ میرا نے افراتفری میں کہا۔
افراء نے آیت الکرسی پڑھ کر انوشے اور میرا پر پھونکی۔
”مرنے نہیں جا رہے ہم“۔ انوشے کچھ سوچ کر بولی۔
”فضول مت بولو“۔ وہ تنک مزاجی سے بولی۔
”ہاہاہاہا اچھا افراء“۔ الوداعی کلمات کہنے کے بعد وہ چلی گئیں۔ انہیں رخصت کرنے کے بعد وہ اطمینان سے کام کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسے اپنے فون کا یاد آیا۔ وہ اپنے کمرے میں گئی۔ اور اس نے آج کئی دن بعد اپنا فون ان کیا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کا فون کب سے بج رہا تھا۔ آخر کار اس نے فون اٹھایا۔
”یہ کس کا نمبر ہے“۔ انجان نمبر سے کال آنے پر اس نے کال پک کی۔
”اسلام و علیکم“۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
دوسری طرف سے جو الفاظ ادا ہوۓ تھے وہ سنتے ہی اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔ اسے لگا وہ دوسرا سانس نہیں لے پاۓ گی۔
جاری ہے
