No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
“انشرہ یار جلدی کرو… دیر ہو رہی ہے” سہام اپنا اوور آل پہنتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا تھا
“بس آ گئی… ” انشرہ نے جلدی سے مروہ کو گود میں اٹھایا اور باہر نکل آئی
“ساریہ نہیں اٹھی آج… ؟” خالی کچن اس کا منہ چڑا رہا تھا
“ہاۓ اللہ… اٹھائیں اسے, جب دیکھو پڑی سوئی رہتی ہے” انشرہ بیزار ہوئی پڑی تھی
ساریہ… دروازہ کھولو, باہر نکلو” سہام کی غصے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کے حواس جھنجھوڑے تھے, وہ ایک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتری, مسلسل روتی ہوئی منسا کو گود میں اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی, پورا بدن بخار میں پھنک رہا تھا, دو, تین قدم اٹھاتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا, دھڑام سے فرش پر گری, قالین کی وجہ سے تھوڑی بچت ہو گئ تھی, منسا کا باجا اور اونچا ہو گیا, بمشکل اس نے دروازہ کھولا
“ساریہ یہ کوئی ٹائم ہے اٹھنے کا, پتہ بھی ہے تمہیں کہ میں نے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے, نہ کپڑے استری کئے ہوئے ہیں, نہ ناشتا بنایا ہے… ” سہام ایک دم اس پر برس پڑا, ساریہ نے دھیرے سے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا, ماہر بھی ریں ریں کرتا ہوا اس کی ٹانگوں سے آ کر چپک گیا تھا
“ساریہ یار پکڑو اسے… پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اسے, اس کا پیمپر بھی چینج کروا دینا اور فیڈر بھی دے دینا, کمرہ بھی سمیٹ دینا پلیز… ” انشرہ نے انتہائی کوفت سے بلکتی ہوئی مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا
“میرے اوور آل دھونے والے ہیں ساریہ, اور کپڑے بھی, وہ دھو دینا…اور میرے ڈاکیومنٹس والا کیبن بھی صاف کر دینا, اسے کھولوں تو ایک دم الٹی کر دیتا ہے, دس دن ہو گئے ہیں تمہیں کہتے ہوئے ” سہام نے اس کی طرف دیکھے بغیر ایک نیا حکم صادر کیا تھا
“بلکہ مشین ہی لگا لینا ساریہ… بچوں کے بھی گندے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے, کچن بھی دیکھ لینا, رات کے برتن بھی یونہی پڑے ہیں, پانی بھی آنے والا ہو گا, مروہ کو نہلانا بھی ہے آج… شام میں اسے انجکشن لگوانے جانا ہے” انشرہ جلدی جلدی اوور آل پہن رہی تھی
“جلدی اٹھا کرو ساریہ… تمہیں پتہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ڈیوٹی پہ جانا ہوتا ہے, صبح ذرا جلدی اٹھ کہ کام نمٹا لیا کرو اس کے بعد پورا دن سونا ہی ہوتا ہے تم نے, تھوڑی سی ذمہ داری پکڑ لو یار… دو بچوں کی ماں بن گئی ہو, انشرہ کا تو تمہیں پتہ ہی ہے سارا دن ہسپتال ہوتی ہے, مروہ بھی تمہاری ذمہ داری ہی ہے, دیکھو ذرا ایک نظر… پورا گھر کوڑے کا ڈھیر بنایا ہوا ہے تم نے, خدا جانے تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو ؟ ” سہام اس کی ساری اگلی پچھلی اکارت کر رہا تھا, ساریہ نے ایک نظر اسے دیکھا
یعنی وہ شادی کے پانچ سال بعد بھی غیر ذمہ دار ہی تھی…صبح سے لیکر شام تک اس کے تین بچے, اس کا گھر, اس کا کھانا پینا, پہننا اوڑھنا, نہانا دھونا… سب کچھ کرنے کے باوجود وہ غیر ذمہ دار تھی
وہ دونوں ہاسپٹل جانے کے لیے بالکل تیار تھے, سہام نے گاڑی کی چابی اٹھائی تھی
“چلو جلدی… ” وہ انشرہ کو اشارہ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا
ساریہ کو لگا جیسے ابھی پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا, مسلسل روتے ہوئے تین بچے, گندا مندا کچن, ہر طرف پھیلاوا, میلے کپڑوں کا ڈھیر…اور پچھلے چار دنوں سے شدید دکھتا ہوا بدن
اس کی ایک دم بس ہوئی تھی… پچھلے پانچ سالوں کا ایک ایک دن اس پر قہقہے لگا رہا تھا
“سہام… ” پوری ہمت جمع کر کہ اس نے سہام کو آواز دی تھی, وہ ایک دم رکا, انشرہ بھی رک گئی تھی, وہ دو قدم آگے بڑھی, ڈیڑھ سالہ مروہ کو انشرہ کی گود میں دیا, منسا کو سہام کی گود میں چڑھایا اور ماہر کو بازو سے پکڑ کر اس کی جانب دھکیل دیا
“میں امی کے گھر جا رہی ہوں… آپ یہاں کسی ذمہ دار کو لے آئیں”دوپٹہ سر پر اوڑھ کر اس نے پاؤں میں سلپرز ڈالتے ہوئے دھیرے سے کہا اور باہر نکل گئی, سہام اور انشرہ حیران پریشان کھڑے رہ گئے تھے
“ساریہ… رکو تو… کیا ہوا ؟” ایک دم ہوش آنے پر وہ دروازے کی طرف بھاگا لیکن ساریہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکلتی چلی گئی, انشرہ نے ایک نظر اپنی گود میں پڑی مروہ کو دیکھا… پھر سارے گھر کو اور پھر گھڑی کو… جو پورے آٹھ بجا رہی تھی
“یااللہ…” اب کے اسے لگا جیسے پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا
…………………………
وہ اپنے کمرے میں تھی جب دروازہ ناک ہوا
“آ جاؤ… ” اس نے کہا, حاشر اندر آ گیا
“کیسی ہیں آپی ؟” اس نے پوچھا
“ٹھیک ہوں… ” وہ بولی
“یہ لیں… ” اس نے ایک نوٹس ساریہ کی طرف بڑھا دیا
“یہ کیا ہے ؟” اس نے حیرانی سے نوٹس پکڑتے ہوئے پوچھا
“آپ کا آزادی نامہ… آج سے آپ کی زندگی صرف آپ کی اپنی ہے… جیسے مرضی جیئیں ” حاشر نے مسکراتے ہوئے کہا اور منسا کو گود میں اٹھا کر باہر نکل گیا
وہ اس کا فرسٹ ڈیوورس نوٹس تھا
ساریہ بس چپ چاپ اسے ہاتھ میں پکڑے بیٹھی رہ گئی
کچھ تعلقات بالکل چھینک کی طرح ہوتے ہیں, ان کے ختم ہوتے ہی شکر الحمد اللہ کہنے کو دل کرتا ہے
“شکر الحمداللہ… “
………………………….
وہ اس دن گھر آیا تھا
پورے دو ہفتے ہو گئے تھے… نا تو ساریہ اس کی کال ریسیو کر رہی تھی اور نا ہی کسی. میسیج کا ریپلائی دے رہی تھی, ان دنوں اس کا اپنا شیڈول بھی کافی ٹف تھا, اس شام بھی اس نے بری مشکلوں سے وقت نکالا, ماحن کو سکول داخل کروا دیا تھا
“کیسے ہو ملاحم… ؟” سب ویسے ہی ملے… تپاک سے
“ٹھیک ہوں آنٹی… ” وہ بولا, ہادیہ چاۓ بنا لائی تھی
“ساریہ ٹھیک ہے آنٹی ؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“ہاں ٹھیک ہے… ” فاطمہ نے کہا
“اچانک سے گم سی ہو گئی ہے… کال بھی ریسیو نہیں کرتی” وہ کپ اٹھاتے ہوئے بولا
“کم از کم تین ماہ وہ تیری کوئی کال ریسیو نہیں کرے گی ملاحم… ” فاطمہ نے سانس بھرتے ہوئے کہا
“کیوں ؟ کہیں گئی ہوئی ہے ؟” اس نے پوچھا
“اسے سہام نے طلاق دے دی ہے”
…………………………
تین ماہ بعد
آس نے ٹی وی آف کرتے ہوئے لائیٹ آف کی تھی, دونوں بچے سو چکے تھے, پنکھا ذرا تیز کرتے ہوئے اس نے پردہ برابر کیا اور باہر ٹیرس پر نکل آئی
ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی, اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پشت سے ٹیک لگا لی, آسمان تاروں سے بھرا پڑا تھا
کل اس کی عدت ختم ہو گئی تھی
ملاحم کا میسیج آیا ہوا تھا
“تمہارا پھول ابھی بھی میرے پاس ہے”
س نے آنکھیں موند لیں
کیا ہو گا اگر وہ دوشری شادی نہ کرے… ؟
کسی سے بھی نہیں… ملاحم سے بھی نہیں
وہ بڑے اچھے طریقے سے اپنے باپ کے گھر بیٹھ کر اپنے دونوں بچے پال لے گی, سہام سے بھلے ہی اس کا کوئی رشتہ نہ سہی… لیکن وہ ان دو بچوں کا باپ تھا, چلو جب بھی آیا کرے گا تو بچوں سے تو ملاقات ہو ہی جاۓ گی, شاید آنیوالا وقتوں میں اسے کوئی اچھی سی نوکری بھی مل جاۓ
طلاق کا دھبہ لگ گیا تو کیا ہوا… ؟ دنیا کی کونسی عورت ہے جس کی قبا داغدار نہیں ہوتی
وہ کہتے ہیں ناکہ…
تو کون ہے اور کیا ہے تیرا داغ قبا بھی…
دنیا نے تو مریم پہ بھی الزام تراشے….
داغ تو لگتےرہتے ہیں… دوسری شادی کئیے بغیر بھی اس کی زندگی شاید بہت اچھی گزر جاۓ گی
لیکن…
اگر دوسری شادی کے لیے ہتھیلی پر پھول رکھ کر بیٹھا ہوا انسان ملاحم سعد ہو تو… ؟
یہاں آ کر اصلی زندگی اور کہانی میں فرق پتہ چلتا ہے…
اصلی زندگی میں ساریہ مراد کبھی بھی سہام فرہاد سے طلاق نہ لے پاتی… ماں باپ کبھی بھی اس فیصلے میں اس کے ساتھ نہ ہوتے… سب اسے ہی سمجھاتے, اسے ہی کہتے کہ کمپرومائز کرو, سب اسے ہی کہتے کہ اپنے دو بچوں کا سوچو اور ساریہ مراد صرف اپنے دو بچوں کی خاطر سارہ زندگی ایک ان چاہے شخص کے ساتھ گزار دیتی
ہمارے معاشرے میں ہزاروں لاکھوں ساریہ مراد ایسی ہی زندگی گزار رہی ہیں… کوئی ہزاروں میں سے ایک خوش قسمت ترین عورت ہوتی ہے جس کے نصیب میں ملاحم سعد جیسا کوئی انسان لکھا ہوتا ہے… ورنہ تو سبھی کو سہام فرہاد جیسے ہی ملتے ہیں
ساریہ مراد اگر ملاحم سعد سے شادی نہیں بھی کرتی تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن….
اگر کر بھی لے… اگر اس کی ہتھیلی پر رکھا پھول اٹھا بھی لے تو کیا مضائقہ ہے… ؟
کیا ہے اگر درمیان میں پانچ سال حائل ہو گئے ہیں تو ؟ کیا ہے اگر وہ دو بچوں کی ماں ہے تو ؟ کیا ہے اگر ملاحم سعد ایک بچے کا باپ ہے تو… ؟ اگر مرد دوسری شادی اسلئے کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو ماں مل جاۓ تو عورت اسی سوچ کے ساتھ دوسری شادی کیوں نہیں کر سکتی… ؟
یہ صرف میرا ماننا ہے… ہو سکتا ہے دوسرے اس سے اختلاف کریں لیکن… اگر آپ ایک عورت ہیں, طلاق کا کڑوا گھونٹ پیئے ہوۓ ہیں, آپ کے ہاتھوں میں آپ کے بچوں کے ہاتھ ہیں… اور آپ پر یقین ہیں کہ دوسری شادی کئیے بغیر بھی آپ اپنے بچوں کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزار سکتی ہیں تو نہ کریں دوسری شادی… بالکل نہ کریں… بار بار جواء کھیلنے کا کیا فائدہ
لیکن… اگر آپ کے سامنے پھیلا ہاتھ ملاحم سعد جیسے کسی انمول شخص کا ہے جو آپ سے بے حد محبت کا دعویدار ہے تو… جواء کھیلا جا سکتا ہے
کیونکہ خوش ہو کر زندگی گزارنے کا حق تو خدا نے سبھی کو دیا ہے
عورت کو بھی…
…………………………
وہ اپنے آفس میں تھا جب چپڑاسی نے آ کر بتایا کہ کوئی لڑکی اس سے ملنے آئی ہے, وہ سمجھا کوئی civilian ہو گی اور اپنی کوئی کمپلین فائل کرنے آئی ہو گی
“اسے کہو تھوڑی دیر رکے… میں یہ فائلز سائن کر دوں” ملاحم نے کہا, وہ سر ہلا کر باہر چلا گیا, تقریباً بیس, پچیس منٹ بعد اس نے چپڑاسی کو دوبارہ بلایا
“اس لڑکی کو اندر بھیجو… ” وہ فائلز سائن کر چکا تھا, اور اب اپنے کمپیوٹر سسٹم میں منہمک تھا
“بیٹھیں… ” اس نے اندر آنیوالی کو سرسری سے انداز سے کہا, وہ بیٹھ گئی
“بتائیں کیا مسئلہ ہے… ؟” وہ بدستور کمپیوٹر سکرین دیکھ رہا تھا
“تمہیں ایک سی ایس ایس آفیسر بننے کا مشورہ دیتے ہوئے میں نے بالکل نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں کبھی تم سے ملنے کے لئے مجھے تمہارے آفس کے باہر بینچ پر بیٹھ کر پچیس منٹ انتظار کرنا پڑے گا” ملاحم کے ہوش اڑے تھے
“تم… تم نے بتایا کیوں نہیں آنے کا, کال ہی کر دیتیں, نام بھی نہیں بتایا, تم باہر کیوں بیٹھیں… ؟ سیدھی اندر آ جاتیں.. ” وہ اپنی کرسی سے فٹ فٹ اوپر اچھل رہا تھا, ساریہ بس نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“اٹھو… ” وہ اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کھڑا ہوا اور اس کے لئے آفس کا دروازہ کھولا, ساریہ چپ چاپ باہر نکل آئی, پھر اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا
“کہاں لیکر جاؤ گے ؟” اس نے پوچھا
“جہاں تم کہو… ” وہ بولا
“آئس کریم کھانی ہے… ” وہ دھیرے سے کہہ کر اندر بیٹھ گئی, ملاحم نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تھی اور اسے ساتھ لئے آئس کریم پارلر پہ آ گیا, ساریہ سے پوچھے بغیر اس نے آئس کریم آرڈر کی تھی
“آئیندہ تم صرف مجھے ایک کال کر کہ بتایا کرو گی کہ… ملاحم مجھے تم سے ملنا ہے… بس, میں خود ہی آ جایا کروں گا” وہ بولا, ساریہ بس اسے دیکھتی رہی
“کیا ہوا ہے ؟” وہ تاڑ گیا
“تمہیں شرم نہیں آئی میرے سابقہ شوہر کے سامنے اپنی اور میری محبت کے قصے بیان کرتے ہوئے ؟” ساریہ نے کہا, ملاحم اپنی ہنسی روک نہیں پایا… دونوں بازو میز پر رکھے دھیمے دھیمے ہنستا چلا گیا
“ملاحم… وہ کہتا تھا تمہیں میں نے لاہور واپس بلایا ہے” ساریہ نے کہا
“وہ تو یہ بھی کہتا تھا کہ تم میرے کہنے پر اس سے لڑ کر آئی تھیں” وہ بولا
“تم نے کیا کہا تھا اسے ؟” ساریہ نے ذرا غصے سے پوچھا, ملاحم نے تھوڑا آگے کو ہو کر اس کی آنکھوں میں جھانکا
“یہ ہی کہ میں ایک بار اپنی محبت اس کے لیے چھوڑ کر چلا گیا تھا… دوسری بار نہیں جاؤں گا” وہ بولا
“میرے کہنے سے بھی نہیں جاؤ گے ؟” ساریہ نے اس کا داؤ اسی پر چلایا تھا
“نہیں… میں کونسا تمہارے کہنے پر آیا ہوں” وہ بولا, آئس کریم آ گئی تھی, ملاحم نے کپ اس کے آگے کر دیا
“تمہاری وجہ سے مجھے طلاق ہو گئی ” اس نے ایک نیا پینترا کھیلا
“and you should be thankful to me for this… “
وہ بولا
“میرا پھول دو… ” وہ چند لمحوں بعد بولی تھی, ملاحم نے چونک کر اسے دیکھا
“کیا ؟” وہ حیران ہوا تھا
“وہ پھول دو جو اس رات دے رہے تھے…میں وہ ہی لینے آئی ہوں” ساریہ نے کہا
“وہ تو… سوکھ گیا ہے… ” ملاحم کی خوشی دیدنی تھی
“سوکھا ہوا ہی دے دو, میں نے کونسا بالوں میں لگانا ہے” ساریہ نے کہا, ملاحم نے چپ چاپ اپنے کوٹ کی جیب سے ایک سوکھا ہوا پھول نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
“میرے دو بچے ہیں ملاحم… ” اس نے دھیرے سے کہا
“اس پھول کو اٹھانے کے بعد تین ہو جائیں گے… پھر اس سے اگلے سال چار… پھر اگلے سال پانچ” وہ بڑی مشکلوں سے اپنی مسکراہٹ ضبط کئیے ہوۓ تھا
“ملاحم.. میں سچ میں یہ پھول تمہارے منہ پر مار کر واپس چلی جاؤں گی” اسے غصہ آ گیا, ملاحم کا قہقہہ بلند ہوا تھا
“پانچ سال گزر گئے ہیں… ؟” اس نے پھر کہا
“پچیس اور بھی تو گزارنے ہیں یار… ” ملاحم نے کہا تھا, ساریہ خاموش ہو گئی
“میری بس ایک بات یاد رکھنا ساریہ مراد… کہ ایک سکھ بھری زندگی گزارنے کا حق تمہیں بھی ہے… اور مجھے بھی ہے” ملاحم نے کہا
ساریہ نے دھیرے سے وہ پھول اٹھا لیا تھا
…………………………….
گاڑی گیٹ کے بالکل سامنے آ کر رکی تھی, چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا, وہ سیدھا گاڑی اندر ہی لے آیا, ساریہ نیچے اترنے لگی تو اس نے روکا
“ایک منٹ… ” کہہ کر وہ نیچے اترا اور جلدی سے اس کی طرف کا دروازہ کھولا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر باہر نکل آئی, ملاحم نے پچھلا دروازہ بھی کھول دیا, ماہر اور ماحن دونوں خود ہی باہر نکل آۓ, منساء سو گئی تھی
“رکو… میں اٹھا لیتا ہوں, ہیل کے ساتھ اسے اٹھا کر سیڑھیاں کیسے چڑھو گی ؟” ملاحم نے وہ پھول سی بچی گود میں اٹھا لی
“آؤ… ” اس نے ماحن کا ہاتھ تھام کر کہا, ساریہ ماہر کا ہاتھ پکڑ کر اس کے پیچھے ہو لی
“بیڈ روم نیچے ہے لیکن میں نے سونے کے لئے اوپر کمرہ سیٹ کروایا ہے, ماحن ابھی میرے بغیر نہیں سوتا اور منساء بھی چھوٹی ہے… تمہارے بنا نہیں سوۓ گی” وہ اسے لئیے اوپر چلا آیا, فلور میٹرس لگا کر اس نے کافی اچھا کمرہ سیٹ کروایا تھا
“لٹا دو اسے… ” ساریہ نے کہا, ملاحم نے اسے تکئے پر لٹا دیا
“چل ہیرو… سوئیں ” اس نے ماحن کے جوتے اتارے اور خود بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا, ماہر بھی نیند آۓ جھول رہا تھا
“سو جاؤ.. ” ساریہ نے تھوڑی دیر اسے تھپکا تو وہ سو گیا
“کچن نیچے ہے ؟” کچھ دیر بعد اس نے پ, ملاحم نے اثبات میں سر ہلا دیا, وہ نیچے آ گئی
ابھی کچھ دیر پہلے اس کا اور ملاحم کا نکاح ہوا تھا… فاطمہ کے منع کرنے کے باوجود وہ دونوں بچے ساتھ ہی لے آئی تھی, اب بھی اس نے چولہا جلایا اور منساء کے لئے دودھ گرم کرنے لگی, وہ بھوکی ہی سو گئی تھی, رات میں اٹھتی تو فیڈر مانگتی
“تمہیں چینج کرنا ہو تو نیچے ہی کر لینا” وہ کچن کے دروازے میں کھڑا تھا
“چاۓ پیو گے ؟” ساریہ نے پوچھا
“ہاں… ” وہ اندر چلا آیا
“اب مجھے وہ والا ڈائیلاگ بولنے کی ضرورت تو نہیں ہے نا کہ چینی مت ڈالنا… تمہارے ہاتھوں کی مٹھاس ہی کافی ہے” وہ دھیرے سے ہنسا
“کیا پتہ میرے ہاتھوں میں مٹھاس کی بجاۓ کڑواہٹ ہو… پھر ؟” ساریہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“تمہارے ہاتھوں کے اس کڑوے گھونٹ کو بھرنے کے لئے پانچ سال ترسا ہوں میں” وہ بہت محبت سے بولا تھا, ساریہ بس مسکرا کر رہ گئی
“میں چینج کر کہ آتا ہوں ” اس کے صبیح چہرے کو دیکھتا وہ باہر نکل گیا, ساریہ چاۓ بنا کر باہر نکلی تو وہ صوفے سے ٹیک لگاۓ آڑا ترچھا سا بیٹھا نیوز سن رہا تھا, اس نے چاۓ ک کپ اس کی طرف بڑھا دیا, ملاحم نےایک ہاتھ سے کپ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا
“تم تو روز نیوز سنتے ہو گے نا ملاحم… صبح و شام… بلا ناغہ” ساریہ نے پوچھا
“ظاہر ہے… مجبوری جو ہوئی” اس نے ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی بند کر دیا
“اب بند کیوں کر دیا… ؟” ساریہ نے گھونٹ بھرا تھا
“ساری زندگی ہو گئی اسے دیکھتے… اب تمہیں پہلو میں بٹھا کر بھی اسے ہی دیکھوں… ؟ تمہیں نہ دیکھوں ؟” اس نے اپنا ایک بازو پورے حق سے ساریہ کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا, وہ پوری طرح اس کے حصار میں آ گئی تھی
“مجھے آج بھی سب کچھ زبانی یاد ہے ساریہ… مجھے یاد ہے جب تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ تم بتا دو میں کیا کروں… اور میں نے کہا تھا کہ…. میرا انتظار” اس نے کپ خالی کر کہ میز پر رکھا اور پوری طرح ساریہ کی طرف مڑ گیا
“ملاحم …میرے بس میں ہوتا تو میں شاید ساری عمر تمہارے انتظار میں گزار دیتی” یاد تو ساریہ کو بھی سب کچھ تھا, ملاحم ذرا سا پیچھے کو ہوا اور اپنا سر صوفے کے بازو پر رکھتے ہو ئے ساریہ کو اپنے قریب کر لیا, ابھی بھی اس کا ایک بازو ہنوز ساریہ کی کمر کے گرد تھا, دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنا سب سے فیورٹ کام کیا تھا, ساریہ کے بالوں میں لگا کیچر کھینچ دیا تھا, وہ کالی گھٹائیں چھم چھم کرتیں اس کے چہرے پر برستی چلی گئیں
“میں نے نہ جانے کتنی ہی بار تمہاری ان زلفوں کی چھاؤں مانگی ہے ساریہ… ” ملاحم کی انگلیاں اسے اپنی کمر پر رینگتی محسوس ہونے لگی تھیں, اس کا چہرہ ملاحم کے لبوں سے بس ذرا ہی دور تھا, دوسرے ہاتھ کی انگلیوں نے ساریہ کا چہرہ چھوا تھا
“ملاحم… میں گزرے پانچ سالوں میں جب جب روئی ہوں… تم یاد آۓ ہو” ساریہ کی آواز بھرا سی گئی, اس نے دونوں ہاتھوں سے ملاحم کا چہرہ تھام لیا
“میں کچھ بھی نہیں بھلا سکی… نہ اپنی زندگی میں تمہارا آنا… اور نہ جانا” ساریہ کی آنکھ سے آنسو گرا تھا… ملاحم سعد کے چہرے پر, اپنے دونوں بازو مضبوطی سے ساریہ کے گرد باندھ کر اس نے اسے خود میں سمیٹا تھا… انتہائی محبت سے اسے گلے سے لگایا تھا, ساریہ نے اپنے دونوں بازو اس کی گردن میں ڈال کر خود کو اس کے حوالے کر دیا, وہ بہت نرمی سے اس کی بند آنکھوں کو چوم رہا تھا
“I love you.. “
“I love you too… “
بس اتنی سی کہانی تھی…ہر کہانی بس اتنی سی تو ہوتی ہے
…………………………..
دو سال بعد
“وہ کچن سمیٹ کر اوپر آئی تو کمرے میں ایک آفت کا سماں تھا, ماہر اور ماحن ایک طرف تھے… منساء اور ملاحم دوسری طرف… ساریہ کا دوپٹہ ایک رسی کی سی شکل میں دونوں دھڑوں نے پکڑ رکھا تھا, جدھر زور زیادہ لگتا… دوسرا گروپ دھڑدھڑ کر کہ ادھر جا گرتا… ایک ہاہا کار مچی ہوئی تھی, منساء نے زور تو کیا لگانا تھا… وہ بس چیخ چیخ کر ملاحم کا حوصلہ ہی بڑھانے کے لیے تھی
“یا خدا… امی کے ایک سو ایک فون آ چکے ہیں, میں کہہ کر بھی گئی ہوں کہ خود بھی نہا لینا اور ان دونوں کو بھی نہلا دینا”
“اوۓ… چھوڑو سب… چھوڑو, چلو نہانے چلیں, جلدی کرو” اس کے اتنا کہتے ہی وہ شور مچا کہ الامان الحفیظ…
“منساء کو مجھے دے دو… ” ساریہ کی پکار بیچ میں ہی کہیں رہ گئی, منساء تو سب سے پہلے اس کے کندھوں پر سوار ہوئی تھی
“میں ایک ایک پیس نہلا رہا ہوں فٹا فٹ انہیں تیار کرتی جاؤ” وہ تینوں کو ایکساتھ لیکر واش روم میں گھس گیا
واش روم میں وہ غدر مچا کہ الامان الحفیظ…
“ملاحم… پانی سارا باہر آ رہا ہے, یہ واش روم ہے… ٹیوب ویل پر نہیں نہا رہے تم… ” وہ بیچاری چیخے جا رہی تھی
آج ہادیہ اور حاشر کی شادی تھی
ملاحم نے ایک ایک کر کہ تینوں نہلا دئیے, ساریہ جھٹ پٹ انہیں کپڑے جوتے پہنا کر تیار کرتی چلی گئی
“چوتھا نمبر میرا ہے… میرے کپڑے بھی نکال کر رکھ لو… میں آیا بس” اس نے اندر سے ہانک لگائی
“ہاں آ جاؤ… تمہیں بھی تیل اور پاؤڈر لگا دوں ” وہ اس پر چڑھ دوڑی
“ساریہ یار… میں سوچ رہا تھا کہ میرا وہاں جانا مناسب ہو گا ؟” وہ تولئے سے بال رگڑتا ہوا باہر نکل آیا
“کیوں… ؟ تم اشتہاری ہو کیا ؟” وہ اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گئی, باہر نکلی تو ملاحم خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا
“ہاں اب بتاؤ کیا کہہ رہے تھے… ؟” وہ اسے ذرا سا سائڈ پر کرتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی
“میں بس یہ کہہ رہا تھا کہ کوئی بدمزگی نہ ہو جاۓ… دراصل پرسوں ہاسپٹل کا وزٹ تھا میرا, ڈاکٹر سہام فرہاد صاحب آن ڈیوٹی ہونے کے باوجود لیٹ تھے تو میں نے ذرا سا کھینچ دیا… ” ملاحم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“تم نے ذرا سا نہیں… اچھا خاصا کھینچا ہو گا” وہ مسکراتے ہوئے بولی, ملاحم ہنستے ہوئے کندھے اچکا گیا
“پچھلے کچھ عرصے سے کافی بدتمیز ہو گیا ہے وہ… اگر اس نے کوئی پرانا شوشہ چھوڑا نا تو… ” ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“تو تم اس کا منہ توڑ دینا… ٹھیک ہے, اب چلو” وہ دوپٹہ سیٹ کرتے ہوۓ بولی تو ملاحم کی توجہ اس کی طرف ہو گئی
“جب سے لیکچرار بنی ہو اور زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو” ملاحم نے بڑے حق سے اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوا تھا, ساریہ کی لیکچرار شپ کو چھ ماہ ہو گئے تھے
“چلو… چلیں” وہ بیگ کندھے پر لٹکاتے ہوئے بولی تھی
“عید تو مل لو.. .؟ملاحم نے اس کی طرف بازو پھیلاۓ
“عید… ؟”
“خدا کی قسم تم میرے ساتھ ہو تو میرا ہر دن عید ہے” ملاحم نے کہا, ساریہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگی تھی
گاڑی ہال کے دروازے پر رکی… ملاحم نے اس کے لئے دروازہ کھولا تھا, بچے بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئے, گرے تھری پیس میں ملبوس وہ شاندار سی پرسنیلٹی والا اسسٹنٹ کمشنر آف سٹی اور اس کے پہلو میں چلتی, نیوی بلو اور گولڈن امتزاج کے فینسی سے ڈریس میں ملبوس وہ ایم فل انگلش لیکچرار…وہ دونوں ایک ساتھ اندر داخل ہوۓ تھے
بے شمار ستائش بھری نظریں اٹھی تھیں
فاطمہ اور مراد نے اسے یوں ہنستا دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا تھا
ملتا وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہو لیکن… اس مقدر کا کچھ حصہ ہمارے اپنے ہاتھ بھی ہوتا ہے
“جیتے رہو… ” مراد صاحب نے ملاحم کے سر پر ہاتھ رکھا تھا… آنکھیں نم ہو گئی تھیں, انشرہ, طاہرہ بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی
“دیکھ ذرا… قسمت ہو تو اس لڑکی جیسی… بیٹھے بٹھاۓ کیسا پھرا لڑکا مل گیا اسے.. اور ایک تو ہے, کتنا کہا تھا میں نے کہ سہام سے شادی مت کر لیکن تو نہیں مانی… کیا ملا تجھے… ؟ صبح و شام تم دونوں میاں بیوی چونچیں لڑاۓ رکھتے ہو, ہر ہفتے تو میرے سر پر آ کر بیٹھ جاتی ہے” طاہرہ بیگم ستی پڑی تھیں, اس سے پہلے کہ انشرہ کچھ کہتی
“کیا بدتمیزی ہے یہ… ؟” ہال کے ایک کونے سے سہام کی چنگھاڑتی ہوئی آواز بلند ہوئی
“اب کیا ہو گیا تمہیں… ؟” انشرہ بوکھلا سی گئی
“اس مصیبت کو میرے سر تھوپ کے خود ہر کسی کے پاس چغلیاں کرنے کھڑی ہو جایا کرو تم… پکڑو اسے, خدا جانے کیا فٹ ہے اس کے گلے میں, زبان ہی منہ میں نہیں جاتی اس کی” سہام نے بنا کوئی لحاظ کئے مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا
“تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم کیا ہل چلا رہے تھے جو تم سے ایک بچی نہیں پکڑی جاتی… ” انشرہ کونسا کم تھی
“انشرہ میرا دماغ خراب نہ کرنا… جسٹ شٹ اپ” وہ دھاڑا
“چلاؤ مت… مجھے تم سے زیادہ اونچا چلانا آتا ہے, باپ ہو تم اس کے, اگر دو گھڑی گود میں اٹھا بھی لو گے تو مر نہیں جاؤ گے” انشرہ اس پر چڑھ دوڑی
“میں کہہ رہ ہوں زبان بند کر لو جاہل عورت… ” سہام اسے مارنے کو آگے بڑھا تھا, مروہ مسلسل طاہرہ بیگم کی گود میں پڑی روۓ جا رہی تھی
“سہام… رک جا” مراد صاحب نے بمشکل اسے روکا
دونوں میں وہ معرکہ ہوا کہ الامان الحفیظ…
“میں نے کہا تھا نا کہ یہ پچھلے کچھ عرصے سے کافی بدتمیز ہو گیا ہے” ملاحم دھیرے سے ساریہ کے کان میں گھسا تھا, وہ بس مسکراتے ہوئے اسے ٹہوکا مار گئی تھی
…………………….
ختم شد
