No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
قسمسےیارامیںتمہارا
عائشہ_ذوالفقار
اسے رات سے ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا… نواں مہینہ شروع ہوۓ چار دن ہو چکے تھے, اسے لگا شائد زیادہ چلنے پھرنے کی وجہ سے معدہ ڈسٹرب ہو گیا ہے, پہلے بھی اکثر ایسا ہو جاتا تھا, اس نے دو چمچ ڈائرو کے لے لئے… ناشتہ کرنے نیچے آئی تو گہما گہمی سی تھی, سعدیہ دونوں بچوں کو نہلا رہی تھی, ہادیہ سب کے کپڑے استری کر رہی تھی, حاشر جوتوں کا ڈھیر لئے بیٹھا تھا
“امی خیر تو ہے… سب کہیں جا رہے ہیں ؟” اس نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر فاطمہ سے پوچھا
“پتہ نہیں… ” وہ نظریں چرا گئیں, چہرہ ستا ہوا تھا
“او ہیرو… کہاں چلے ؟” وہ پانی کی بوتل نکالتے ہوئے حاشر کے پاس آ گئی
“آپ کو نہیں پتہ… ؟” حاشر حیران ہوا
“آج سہام بھائی نے… ” کہتے کہتے اس کی نظر کچن کے دروازے میں کھڑ فاطمہ پر پڑی, وہ اسے گھور رہی تھیں
“سہام نے کیا… ؟” اسے واقعی نہیں پتہ تھا, سہام کو واپس آۓ دو دن ہو گئے تھے, وہ آٹھ ماہ بعد آیا تھا, حاشر نے فاطمہ کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں
“اب بتا بھی دو… ” ساریہ الجھ گئی
“آج انشرہ کی رخصتی ہے… ” فاطمہ دھیرے سے کہہ کر کچن میں واپس چلی گئیں, ساریہ کے چہرے کا رنگ یکلخت تبدیل ہوا تھا, نامحسوس سے انداز سے وہ پاس پڑے صوفے پر گر سی گئی
حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہ دن ضرور آۓ گا… سہام اگر اس سے نکاح کر کہ گیا تو واپس آ کر رخصتی ضرور ہو گی لیکن پھر بھی اسے دکھ ہوا… شدید دکھ
سب نے اسے کیوں نہیں بتایا… اسی لئے کہ اسے دکھ ہوتا…
بہت دیر تک وہ صوفے پر سے اٹھ نہ سکی, بس ٹکر ٹکر سے کو ادھر ادھر آتے جاتے دیکھتی رہی
“کیا کھاۓ گی میری بچی ؟” فاطمہ نے پوچھا تھا
“امی کچھ بھی نہیں… ” وہ ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی, درد کی لہریں شدید ہو گئی تھیں
“کیا ہوا ہے ؟” وہ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ چکی تھیں
“”درد ہو رہا ہے… ” اس نے تکلیف کی شدت سے صوفے کے کپڑے کو مٹھی میں دبایا تھا
“ہسپتال لے چلوں ؟” وہ ایکدم پریشان ہو گئیں
“کون لیکر جاۓ گا… ؟” آس کی آنکھوں سے آنسو نکل آۓ, فاطمہ تڑپ گئیں
“تیرے ابو لیکر جائیں گے اور کون… ” انہوں نے اس کا چہرہ صاف کیا تھا
“امی… سہام اگر انشرہ سے شادی نہ بھی کرتا تو کیا تھا… ؟ اسے کوئی کمی تو نہیں تھی, میں کیا کافی نہیں تھی اسے… ” وہ ایک دم بلک پڑی
“ساریہ میرا بچہ چپ کر… روتے نہیں ہیں…اس حالت میں سٹریس نہیں لیتے, صبر کر…” وہ اسے خود لگاۓ اپنے کمرے میں لے آئیں, ساریہ بری طرح بکھر رہی تھی
“لے میرا بچہ… تھوڑا سا کھا لے, میں تیرے ابو کو بلاتی ہوں” وہ اس کے سامنے ابلا ہوا انڈہ اور چاۓ کا کپ رکھ کر باہر نکل گئیں
کچھ ہی دیر بعد فاطمہ, حاشر اور مراد صاحب اسے لیکر ہسپتال آ گئے, لیبر پین ہی تھا, پری ٹریٹمنٹ کے بعد اسے لیبر روم میں لے گئے تھے, درد کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے آہوں اور سسکیوں کے بیچ اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا
سفید کپڑے میں لپٹا وہ وجود فاطمہ نے سینے سے لگا لیا, ساریہ بے ہوش ہو گئ تھی, کچھ دیر بعد اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا
“امی… سہام نہیں آیا” ہوش میں آتے ہی اس نے سوال کیا تھا, حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ نہیں آیا ہو گا
“یہ دیکھ ساریہ…. تیرا بیٹا” فاطمہ نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے وہ بچہ اس کے پہلو میں لٹا دیا, ساریہ ایک بار پھر بلک بلک کر رو دی تھی
“بابا سہام کو بتایا کہ اسے اللہ نے بیٹا دیا ہے” وہ پوچھ رہی تھی
“ہاں… بتا دیا ہے” مراد صاحب نے کہا
“پھر بھی نہیں آیا… ؟” وہ واقعی پاگل ہو گئی تھی
“ساریہ… بیٹے وہ آج نہیں آ سکے گا, وہ انشرہ کو رخصت کر کہ لے آیا ہے, کہہ رہا تھا کل آۓ گا” مراد صاحب نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا
“بابا… سہام انشرہ سے شادی نہ بھی کرتا تو کیا تھا… “
……………………………
“امی… آپ سے اور ابو سے ایک بات کہوں ؟” اس کا سر فاطمہ کی گود میں تھا, ابھی تک وہ ہسپتال میں ہی تھی, مراد صاحب اس کے قریب ہی بینچ پر بیٹھے تھے, حاشر دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, سمعیہ اور فرہاد ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اٹھ کر گئے تھے
“ہاں.. کہو” وہ بولیں
“آپ نے میرا اور سہام کا نکاح کر دیا تھا نا… بس اتنا کافی تھا, مجھے اس کے ساتھ رخصت نہیں کرنا چاہیے تھا, عزت تو گھر کی چار دیواری کے باہر بچانی تھی نا… میں رخصت ہو کر سہام کے کمرے میں نہ بھی بیٹھتی تو کیا تھا… ؟ اور اگر بیٹھ بھی گئی تو اس کا حق ادا کرنا کیوں اتنا ضروری تھا ؟ حالانکہ اس نے دو ماہ بعد آسٹریلیا چلے جانا تھا” وہ دھیرے سے بولی تھی
“ساریہ بیٹے ہم دونوں میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ انشرہ واپس آ جاۓ گی” فاطمہ کی آنکھیں بھر آئیں
“امی آپ نے ایک بار بھی سہام کو نہیں کہا کہ وہ انشرہ سے شادی نہ کرے, بابا نے ایک بار بھی اسے نہیں پوچھا کہ میرے بیٹی کے ہوتے تمہیں دوسری بیوی کی کیا ضرورت ہے ؟ ایک بار تو اسے کٹہرے میں کھڑا کرتے ؟ ایک بار تو اس سے پوچھتے کہ جس لڑکی نے عین وقت پر سر جھکا کر تمہاری عزت کی لاج رکھی اس پر سوتن کیوں لا رہے ہو ؟ لیکن نہیں… نہیں پوچھا, آپ خالہ کا منہ دیکھ کر چپ کر گئیں اور بابا تایا کا منہ دیکھ کر… ” وہ رو رہی تھی
“ساریہ اس نے کہا کہ وہ تجھے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھے گا… ” فاطمہ سے بولا نہ گیا
“کتنے عرصے اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھا امی… ؟ دو ماہ… صرف دو ماہ, اس کے بعد وہ میرے ساتھ نہیں تھا…وہ میرے ساتھ پانچ سالوں میں کہیں نہیں تھا امی… جیسے بابا آپ کے ساتھ تیس سال رہے ہیں… جیسے وہ انشرہ کے ساتھ پانچ سال رہا ہے… وہ اسی کا تھا, ہمیشہ اسی کا رہا…” وہ کہتی چلی گئی
“دراصل قصور میرا بھی ہے… میں نے اکثر وہاں بھی سر جھکا دیا جہاں تن کر کھڑے ہو جانا چاہئے تھا, کیا فرق تھا مجھ میں, سہام میں اور انشرہ میں… ایف ایس سی میں میرے اور انشرہ کے مارکس میں صرف دو نمبروں کا فرق تھا لیکن مجھے تو کسی نے نہیں کہا کہ ساریہ بھی اینٹری ٹیسٹ دے گی… ساریہ بھی ڈاکٹر بنے گی کیونکہ سب کو لگا کہ ساریہ ڈاکٹر بن ہی نہیں سکتی… اس رات جب انشرہ اور سہام کی اینٹری ٹیسٹ رجسٹریشن ہوئی مجھے اسی رات کہنا چاہیے تھا کہ میں نے بھی ٹیسٹ دینا ہے لیکن… میں چپ کر گئی…آج بھی سوچتی ہوں کہ آخر میں اس رات کیوں خاموش ہو گئی تھی… چار سال بی ایس انگلش کیا, ملاحم سے زیادہ اچھی جی پی اے تھی میری لیکن کسی نے نہیں کہا کہ ساریہ تم بھی سی ایس ایس کر لو…کیونکہ سب کو لگا کہ ساریہ مراد کچھ نہیں کر سکتی, ایم فل میں گولڈ میڈلسٹ تھی میں امی… PPSC کلئیر تھا لیکن عین وقت پر آپ نے میرا نکاح کر دیا اور… سہام نے مجھے انٹرویو نہیں دینے دیا… ضرورت ہی کیا تھی… آخر ساریہ مراد کو ضرورت ہی کیا تھی ایک اچھے مستقبل کی… سہام کو تھی, انشرہ کو تھی… مجھے نہیں تھی” وہ اپنا غبار نکال رہی تھی
“خدا کی قسم امی نوکرانی بنا دیا اس شخص نے مجھے, اپنے گھر میں کام کون نہیں کرتا… آپ نے بھی کئیے ہیں, تائی امی نے بھی کئیے ہیں, ساتھ بچے بھی پیدا کئیے اور پالے بھی لیکن… ساتھ شوہر کے دل پر راج بھی کیا, ایک من چاہی زندگی بھی گزاری… وہ بس ان راتوں میں میرا ہوتا تھا جب انشرہ کی نائیٹ شفٹس ہوتی تھیں بس… اور انشرہ بیگم کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ اس کی نائیٹس لگیں ہی نا.. اس عورت نے پانچ سالوں میں مجھے اتنا ذہنی ٹارچر کیا کہ حد نہیں… امی کیا صرف شوہر کا گالی دینا ہی غلط ہے, تھپڑ مارنا ہی غلط ہے…ہر وقت کی طعنے بازی, نشتر انگیزی, طنز بازی, سرزنش… یہ سب غلط نہیں ہے…سوچیں ذرا… ماہر چھ ماہ کا تھا جب منسا ہونے والی ہو گئی تھی اور سہام دوسرے گھر شفٹ ہو گیا تھا کہ انشرہ میڈم سے روز روز کا سفر نہیں ہوتا تھا… تب بھی سب نے اسی کا سوچا, اس کی نوکری کا سوچا, اس کی بیوی کی نوکری کا سوچا… اس کی آسانی کا سوچا… میرا کس نے سوچا امی ؟ ایک چھ ماہ کے بچے کے ساتھ, ایک پریگنینسی کے ساتھ اور ایک عدد سوتن کے ساتھ میں اس گھر میں بالکل اکیلی تھی, صبح سے شام کب ہوئی کوئی پتہ نہیں… ملازمہ کا کہہ دیا تو… تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو… ؟ امی لوگوں نے تو کبھی ملازمہ نہیں رکھی, پھر منسا ہو گئی… پھر مروہ آ گئی… خدا کی قسم امی اس شخص نے انشرہ کو ہاتھ کا چھالہ بنا کررکھا اور میں… میں تو انسان ہی نہیں تھی, میں تو بس یونہی مفت میں مل گئی تھی اسے… ان پانچ سالوں میں اپنی پسند کا ایک سوٹ تک نہیں پہنا میں نے… تم نے کیا کرنا ہے مارکیٹ جا کر, انشرہ لا دے گی…مہینوں گزر جاتے تھے اور میرے پاس ایک دس روپے کا نوٹ نہیں ہوتا تھا… جب کبھی بابا ہی دیں تو دیں” وہ سسکیاں بھرنے لگی تھی
“اور یہ جو اب کہتا پھرتا ہے نا… میرے بچے, میرے بچے… یہ ان دونوں میں سے کسی کے بھی اس دنیا میں آنے پر خوش نہیں تھا, ماہر کی دفعہ بھی اس نے کہہ دیا کہ ابارشن کروا لو اور منسا کی دفعہ بھی…” فاطمہ نے اس کا چہرہ صاف کیا تھا, مراد صاحب آنسوؤں سے رو رہے تھے
“بابا… اسے کہیں مجھے طلاق دے دے, مجھے اس کے نام سے بھی نفرت پونے لگی ہے, میری آنے والی زندگی بھلے ہی مشکل سہی, لیکن اتنی مشکل نہیں ہو گی جتنی میں نے کاٹ لی” ساریہ نے کہا
“رہ گئے میرے دو بچے… تو خدا نے دئیے ہیں تو پالنے والا بھی وہی ہے, میں جاب کے لئے کوشش… ” مراد صاحب نے اس کی بات کاٹ دی
“ساریہ بچے میں نے کبھی کہا کہ تو اور تیرے بچے میرے اوپر بوجھ ہیں…؟ جب تک میں زندہ ہوں میری بچی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… جب نہیں ہوں گا تب بھی اللہ تیرے ساتھ ہو گا” مراد صاحب نے کہا, حاشر نے دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“بابا… آپ ایک آخری بار سہام بھائی سے بات کریں کہ وہ سیدھی طرح آپی کو ڈیوورس دے دیں, نہیں تو میں ان کے خلع کے کاغذات تیار کر لیتا ہوں”
………………………….
انشرہ کی رخصتی کے ایک ماہ بعد سہام واپس چلا گیا, ماہر ابھی صرف ایک ماہ کا تھا, اور ظاہر ہے اس ایک ماہ میں سہام اس کے حصے میں بالکل بھی نہیں آیا… ایک فیصد بھی نہیں
آس کے جانے کے بعد انشرہ نے ایم او شپ شروع کر دی تھی, وہ زیادہ تر اپنی امی کی طرف ہی رہتی تھی, سہام نے اس کے لئے ابھی کوئی کمرہ بھی سیٹ نہیں کروایا تھا
چھ ماہ بعد اس نے پھر چکر لگایا… انشرہ تو یوں جیسے اس کے بنا مر ہی جاۓ گی, اس بار اس نے باقاعدہ اپنا اور انشرہ کا کمرہ سیٹ کروایا اور فرنیچر رکھوایا…وہ جتنا عرصہ رکا, انشرہ اس کے ساتھ ہی رہی, وہ ایک ماہ کے لیے آیا تھا, آخری دو ہفتے انشرہ کی نائیٹ ڈیوٹیز لگ گئیں, سہام کا تو بس نہیں چلتا تھا ورنہ اس کے ساتھ ہی ہسپتال جا کر بیٹھ جاتا, ان آخری دو ہفتوں میں اسے یاد آیا کہ اس کے نام سے ایک ساریہ مراد بھی منسوب ہے… جس کا پورا حق ہے اس پر, وہ ساریہ مراد جو بس اپنے بیٹے کی ہو کر رہ گئی تھی, ان آخری دو ہفتوں میں وہ ذرا سا اس کی طرف پلٹا تھا
“سہام… ” ساریہ نے تھوڑی سی مزاحمت کی تھی
“کیا ہے ؟”
“ماہر ابھی بہت چھوٹا ہے… پھر آپ کہیں گے کہ یہ کیا کر دیا تم نے” وہ بڑی مشکلوں سے اسے روکے ہوئے تھی
“کچھ نہیں ہوتا… ” ساریہ کی ہر مزاحمت بیکار ہی گئی
ایسا ہی ہوتا ہے… مرد کے سر چڑھی ہو تو اس کی آنکھیں بند ہی ہوتی ہیں…اور وہ چاہتا ہے کہ اس لمحے عورت بھی اپنے ہونٹ بند کر کے سی لے…بس
ایک ماہ بعد وہ پھر چلا گیا, اس کے ایف سی پی ایس فرسٹ پارٹ کے پیپرز تھے, پیپرز دے کر دو ماہ بعد ہی واپس آ گیا, فرسٹ پارٹ کلئیر ہو گیا تھا, سیکینڈ پارٹ شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی جاب بھی شروع ہو گئی, انشرہ کی ڈیوٹی بھی سول ہاسپٹل میں لگ گئی تھی
اب صحیح معنوں میں دونوں کے ہوش ٹھکانے آۓ, ہاسپٹل جاتے آتے ہی دو دو گھنٹے لگ جاتے تھے, صبح و شام ٹریفک کا وہ رش ہوتا کہ گھنٹہ گھنٹہ تو وہ دونوں ٹریفک جام میں ہی پھنسے رہتے, ہفتے بعد ہی انشرہ رونے والی ہو گئی, ڈرائیو کر کر کہ خود سہام کا بھی برا حال تھا
“میں ہاسپٹل کے قریب ہی گھر لینے لگا ہوں ” اس رات اس نے دھماکہ کیا تھا, ظاہر ہے اس کی نوکری تھی تو اس نوکری کے مسائل بھی تو اس نے خود ہی حل کرنے تھے, انشرہ اس کے ساتھ تھی, دونوں نے مل کر ہاسپٹل کے قریب ہی گھر کراۓ پر لے لیا, بمشکل دو ہفتے ہی گزرے اور سہام پھر روتا ہوا ماں باپ کے پاس آ گیا
“کوئی ملازمہ ڈھونڈ کر دیں, انشرہ بیچاری گھر دیکھے یا نوکری کرے” اب لاہور جیسے شہر میں ملازمائیں یونہی تو نہیں مل جاتیں
“سہام… ساریہ کو یہاں لے آؤ,وہاں سارا دن فارغ ہوتی ہے یہاں پر گھر تو سنبھالے گی ” یہ انشرہ کا شوشہ تھا جو سہا م نے پورا کروا لیا, ایک لمحے کے لئے نہیں سوچا کہ وہ ایک چھ ماہ کے بچے کے ساتھ پورا گھر اکیلی کیسے مینیج کرے گی ؟ فاطمہ نے تھوڑا بہت احتجاج کیا لیکن بے سود… سہام کے پاس انہیں مطمئین کرنے کے لیے ایک سو ایک دلائل تھے
“خالہ آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں… ساریہ تو رانی ہے اس گھر کی… میں بہت جلد اسے کوئی ملازمہ رکھ دوں گا”
صبح سے شام تک وہ بیچاری کاموں میں جتی رہتی, ان دونوں کے روز کے کپڑے, اوور آل وغیرہ, ماہر کے روز کے کپڑے, کچن کا کام… صفائی کا کام…وہ دن بدن پستی چلی گئی
اس دن بھی وہ کچن سے نکلی تو یکدم چکر آیا…دھڑام سے گری, سہام اور انشرہ کھانا کھا رہے تھے
“ساریہ… ” سہام نے اسے اٹھایا, بی پی چیک کیا… انتہائی لو… اگلے دن ہاسپٹل جاتے ہوئے اس کا بلڈ اور یورین سیمپل لیکر گیا اور شام کو آتے ہی اس پر برس پڑا
“مجھے کیوں نہیں بتایا کہ پریگنینسی ہے تمہاری ؟” وہ بولا
“مجھے خود بھی نہیں پتہ تھا ” وہ ابھی روٹیاں بنا کر فارغ ہوئی تھی, چہرہ پسینوں پسین ہوا پڑا تھا
“ایسا کیسے ممکن ہے کہ تمہیں خود بھی نہیں پتہ تھا… ؟”
“سہام مجھے نہیں تھا اندازہ کہ… “
“شٹ اپ… یار تمہیں عقل کب آۓ گی ساریہ… ابھی پہلا بچہ سال کا بھی نہیں ہوا اور تم دوسرے کے لئے تیار ہو” وہ بولا
“سہام… کیا یہ صرف میرا کیا دھرا ہے ؟” ساریہ سے کھڑا ہونا دوبھر ہو رہا تھا
“ساریہ یار… کوئی طریقہ ہوتا ہے مینیج کرنے کا, انشرہ بھی تو کرتی ہے نا…” سہام نے کہا, ساریہ یکدم کرسی پر بیٹھی تھی
“چلو سہام بس کرو, اسے کہاں اتنی سینس ہے… ” انشرہ نے اس کا بازو پکڑا, ساریہ کے آنسو نکل رہے تھے
“صبح میرے ساتھ چلو اور الٹرا ساؤنڈ کرواؤ, اگر زیادہ دیر نہیں ہوئی تو ابارشن… ” اب کے ساریہ نے اس کی بات کاٹی تھی
“میں ابارشن نہیں کرواؤں گی” اس نےذرا اونچی آواز میں کہا
“اچھا… دو بچے کیسے مینیج کرو گی ؟” وہ تڑخا
“وہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے ” ساریہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی, انشرہ مسلسل سہام کے سر پر سوار تھی کہ ساریہ سے کہیں ابارشن کرواۓ, اگر یہ پریگنینسی کے دوران واپس چلی گئی تو ہم کیا کریں گے… لیکن بس یہیں آ کر ساریہ ڈٹ جاتی تھی, زندگی اور مشکل ہو گئی, اکثر اوقات فاطمہ اس کے ساتھ رہ کر جاتیں, کبھی ہادیہ آ جاتی…
ماہر ابھی صرف سوا سال کا تھا جب منسا اس کی گود میں آ گئی تھی
اب انشرہ کو فکر ہوئی, ساریہ تو اپنی فیملی مکمل کر کہ بیٹھی تھی, ساریہ… سہام… اور دو بچے
اوپر سے طاہرہ بیگم نے اسے صبح شام پمپ کیا ہوا تھا,منسا چھ ماہ کی ہوئی تو سہام سیکینڈ پارٹ کے پیپرز دینے چلا گیا اور پیچھے سے انشرہ کی بھی سنی گئی… پورے نو ماہ سہام نے اسے ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھا, آخری دنوں میں تو وہ بیڈ سے پاؤں ہی نیچے نہیں اتارتی تھی
ساریہ کو ان دنوں نہ جانے سانس لینا بھی کیسے یاد
رہتا تھا, آخری دو ہفتوں میں اس کی چھٹی منظور ہو گئی تو وہ طاہرہ بیگم کی طرف چلی گئی, ساریہ کی جان میں جان آئی تھی, جس دن مروہ پیدا ہوئی… اسی وقت طاہرہ بیگم نے اسے ساریہ کی گود میں ڈال دیا
“یہ بھی تیری بیٹی ہے ساریہ… اسے بھی تو نے ہی پالنا ہے” اور اسے ساریہ نے ہی پالا, اس کے فیڈر سے لیکر پیمپرز تک ہر کام وہی کرتی تھی
اس دن بھی اسے ہلکا ہلکا بخار تھا… سہام سے کہنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا سو دو پینا ڈول کھا کر کاموں میں لگی رہی, بخار بگڑتا چلا گیا, اس رات بھی وہ کچن سمیٹ کر اوپر آئی تو سارا جسم کسی پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا, بستر پر گرتے ہی اسے نیند آ گئی تھی
…………………………..
“سہام… بیٹے ساریہ کو طلاق دے دو” مراد صاحب نے بس اسے اتنا ہی کہا تھا, سہام کو بھی جیسے ضد ہی چڑھ گئی
“سہام… ساریہ نے طلاق لے لی تو ہم دونوں کیسے مینیج کریں گے؟” انشرہ کو آنیوالا وقت ایک قیامت نظر آتا تھا
وہ اس دن ایک آپریشن کر کہ نکلا تھا جب اس کے لئے ایک نوٹس آیا… حاشر نے ساریہ کا خلع دائر کر دیا تھا, شام کو ہی وہ نوٹس لئے سمعیہ اور فرہاد کے سامنے تھا
“دیکھ لیں… اب یہ حاشر کا بچہ وکیل بن گیا ہے تو یوں ذلیل کرے گا مجھے” وہ فٹ فٹ اوپر اچھل رہا تھا
“سہام… سب تجھے ہی ذلیل کرتے ہیں… تو نے کبھی کسی کو ذلیل نہیں کیا ؟” سمعیہ نے کہا
“میں نے کس کو ذلیل کیا ہے ؟” وہ تڑخا
“تو نے اپنے ماں باپ کو ذلیل کیا فاطمہ اور مراد کے سامنے… جب ان کی اکلوتی بیٹی پر سوتن لا کربٹھا دی, تو نے پانچ سال اس پھول جیسی لڑکی کو ذلیل کیا جس نے تیری عزت کی لاج رکھی, اور اب پھر تو اپنے ماں باپ سمیت پورے گھر والوں کو ذلیل کر رہا ہے صرف اپنی ضد کے لئے ” سمعیہ بھڑک گئیں
“کیا کرے گی وہ طلاق لیکر ؟” سہام نے کہا
“جو مرضی کرے… تجھے کیا ” سمعیہ نے کہا
“مجھے پتہ ہے… وہ اس ملاحم سے شادی کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے, کونسا وقت ہو اور وہ اس کی ہو جاۓ… “
“سہام… ” فرہاد صاحب کا تھپڑ اس کا منہ رنگ گیا
“ایک اور لفظ میں اس بچی کے لئے تیرے منہ سے نہ سنوں… ” وہ سرد لحجے میں بولے
“صرف دو دن… اس بچی کو فارغ کر دے ورنہ میں خود حاشر سے کہہ دوں گا جتنا ہو سکے اس ڈاکٹر کے بچے کو عدالتوں میں ذلیل کر تاکہ اس کی عقل ٹھکانے آۓ”
………………………..
جاری ہے
